جہیز نہ لانے والی عام سی لڑکی


دوسرے دن امی اور میری بہنیں بھی جمع ہوئی تھیں اور میری قسمت کے پھوٹنے کا ماتم سلمیٰ کے سامنے کرتی رہی تھیں۔ میرے سامنے صاف راستہ تھا۔ اگر جہیز کی صورت میں کم از کم نئی گاڑی ہی مل جائے تو میں طلاق نہ دوں، سب کا یہی خیال تھا۔

سلمیٰ نے میری بہن سے کہا تھا، ”ہمارے گھر میں جو کچھ بھی ہے وہ صرف ہماری ماں کی کفایت شعاری ہے اور ہم دو بہنوں اور باپ کی مشترکہ کوششوں سے اچھی طرح کا رہن سہن ہے مگر اتنی حیثیت کہاں ہے کہ آپ لوگوں کے مطالبے پورے کیے جاسکیں۔ دیکھیں میں پڑھی لکھی ہوں اچھی نوکری ہے میری، میں بہت کچھ کرلوں گی۔ ایسی باتیں نہ کریں، ابھی تو میری بہنوں کی شادیاں ہونی ہیں۔“

”ارے، اگر نوکری کر اکر ہی گھر بھرنا تھا تو کسی رنڈی سے شادی نہ کرا لیتے اپنے بھائی کی۔ اگر تم نوکری کرو گی تو کون دیکھے گا میری ماں کو ۔ کون خدمت کرے گا ان کی؟“ میری بہن نے چیخ کر جواب دیا تھا اور ٹھیک ہی جواب دیا تھا۔

اس قسم کے الفاظ اچھے نہیں ہوتے ہیں۔ لڑکیوں کو نہیں بولنا چاہیے لیکن اگر کسی کی سمجھ میں کچھ آہی نہ رہا ہو تو چارہ کیا ہے۔ سلمیٰ یہ سمجھ ہی نہیں رہی تھی کہ اس کی نوکری سے میری کتنی سبکی ہوگی اور گھر میں نئی کار نہ آنے سے جو بے عزتی ہوتی ہے اس کا تو کوئی احساس ہی نہیں تھا اس کو ، خاص طور پر ایسی صورت حال میں جب اچھے خاصے جہیز والے رشتوں کو ہم لوگوں نے منع کر دیا تھا۔ دنیا تھو تھو کر رہی تھی ہم لوگوں پر ۔ ہمارے ڈیڈی کتنے ذہین تھے اور ہم لوگ کتنے بے عقل۔ مجھے اپنے پورے خاندان پر شدید غصہ آیا تھا۔

مگر میری بہنوں کی چیخ، میرا سمجھانا، کچھ بھی سمجھ نہیں آیا تھا سلمیٰ کو ، نہ سلمیٰ کے باپ کو ، نہ سلمیٰ کی ماں کو ۔ عجیب لوگ تھے وہ، عجیب خاندان تھا ان کا ۔ اگر ان کو جہیز وغیرہ نہیں دینا تھا تو مجھ سے شادی ہی نہ کرتے، کچھ پتا تو کرتے ہمارے بارے میں، ہمارے خاندان کے بارے میں۔ کچھ نہیں کیا تھا ان لوگوں نے۔

میری زندگی کسی خراب بلب کی طرح فیوز ہو گئی تھی۔ جس طرح بچپن میں، میں فیوز بلب کے ٹوٹے ہوئے تاروں کو ہلا جلا کر جلنے کے قابل بنا دیا کرتا تھا اسی طرح کا موقع سلمیٰ کے خاندان کو بھی دیا تھا میں نے، مگر ان لوگوں نے کوئی کوشش نہیں کی۔ ارے مکان ہی بیچ دیتے، کسی سے قرض لے لیتے، بیٹیوں کی شادی کے لیے کیا کچھ نہیں کیا جاتا ہے اور ان لوگوں نے کچھ بھی نہیں کیا تھا۔ تار ٹوٹے ہی رہے تھے میں فیوز بلب کی طرح بے رونق، بے روشنی کے اندھیروں میں کھوکھر رہ گیا تھا۔

اب تو میں دوستوں میں بھی اٹھنے بیٹھنے کے قابل نہیں رہا تھا۔ رشتے دار کہتے تھے، تمہیں صحیح جوڑ نہیں مل سکا، کہاں پھنسے ہو جا کر ۔ میری ماں اور بہنیں میری مجرم بن کر میرے سامنے کھڑی تھیں۔ اس سے تو اچھا تھا کہ میں اپنی مرضی سے کسی کالج کی لڑکی سے شادی کر لیتا جنہیں بے وقوف بنایا کرتے تھے ہم لوگ۔ غریب تو بہت مل جاتے ہیں شادی کرنے کے لیے۔

بڑے تلخ ماحول میں اور بڑے ہی دل شکن حالات میں، میں اور سلمیٰ میاں بیوی کی طرح سے رہ رہے تھے۔ وہ مجھے، میری ماں کو ، میری بہنوں کو خوش کرنے کی کوششوں میں لگی ہوئی تھی اور میں روز بہ روز اس نا انصافی سے مکدر ہی ہوتا چلا جا رہا تھا۔ ہائے ری قسمت! ہائے ری قسمت!

میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوا؟ یہ دوسرا موقع تھا جب قسمت نے مجھے دھوکا دیا تھا۔ ایک جب کراچی بورڈ میں انکوائری کی وجہ سے میں فرسٹ ڈویژن میں پاس نہیں ہوسکا اور دوسری دفعہ میری ماں بہنوں کی حماقت کی وجہ سے جب وہ کوئی انکوائری ہی نہ کرسکیں کہ سلمیٰ کے گھر والے آج کل کے زمانے میں کتنے ان فٹ ہیں اور میں ان ابنارمل لوگوں میں پھنس گیا تھا۔

بہت دن نہیں گزرے تھے کہ وہ حادثہ ہو گیا، باورچی خانے میں کسی نے گیس کا بٹن کھلا چھوڑ دیا تھا اور سلمیٰ نے جا کر جیسے ہی لائٹر سے چولہا جلانے کی کوشش کی تھی کمرے میں آگ پھر گئی۔ وہ اپنے نائلون کے کپڑے کے ساتھ بالکل ہی جل کر رہ گئی تھی۔

بڑی مشکل سے میں نے اسے ہسپتال پہنچایا تھا۔ بہت کم دیر وہ زندہ رہی تھی وہاں اور۔ میری نظروں کے سامنے اپنے ماں باپ کے آنے سے بہت پہلے جان دے دی تھی اس نے۔

میں نے کہا ناں کہ سلمیٰ عام سی لڑکی تھی، پڑھا لکھا ہونے کے باوجود اور ان عام سی لڑکیوں کی طرح وہ خاموشی سے جل کر مر گئی تھی۔ نہ کوئی شور ہوا نہ کوئی ہنگامہ، نہ اس نے مرنے سے پہلے میرے ہاتھوں کو ہاتھ میں لے کر کچھ کہا، نہ مجھ سے معافی مانگی، نہ میری ماں سے کچھ کہا۔ بے وقوف اتنی تھی کہ اپنے ماں باپ تک کا انتظار نہیں کیا تھا اس نے۔ ہسپتال پہنچی تھی اور ڈاکٹروں کے آنے سے پہلے ہی درد کی شدت سے بغیر چیخ پکار کے مر گئی تھی۔ مرنے سے قبل صرف پتھرائی ہوئی آنکھوں سے کچھ تکتی رہی تھی جیسے کسی ویرانے میں کچھ تلاش کر رہی ہو، جیسے کسی کو کچھ کہنا چاہ رہی ہو، یہ اچھا ہے کہ پتھرائی ہوئی آنکھوں سے کوئی ایف آئی آر نہیں کٹ سکتی ہے۔ وہ ان آنکھوں کے ساتھ بغیر کسی احتجاج کے جسم چھوڑ گئی تھی۔

بہت عام سی لڑکی تھی وہ۔ معمولی شکل و صورت والی جیسی بہت ساری عام سی لڑکیاں ہوتی ہیں۔ نہ اس کا چہرہ زی ٹی وی پر نظر آنے والی لڑکیوں جیسا تھا نہ ہی وہ ان کی طرح دراز قامت تھی اور نہ ہی اس کی ناف۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2