جہیز نہ لانے والی عام سی لڑکی
وہ ایک عام سی لڑکی تھی جیسی اور بہت ساری عام سی لڑکیاں ہوتی ہیں۔ نہ اس کا چہرہ زی ٹی وی پر نظر آنے والی لڑکیوں جیسا تھا نہ اس کے با ان کے انداز میں بنائے گئے تھے، نہ اس کی ادائیں ان کی طرح تھیں، نہ وہ ان کی طرح بات کرتی تھی نہ وہ ان کی طرح چلتی تھی اور نہ اس کی ناف زی ٹی وی پر دکھائی دینے والی لڑکیوں جیسی تھی۔ میں نے زی ٹی وی پر آنے والی لڑکیوں اور انڈین فلم کی ایکٹریسوں کی نافوں کا بہت تفصیلی مشاہدہ کیا تھا بلکہ ہم دوستوں نے تو ایک طرح کی درجہ بندی بھی کی ہوئی تھی۔
حقیقت تو یہ ہے کہ ان لڑکیوں کے پیٹ کو ہم نے حصوں میں بانٹا ہوا تھا۔ عام طور پر دبلی پتلی حسین لڑکیوں کی ناف عمودی ہوتی تھی اور جو لڑکیاں تھوڑی موٹی ہوجاتی تھیں ان کی ناف گول ہوجاتی تھی۔ اور جو زیادہ موٹی ہوجاتی تھیں ان کی ناف متوازی اور سیدھی ہوجاتی تھی اور جیسے جیسے چربی کولہوں اور پسلیوں پر چڑھتی جاتی تھی ویسے ویسے ناف کی شکل بھی جیومیٹری کے مختلف انداز میں پھیلتی یا سکڑتی رہتی تھی۔ اس فرق کا اندازہ مادھوری ڈکشٹ، جوہی چاؤلہ اور ایشوریا رائے کے پیٹ کو دیکھ کر ہو سکتا تھا۔
اور مزید فرق دیکھنے کے لیے ہالی وڈ کی ایکٹرسوں اور لندن، پیرس کی ماڈل لڑکیوں کی نافوں کا تقابلی جائزہ لینے میں کوئی برائی نہیں تھی۔ یورپ کی لڑکیوں کی ناف ذرا مختلف ہوتی ہے کیوں کہ وہ بچپن سے ہی مختلف قسم کی ورزشوں میں لگ جاتی ہیں۔ اس کا اندازہ جو لیا رابرٹس، نکوٹ کڈمین اور اب جنیفر لوپاز کی ناف دیکھ کر ہو سکتا تھا۔ ہر نسل، ہر قوم اور ہر رنگ کی عورتوں کی ناف کے بارے میں، میں نے بہت مواد جمع کیا ہوا تھا۔ دوست کہتے تھے کہ میں اس کے بارے میں ایک کتاب بھی لکھ سکتا ہوں۔ چلیے چھوڑیے، بات لمبی ہو جائے گی۔ یہ تو ایک نہ ختم ہونے والی کہانی ہے۔
میں بات کر رہا تھا سلمیٰ کی۔ سلمیٰ بالکل عام سی لڑکی تھی۔ میرے خوابوں کی لڑکیوں سے مختلف۔ میرے تصور کی حسینہ سے جدا، میرے ذہن کے کینوس پر بنی ہوئی تصویر سے بہت دور اور زی ٹی وی پر نظر آنے والی ایکٹریسوں کا تو شائبہ تک نہیں تھا اس میں۔ وہ میری بیوی تھی۔ ایک عام سی عورت، ایک عام سی بیوی جیسی ساری بیویاں ہوتی ہیں۔ کوئی خاص بات نہیں تھی اس میں۔
میرے ڈیڈی کے ڈی اے میں کام کرتے تھے۔ تین بہنوں کے بعد میں پیدا ہوا تھا اور بڑی شان سے، بڑے پیار سے رکھا گیا تھا مجھے۔ عہدہ تو ان کا کوئی بڑا نہیں تھا مگر اوپر کی آمدنی کافی تھی۔ کے ڈی اے نے کراچی کی ڈیولپمنٹ شاید اتنی نہیں کی تھی جتنی ڈیولپمنٹ کے ڈی اے میں کام کرنے والوں نے کی تھی۔ ہم سارے بچے انگلش اسکولوں میں پڑھتے، گھر میں اچھا کھانا کھاتے، اچھے کپڑے پہنتے تھے۔ میرے پاس جوتوں کی کئی جوڑیاں تھیں۔ اسکول جانے کا جوڑا الگ، شام کو پہننے کے لیے کرمچ کے جوتے اور رشتے داروں کے گھر جانے کے لیے الگ کالے اور بھورے شوز۔
ہمارے غریب رشتے دار ہم سے کافی جلتے تھے، ہمارے گھر میں جو کچھ تھا وہ ان کے گھروں میں نہیں تھا۔ نہ بڑا سا کلر ٹی وی، نہ ریفریجریٹر، نہ پنکھے، نہ وی سی آر اور نہ ائرکنڈیشنر۔ ان کے جلنے کی وجہ صاف تھی اور میرے ڈیڈی کے بارے میں الٹی سیدھی بکواس بھی وہ لوگ اسی لیے کرتے تھے۔ آج کل کے زمانے میں کون رشوت نہیں لیتا ہے۔ حکومت کی چھوٹی سی تنخواہ میں تو زکام کا علاج بھی نہیں ہو سکتا تھا۔ اور کیوں کہ وہ لوگ خود سرکاری ملازم نہیں تھے یا کسی ایسی جگہ نہیں تھے جہاں اوپر کی آمدنی ہو تو ان کا جلنا بھی بالکل فطری تھا۔
میں سمجھتا تھا اس بات کو کہ یہ تو انسان کی فطرت ہوتی ہے۔ ایمان داری کے وعظ کرنا بڑا آسان ہے اور موقع ملنے پر ایمان داری کرنا ذرا سا نہیں بے حد مشکل کام ہے۔ لوگ سمجھتے نہیں ہیں اس بات کو ۔ اگر یہ بات ان کی سمجھ میں آ جائے تو ان کو یہ سارا نظام سمجھ میں آ جائے گا۔ میں اس نظام کو اچھی طرح سمجھتا تھا بالکل اپنے ڈیڈی کی طرح۔
بڑی کوشش کے باوجود بھی میں دسویں میں اول نہیں آ سکا تھا۔ انٹر میں ڈیڈی نے کوشش کی تھی اور محکمہ تعلیم میں کام کرنے والے ایک صاحب کو لاکھ روپے دے بھی دیے تھے مگر آخر وقت میں کراچی بورڈ میں کچھ انکوائری شروع ہو گئی تھی اور میری فرسٹ ڈویژن نہیں آ سکی تھی جس کی وجہ سے میرا داخلہ میڈیکل کالج میں نہیں ہوسکا۔ اس نظام میں ایسا کبھی کبھی ہوجاتا ہے کہ کام رک جاتے ہیں اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب اپنے تئیں کوئی ایک ایمان دار آدمی نظام کو صحیح کرنے کے چکر میں لگ جاتا ہے، انکوائری شروع ہوجاتی ہے، لوگوں کو معطل کیا جاتا ہے، کبھی کبھی کچھ لوگ نکال بھی دیے جاتے ہیں مگر نظام خود ہی ان حالات کو صحیح بھی کر دیتا ہے۔ اس نظام کی طاقت ہی اسی میں ہے۔ وہی ایمان دار لوگ معطل ہوتے ہیں اور اکثر ان کا قتل ہوجاتا ہے۔ نظام پھر چل نکلتا ہے۔ یہ قسمت کا کھیل تھا کہ اس وقت کراچی بورڈ میں یہ سب کچھ شروع ہوا تھا۔
میں نے گورنمنٹ کالج ناظم آباد میں بی ایس سی میں داخلہ لے لیا اور امریکا جانے کے پروگرام بنانے لگا تھا۔ ایک دفعہ ٹوفل امتحان بھی دیا مگر بہت کم نمبر آئے اور ویزا نہیں ملا۔ میں نے سوچا تھا کہ پھر کوشش کروں گا۔
ایک رات اچانک میرے ڈیڈی کے سینے میں درد اٹھا اور جب تک ہم ہسپتال پہنچے، وہ دم توڑ چکے تھے۔ یہ حادثہ یکایک ہی ہو گیا تھا۔ کوئی بھی تیار نہیں تھا اس کے لیے۔ مجھے تو کچھ سمجھ ہی نہیں تھی۔ جب قبر کی مٹی ٹھنڈی ہوئی تو اندازہ ہوا تھا کہ ڈیڈی مجھے دنیا میں بالکل اکیلا چھوڑ گئے تھے۔ وہ تو بھلا ہو رضی انکل کا ، انہوں نے مجھے ایک دن بلایا تھا اور کے ڈی اے میں ہی کلرک کی نوکری دے دی تھی۔ سرکاری محکموں میں یہ اچھا نظام ہے کہ باپ کی موت پر اور خاص طور پر اگر یکایک ہو تو محکمہ بچوں کا خیال رکھتا ہے، مگر پاکستان کے خراب ہونے والے حالات میں اب تو یہ روایت بھی ختم ہوتی جا رہی ہے۔ میں ذرا خوش قسمت تھا۔
میرا امریکا کا خواب صرف خواب ہی رہا تھا اور میں گھر اور دفتر کے چکروں میں پھنس گیا تھا۔ میری امی کو پتا تھا کہ ابو کیا کیا چھوڑ کر گئے ہیں۔ پرائز بانڈ، زیورات، اور میری ماں کے نام دو پلاٹ تھے۔ چار سال میں تینوں بہنوں کی شادیاں ہو چکیں تو ان کے جہیز میں بہت کچھ دینے کے بعد ہمارے پاس ہمارے گھر اور کچھ دکانوں کے علاوہ کچھ نہیں رہا تھا۔ پرائز بانڈ اور زمینیں بیچ کر میری امی نے بڑی عقل مندی سے جہیز اور نقد رقم دے کر میری بہنوں کے لیے قابل شوہر خریدے تھے۔ وہ سب اپنے اپنے گھروں میں خوش تھیں۔ میرے ڈیڈی کا یہی پلان رہا ہو گا۔
میرے معاملے میں میری امی سے بڑی غلطی ہو گئی۔ پہلے تو میں شادی کے لیے تیار ہی نہیں تھا۔ کنواری زندگی بھی کیا شان دار زندگی ہوتی ہے۔ دوستوں کا ایک گروپ تھا۔ دفتر اور دفتر کے بعد گھومنا پھرنا، پارٹی، پکنک، شور شرابا، ہو ہاؤ اور ہوڑ ہپہ۔ رات گئے تک کیبل پر فلم دیکھنا اور شہر کی مختلف لڑکیوں کو لارا لپا دے کر موج اڑانا۔ کراچی بھی کیا خوب جگہ ہے کنواروں کے لیے اور خاص طور پر ہمارے جیسے کنواروں کے لیے جن کے پاس کچھ پیسہ بھی ہوتا ہے، اشیائے خورد و نوش سے لے کر شراب و شباب تک ہر چیز حاصل ہوجاتی تھی۔ گھروں کے اندر ڈسکو اور گھروں کے باہر سمندر کے ساحلوں سے لے کر سمندر میں چلتے پھرتے عیاشی کی جگہیں۔ امریکا میں شاید زیادہ مزے ہوتے ہوں گے۔ مگر جو مزہ کراچی کا ہے اس معاملے میں، وہ کہیں بھی نہیں ہو سکتا ۔
میری امی کو بھی سب پتا ہی تھا۔ پھر یکایک انہوں نے میری شادی کا فیصلہ کیا، لڑکی پسند کرلی، مجھے بتایا اور ساتھ شادی کی تاریخ بھی طے کر ڈالی اور سلمیٰ میری زندگی میں آ گئی۔ میرے دوستوں نے سلمیٰ کو دیکھ کر کہا تھا کہ میری تو قسمت کھل گئی ہے۔ ان کے خیال سے بڑی خوب صورت تھی وہ، مگر مجھے تو وہ معمولی شکل صورت کی ہی لڑکی لگی تھی۔ یہاں تک کہ اس کی ناف بھی زی ٹی وی والی لڑکیوں جیسی نہیں تھی۔ میرے باپ کے بنائے ہوئے پیسوں کے عوض ماں نے میری بہنوں کے لیے خوشیاں خریدی تھیں۔ بڑی دھوم سے ان کی ڈولیاں اٹھائی تھیں، بہت سارے ہمارے ایمان دار رشتہ داروں نے اپنے بچوں کے لیے میری بہنوں کا ہاتھ مانگا تھا۔ جہیز کی طاقت کا اندازہ مجھے اسی وقت ہوا تھا۔
ہوتا یہ ہے کہ جب لڑکی کی شادی ہوتی ہے تو ان کی زندگی بن جاتی ہے۔ میری بہنوں کے شوہروں کے ساتھ یہی ہوا تھا، میرے کئی دوستوں کے ساتھ بھی یہی ہوا تھا۔ ان کی بیویاں گھر کے لیے جہیز بھر کر لائی تھیں، زیورات لے کر آئی تھیں اور ان کے شوہروں کو نقد رقم بھی ملی تھی۔ کسی کو کار بھی ملی تھی، کسی کو مکان بھی ملا تھا۔ میمن گھروں میں شادی کرو تو نہ صرف یہ کہ مکان ملتا ہے بلکہ مکان کے اندر پیاز، ہلدی، لہسن تک ڈلوا کر لڑکی دی جاتی ہے۔ آج کل تو یہ سلسلہ بھی چل نکلا ہے کہ دولت اور جہیز کے ساتھ نوکری کا بھی انتظام کیا جاتا ہے او بات یہ ہے کہ آخرکار یہ ساری چیزیں بیٹی کے لیے ہی تو ہوتی ہیں۔
سلمیٰ کوئی خاص ساز و سامان لے کر نہیں آئی تھی۔ ان لوگوں کا اپنا گھر اچھا تھا اور وہ ٹھیک ٹھاک طریقے سے رہتی تھی۔ امی کو بھی رہن سہن سے دھوکا ہوا تھا کہ سلمیٰ کو بہت کچھ ملے گا۔ جو کچھ بھی اسے ملا تھا وہ ہمارے لحاظ سے صحیح نہیں تھا، کم تھا۔ زندگی کا یہ بہترین موقع مجھ سے چھن گیا تھا۔ مجھے اپنی ماں کے اندھے پن پر شدید غصہ تھا۔
سلمیٰ کو پہلے دن سے ہی مجھ سے عشق سا ہو گیا تھا۔ میں اس کی زندگی میں پہلا مرد تھا۔ اس نے شادی، اچھا شوہر، اچھا سا گھر اور چھوٹے سے بچوں کے چھوٹے سے گھرانے کا خواب دیکھا تھا۔ ساری لڑکیاں ایسا ہی خواب دیکھتی ہیں۔ مگر یہ خواب تو صرف خواب ہی ہوتے ہیں۔ حقیقی زندگی میں خوابوں کا کیا کام۔ میرے خواب بھی یہی تھے مگر ذرا مختلف انداز سے مختلف طریقے سے وہ بھی بکھر گئے تھے۔ بڑی غلطی ہو گئی تھی ہم لوگوں سے۔
ولیمے سے پہلے ہی میری امی نے سلمیٰ کے گھر والوں کو بتا دیا تھا کہ ہم لوگ جہیز میں بہت کچھ امید کر رہے تھے، آپ لوگ ولیمے کی سلامی میں کسر پوری کر دیں۔ نقد روپے بھی مل جائیں تو کسی نہ کسی طریقے سے کسر پوری ہو جائے گی۔ اس کے گھر والے بھی بالکل ہی احمق تھے بلکہ بدتمیز بھی۔ انہوں نے کچھ بھی نہیں کیا تھا۔ ولیمے کی تقریب کے لیے میں نے بڑے انتظامات کیے تھے مگر مجھے سب کچھ پھس پھسا سا لگ رہا تھا۔ میری شادی مجھے کسی کا تعزیتی جلسہ معلوم ہو رہی تھی۔
ولیمے کے دوسرے دن امی نے سلمیٰ کے ابو سے بات کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہمیں تو نہیں پتا تھا کہ آپ لوگوں کو کتنا جہیز اور کتنی رقم چاہیے۔ اگر ہمیں پتا ہوتا تو ہم یہ رشتہ ہی نہیں کرتے کیوں کہ اتنی تو ہماری حیثیت ہی نہیں تھی۔
”مگر آپ لوگوں نے یہ تو کہا تھا کہ مناسب جہیز وہیز دیا جائے گا۔ یہ تو کوئی مناسب جہیز نہیں تھا۔ آپ لوگوں نے دیکھا نہیں کہ ہم نے اپنی بیٹیوں کو کیا دیا ہے؟“
سلمیٰ کی ماں اور باپ دونوں چاپلوسی کی زبان بولتے رہے کہ ہماری یہ حیثیت نہیں ہے، ہماری تو اور بھی بیٹیاں ہیں ہماری لڑکی پڑھی لکھی ہے۔ بڑی محنت سے پڑھا ہے اس نے، اچھی جگہ کام کرتی ہے، کچھ کما کر ہی لاتی ہے۔ اپنی حیثیت سے بڑھ کر دیا ہے ہم لوگوں نے وغیرہ وغیرہ۔
یہ عجیب و غریب باتیں تھیں۔ مجھے اپنے سسرال سے شدید نفرت ہو گئی تھی۔
اس رات سلمیٰ روتی ہوئی میرے پاس بیٹھ گئی۔ میرے قدموں کو اس نے اپنے گالوں سے لگا لیا۔ رک رک کر آہستہ آہستہ بولی، ”دیکھئے میں آپ سے التجا کر رہی ہوں۔ میرے والد بڑے شریف آدمی ہیں بڑی محنت سے ایمان داری سے سرکاری نوکری کرتے ہیں، شام کو ایک اور نوکری کرتے ہیں تو ہمارے گھر کا خرچ چلتا ہے۔ ہم تینوں بہنوں اور دو بھائیوں کو بڑی اچھی تعلیم دے رہے ہیں۔ میں بڑی ہوں، کمپیوٹر سیکھا ہے میں نے۔ اچھی نوکری ہے میری۔ میں بہت اچھی طرح سے چلا لوں گی گھر۔ آپ جہیز کی فکر نہ کریں۔
اس طرح کی باتیں، فلموں، ناولوں میں اچھی لگتی ہیں اور ایسے سین میں نے زی ٹی وی پر چلنے والے ڈراموں میں دیکھے بھی بہت تھے۔ مگر حقیقی زندگی میں ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اس کی تنخواہ مجھ سے زیادہ ہی تھی۔ مگر میری اوپر کی آمدنی ہم دونوں کی تنخواہوں سے کہیں زیادہ تھی۔ مجھے غصے میں بھی ہنسی آ گئی تھی۔ ”تنخواہوں سے گھر نہیں چلتے ہیں۔“ میں نے دانت پیس کر کہا تھا۔ ”میری بہنیں آفسوں میں کام نہیں کرتی ہیں، گھروں میں عیش کرتی ہیں کیوں کہ ہم نے انہیں جہیز میں سب کچھ دیا ہے۔ ایسے شوہر خرید کر دیے ہیں جو ان کے ناز نخرے اٹھاتے ہیں۔ ان سے محبت کرتے ہیں اور اگر انہیں اب بھی کوئی ضرورت ہوتی ہے تو میں پورا کر دیتا ہوں۔ مجھے تم سے نوکری نہیں کرانی ہے۔ عورت کی کمائی ویسے بھی اسلام میں جائز نہیں ہے۔ ہمارے گھر کی عورتیں دفتروں میں کام نہیں کرتی ہیں۔ باہر کے کام ہمارے، گھر کے کام ان کے۔ تمہیں نوکری چھوڑنی ہوگی۔ اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ جب تمہارے باپ کی یہ حیثیت نہیں تھی تو مجھ سے شادی کیوں کی تھی انہوں نے؟ یا خدا! میں کہاں پھنس گیا؟“
وہ رات بھر روتی رہی اور میں رات بھر غصے میں سوتا جاگتا رہا۔ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ میرے بڈھے سسر نے اگر ایمان داری کے مردہ گھوڑے پر سواری کرنی تھی تو اتنی اچھی سرکاری جگہ پر کیوں قبضہ کیا ہوا تھا۔ عجیب لوگ ہیں کام کریں گے کے ڈی اے میں، کے ایم سی میں، کسٹم میں، انکم ٹیکس میں اور ایمان داری کے احوال کا باجا بجاتے رہیں گے۔ ان لوگوں کی وجہ سے سسٹم فیل ہوتا ہے۔ کوئی کام اسموتھلی ہو ہی نہیں سکتا ہے۔ یہ لوگ ہمیشہ کوئی اصول، کوئی قانون، کسی قاعدے کا کوئی پھٹا ہوا غبارہ لے آتے ہیں نہ خود کچھ کرتے ہیں اور نہ کسی اور کو کچھ کرنے دیتے ہیں۔
ہم لوگوں کو اگر اندازہ ہوتا کہ سلمیٰ کے گھر ایمان داری کی نحوست پھیلی ہوئی ہے توہم رشتہ بھیجتے ہی نہیں۔ ان لوگوں کو شادی سے پہلے بتانا چاہیے تھا کہ ہم لوگ ایمان دار ہیں، ہمارے گھر میں فاقہ ہے، ہمارے بچوں کو تکلیفیں اٹھانی ہیں، زندگی کا بوجھ لے کر چلنا ہے، نہ جانے کس زمانے کے دقیانوسی لوگ تھے وہ لوگ۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


