نواز کھوکھر نے غلام اسحق کا فون نظر انداز کر کے نواز شریف کا ساتھ دیا

بظاہر دنیا دار لیکن درحقیقت درویش صفت سیاست دان الحاج محمد نواز کھوکھر کو ہم سے جدا ہوئے ایک سال ہو گیا ہے۔ ان کا یوم وفات خاموشی سے گزر گیا عجب اتفاق ہے۔ بطور رکن قومی اسمبلی انہوں نے اپنے آپ کو پارلیمنٹ میں ایک تجربہ کار پارلیمنٹرین ثابت کیا، وہ اپنے حلقہ کے لوگوں کی خوشی غمی میں بھرپور شرکت کرتے تھے۔ 4 نومبر 1990 قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر منتخب ہوئے اور 6 اگست 1993 تک اس منصب پر فائز رہے۔ اس منصب پر فائز ہونے کے بعد انھوں نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان توازن کو برقرار رکھا۔ وہ وفاقی وزیر بھی رہے۔
کم و بیش میری ہر روز الحاج محمد نواز کھوکھر سے ٹیلی فون پر گپ شپ ہوتی تھی۔ میں وفاقی دار الحکومت کا واحد اخبار نویس تھا جن سے ان کی سونے سے قبل ملکی سیاست پر بات چیت ہوتی ان کا شمار ملک کے باخبر سیاست دانوں میں ہوتا تھا اگرچہ انہوں نے عملی سیاست سے رضا کارانہ طور پر ریٹائرمنٹ لے لی تھی اور سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر کو اپنی زندگی میں ہی سیاسی جانشین بنا دیا تھا لیکن ان کی محفل صاحب اقتدار، اپوزیشن اور طاقت ور لوگوں سے ہوتی تھی۔
لہذا ان کے پاس بڑی بڑی خبریں ہوا کرتی تھیں میں ان خبروں کی کھوج میں ہی ان سے فون پر رابطہ کرتا رہتا تھا جب کبھی حساس نوعیت کی خبر ہو تو وہ 10 ناظم الدین روڈ ایف۔ 8 میں واقع کھوکھر ہاؤس بلوا لیتے ویسے تو ان سے کم وبیش روزانہ ہی فون پر بات ہوتی رہتی تھی لیکن کورونا کی وبا نے ان سے رابطہ ٹیلی فون تک محدود کر دیا تھا۔ وہ کورونا 19۔ کی وبا سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کے لئے کم وبیش ایک سال تک اپنے گھر میں عملاً قید ہو کر رہ گئے تھے لیکن جس روز وہ باہر نکلے کورونا شکار ہو گئے جب میں ان سے کوئی خبر پوچھتا تو وہ یہ کہہ کر طرح دے جاتے میں ریٹائرڈ سیاست دان ہوں میرے پاس کہاں سے خبر آئی لیکن میں ان سے باتوں باتوں کوئی خبر اگلوا ہی لیتا انہوں نے اپنے سیاسی کیریر کا آغاز پاکستان پیپلز پارٹی سے کیا وہ ذوالفقار علی بھٹو کی پاکستان پیپلز پارٹی میں اسلام آباد تنظیم کے جنرل سیکریٹری تھے۔
وہ تین بار قومی اسمبلی کے رکن رہے ڈپٹی سپیکر اور وفاقی وزیر کے منصب پر فائز رہے کھوکھر ہاؤس سیاسی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے۔ جہاں اب ان کے سیاسی جانشین سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر باقاعدہ بیٹھک لگاتے ہیں۔ کھوکھر ہاؤس کو یہ اعزاز حاصل ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے اس گھر جنم لیا الحاج محمد نواز کھوکھر نے اس وقت کے صدر غلام اسحق کے دباؤ کی پروا کیے بغیر مسلم لیگ (ن) کے تاسیسی کنونشن کے لئے جگہ دی۔
کوئی ہوٹل مسلم لیگ (ن) کو جگہ دینے کے لئے تیار نہ تھا۔ انہوں نے غلام اسحقٰ خان کا فون آنے پر دو ٹوک الفاظ میں کہہ دیا تھا کہ میں نے میاں نواز شریف سے وعدہ کر دیا ہے۔ اب اس سے پیچھے نہیں ہٹوں گا۔ اگر یہ کہا جائے کہ میاں نواز شریف کو پارٹی کا صدر بنانے میں جہاں راجہ محمد ظفر الحق، چوہدری نثار علی خان، راجہ محمد افضل اور دیگر رہنماؤں کا بڑا عمل دخل ہے۔ وہاں الحاج محمد نواز کھوکھر کے جرات مندانہ کر دار نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قیام کو یقینی بنا یا میں ان سے ملاقات میں خود نوشت لکھنے کی ترغیب دیتا رہتا تھا۔
اس سلسلے میں قلمی تعاون کی پیش کش بھی کی لیکن کرونا کی شکل میں موت ان کا تعاقب کر رہی تھی۔ وہ تمام یادداشتیں بھی اپنے ساتھ ہی لے کر چلے گئے 2003 میں سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر کا ولیمہ تھا۔ الحاج محمد نواز کھوکھر نے منسوخ کر کے ولیمہ کے لئے مختص رقم میں سے 20 لاکھ روپے بنگلہ دیش میں محصور پاکستانیوں کی امداد کے لئے دے دیے الحاج محمد نواز کھوکھر کی وفات سے وفاقی دار الحکومت اسلام آباد کی سیاست کا ایک باب ختم ہو گیا ہے۔
اسلام آباد کی سیاسی تاریخ الحاج نواز کھوکھر کے ذکر کے بغیر نامکمل ہے۔ وہ اسلام آباد کی سیاست کے کم و بیش چار عشروں تک بے تاج بادشاہ رہے عمر بھر سفید شلوار قمیض ان کا پیرہن رہا پارلیمنٹ ہاؤس کے خطیب مولانا احمد الرحمنٰ کا ان سے عرصہ دراز سے ذاتی تعلق تھا۔ انہوں نے جنڈ میں ان کی طرف سے فراہم کردہ فنڈز سے تعمیر کردہ مسجد کا 15 مارچ 2021 کو افتتاح کرنا تھا لیکن موت نے انہیں افتتاح کرنے کی مہلت نہ دی مولانا احمد الرحمنٰ پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر بے یارو مدد گار لوگوں کو علاج معالجہ کے لئے الحاج محمد نواز کھوکھر تک پہنچانے کا فریضہ انجام دیتے اسلام آباد میں ایف 6 / 1 میں محترمہ بے نظیر بھٹو مرحومہ کی ہدایت پر الحاج محمد نواز کھوکھر کی سرپرستی قبول کی جو آج بھی مدرسہ بنات الاسلام کے نام سے چل رہا ہے۔
سیاست سے ریٹائرمنٹ کے بعد ان کا زیادہ وقت بحریہ ٹاؤن کے چیئرمین ملک ریاض کی رفاقت میں گزارتا تھا۔ ان کی وفات پر ملک ریاض نے کہا تھا کہ حاجی صاحب کی وفات سے ان کمر ٹوٹ گئی ہے۔ وہ فارغ وقت موٹر وے پر فارم ہاؤس میں گزارتے جہاں انہوں نے باغبانی کا شوق پورا کر رکھا تھا۔ وہیں انہوں نے مچھلیوں کے فارم بھی بنائے آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو بھی اس فارم میں فرصت کے لمحات گزار چکے ہیں۔ وہ پیپلز پارٹی میں ہوں یا مسلم لیگ نون میں انہیں میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری کی قربت حاصل رہی ہے اور ان سے ذاتی سطح پر تعلقات قائم رکھے مجھے یاد ہے۔
وہ نواز شریف کی جلاوطنی کے ابتدائی ایام میں مسلم لیگ (ن) میں واپس آنا چاہتے تھے لیکن اسلام آباد میں کچھ مسلم لیگیوں کی مخالفت کی وجہ سے ان کی واپسی ممکن نہ ہوئی انہوں نے ایک جرات مند لیڈر کے طور جیل کاٹی گھر سے ان کے لئے کھانا جیل میں آتا تو اس میں مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں عباس شریف اور حمزہ شہباز کا حصہ بھی ہوتا وہ جب تک جیل رہے الحاج محمد نواز کھوکھر ان کی میزبانی کے فرائض انجام دیتے رہے۔
سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر ان کے بڑے صاحب زادے ہیں۔ الحاج محمد نواز کھوکھر جہاں ذاتی زندگی میں بہترین منتظم تھے۔ وہاں وہ ایک کامیاب کاروباری شخصیت بھی تھے۔ کاروبار اور لین دین کے کھرے تھے۔ کسی شخص نے ان کے لین دین کے بارے میں شکایت نہیں کی، وہ حد درجہ کھلے دل کے مالک تھے۔ دوستوں کے دوست اور دشمنوں کے دشمن تھے۔ مسلم لیگ نون میں تھے تو نواز شریف کے وفادار جب مسلم لیگ (ن ) سے الگ ہوئے اور پیپلز پارٹی میں واپس آئے تو عمر بھر پیپلز پارٹی سے وابستہ رہے، وہ وضع دار شخص تھے۔
1997 میں پیپلز پارٹی میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ کھڑے رہے اور آخری وقت تک پارٹی کا ساتھ نبھایا، سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے الحاج محمد نواز کھوکھر کے سیاسی جانشین ہونے کا حق ادا کر دیا ہے اور دنوں میں اپنے آپ کو قومی سطح پر متعارف کرا دیا ہے جب کہ افضل کھوکھر حلقے کی سیاست کر رہے ہیں۔ الحاج محمد نواز کھوکھر کی وفات سے پیپلز پارٹی کو دھچکا لگا ہے پارٹی لیڈر شپ کے ساتھ ان کی وفاداری بھی ایک مثال تھی۔
97 کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کو انتخابی شکست ہوئی تھی۔ پنجاب میں اس کی دور دور تک کوئی نشست نہیں تھی۔ سندھ میں اسے کامیابی حاصل ہوئی تھی۔ پیپلز پارٹی قومی اسمبلی میں ایک چھوٹی پارلیمانی جماعت بن کر رہ گئی۔ انتخابات کے نتائج کے دو چار روز بعد الحاج محمد نواز کھوکھر نے اپنی رہائش گاہ ایف۔ 8 ناظم الدین روڈ میں افطار ڈنر دیا، محترمہ بے نظیر بھٹو، حامد ناصر چٹھہ اور دیگر سیاسی اتحادی رہنما اور میڈیا کے لوگ بھی افطار ڈنر میں موجود تھے۔
انتخابی عمل میں مداخلت سے متعلق حامد ناصر چٹھہ نے کہا کہ انہوں نے ٹھپے لگائے ہیں۔ انتخابات میں مسلم لیگ (ن) دو تہائی اکثریت سے کامیاب ہو گئی تھی۔ اسی پس منظر میں ان سے میڈیا نے سوال کیا کہ سیاسی منظر نامہ بدل چکا ہے۔ آپ کتنے عرصے کے لئے پارٹی میں رہیں گے۔ تو الحاج محمد نواز کھوکھر نے جواب دیا تھا کہ اب پکا فیصلہ کر لیا ہے کہ زندگی کی آخری سانس تک محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ رہوں گا اور کسی اور طرف جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا الحاج محمد نواز کھوکھر کا یہ جواب محترمہ بے نظیر بھٹو کے لئے خاصا حوصلہ افزا تھا۔
حوصلہ افزا اس لئے کہ ملک میں سیاسی منظر نامہ ایک سو اسی کے زاویے کے ساتھ تبدیل ہوا تھا۔ چند ہفتوں کے بعد نو منتخب قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا، الہی بخش سومرو قومی اسمبلی کے سپیکر منتخب ہو گئے۔ سپیکر شپ کے لئے ان کے انتخاب نے پیپلز پارٹی کے لئے بہت سے سوالات کھڑے کر دیے تھے۔ مگر ایک چھوٹی سی پارلیمانی پارٹی کے ساتھ اس وقت کی لیڈر آف اپوزیشن بے نظیر بھٹو نے کہا کہ حکومت اپنا رویہ تبدیل کرے، یہ ابھی ابتدا ہے۔
اگر یہی ماحول اور رویہ رکھا گیا تو آپ زیادہ عرصہ تک نہیں چل سکیں گے۔ بے نظیر بھٹو نے یہ چیلنج دو تہائی اکثریت والی پارٹی کو دیا تھا اور پھر وقت نے ثابت کیا کہ دو تہائی اکثریت والی نواز شریف حکومت محض دو اڑھائی سال کے بعد ہی 12 اکتوبر 1999 میں فوج نے ختم کر دی۔ آئی جے آئی کے زمانے میں الحاج محمد نواز کھوکھر نواز شریف کے ساتھ تھے۔ ملک میں سیاسی کشمکش بھی عروج پر تھی۔ یہ وہی زمانہ ہے کہ جب ملک کی کچھ سیاسی شخصیات کے لئے من و سلوی اتارا گیا۔
الحاج محمد نواز کھوکھر اس من و سلویٰ کے بارے میں بہت کچھ جانتے تھے۔ یہی کیس بعد میں اصغر خان کے ذریعے سپریم کورٹ تک پہنچا، بڑے بڑے سیاسی نام ان کی پیٹیشن میں لئے گئے۔ یہ سب کچھ سچ تھا۔ یہ سچ کبھی نہیں جھٹلایا جاسکتا کہ من و سلوی ان سیاسی رہنماؤں کے گھروں تک کس طرح پہنچایا گیا۔ ایک سیاسی جماعت نے اعلیٰ عدلیہ میں لکھ کر تحریری جواب میں کہا کہ ہمارا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ جب کہ سچ سچ ہی ہوتا ہے۔
کوئی مانے یا نہ مانے، یہ سب کچھ ہماری سیاسی زندگی کا ایک ایسا سچ ہے جسے کوئی بھی بیان نہیں کرسکے گا۔ یہ سب حقائق نواز کھوکھر اپنے ساتھ ہی لے گئے ہیں۔ حق مغفرت کرے، عجب آزاد مرد تھا۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ جب ایک اعلیٰ افسر میاں نواز شریف کو رقم دینے لگا تو انہوں نے یہ رقم لینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ انہیں اس رقم کی ضرورت نہیں یہ رقم آئی جے آئی کے اس لیڈر کو دی جائے جو فیلڈ میں کام کر رہا ہے۔
عام لوگوں کے لئے وہ ایک سیاستدان تھے۔ لیکن ان کی زندگی کا آخری وقت یاد اللہ میں گزرتا وہ ایک دینی شخصیت بن چکے تھے۔ ان کی ذاتی زندگی کے اس پہلو کے بارے میں بہت کم لوگوں کو علم ہے۔ وہ عشق رسولﷺ سے سرشار تھے۔ دولت مند تھے لیکن غریبوں میں اپنی دولت لٹاتے رہتے تھے۔ ان کے ملک کے ہر بڑے سیاسی خاندان سے ذاتی مراسم تھے۔ وہ انتہائی شفیق ملنسار تھے۔ کھوکھروں کا دبدبہ مشہور ہے لیکن وہ عاجز انسان تھے۔ ان کا دھیما پن ان کے دبدبہ کی نفی کرتا تھا۔
چھٹا ہو یا بڑا ہر ایک سے دھیمے انداز میں گفتگو کرتے ان کا سلسلہ ارادت پیر صاحب گولڑہ شریف سے تھا۔ ان کا سلسلہ ارادت مشائخ گولڑہ شریف سے تھا۔ وہ گولڑہ شریف کے پیروں کی بے پناہ عزت کرتے تھے۔ وہ گولڑہ شریف میں باقاعدگی سے حاضری دیتے تھے۔ انہیں عمر بھر پیر صاحب گولڑہ شریف کی آشیر باد حاصل رہی۔ انہوں نے ہی ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔
الحاج محمد نواز کھوکھر کے تین صاحبزادے ہیں۔ ملک عثمان نواز کھوکھر ملک حسین نواز کھوکھر اور مصطفیٰ نواز کھوکھر۔ انہوں نے اپنی زندگی میں ہی مصطفی نواز کھوکھر کو اپنا سیاسی جانشین نامزد کر دیا تھا اور وہی ان کے سیاسی معاملات کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر، عثمان نواز کھوکھر اور حسین نواز کھوکھر الحاج محمد نواز کی قائم کی ہوئی روایات کے امین ہیں۔ سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر یونیورسٹی آف بکنگھم انگلینڈ میں زیر تعلیم رہے ہیں۔
وطن واپسی کے بعد انہوں نے ملکی سیاست میں بھرپور حصہ لینا شروع کر دیا انہوں نے کسی مقبول جماعت کو جائن کرنے کی بجائے اپنے لئے اسی جماعت کا انتخاب کیا جس سے ان کے والد محترم نے سیاسی کیرئیر کا آغاز کیا تھا۔ بہت کم لوگوں کو اس بات کا علم ہے۔ الحاج محمد نواز کھوکھر بظاہر ایک دنیا دار شخص تھے لیکن انہوں نے کئی سال قبل دین سے رجوع کر لیا تھا۔ وہ اپنا بیشتر دینی سرگرمیوں میں گزارتے تھے۔ یتیموں بیواؤں اور طلبہ ایک لمبی فہرست تھی جن کی وہ خاموشی سے کفالت کیا کرتے تھے۔ کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی تھی۔ وہ محبت رسولﷺ سے سرشار تھے۔ تنہائی میں ضیا القرآن اور ضیا النبی کا مطالعہ کرنا ان کا معمول تھا۔ کافی عرصہ سے ان کا اوڑھنا بچھونا دینی محافل میں شرکت تھا۔ ان کا شمار پاکستان کے ان سیاستدانوں میں ہوتا جن کے پاکستان کے تمام سیاسی خاندانوں کے ساتھ ساتھ ذاتی مراسم تھے۔ وہ سیاست میں رواداری کے قائل تھے۔ اپنے مخالفین کے ساتھ بھی تعلقات قائم رکھنا کوئی ان سے سیکھے۔
جب میاں نواز شریف غلام اسحق کے زیر عتاب تھے۔ وہ ان کے تمام سیاسی راستے بند کرنا چاہتے تھے لیکن ابتلا کے اس دور میں الحاج محمد نواز کھوکھر میاں صاحب کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے اپنے گھر کے دروازے میاں نواز شریف کے لئے کھول دیے۔ مسل اسی کہا جاتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے الحاج محمد نواز کھوکھر کے گھر میں جنم لیا۔ انہوں نے حق دوستی ادا کیا اور میاں نواز شریف کا بھرپور ساتھ دیا انہوں نواز شریف سے علیحدگی کیوں اختیار کی اور دوبارہ پیپلز پارٹی کیوں جائن کی؟ وہ اس داستان کو اپنی خود نوشت میں بیان کرنا چاہتے تھے لیکن زندگی نے وفا نہ کی وہ ساری یادیں اپنے ساتھ لے کر چلے گئے۔
الحاج نواز کھوکھر نے جیل یاترا کی تو بڑی جرات سے جیل کاٹی 1999 میں نیب نے الحاج محمد نواز کھوکھر کے خلاف ایک ریفرنس بنایا گیا تو۔ انہوں نے از خود گرفتاری دے دی انہوں نے نیب والوں کو اپنے گھر کی دیواریں پھلانگنے کا موقع نہیں دیا اپنے آپ کو عدالت کے سامنے بے گناہ ثابت کیا گرفتاری کے بعد ہائی کورٹ سے ان کی درخواست ضمانت منظور کر لی جبکہ 2015 میں عدالت نے انہیں تمام الزامات سے باعزت بری کر دیا اور نیب کی طرف سے لگائے جانے والے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دے دیا۔
اس وقت کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے 13 جون 2019 کو الحاج محمد نواز کھوکھر کے خلاف نیب کی اپیل مسترد کر دی انہوں نے اپنے ریمارکس میں قرار دیا کہ نیب کے تمام الزامات بے بنیاد تھے۔ اور ایک شریف آدمی پر غلط الزامات لگانے پر نیب کی سرزنش بھی کی الحاج نواز کھوکھر نادار طلبہ و طالبات کے تعلیمی اخراجات برداشت کرتے تھے۔ انتہائی خاموشی کے ساتھ کئی بچوں کی کالجز، سکول یہاں تک کہ یونیورسٹی کی فیس بھی ادا کرتے۔ کئی طلبہ کو اپنے خرچ پر اعلی تعلیم کے لئے بیرون ملک بھجوایا۔
مجھے اس بات کا اعزاز حاصل ہے۔ سابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اور کھوکھر برادران کے درمیان غلط فہمیوں اور فاصلوں کو ختم کرایا ہے۔ آج مصطفی نواز کھوکھر نے 10 ناظم الدین ایف 8۔ روڈ پر واقع کھوکھر ہاؤس میں اپنے والد کے سیاسی ڈیرے کو آباد کر رکھا ہے۔ جہاں ہر روز سینکڑوں لوگ ان سے ملاقاتیں کرتے ہیں اور وہ ان کے مسائل حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
