کرپشن کی بڑھتی لکیر کی کہانی


کہتے ہیں کہ ایک استاد نے ایک دن کلاس کے بلیک بورڈ پرایک سیدھی لکیر کھینچ کر طلبہ سے کہا کہ توڑے یا موڑے بغیر اس لکیر کو چھوٹی کر دی جائے۔ ایک طالب علم اٹھا اس نے اس لکیر کے اوپر ایک بڑی لکیر کھینچ کر کر کہا ”لو جی استاد آپ کی کھینچی لکیر اب چھوٹی ہو گئی“ ۔ ایک اور طالب علم نے اس سے بھی بڑی لے کر کھینچ کر اعلان کیا کہ پہلے کھینچی گئی سب لکیریں چھوٹی ہو گئیں۔

اس گھسی پٹی حکایت کی طرح پاکستان میں بھی 1947 ء سے اب تک ہر دور میں پچھلے دور کی کرپشن کی لکیر چھوٹی ہی نظر آتی رہی ہے۔ مگر ہر بار نئی لکیر کھنچنے سے پہلے واویلا بھی کرپشن کی بیخ کنی کا ہی مچایا جاتا رہا۔ ایوب کے بعد جنرل ضیاءالحق، غلام اسحٰق خان اور فاروق لغاری کی محمد خان جونیجو، محترمہ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کی منتخب حکومتیں ختم کرنے کے جواز کے طور پر ”میرے عزیز ہم وطنو“ کو سنائی تقاریر ریکارڈ پر ہیں۔ اگر ان تقاریر کو ایک ساتھ سنا جائے تو ملزمان کے نام کے علاوہ سوائے بولنے والے کی آواز کے کچھ بھی نہیں بدلا۔

ملک کے جمہوری نظام پر شب خون مار کر خود ساختہ فیلڈ مارشل ایوب خان نے سیاسی جماعتوں اور شخصیات کے خلاف پہلی کارروائی بھی انسداد بد عنوانی یا کرپشن کے نام پر کی اور پہلی بار کرپٹ لوگوں کی ایک فہرست بھی شائع کردی جن پر قومی دولت لوٹنے کا الزام تھا۔ اس فہرست میں ایسے نام بھی تھے جو قومی ہیرو کا درجہ رکھتے تھے اور لوٹنے والی رقم اتنی معمولی تھی کہ جو ایسے لوگوں کی شایان شان بھی نہ تھی۔ یہ لوگ بعد میں بھی بڑے بڑے عہدوں پر فائز رہے۔

دوسری طرف جنرل ایوب اپنے من پسند افراد کو نوازنے اور ان کو با اختیار بنا کر اپنی غیر آئینی اور غیر قانونی اقتدار کو دوام دینے کی حکمت عملی پر گامزن رہے۔ جمہوری نظام کے متبادل کے طور پر بلدیاتی نظام کو متعارف کر واکر منتخب لوگوں کو ترقیاتی فنڈ مہیا کیا گیا جو سرکاری طور پر سیاسی عمل میں کرپشن کا نقطہ آغاز تھا۔

ذوالفقار علی بھٹو کی منتخب حکومت پر شب خون مارنے والے ضیاءالحق نے بھٹو دور پر ہر قسم کے الزامات لگوائے مگر مالی بدعنوانی کا کوئی بڑا الزام سامنے نہ آ سکا۔ سادگی اور کفایت شعاری کا ڈھنڈورا پیٹنے والے جنرل ضیاءالحق کے دور میں باضابطہ طور پر مالیاتی بد عنوانیوں کا آغاز ہوا۔ بھٹو کی مقبولیت کو کم کرنے، جمہوریت اور آئین کی بحالی کے عوامی مطالبے کو کمزور کرنے کے لئے مجلس شوریٰ کے نام پر ملک بھر سے اشرافیہ کے نمائندوں کو جمع کر کے قومی خزانے کا منہ کھول دیا گیا۔ غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات کر واکر ایک سرکاری جماعت کی تشکیل کے لئے عوامی نمائندوں کو ترقیاتی فنڈ کے نام پر رقم مہیا کی گئی جو پارلیمانی کرپشن کی بنیاد بن گئی۔

محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت کو کرپشن کے الزامات لگا کر بر طرف کرنے کے بعد اسلامی جمہوری اتحاد کی تشکیل کے لئے مہران بنک کے سکنڈل پر ایک عدالتی فیصلہ ریکارڈ پر موجود ہے جو ملک کے سیاسی نظام میں ادارہ جاتی کرپشن کی داستان بیان کرتا ہے۔ پہلی بار سرکاری اور دفاعی اداروں نے اپنی زیر سرپرستی شخصیات اور سیاسی جماعتوں کو بھاری رقوم مہیا کیں تاکہ پیپلز پارٹی اور محترمہ بے نظیر بھٹو کا مقابلہ کیا جا سکے۔ اس عدالتی فیصلے پر آج تک عمل درآمد نہ ہوسکا البتہ ایوب اور ضیا الحق کے بعد ملک میں مالی بد عنوانی کی اس تیسری لکیر کے سامنے ماضی کی لکیریں چھوٹی نظر آنے لگیں۔ ماضی میں سرکاری مالی وسائل تک رسائی صرف منتخب نمائندوں تک محدود رہی تھی مگر اب کی بار غیر منتخب لوگوں کو بھی شامل کر کے سیاسی بد عنوانیوں کا ایک نیا باب شروع کیا گیا۔

1990 ء کی دہائی سرکاری وسائل کے زور پر بنائے گئے اسلامی جمہوری اتحاد اور ماضی کی مقبول سیاسی جماعت پیپلز پارٹی کے درمیان سیاسی رسہ کشی اور ریشہ دوانیوں کا دور تھا۔ پیپلز پارٹی کے خلاف کرپشن کی تحقیقات کے لئے احتساب کا ایک ادارہ بھی بنا دیا گیا جو کوئی الزام ثابت نہ کرنے کے باوجود پوری شد و مد کے ساتھ سرگرم عمل رہا۔

کرپشن کے خلاف احتساب کے عمل کو پذیرائی جنرل مشرف کے دور میں ملی جب وہ نواز شریف کی منتخب حکومت پر شب خون مار کر ملک پر قابض ہوئے۔ اس دور میں درجنوں نئے نجی ٹی وی چینل کھل گئے جن کے لئے شب و روز نشریات جاری رکھنے کے لئے کرپشن کی کہانیاں دلچسپی کا باعث بھی رہیں۔ سیاسی حکومتوں، جماعتوں اور شخصیات کی ’غضب کرپشن کی عجب کہانیاں‘ باقاعدگی سے ٹی وی پر چلوانے کا اہتمام کیا بھی گیا۔ یہ کہانیاں اس قدر تواتر سے چلیں کہ عام لوگوں نے ان کو سچ مان کر قبول بھی کیا مگر ایسی کوئی کہانی کسی عدالت میں سچ ثابت نہ ہو سکی اور ملک میں جمہوریت کی بحالی کے ساتھ ہی پرانے حکمران واپس آ گئے اور کرپشن کے خلاف واویلا پہلے سے زیادہ زور سے کیا گیا۔

مشرف کے دور میں جب ایک طرف احتساب کا دور دورہ تھا تو دوسری طرف ایک غیر منتخب آمر کے غیر آئینی اقدامات کو دوام دینے کی حکمت عملی کے طور پر مخصوص کاروباری لوگوں کو سرکاری مراعات اور سہولتیں دینے کی نئی ریت کا آغاز بھی ہوا۔ اس حکمت عملی کے نتیجے میں نئے کاروباری چہرے بھی سامنے آئے جنھوں نے ملک کی سیاسی بساط پر نمایاں کردار بھی ادا کیا۔ نجی شعبے میں پہلے صرف عمارتیں بنتی تھیں اب نئے شہر بسنے لگے، نجی بنک کھل گئے، نئی صنعتیں وجود میں آ گئیں۔ پہلے امیر لوگوں کا شوق قیمتی گاڑیاں رکھنے تک محدود تھا مگر اب نجی اور ذاتی جہاز اڑتے دکھائی دیے۔

ملک میں سیاست، کاروبار، صحافت اور سماجی فلاح و بہبود کے کاموں میں پہلی بار امتیاز ختم ہوا اور ایک نئی اشرافیہ دیکھنے میں آئی جو سیاست کے ساتھ تجارت اور کاروبار میں بھی نمایاں تھی۔ سیاسی شخصیات کے کاروباری لوگوں سے سماجی تعلقات پہلے درپردہ ہوا کرتے تھے مگر اب باقاعدہ کاروباری حصہ داری کی شکل میں سامنے آ گئے۔ ایک دور تو وہ بھی آیا جب عسکری اور سول حکام کے علاوہ اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کے کاروباری تعلقات کی باز گشت سنائی دینے لگی۔ مشرف کے دو رکے اختتام کے ساتھ ہی کاروباری، سیاسی، قانونی اور آئینی اداروں کے مفادات کے ٹکراؤ کی لکیر بھی ملیامیٹ ہو گئی جس کے نتیجے میں مالی بدعنوانی کی سطح پہلے سے مزید بلند ہو گئی۔

مشرف کے بعد پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کے دور حکومت میں کرپشن کی کہانیاں ٹی وی چینلز پر زور و شور سے سنائی گئیں تو رد عمل کے طور پر عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف نمودار ہوئی۔ ملک میں انصاف تک رسائی کے نام پر وجود میں آنے والی تحریک انصاف نے بھی جلد ہی احتساب کو اپنا نعرہ بنایا اور کرپشن کے خلاف میدان میں عمل آئی اور پذیرائی حاصل کی۔

ملک کے متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں، بیرون ملک پاکستانیوں اور مقتدر اداروں اور عدلیہ کی بھرپور حمایت سے عمران خان کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف نے ملک کی باگ ڈور سنبھالی تو کرپشن کے خلاف جہاد کا اعلان کیا اور احتساب کے عمل کو تیز کر دیا۔ ٹیلی ویژن چینلز کے ساتھ اب سرکاری میڈیا پر حزب اختلاف کی کرپشن کے ”ثبوتوں کے انبار“ بھی لگ گئے۔ ملزمان کی بند کمروں میں کی گئی تفتیش سے عامۃ الناس کو آگاہ کرنے کا بھی پورا بندوبست کیا گیا۔ مگر ستم ظریفی یہ ہوئی کہ کرپشن کے انصاف کی کسوٹی پر آگے بڑھ ہی نہ پائے اور جو ملزمان اعلیٰ عدالتوں میں گئے بے قصور قرار دیے گئے۔ ملک کی اعلیٰ عدالتوں نے کرپشن کے خلاف قائم مقدمات کو حکومت کی مخالفین کے خلاف انتقامی کر اوئی قرار دے دیا اور احتساب کے عمل کو مخالفین کو کچلنے کا الہ۔

اس دوران ملک میں بد عنوانی کی لکیر ایک نئی بلندی کو چھو رہی ہے۔ کرپشن کی کہانی جو ایوب کے دور میں لاکھوں سے شروع ہوئی تھی ضیاءالحق کے دور کے کروڑوں اور مشرف کے دور میں اربوں کی کرپشن سے بڑھ کر اب سینکڑوں اور ہزاروں ارب تک جا پہنچی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ادویات، چینی، گندم، آٹا اور تیل جیسی بنیادی اشیائے ضرورت کی قلت اور فراہمی کے لئے کیے گئے سیاسی اور حکومتی فیصلوں کے نتیجے میں عوام کی جیبوں سے براہ راست سینکڑوں ارب با اثر افراد کی جیبوں میں منتقل ہوچکے ہیں۔

نظر بظاہر سرکاری خزانے سے کسی نے کچھ لیا ہو یا نہیں مگر حکومتی پالیسیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مہنگائی کی قیمت عام لوگوں نے ادا کی ہے جو حکومت کے خزانے کے بجائے ایسے افراد کی جیبوں میں پہنچی ہے جنھوں نے بطور سیاسی جماعت تحریک انصاف کی تشکیل و استحکام اور بطور وزیر اعظم عمران خان کی تعیناتی میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ حکومت کی اپنی تحقیقات کے مطابق بد عنوانی ثابت ہونے کے باوجود کسی کے خلاف کوئی کارروائی اس لئے نہ ہو سکی کہ جن کی طرف کھرا جاتا ہے وہ سب حکومت کی عمارت کے بنیادی ستون ہیں۔

آپ اور میں جب کرپشن کے خلاف برسر پیکار رہنے والی تحریک انصاف کے دور حکومت کی کہانیاں سنیں گے تو ماضی کے سارے قصے بہت چھوٹے اور معمولی نظر آئیں گے کیونکہ ایک نئی لکیر کھینچی جا چکی ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

علی احمد جان

علی احمد جان سماجی ترقی اور ماحولیات کے شعبے سے منسلک ہیں۔ گھومنے پھرنے کے شوقین ہیں، کو ہ نوردی سے بھی شغف ہے، لوگوں سے مل کر ہمیشہ خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر شخص ایک کتاب ہے۔ بلا سوچے لکھتے ہیں کیونکہ جو سوچتے ہیں, وہ لکھ نہیں سکتے۔

ali-ahmad-jan has 253 posts and counting.See all posts by ali-ahmad-jan