انجینئر محمد علی مرزا کی اپنے سٹوڈنٹس کو وارننگ


مادی دنیا میں رہتے ہوئے مادی حقیقتوں سے انکار بھلا کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟ دنیا کے سب فلسفے پیٹ سے ہی شروع ہوتے ہیں اور پیٹ پر ہی ختم ہوتے ہیں جو اس حقیقت کو جھٹلا کر کوئی بھی فیشنی جبہ پہنتا یا کوئی بھی خول اپنے چہرہ پر چڑھا کر عظیم بننے کی کوشش کرتا ہے یہ سب جھوٹ اور شعبدہ بازی تصور کیا جائے گا۔ کارل مارکس کا سارے کا سارا فلسفہ اسی مادی حقیقت کے گرد گھومتا ہے ان کا ماننا تھا کہ دولت کی غیر منصفانہ تقسیم لوگوں میں احساس محرومی کو جنم دیتی ہے اور یہی محرومی انہیں ”بیگانگی“ کی طرف لے جاتی ہے۔

پنجابی کا ایک محاورہ ہے کہ ”جیہدے گھر دانے اوہدے کملے وی سیانے“ مطلب پیسہ یا آپ کا بھرا ہوا اجناس کا بھڑولا آپ کی بھوک تو مٹاتا ہی ہے مگر اس کے ساتھ بطور بونس آپ کو ”معاشرتی سیانا“ بھی بنا دیتا ہے۔ اسی معاشرتی حقیقت کو ساحر لدھیانوی کچھ اس نظر سے دیکھتا ہے کہ ”مفلسی حس لطافت کو مٹا دیتی ہے، بھوک آداب کے سانچوں میں ڈھل نہیں سکتی“ ۔ انسانی تصورات بہت اعلیٰ اور شاندار ہو سکتے ہیں اس سے انکار نہیں مگر جو مادی حقیقتوں سے ٹکراتے ہوں ان کی شیلف لائف بہت محدود ہوتی ہے اور وہ اعلیٰ تصورات محض کتابوں کی زینت بن کر کتابوں میں ہی محفوظ رہ جاتے ہیں۔

چند دن پہلے مرزا صاحب اپنے ایک سٹوڈنٹ کے چینل پر کچھ سوالوں کا جواب دے رہے تھے جس میں یہ تذکرہ چل پڑا کہ ”آپ کے نام سے چلنے والے کچھ چینل جو کہ آپ کے خیرخواہوں کے ہیں ان پر سیکسی اشتہارات چل رہے ہیں اس کے متعلق آپ کا کیا موقف ہو گا“ ؟ یہ سنتے ہی انجینئر صاحب طیش میں آ گئے اور اپنے سٹوڈنٹس کو وارننگ دے ڈالی کہ

” اگر آپ نے میرے کنٹنٹ کو لے کر اپنا چینل وغیرہ بنایا ہے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں مگر اگر اس چینل پر سیکسی اشتہارات چل رہے ہوں تو اسے قطعی طور پر برداشت نہیں کروں گا اور تین وارننگ سٹرائک بھیج کر ان کا چینل سرے سے ہی ختم کروا دوں گا، پھر نہ کہنا خبر نہیں ہوئی میں دین کے ساتھ اس طرح کا مذاق برداشت نہیں کروں گا“

اس کے علاوہ انہوں نے مزید بتاتے ہوئے کہا کہ مجھ تک اطلاع پہنچی ہے کہ کچھ لوگوں نے میری ویڈیو کو استعمال کر کے اپنا چینل بنایا اور مونیٹائز ہونے کے بعد لاکھوں میں کسی دوسری پارٹی کو بیچ دیا میں ایسا مذاق بالکل برداشت نہیں کروں گا۔ مرزا صاحب کو اس کا کریڈٹ ضرور جاتا ہے کہ ان کا چینل مونیٹائز ہونے کے باوجود وہ اس کی کروڑوں کی انکم سے بالکل مستفید نہیں ہوتے کیونکہ انہوں نے ایڈ آپشن بند کیا ہوا ہے۔ یہ ان کا اس چکاچوند والے جہان میں ایک بڑا کارنامہ ضرور ہے، سرکاری ملازمت کے علاوہ ممکن ہے کہ ان کے ذرائع آمدن وسیع و عریض ہوں اور دین کا کام محض فلاح انسانیت کے لئے کر رہے ہوں مگر ان کا اپنے خیر خواہوں پر قدغنیں لگانا سمجھ سے بالاتر ہے۔

مادی دنیا کی سب سے بڑی حقیقت مفادات ہوتے ہیں اگر مفادات نہ ہوں تو خیر خواہی کا تو نام ہی بد نام ہو گا اور اگر انسانی وجود پر پیٹ نہ لگا ہوتا تو شاید خیرخواہی میں بلا کا خلوص بھی شامل ہوجاتا مگر پیٹ تو آخر بھرنا پڑتا ہے اور مختلف حیلے بہانے اور اللے تللے کرنا انسانی مجبوری اور کمزوری ہے جس سے انکار ممکن نہیں ہے۔ بطور سیکولر ہیومنسٹ کی حیثیت سے میرا انجینئر مرزا سے کوئی سروکار نہیں ہے میں تو حصول علم اور شعور و آگہی کی خاطر مختلف مکاتب فکر، فلسفہ اور ہر نئی سوچ کو کھنگالتا رہتا ہوں اور تشکیکی و تحقیقی رویہ کے ساتھ محض سیکھنے کی غرض سے نا کے عقیدت کے سانچے میں ڈھلنے کے لئے خود کو ”لرننگ، ری لرننگ اور ان لرننگ موڈ“ پہ رکھتا ہوں تاکہ زندگی میں کچھ مس نہ ہو جائے مگر مادی حقائق سے انکار کرنے والے بندے مجھے ایک آنکھ نہیں بھاتے۔

ہمارے سامنے ایسے لاتعداد پڑھے لکھے اور باصلاحیت لوگ موجود ہیں اور بہت سے زمین کا رزق بن چکے ہیں مگر مالیاتی طور پر مستحکم نہ ہونے کی وجہ سے معاشرتی سٹیٹس نہ بن سکا جس کی وجہ سے وہ مین اسٹریم کا حصہ نہیں بن پائے اور معاشرتی ٹھوکروں کا شکار ہوتے رہے اور آخر کار ذہنی مریض بن کر چار دیواری میں قید ہو گئے۔ تاریخ کے پنوں پر ایسی لاتعداد مثالیں موجود ہیں اور آج بھی ہم اپنے گرد و نواح میں مشاہدہ کر سکتے ہیں۔

کرونا وبا کے بعد لاتعداد یوٹیوب چینل بنے ہیں ذرا غور کریں اس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟ سادہ سا جواب معیشت ہے اور اس کرونا وبا نے بڑوں بڑوں کو روند ڈالا ہے صرف تنخواہ دار طبقہ کسی حد تک بچا ہے مگر ریاست مدینہ میں مہنگائی کے چلن کی بدولت وہ بھی دوسرے ذرائع کے متعلق سوچنے لگے ہیں۔ اس سے بڑی کڑوی حقیقت کیا ہو سکتی ہے کہ دنیا کو مثل خنزیر اور ذلیل و رسوا چیز سمجھنے والے مذہبی لوگ اور گدی نشین سب سے زیادہ اسی دولت کو حسین سمجھتے ہوئے دن رات کروڑوں میں کھیلتے رہتے ہیں، مولویوں اور پیروں فقیروں کی دست بوسی کرتے وقت عقیدت مند چپکے سے جو ان کے ہاتھوں میں تھما کر چلتے بنتے ہیں اسے ہی ”دولت یا کرنسی“ کہتے ہیں۔

یقین مانیں انجینئر محمد علی مرزا گھریلو طور پر مضبوط نہ ہوتے تو ان کا یہ قد کاٹھ نہ بنتا اور لوگوں کا اتنا وسیع حلقہ بھی نہ ہوتا چونکہ اس حقیقت سے انکار نہیں کہ لوگ پہلے آپ کے تن کی ٹھاٹھ دیکھتے ہیں پھر چہرہ دیکھتے ہیں۔ آستانوں کے نام پر کھلے ہوئے لنگر خانے عوام کا ہی فیضان جیب ہوتا ہے جس سے سب سے پہلے ”صاحبان سلسلہ“ فیض یاب ہوتے ہیں اور بچا کھچا غریب غربا کھا کر اپنا پیٹ بھر لیتے ہیں۔ مولانا طارق جمیل کی جو آج ٹھاٹھ باٹھ ہے وہ اسی وجہ سے ہے کہ وہ جاگیردار طبقہ سے تعلق رکھتا ہے اور اس کا معیشتی کلہ مضبوط ہے اور اسی وجہ سے ہر بڑی سے بڑی محفل کی زینت بن جاتے ہیں۔

ورنہ تو درجنوں ان سے کئی درجہ زیادہ باصلاحیت علماء موجود ہیں مگر ان کو کوئی بھی نہیں پوچھتا اور وہ بے نام سی زندگی گزار رہے ہیں۔ انجینئر صاحب نے مولانا طارق جمیل سے گلہ کرتے ہوئے کہا کہ میں نے عرصہ پہلے مولانا سے عرض کی تھی کہ آپ یوٹیوب چینل کی ایڈ بند کروائیں، میرے توجہ دلانے پر کچھ عرصہ تو ایڈ بند رہی مگر پھر سے چلنے لگی، اسی کا نام تو معیشت ہے جناب، نام یونہی تو نہیں بن جایا کرتے بہت سے چونچلے کرنا پڑتے ہیں۔

برانڈ بنانے کے لیے بہت کچھ داؤ پر لگانا پڑتا ہے اور مولانا نے ایم ٹی جے برانڈ بنا کر یہ ثابت کر دیا کہ انسان اپنے پورے قد کے ساتھ اپنے پاؤں پر اعتماد کے ساتھ اسی وقت کھڑا ہو سکتا ہے جب اس کی معیشت مضبوط ہوگی۔ اس لئے انجینئر صاحب سے درخواست ہے کہ اپنے اسٹوڈنٹس پر رحم کھائیں اور ان کی اپنے ساتھ خیرخواہی کو برقرار رکھنے کے لیے انہیں معاشی آزادی دے دیں تاکہ ان کا بھرم بھی برقرار رہے چونکہ جب آپ نے وارننگ دی تھی تو آپ کے ان اسٹوڈنٹس کے چہرے دیکھنے والے تھے جن کو آپ انٹرویو دے رہے تھے۔

Facebook Comments HS

One thought on “انجینئر محمد علی مرزا کی اپنے سٹوڈنٹس کو وارننگ

  • 31/01/2022 at 1:01 صبح
    Permalink

    جیسے آپ کے اس کالم پر ننگے اشتہار چل رہے ہیں، آپ کے لیے یہ کمائی حلال ہو گی، ہمارے لیے نہیں، اگر مسلمان ہو تو آخرت کی فکر کرو جہاں مال کے بارے پوچھا جائے گا پیسہ کہاں سے کمایا کیسے کمایا؟ جسے دین کا صحیح علم وہ اچھے سے جانتا ہے خدا نے جو حدیں مقرر کی ہیں وہ اس سے تجاوز نہیں کریں گا، آخر رزق تو خدا ہی دیتے ہیں تو اسے اس بات کا خوف نہیں ہونا چاہیے کہ وہ بھوکہ مر جائے گا
    حضرت ابوہریرۃ ؓ سے روایت ہے وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا؛ ’’لوگوں پر ایک وقت آئے گا جب آدمی کو اس کی کچھ پروا نہیں رہے گی کہ مال حلال طریقے سے حاصل کیا ہے یاحرام طریقے سے کمایا ہے۔‘‘
    (صحیح بخاری 2059)

Comments are closed.