نئے سال کے نئے خواب – طنز و مزاح


جنوری کا شروع ہے، خوب کڑاکے کی سردی پڑ رہی ہے۔ ابھی صحیح طرح سے نیو ائر کی مبارکبادیں بھی ختم نہیں ہوئیں اور ذہن پر سال گزشتہ کی کامیابیوں کا خمار بھی باقی ہے۔ دل کرتا ہے کہ دو ایک چھٹیاں اور کر کے وزیراعظم یونیورسٹی (سابقہ وزیراعظم ہاؤس) کے لان پر خوب قلابازیاں کھاؤں اور خوب انگڑائیاں لوں۔ مگر صاحب عملیات کی دنیا میں چھٹی کہاں؟ ابھی کل کی بات ہے کہ میں اپنی کٹیا یعنی دھرم شالہ میں کافور جلا کر ، شرقی دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کے بیٹھا ہواء تھا۔ سامنے مٹی کی ہنڈیا میں ماش کی دال پکنے کو رکھی تھی تاکہ اپوزیشن سے تعلق رکھنے والی ”شریف“ و غیر شریف چڑیلوں اور اخلاق بافتہ جنات کو پکڑ کر بھسم کر دوں۔ اسی حالت میں کوئی ایک پہر گزرا ہو گا کہ اچانک آنکھ سی لگ گئی۔

کیا دیکھتا ہوں کہ جیسے کوئی بہت بڑا ائر پورٹ ہے۔ جس کے ایک طرف نیٹو اور اتحادی افواج کے شکست خوردہ کمانڈر اور ان کے متبعین میرے مشوروں کی قدر نہ کرنے پر شرمندہ اور افسردہ ہیں۔ عرق انفعال ان کے چہروں سے ٹپک ٹپک کر نیچے گر رہا ہے اور یہ لوگ صفیں بنا کر اجتماعی توبہ کے لئے اکڑوں بیٹھے ہیں۔ قریب ہی ایک پردیسی بابا جس کا نام غالباً مودی معلوم ہوتا ہے میرے ساتھ برے سلوک کے باعث راندہ درگاہ ہو چکا ہے۔ اور اب وجود کی تمام تر بے بسی کے ساتھ اپنے ٹی اسٹال کی کامیابی کے لیے درخواست گو ہے۔

اسی ہوائی اڈے کے دوسری طرف پندرہ بیس طیارے ڈالروں سے بھرے، فراٹے بھرتے فٹا فٹ ایک دوسرے کے پیچھے ہارن اور سگنل دیے بغیر لینڈ کر رہے ہیں۔ بیک گراؤنڈ میں ہر دلعزیز نغمہ ون ٹو کا فور، فور ٹو کا ون بج رہا ہے۔ میں کہتا ہوں بچو جی ماضی میں جو ہوا سو ہوا۔ اب پرانا زمانہ گیا۔ تم لوگوں نے تو طیاروں کو بھی ہنڈا 125 ہی بنا لیاء ہے۔ اب تو چالان بھی ہو گا اور جرمانہ بھی! چنانچہ میں ٹریفک سارجنٹ کی وردی پہنے اصل سٹیل کی بنی سیٹی بجاتے ہوئے ہوائی جہازوں کی طرف تیزی سے بھاگتا ہوں۔ شروع میں تو یہ لگتا ہے کہ جیسے میں اکیلا ہی ہوائی اڈے میں سر گرداں ہوں مگر پھر نہ جانے کہاں سے میرا ہمدم، میرا نور سیاست شیدا بھی ساتھ دکھائی دیتا ہے۔

میں خواب میں شیدے سے کہتا ہوں کہ لو جی پاپا جی، کمال ہی ہو گئی۔ ہو نہ ہو یہ وہی لوٹی ہوئی دولت ہے جو ہم لندن، جنیوا، پیرس اور سوس لینڈ وغیرہ سے منگوا رہے تھے۔ تو بغیر گفتگو یا تبصرہ کیے جلدی سے ٹویٹ کر دے ”تبدیلی خان کا ائرپورٹ کا دورہ۔ قوم کو بڑی خوش خبری ملنے کا امکان۔ لوٹی دولت جلد واپس آئے گی“ خیر میں تھوڑا قریب جاتا ہوں تو ڈالروں کی خوشبو سے مشام جاں معطر اور دل باغ باغ ہو جاتا ہے۔ مگر پھر کیا دیکھتا ہوں کہ کڑ کڑ کرتے ڈالروں کے اوپر انکل سام کی بجائے میری اپنی ہی واسکٹ اور شلوار قمیص والی کلرڈ تصویر لگی ہوئی ہے اور نیچے کانے والی قلم اور کچی سیاہی سے جلی حروف میں عید مبارک بھی لکھا ہوا ہے۔

میں کہتا ہوں شیدے یہ کیا؟ یہ سامراجی طاقتیں سازشیں کرنے سے باز نہیں آتیں؟ شیدا کہتا ہے گھبراؤ نہ استاد جی! There is always case behind the face۔ مجھے تو یہ اپوزیشن کی کار ستانی لگتی ہے۔ Let me investigate میں کہتا ہوں شیدے تو تفتیش کرتا رہیں۔ اس سے پہلے کہ تیری انگریزی اور میرا صبر ختم ہو جائے، تو پچھلا ٹویٹ حذف کر کے اس کی جگہ یہ نیا ٹویٹ کر ”تبدیلی خان اور شیدے کا ائر پورٹ پر مشترکہ چھاپہ۔ جعلی کرنسی کے سینکڑوں ٹرنک پکڑے گئے۔ پائلٹ خالی جہاز چھوڑ کے فرار۔ متعدد افسروں کی دوڑیں لگ گئیں۔“ شیدا کہتا ہے استاد جی ان ڈالروں کا کیا کروں۔ میں کہتا ہوں رکھ لے شیدے۔ رکھ لے۔ اگلی عید پر اس بھری دنیا میں سے اگر کسی نے بھی ہمیں جھنڈیاں نہ بھیجیں تو انہی ڈالروں پہ لیپا پوتی کر کے ان کی جھنڈیاں بنا لیں گے اور وزیراعظم ہاؤس کی رونق بڑھائیں گے۔ ایک آدھ پیکٹ اپنی واسکٹ میں بھی ڈال لے۔ اگر ملک سے اصلی ڈالر یکسر اڑن چھو ہو گئے تو ہو سکتا ہے سال دو سال ہمیں یہی عید مبارک والے ڈالر دیکھ کر آنکھیں سینکنا پڑیں۔

یہ منظر اچانک ختم ہو جاتا ہے۔ دیکھتا ہوں کہ جیسے کوئی بہت بڑی خوشی کی تقریب ہے۔ جگہ جگہ تمبو شامیانے لگے ہوئے ہیں۔ ڈھول، باجے اور شادیانے بج رہے ہیں۔ زرق برق لباس پہنے دیدہ زیب نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ہاتھوں میں خیر مقدمی پرچم لئے پھر رہے ہیں۔ سامنے ایک بڑی سی جلسہ گاہ بھی ہے۔ مبارک سلامت کا ایسا غوغا ہے کہ کان پڑی آواز بھی سنائی نہیں دیتی۔ مگر کچھ احباب کی طرف سے اپوزیشن کو ننگی گالیاں بھی سننے کو مل رہی ہیں۔ جس سے طبیعت میں ایک خاص طرح کی بشاشت سی محسوس ہو رہی ہے۔ گالیوں کی روانی، ورائٹی اور اعلی کوالٹی کو دیکھ کے یوتھیوں کی نوجوان نسل پہ میں دل ہی دل میں فخر کرتا ہوں اور میرے چہرے پر ایک ادھوری سی مسکراہٹ نمودار ہو جاتی ہے۔

ذرا آگے جاتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ میرے قد آدم بلکہ اس سے بھی بڑے پوسٹر لگے ہوئے ہیں جس کے نیچے بلا مبالغہ دو دو چار چار ملنگ ٹولیوں کی صورت میں دھمال ڈال رہے ہیں۔ پاس ہی ایک خوشبودار اور مصفا مشروب کی سبیل لگی ہوئی ہے۔ سامنے ایک بڑے سے بینر پر لکھا ہواء ہے۔ ”خوش آمدید۔ جی آیاں نوں۔ ہم پہلے قومی یوم بھنگ کی تقریبات میں تبدیلی خان کو خوش آمدید کہتے ہیں“ جلسہ گاہ کے ایک طرف اس مبارک دن کی نسبت سے مختلف قسم کے بوتھ بنے ہوئے ہیں۔

ایک ٹینٹ میں کاشتکاروں کو بھنگ کی بمپر کراپ حاصل کرنے کے طریقے سکھلائے جا رہے ہیں۔ قریب ہی عارضی کلچرل سنٹر میں ایک خوش گلو غزل گو ”سنا ہے لوگ اس کو بھنگ پی کے دیکھتے ہیں، سو اس کے شہر میں کچھ دن جی کے دیکھتے ہیں“ بہت سر میں گا رہا ہے۔ پاس ہی ایک شاعر تازہ کلام میں کہتا ہے ”بھنگ نے نکما کر دیا غالب، ورنہ آدمی ہم بھی کام کے تھے“ قریب کے ایک خیمے میں قومی بھنگ کونسل جس کا میں چیئر مین بھی ہوں، کی طرف سے اس پودے سے متعلق جدید تحقیق پر مبنی کتابیں اور لٹریچر مفت بانٹا جا رہا ہے۔

اب ساری باتیں تو یاد نہیں مگر چند قابل ذکر کتابیں جو یاد رہ گئی ہیں ان میں ”بھنگ اور علاج بالمثل“ ، ”بھنگ اور افیون کے مرکبات سے مردانہ کمزوری کا علاج“ ، ”بھنگ اور فیملی لائف“ ، ”بھنگ کے پکوان“ ، ”بھنگ کے رنگ“ اور اس عاجز کی اپنی تصنیف ”افادات تجارت بھنگ“ شامل ہیں جس کا جدید ایڈیشن ابھی تازہ تازہ چھپا ہے۔ جلسہ ء گاہ کی دوسری طرف کھانے پینے کی دکانیں ہیں جس میں انواع و اقسام کے کھانے موجود ہیں۔ خدا جھوٹ نہ بلوائے بھنگ ملے پکوڑوں اور بھنگ کی کھیر کا ذائقہ آج بھی زبان پہ تازہ ہے۔ ایک اور سٹال پہ ایکسپورٹ کوالٹی خالص بھنگ کے ڈبے تعارفی نرخوں پر فروخت ہو رہے ہیں۔

یہاں بھی میں اکیلا نہیں۔ میری ایک بغل میں زلفی بچہ اور دوسری میں شغلی بچہ ہے۔ جبکہ شیدا، مودا، مراد اور چند دیگر مصاحبین سائے کی طرح پیچھے پیچھے چلے آ رہے ہیں۔ یہ رونق میلہ دیکھ کر شیدا کہتا ہے استاد جی! میرے دام خیال میں ایک آئیڈیا ہے۔ کیا خیال ہے اس سال گرمیوں میں دوست ممالک کے سربراہان اور اعلی شخصیات کو آموں کی پیٹیاں تحفہ بھیجنے کی بجائے بھنگ کی پیٹیاں نہ بھیجیں؟ آخر دنیا کو بھی ہماری ترقی کا کچھ تو پتا چلنا چاہیے۔

میں کہتا ہوں۔ واہ شیدے واہ کیا غضب کی بات ہے۔ تیرے منہ گھی شکر بلکہ بھنگ شکر۔ کیا آئیڈیا دیا ہے تو نے! ذرا چشم تصور سے اس منظر کو دیکھ جب امریکی صدر، سعودی بادشاہ، برطانوی وزیراعظم اور چینی وزیر خارجہ ہماری گھوٹی ہوئی بھنگ پی کے سلامتی کونسل، جی ٹونٹی اور نیٹو کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ وہ کیا عالم ہو گا جب دنیا ہم سے بھنگ کی بھیک مانگے گی اور ہم ٹکا سا جواب دے کے کہیں گے۔ Absolutely Not

ہم یہ باتیں کر ہی رہے ہوتے ہیں کہ اعلان ہوتا ہے کہ اب ہم اس تقریب کے مہمان خصوصی، لسان العصر، زینت المفکرین حضرت تبدیلی خان کو خطاب کی دعوت دیتے ہیں۔ میں بے شمار تالیوں اور نعروں کی گونج میں لپک کے سٹیج پہ چڑھ جاتا ہوں۔ ابھی میں نے تقریر کے آغاز میں اتنا ہی کہا ہوتا ہے ”میرے عزیز بھنگیو!“ کہ مجمع میں پہلی صف میں بیٹھا ایک شخص جو غالباً افغانی ہے اور سی آئی ڈی کا سابقہ اہل کار بھی معلوم ہوتا ہے۔ اٹھ کے زور سے چلاتا ہے ”بھائیو! روٹی کھل گئی ہے“ ۔ یہ اعلان ہوتے ہی پبلک میں بھگدڑ مچ جاتی ہے اور ہر کوئی کھانے کی طرف بھاگ نکلتا ہے۔ میں لاکھ بھاگتے لوگوں کو آوازیں دیتا ہوں کہ بھائیو میری سنو جو گوش نصیحت نیوش ہو۔ آپ نے گھبرانا نہیں۔ میں آپ کے لئے زبردست کامیاب بھنگی جوان پروگرام اور بھنگ کارڈ لے کر آیا ہوں۔ وہی شخص جس نے پہلے مجمع کو آواز لگائی تھی مجھے کہتا ہے ”مڑ توں تے یو ٹرن لے لینا اے۔ سا کوں روٹی تے کھا لین دے“ میں قصہ چہار درویش کی طرز پر اس سے کہتا ہوں کہ اے شخص تو کون ہے اور تیرا کیا ماجرا ہے؟ کیا تجھ کو معلوم نہ تھا کہ میرا نام تبدیلی خان ہے، لیاقت علی خان نہیں۔ پھر تو نے میری تقریر کو کیوں سبو تاژ کیا اور کیوں میرے سیاسی قتل کی کوشش کی؟ وہ کہنے لگا میرے آقا آپ نے مٹی کی جو ہنڈیا چڑھائی تھی وہ کب کی جلی اور جل کے راکھ ہو چکی۔ میں اسی میں سے نکلا ہوا جن ہوں اور آپ کو واپس لینے آیا ہوں۔ یہ کہہ کر جن نے زور سے میرے بازو پر چٹکی بھری تو میری آنکھ کھل گئی۔ کیا دیکھتا ہوں کہ نہ کوئی ائرپورٹ ہے، نہ کوئی جلسہ گاہ۔ نہ شیدا ہے، نہ مودا اور نہ ہی مراد۔ ایک زلفی بچہ ہے جو سرہانے بیٹھا پلاسٹک کی پنکھی سے مگس رانی کر رہا ہے اور کہتا جاتا ہے۔ اٹھو استاد جی اٹھو۔ سو سو کے وقت ضائع نہ کرو۔ آج آخری چھٹی ہے۔ کمر باندھو! پورے گھر کے جالے اتارنے ہیں۔

Facebook Comments HS