بچوں کو صحت مند اور کامیاب بنانے کا دلچسپ طریقہ


کو رونا وائرس کی وبا نے جہاں بیشمار مسائل کھڑے کیے وہاں ایک فائدہ بھی پہنچایا ہے، ہمیں یہ سمجھا کر کہ ہماری زندگی، بیماری یا صحت، یہ سب ہمارے ہاتھ میں ہے۔ ڈاکٹر کے ہاتھ میں نہیں۔

پہلے ہم بیمار ہوتے تھے تو سوچتے کہ ڈاکٹر دوا دے گا، ہم کھائیں گے اور ٹھیک ہو جائیں گے۔ زیادہ تکلیف ہوئی تو ڈاکٹر ٹیکہ بھی لگا دے گا اور ہم بھلے چنگے۔ کو رونا کم بخت نے زندگی ہی بدل دی۔ اب بچنا ہے تو کوئی گولی یا شربت نہیں بلکہ ویکسین لگوانی ہے، ماسک پہننا ہے، ہاتھ دھونے اور دوسروں سے فاصلہ رکھنا ہے۔ کمرے کی کھڑکیاں کھلی رکھنی ہیں۔ ان میں کون سا کام ہے جو ڈاکٹر ہمارے لئے آ کر کرے گا؟ سب کچھ خود ہی تو کرنا ہے۔

حقیقت تو کورونا سے پہلے بھی یہی تھی، یعنی اپنی زندگی اور صحت کا خیال ہم نے خود ہی کرنا ہے۔ لیکن اس جانب ہماری توجہ جاتی نہیں تھی۔ وائرس نے ہمیں اس حقیقت کی یاد دہانی کروا دی۔ زندگی کی حقیقت، جو کسی تہہ در تہہ چیز کی مانند ہے۔ ان تہوں کی ابتدا پیدائش سے پہلے کے عرصہ سے ہوتی ہے جب بچہ ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے۔ پھر وہ اس دنیا میں قدم رکھتا ہے۔ اس کی زندگی کی تہیں ایک ایک کر کے اپنے آپ کو کھولتی ہیں۔ بچپن ابھی چل رہا ہوتا ہے کہ لڑکپن نمودار ہو جاتا ہے۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے جوانی، اور پھر انسان ادھیڑ عمری اور بالآخر بڑھاپے میں قدم رکھ دیتا ہے۔

بعض لوگوں کی زندگی میں یہ تہیں پیاز کی پرتوں جیسی معلوم ہوتی ہیں۔ ہر تہہ کو پلٹنے پر تکلیف ہی ہوتی ہے، آنسو نکل آتے ہیں۔ ایسی زندگیوں کی شروعات میں بچہ ابھی ماں کے پیٹ میں ہی ہے تو بھی پریشانیوں میں گھرا ہوا۔ اس لئے کہ اس کا خاندان ہمیشہ مسائل کا شکار رہتا ہے اور یہ صورت پیدائش کے بعد بھی جاری رہتی ہے۔ عموماً یہ صورت غربت، بے چارگی اور مفلوک الحالی کا شکار گھرانوں میں دیکھنے کو ملتی ہے، لیکن مالی طور پر آسودہ گھرانے بھی اس سے نا آشنا نہیں۔ بہت سے خوش حال گھرانوں میں پیدا ہونے والے بچے بھی بیماریوں اور خوراک کی کمی کا شکار اور اچھی ذہنی نشوونما سے محروم نظر آتے ہیں۔

ایسی زندگی جو ماں کے پیٹ سے ہی مسائل کا شکار رہے، وہ بعد میں بھی مشکلات کا شکار ہی رہتی ہے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ ایسے بچے، اسہال اور نمونیا میں زیادہ مبتلا ہوتے، ذہنی نشوونما میں پیچھے رہ جاتے اور باقاعدہ تعلیم کے میدان میں اس معیار کی کارکردگی نہیں دکھا پاتے، جس کے وہ اہل ہوتے ہیں۔ بڑے ہونے پر بھی، ان میں طویل مدتی بیماریاں یعنی ذیابطیس، بلڈ پریشر، دل کی بیماریاں اور ذہنی صحت کا خراب ہونا زیادہ تر دیکھنے میں آتا ہے۔ تعلیم میں پیچھے رہ جانے کے باعث یہ نہ تو اچھی ملازمت کر پاتے ہیں، اور نہ ہی کاروبار کے لئے درکار چستی ان میں ہوتی ہے۔ نتیجہ یہ کہ اپنی مالی استطاعت بھی اچھی نہیں کر پاتے۔ شادی کی صورت میں مالی مسائل اور ذہنی دباؤ کا شکار رہتے اور اس امکان کے بھی کہ ان کی اولاد بھی انہی مسائل کا شکار ہو۔

یہی زندگی ایک پھول کی مانند ہو سکتی ہے۔ ہر نئی پنکھڑی ایک نیا رنگ، خوشبو اور تازگی کا پیغام لئے۔ اور ضروری نہیں کہ اس کے لئے بہت رقم کی ضرورت ہو، امارت درکار ہو۔ صرف اپنے ذہن میں یہ بٹھانے کی ضرورت ہے کہ ہماری اور ہماری اگلی نسلوں کی زندگی اور خوشی ہمارے ہاتھ میں ہے۔

کیسے؟

جزائر ویسٹ انڈیز میں سے ایک جمیکا، جسے ہم دنیا کے تیز ترین اتھلیٹ یوسین بولٹ، اور اپنے وقت میں کرکٹ کے خطرناک ترین فاسٹ بولر مائیکل ہولڈنگ کے حوالے سے جانتے ہیں، وہاں چند سمجھدار خواتین نے پچھلی دہائیوں میں ایک نتیجہ خیز تجربہ کیا۔

انہیں یہ تو معلوم تھا کہ اگر حمل سے پہلے ہی ماں آنے والے بچے کے لئے ذہنی اور جسمانی طور پر تیار ہو۔ اسے مناسب خوراک ملے، وہ جسمانی طور پر تھکاوٹ کا شکار نہ ہو اور ذہنی طور پر آسودہ۔ تو اس کے پیٹ میں پرورش پانے والا بچہ بھی جسمانی طور پر اچھے طریقے سے بڑھتا اور دماغی طور پر خوش رہتا ہے۔ اور یہ کہ وہ گھرانے جو بچہ ابھی ماں کے پیٹ میں ہو تو بھی اس کی ماں کی صحت، غذا اور خوشی کا خیال کرتے ہیں، پیدائش کے فوراً بعد ماں اور بچے کو راحت پہنچاتے ہیں، بچے کی ابتدائی غذا اور پرورش میں پیار کا زیادہ سے زیادہ اظہار کرتے ہیں، اسے حفاظتی ٹیکے لگوا کر بیماریوں سے محفوظ بناتے ہیں، دراصل اپنے ہاں خوشیوں کے دروازے کھولتے ہیں۔

وہ یہ بھی جانتی تھیں کہ پیار اور محبت کی فضا میں پروان چڑھنے والے بچے جسمانی طور پر اچھی صحت کے حامل اور ذہنی طور پر بھی چست ہوتے ہیں۔ ایسے بچوں کے سکول میں اچھی کارکردگی دکھانے اور اچھی رفتار سے تعلیم کے مراحل طے کر کے عملی زندگی میں داخل ہونے اور وہاں بھی اچھی کارکردگی دکھانے کے امکانات زیادہ ہیں۔ اور کمال کی بات یہ ہے کہ ان کاموں کے لئے کوئی زیادہ رقم درکار نہیں ہوتی، لیکن اس کے باوجود اپنی پریشانیوں میں گھرے لوگ اس طرف توجہ نہیں کر پاتے۔ ان خواتین نے اس، مسئلے کا ایک انوکھا حل سوچا۔

انہوں نے غریب علاقوں میں وہ مائیں جو اپنے بچے کو جنم دینے والی تھیں، ان کے ہاں جا کر انہیں اور ان کے گھر والوں کو اپنی اگلی نسل سے پیار کرنے کی ترغیب دی۔ انہیں بتایا کہ بچے کی پہلی تعلیم اس کا کھیل کود ہوتا ہے اور بچے کو اس دنیا میں خوش آمدید کہنے کا بہترین طریقہ اس کے لئے کھلونے تیار کرنا ہوتا ہے۔ اور یہ بھی کہ بازار سے خریدنے کی بجائے گھر میں موجود چھوٹی موٹی چیزوں سے کھلونے بنانا زیادہ خوشی کا باعث ہوتا ہے۔

پہلے تو مقامی عورتوں کو یہ بات سمجھ نہ آئی لیکن جب ایک دفعہ شروع کیا تو آہستہ آہستہ پلاسٹک کی خالی بوتلوں میں رنگ برنگے کانچ اور پتھر ڈال کر جھنجھنے بنانا، پرانی جرابوں میں روئی بھر کر گڑیا بنانا اور جوتے کے خالی ڈبے پر رنگ برنگے کاغذ لگا کر گڑیا کا گھر بنانا انہیں اچھا لگنے لگا۔ اس سے بھی زیادہ اچھا یہ ہوا کہ آنے والے بچے کا باپ بھی آہستہ آہستہ ان کاموں میں تھوڑا بہت شریک ہونے لگا۔ اور اس سے دونوں میاں بیوی کو آپس میں بیٹھ کر تسلی سے اپنی آنے والی زندگی، اپنے بچے اور زندگی کے دیگر خواب دیکھنے کا موقع بھی ملنے لگا۔ وہ کام جو اس سے پہلے مصروفیت اور کاموں کے بوجھ کی وجہ سے وہ نہیں کر پاتے تھے، وہ خود بخود ہونے لگا۔

اس خوشگوار کام کے نتیجے اس تجربہ کو شروع کرنے والوں کے لئے بھی حیران کن تھے۔ نہ صرف ان گھرانوں میں پیدا ہونے والے بچے اچھی صحت اور قد کاٹھ کے حامل تھے، بلکہ انہوں نے سکول شروع ہونے پر وہاں بھی باقی بچوں کے مقابلہ میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ سن اسی کی دہائی میں پیدا ہونے اور اس تجربے سے گزرنے والے ان بچوں کے والدین آج اپنے علاقے کے خوش اور کامیاب ترین افراد میں گنے جاتے ہیں۔ اس لئے کہ ان کے یہ بچے پڑھائی مکمل کر کے جب عملی میدان میں داخل ہوئے تو بیس سال اور پھر تیس سال گزرنے کے بعد وہ اپنے ہم عصر ایسے بچے جو اس تجربہ میں شریک نہیں ہوئے، ان سے زیادہ خوشحال تھے۔ اپنی ابتدائی زندگی میں توجہ اور پیار محبت پانے والوں کی آمدنی دوسروں کے مقابلہ میں تیس سے چالیس فیصد زیادہ تھی۔

غنیمت ہے کہ کورونا کی وبا سے ہی سہی، یہ احساس ہو جائے کہ ہماری خوشی ہمارے ہاتھ میں ہے اور اس کا راستہ جسمانی و ذہنی صحت پر توجہ دینے میں ہے۔ ہماری اور ہمارے پیاروں کی زندگی آنکھوں میں آنسو لانے والے پیاز کی طرح ہو گی یا خوشبودار اور خوش رنگ پھول کی مانند؟ فیصلہ ہمارا ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ڈاکٹر زعیم الحق

ڈاکٹر زعیم الحق ایک میڈیکل ڈاکٹر ہیں اور اپنے شعبہ کے تکنیکی امور کے ساتھ ان انفرادی و اجتماعی عوامل پر بھی نظر رکھتے ہیں جو ہماری صحت یا بیماری کا باعث بنتے ہیں۔

dr-zaeem-ul-haq has 8 posts and counting.See all posts by dr-zaeem-ul-haq

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments