ایک ایسا شخص، جس کی ذات میں کئی لوگ بستے ہیں
گزشتہ دنوں ایک قاری نے میسنجر کے ذریعے مجھ سے رابطہ کیا اور ملنے کی خواہش کا اظہار کیا، کریدنے سے پتہ چلا کہ وہ بھی میاں چنوں سے تعلق رکھتا ہے مزید کھوجنے سے پتہ چلا کہ وہ میری اکیڈمی ”دی ویژن“ میں عرصہ پہلے پڑھ چکا ہے۔ میں نے ملنے کا سبب پوچھا تو اس کا کہنا تھا کہ وہ آپ کے بلاگ کا قاری ہے اور خاص طور پر جو میں نے سیکس ایجوکیشن کے متعلق لکھا تھا اس سے وہ کافی متاثر ہوا تھا چونکہ اس مضمون کو پڑھنے کے بعد اسے اپنی ذات کے کمپلیکس کی بہت اچھے سے سمجھ آ چکی تھی۔ میں یہاں اس کی میسنجر ٹاک کی کچھ لائنوں کا تذکرہ کرنا چاہوں گا تاکہ بات واضح ہو سکے کہ کیسے ہمارا مستقبل گلیوں میں رل رہا ہے اور نہ جانے کتنے لوگ اس معاشرتی گھٹن کی وجہ سے مختلف قسم کی نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہو چکے ہیں اور یہ تعداد دن بدن بڑھتی چلی جا رہی ہے۔
السلام علیکم و رحمتہ اللہ
سر آپ کے کالم پڑھے تو بہت اچھے لگے۔
اللہ آپ کو اس کا اجر دے آمین
آپ کا بلاگ پڑھا جو سیکس ایجوکیشن کے بارے میں تھا، جو آج تک کسی نے نہیں بتایا تھا آپ کے بلاگ سے اس کا پتہ چل گیا
اب میں سوچتا ہوں میری زندگی تو فضول گئی ساری
یہ معاشرے کا المیہ ہے والدین پر افسوس ہوتا ہے جنہوں نے آج تک اس حساس موضوع کے متعلق بالکل کچھ نہیں بتایا
سر میں زندگی سے تھک گیا ہوں بالکل فری گھر پر ہی رہتا ہوں
میرا کسی چیز پر فوکس نہیں بنتا حساس ہو گیا ہوں والدین اور بہن بھائیوں پر غصہ آتا ہے۔
احساس کمتری نے میرا ستیاناس کر دیا ہے کانفیڈینس بالکل ختم ہو چکا ہے، بھوک نہیں لگتی رات بھر نیند نہیں آتی
میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں اگر آپ مجھے وقت دے دیں تو میں آپ کا بہت مشکور رہوں گا۔
بہت سارے مریض اپنے مرض کی اصل ہسٹری سے بالکل واقف نہیں ہوتے اور بنا سوچے سمجھے ”شیر مارکہ، پیناڈال یا میفنک ڈی ایس“ ٹائپ گولیاں کھا کر اپنے مرض کو بہلاتے رہتے ہیں، یہ بندہ احساس کمتری کا مارا ہوا ضرور ہے مگر خوش قسمتی یہ ہے کہ یہ اپنے مرض کی ہسٹری کو بڑے اچھے سے جانتا ہے اور آخری سہارے کی تلاش میں سرگرداں ہے اس امید کے ساتھ کے شاید اندھیرا چھٹ جائے اور ایک نئی صبح امید کا پیغام اس کے لیے بھی لے آئے۔
خیر اس قاری سے میری ملاقات ہوئی جو کہ باریش تھے اور ہڈیوں کا ڈھانچہ بنے میرے سامنے بیٹھے تھے، میں نے ان سے ایک تفصیلی انٹرویو کیا جسے میں وقتاً فوقتاً شیئر کرتا رہوں گا مگر آج کچھ چیدہ چیدہ باتوں کو خلاصہ کی صورت میں پیش کرنے کی کوشش کروں گا۔ اس شخص کا ایک فرضی نام رکھ لیتے ہیں اس کا نام ”اکرم“ ہے جو کہ تقریباً 30 سال کا نوجوان ہے اس کا کہنا تھا کہ سر میرے والد مذہبی انسان ہیں جنہوں نے مجھے اللہ کے لئے وقف کر کے مدرسہ کے حوالے کر دیا تاکہ میں حفظ کرنے کے بعد عالم بن کر دین کی خدمت کروں، میں نے اپنے والد کو بہت بار سمجھانے کی کوشش کی کہ بابا میں سکول ایجوکیشن حاصل کرنا چاہتا ہوں مدرسہ کی تعلیم نہیں۔
انہوں نے یہ سنتے ہی کہا کہ ایسا نہیں ہو سکتا آپ کو عالم ہی بننا ہے اور انگریزی تعلیم حرام ہے اس کے قریب بھی نہیں جانا۔ اکرم کا کہنا تھا کہ میری زندگی کے قیمتی ماہ و سال کڑھتے کڑھتے یونہی بسر ہو گئے بادل ناخواستہ حفظ تو نہ کر سکا البتہ عالم بن گیا مگر میں اس سسٹم سے بالکل مطمئن نہ تھا اور میں زندگی میں بطور پروفیشن ایک عالم بن کر زندگی نہیں گزارنا چاہتا تھا۔ کیونکہ میں اس طرز زندگی سے مطمئن نہیں تھا اور بہت سے تضادات میرے سامنے تھے جنہیں میں کسی سے شیئر بھی نہیں کر سکتا تھا کیونکہ مجھے اس کا نتیجہ پتہ تھا۔
سر میں ایک آزاد زندگی جینا چاہتا تھا، اپنی طبیعت و مزاج کے مطابق سکول، کالج اور یونیورسٹی کی تعلیم حاصل کر کے اپنے ذہن کو وسعت دینا چاہتا تھا مگر ایسا نہ ہوسکا چو نکہ میں اپنے والد کا روبوٹ بن چکا تھا وہ میری مرضی کے خلاف اپنی مرضی تھوپ کر مجھے چلاتے رہے۔ سر میری شخصیت میں بہت سارے لوگ بستے ہیں مگر افسوس میں اپنی ذات میں خود ہی موجود نہیں ہوں کیوں کہ مجھے لوگوں کی خواہشات کے مطابق چلایا گیا تھا اور میری ذات کو مسخ کر کے میرے والدین نے میری ذات میں بہت سے لوگ انجیکٹ کر دیے تھے۔
میں مدرسہ لائف میں بہت سی تضاد بیانیاں نہ صرف طرز فکر میں بلکہ طرز رہن سہن میں بھی مشاہدہ کر چکا تھا، حساس طبیعت ہونے کی وجہ سے اب میں بائی پولر ڈس آرڈر کا شکار ہو چکا ہوں، جب میں کسی سے گفتگو کرتا ہوں تو مجھے یوں لگتا ہے جیسے میں خود بات نہیں کر رہا بلکہ میرے اندر سے مختلف لوگ باتیں کر رہے ہیں۔ سر سیکس ایجوکیشن نہ ہونے کی وجہ سے میں اپنی سیکس لائف نہ سنبھال پایا اور جب کبھی میرے والدین میری شادی کی بات کرتے ہیں تو فوری انکار کر دیتا ہوں کیونکہ میں تو اپنا وزن نہیں سہار سکتا دوسرے کو کیسے اپنی زندگی میں لاکر سہارا دے سکتا ہوں؟
سر میرے والدین مجھے سیدھی راہ پر چلانے کے لئے میری مسلسل ریکی کرتے رہتے تھے کہ کہیں بہک نہ جائے اب جب کہ میں تقریباً پاگل ہو چکا ہوں اب بھی میری ریکی کرنے سے باز نہیں آتے۔ سر کیا والدین بچے اس لیے جنتے ہیں کہ ہاتھ میں پیمانہ یا چھڑی پکڑ کر آقا بننے کا کردار نبھائیں اور اپنے غلاموں کو اپنے حکم پر چلنے پر مجبور کریں؟ کیا میری زندگی پر میرا کوئی حق نہیں ہے؟ کیا جو میرے والدین کو پسند ہے کیا ضروری ہے کہ مجھے بھی وہی پسند ہو؟
سر جنس کے حوالہ سے جو میرے والدین مجھے بڑے پیار سے سمجھا سکتے تھے وہ میں نے اپنی ذات کا استحصال کروا کے معاشرتی شکاریوں سے سیکھا ہے۔ اب جب میں بالکل نڈھال اور نیم پاگل ہو چکا ہوں اب میرے والدین مجھے اپنی مرضی کا پڑھنے کو کہتے ہیں مگر اب بہت دیر ہو چکی ہے میری امنگیں مر چکی ہیں اور میری اپنی ذات کہیں کھو چکی ہے جسے شاید میں اب کبھی ڈھونڈ نہ پاؤں گا۔ سر میں اب اس زندگی سے فرار چاہتا ہوں اور کسی ایسی جگہ جانا چاہتا ہوں جہاں میں اپنے والدین کا چہرہ نہ دیکھ پاؤں۔
سر میں سکون کی تلاش میں سرگرداں ہوں پانچ وقت کی نماز اور خلوص دل سے تسبیحات پڑھتا رہتا ہوں کہ شاید میری ذات میں سکون کی ایک آس پیدا ہو جائے مگر سر عبادات میں بھی میرے لئے سکون ختم ہو چکا ہے۔ سر میں بہت سارے مضامین پڑھنا چاہتا تھا مگر میرے والدین نے میری مرضی کے خلاف زبردستی میری ذات کو ڈبے میں بند کر دیا اور اب مثل قبر ہو چکا ہوں جس سے باہر آنے کے لئے مجھ میں دم خم نہیں رہا۔ سر میں احساس جرم اور احساس گناہ کے درمیان الجھتے الجھتے اپنی شخصیت کے ہاتھوں ذبح ہو چکا ہوں، ساری زندگی زمانے کی نذر ہو گئی اب میرے لیے میری اپنی ذات میں کچھ نہیں بچا۔ راتوں کو جاگنا اور گھٹ گھٹ کے رونا میری زندگی کا معمول بن چکا ہے۔ میں نے بوجھل دل کے ساتھ اسے تسلی دینے کی کوشش کی مگر اس کی آنسوؤں والی نگاہوں کو زیادہ دیر تک دیکھ نہیں پایا اور اجازت لے لی۔


