طاہرہ جالب صاحبہ، جالب کو مسخروں کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں ہے


نقالی کرنا ایک ہنر ہوتا ہے یہ ملکہ بہت ریاضت کے بعد حاصل ہوتا ہے یا یوں کہہ لیجیے کہ بہت سے ماسک اپنے چہرہ پر سجا کر موقع کی مناسبت سے اسٹیج پر پرفارم کرنا ہوتا ہے جس سے داد ملتی ہے، پیسہ اور پروٹوکول بھی۔ جملہ بازی اور چرب زبانی اس فیلڈ کا معیار ہوتی ہیں جو یہ گر جانتا ہو وہ کم از کم پاکستان میں تو بھوکا نہیں مر سکتا اس میں اتنا سکوپ ہے کہ ہمارے ملک کا ”ننھا پروفیسر“ ہی مان نہیں ہے جو چند رٹی رٹائی سی باتیں کر کے ہمارے مستقبل کے مفکرین کی فکری اصلاح کا فریضہ سرانجام دے رہا ہے۔ آپ ہمارے ملک کے کسی بھی موٹیویشنل سپیکر کو اٹھا لیں وہ اپنی تقریر میں اپنی زندگی میں ہونے والے واقعات کو بڑھا چڑھا کر کچھ اس انداز میں فیبریکیٹ کر کے پیش کرتے نظر آئیں گے کہ

”وہ بڑی ذہانت اور حوصلہ سے زندگی کے مشکل مراحل سے باہر نکل آئے اور اتفاق سے ان کے ساتھ ہر واقعہ پیش آیا ہوتا ہے سوائے حمل کے، ورنہ وہ یہ بھی بڑے فخر سے بتا رہے ہوتے“

اس معاشرے کا کیا لیول ہو گا جہاں ننھا پروفیسر اپنا چورن بیچنے میں کامیاب ہو جائے۔ اتفاق سے یہ نقالی ہماری ہر فیلڈ کا حصہ بن چکی ہے منافقوں کے سماج میں اس قسم کے رویوں کا پھلنا پھولنا کوئی بڑی بات نہیں ہوتی کیونکہ ہم ابھی مجموعی طور پر ان انسانی قدروں تک نہیں پہنچ پائے جو آزاد معاشروں کا طرہ امتیاز ہوتی ہیں اسی وجہ سے ہمارا سماج ”گھوسٹ انٹلیکچوئل“ سے مالامال ہے جہاں کوئی اسٹینڈرز نہ ہوں وہاں ”فکری بونے“ ہی عروج پاتے ہیں۔

آفتاب اقبال جو کہ ”دانشور بننے یا لگنے“ کی اکثر ایکٹنگ کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں اس میں حرج بھی کوئی نہیں ہے کیونکہ نقالی کرنا ہی دراصل ان کا پروفیشن ہے، اس کا ثبوت ان کے ”خبرناک یا خبردار“ ٹائپ نام والے ٹی وی شوز ہیں جن میں وہ مختلف ”ڈمیز“ سے باتیں کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔ وہ ایک جینوئن دانشور بننے کے لیے کوالیفائیڈ ہی نہیں ہیں وہ بہر حال نقال بہت کمال کے ہیں اور اسی فیلڈ میں انہوں نے نام کمایا ہے۔ اب چونکہ وہ کچھ زیادہ ہی ”غیر سنجیدہ اور مخولیے“ سے لگنے لگے تھے تو انہوں نے اصلی دانشور کا کردار نبھانے کے لیے کسوٹی پروگرام جوائن کر لیا، یہ انتہائی سنجیدہ اور علمی پروگرام ہوتا ہے مگر جگتوں کا نشہ سر چڑھ کر بولتا ہے اور موصوف نے جگت بازی کا سہارا لے کر حبیب جالب کے شاعرانہ کلام سے ہی چھیڑ خانی کر ڈالی ارشاد فرمایا کہ جس شاعر کا کلام شہباز شریف اپنے جلسوں میں پڑھتا ہو اس شاعر کی بھلا کیا کریڈبیلٹی ہو سکتی ہے؟

اس بیان کے بعد ایک شدید عوامی ردعمل سامنے آیا اور جالب سے محبت کرنے والوں نے سطحی قسم کی باتیں کرنے والے جعلی دانشور کی خوب کلاس لی اور گھر کے بھیدیوں نے ان کا شجرہ لائف اور ان کے آج تک کے علمی کنٹریبیوشن کو کھول کے رکھ دیا۔ حبیب جالب کی بیٹی طاہرہ جالب بھی منظر عام پر آئیں اور اپنے والد کے دفاع میں انہوں نے بھی آفتاب اقبال کو خوب سنائی، بطور بیٹی ان کا حق تھا اور اپنے والد کی جانشین ہونے کی حیثیت سے انہوں نے اپنا کردار خوب نبھایا۔

طاہرہ جالب نے اپنی فیس بک وال پہ ایک ویڈیو پیغام نشر کیا جس میں انہوں نے ایک احتجاجی مظاہرہ کا اعلان کرتے ہوئے جالب کے دوستوں و مداحوں سے درخواست کی کہ وہ جمعرات 3 بجے پنجاب اسمبلی کے سامنے جمع ہوں تاکہ جعلی دانشور آفتاب اقبال کو جالب کے متعلق ہرزہ سرائی والے الفاظ واپس لے کر معافی مانگنے پر مجبور کیا جا سکے اور میں اس وقت تک وہاں سے نہیں اٹھوں گی جب تک آفتاب اقبال اپنے رویہ کی معافی نہیں مانگے گا۔

انتہائی احترام کے ساتھ محترمہ طاہرہ جالب صاحبہ کی خدمت میں عرض کرنا چاہوں گا کہ مسخرے اور بونوں کے بڑی ادبی شخصیات پر کیچڑ اچھالنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ ان کا کام بولتا ہے اور جالب کو تو مزاحمت کا استعارہ بہت عرصہ پہلے اس عوام نے تسلیم کر لیا تھا جب وہ اسی غریب عوام کا دکھ اپنی نظموں میں لکھ کر جابروں کے روبرو پڑھا کرتے تھے۔ میری نظر میں جالب پر سطحی سی تنقید کر کے آفتاب اقبال نے اپنا فکری قد لوگوں کو بتانے کی کوشش کی ہے اور اس نے اسی ہنر کا استعمال کرتے ہوئے اپنی فکر کا اظہار کیا ہے جس میں وہ مہارت رکھتا ہے جسے جگت بازی کہتے ہیں۔

اس لیے طاہرہ جالب صاحبہ حبیب جالب کو اپنا مقام ثابت کرنے کے لئے آفتاب اقبال کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت بالکل نہیں ہے اور آپ کا یہ اصرار کہ وہ اپنے الفاظ واپس لے کر معافی مانگے ورنہ احتجاج جاری رہے گا یہ دراصل آپ جالب صاحب کا فکری قد چھوٹا یا کم کرنے کی مہم کا حصہ بننے جا رہی ہیں۔ آپ کو اس سطحی دانشور کی گفتگو کو بالکل بھی اہمیت نہیں دینی چاہیے کیونکہ یہ آپ کے اور جالب صاحب کے وقار کے خلاف ہے اور جالب نے تو کبھی اپنی زندگی میں ایسے لوگوں کی پرواہ نہیں کی جو ان پر کیچڑ اچھالا کرتے تھے۔

اس لئے آپ سے مودبانہ التماس ہے کہ آفتاب اقبال کے بیان کو اہمیت دے کر حبیب جالب کی شخصیت کو چھوٹا مت بنائیں۔ موصوف کا کیا ہے یہ پہلے بھی اپنی بونگیوں پر معافی مانگ لیتے تھے اور اب بھی وہ ایسا کر لیں گے مگر کیا یہ رویہ ایک جینوئن دانشور کے بڑے پن کو ماند کرنے کے مترادف نہیں ہو گا، برائے کرم ایسا مت کریں کیونکہ جالب صاحب کی صلاحیتوں کا ایک زمانہ معترف ہے۔ حادثاتی طور پر چار کتابیں زیادہ پڑھ کر اور ٹی وی اسکرین کا سہارا لے کر جالب کی عظمت کو کیمو فلاج نہیں کیا جا سکتا۔ کیو نکہ ان کی شخصیت ٹی وی سکرین سے کہیں زیادہ بڑی ہے اور ان کی علمی ساکھ کی عوامی گواہی بہت زیادہ ہے وہ اس لیے ہے کہ انہوں نے ”ڈرائنگ روم انٹلیکچوئل“ بننے کی بجائے عوام کے درمیان رہنا زیادہ پسند کیا تھا۔

Facebook Comments HS