افسانہ : کنواری لڑکی خریدنی ہے


ایک بڑے شہر کی بڑی یونیورسٹی اور اس میں ایک بڑے جاگیردار کا بڑا بیٹا بلال حسین شاہ۔ گریجویشن کے دو سالوں کے دوران ہی اس کا شمار یونیورسٹی کے مقبول ترین طلبا میں ہونے لگا تھا۔ اس جیسے وجیہ، خوش لباس اور نرم گفتار تو اور بھی کئی تھے مگر ویسا ہی باعلم، بردبار اور زیرک کوئی دوسرا نہیں تھا۔ اکنامکس کا طالب علم لیکن اردو اور انگریزی ادب پر بھی گہری نظر۔ سیاسیات اور تاریخ میں بھی فکر انگیز دلچسپی۔ ترقی پسند خیالات کا مالک مگر رجعت پسندوں سے بھی دوستانہ مراسم۔

عورتوں کی آزادی کا علم بردار اور باپردہ خواتین کی توقیر کا بھی احساس۔ اپنے نظریات میں ٹھوس مستقل مزاجی مگر مخالف خیالات کا بھی مکمل احترام۔ علاوہ بریں، نہ تو اس میں جاگیرداروں جیسا احساس ترفع تھا نا ہی طبیعت میں عیاشی۔ یہی وجوہات تھیں کہ وہ ہر وقت لڑکے لڑکیوں کے کسی نہ کسی گروپ میں گھرا رہتا تھا۔ اس سے اختلاف رائے رکھنے والے بھی اس کی عزت کرتے تھے کہ وہ سب کے ساتھ ایک متوازن رویہ رکھتا تھا۔ یہاں تک کہ کوئی خوبصورت سے خوبصورت لڑکی بھی، ایک حد سے زیادہ، اس کے نزدیک نہ آ سکی تھی۔ حالانکہ وہ اسی شہر میں، بہت سے نوکروں کے ساتھ، ایک بڑے بنگلے میں اکیلا رہائش پذیر تھا۔ سوائے کبھی کبھی مہمانوں کی آمد کے، کوئی اس کی آزادی میں مخل نہیں ہوتا تھا۔

گریجویشن ہو چکی تھی اور ماسٹرز کی کلاسوں کی ابتدا بھی۔ ایک دن بلال شاہ یونیورسٹی گیٹ کے قریبی لان میں دوستوں کے ساتھ کھڑا تھا کہ اس کی نظر گیٹ کے باہر ایک سفید پجارو پر پڑی، جو ابھی ابھی وہاں آ کر رکی تھی۔ گاڑی کی ڈرائیونگ سائڈ سے ایک دراز قد نوجوان لڑکی نمودار ہوئی، جو جینز اور شرٹ میں ملبوس تھی۔ فوراً ً ہی دوسری طرف سے ایک وردی پوش ڈرائیور اس کے سامنے پیش ہوا۔ لڑکی نے اپنے کاندھے کا بیگ درست کیا، گاڑی کی چابی ڈرائیور کے سپرد کی، اسے کچھ ہدایت دی اور یونیورسٹی کی طرف چلی آئی۔

لڑکی کی چال میں ایک تمکنت تھی، ایک اعتماد تھا اور وہ سیدھی اپنے کلاس روم کی طرف بڑھ گئی۔ اس نے آس پاس کھڑے دوسرے طلبا و طالبات کو ایک مغائرانہ سی نگاہ کے قابل بھی نہ گردانا۔ یہ ایک چھوٹا سا سین تھا مگر بلال شاہ کے دماغ میں جم کر رہ گیا۔ اس وقت صرف علی ارشد تھا کہ جس نے بلال شاہ کی نظروں کا تعاقب کیا تھا اور وہی تھا کہ جس نے بلال شاہ کے دماغ میں ابھرے تجسس کی جھلک دیکھ لی تھی۔

علی ارشد جو بلال شاہ کا کلاس فیلو بھی تھا اور اس کے قریبی حلقہ میں شامل بھی۔ اسے بلال شاہ کی قربت حاصل تھی اور وہ خود بھی بلال شاہ کو پسند کرتا تھا۔ بے شک وہ ایک ذہین طالب علم تھا لیکن ایک کلرک کا بیٹا ہونے کی وجہ سے ہر معاملے میں اپنی حدود کا خیال رکھتا تھا۔ اس نے بہت محتاط انداز سے اس لڑکی کے بارے میں بنیادی معلومات حاصل کیں اور بلال شاہ تک پہنچا دیں۔ مذکورہ معلومات حسب ذیل تھیں۔

لڑکی کا نام نبیلہ صدیقی تھا۔ اس نے بی اے کے پہلے سال میں داخلہ لیا تھا اور وہ سوشل سائنس کی طالبہ تھی۔ وہ آرکیالوجی میں ماسٹرز کرنے کا ارادہ رکھتی تھی۔ اس کے والد (ماجد صدیقی) پہلے تو ایک سرکاری افسر تھے لیکن وہ اپنے آس پاس کے افسران کی رشوت خوری کی راہ میں رکاوٹ بن رہے تھے۔ جس وجہ سے انہیں کام کرنے میں ضرورت سے زیادہ مشکلات کا سامنا تھا۔ بالآخر تنگ آ کر انہوں نے اپنے عہدے سے استعفا دے دیا۔ البتہ ان کا مجبوری میں اٹھایا ہوا یہی اقدام ان کی خوش قسمتی ثابت ہوا۔

دراصل ان کی قابلیت اور ایمانداری سے واقف ایک سرمایہ کار اسی وقت ایک تعمیراتی کمپنی کا آغاز کرنے جا رہا تھا۔ اس نے ماجد صدیقی کو اپنا پارٹنر بنا لیا۔ کمپنی چل نکلی اور چند ہی سالوں میں ماجد صدیقی کے پاس اتنی دولت آ گئی، جتنی سرکاری نوکری سے وہ شاید ساری زندگی میں نہ کما پاتے۔ مگر دولت کی بہتات کے باوجود انہوں نے کام، ذاتی رویے اور اپنے کردار کے درمیان توازن کو کبھی بگڑنے نہ دیا۔ اگر کبھی دفتر کے کام کا دباؤ بڑھا بھی تو انہوں نے بیوی اور بچوں کو مناسب وقت دیا۔ بچوں کو سہولتیں بھی فراہم کیں، ان سے تعلقات بھی دوستانہ سطح پر استوار رکھے مگر ان کی تعلیم اور تربیت میں بھی کمی نہ آنے دی۔

نبیلہ صدیقی اپنی نصابی تعلیم میں ایک ہونہار سٹوڈنٹ تو تھی ہی لیکن وہ فنون لطیفہ سے متعلق سرگرمیوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی تھی۔ بلال شاہ پہلی جھلک دیکھتے ہی اس سے متاثر ہو گیا تھا اور گاہے گاہے غیر محسوس طریقے سے، اس کے بارے میں مزید جاننے کی کوشش بھی کرتا رہتا تھا۔ جلد ہی یونیورسٹی میں ایک تقریری مقابلہ ہوا، جس میں نبیلہ کی تقریر نے حاضرین کو تو متاثر کیا ہی، لیکن بلال کا تو جیسے دل ہی لوٹ لیا۔ لہٰذا وہ باقاعدہ کوشش کر کے اس سے ملاقات کے مواقع ڈھونڈنے لگا۔ نبیلہ بھی اب تک اس کی اچھی شہرت کا کافی چرچا سن چکی تھی، اس نے بھی زیادہ مدافعت نہیں کی۔ یوں دونوں میں کبھی کبھی ملاقات ہونے لگی جو بڑھتے بڑھتے محبت میں تبدیل ہو گئی۔

گھر والوں کی طرف سے نبیلہ کو اس معاملے میں، کوئی مسئلہ درپیش نہیں تھا۔ پابندیاں تو دور کی بات ہے کوئی اس پر تنقید بھی نہیں کرتا تھا۔ ملاقات بڑھنے کے بعد اب بلال شاہ کبھی کبھی نبیلہ کے گھر بھی آنے لگا تھا، جہاں اسے ہمیشہ خوش آمدید کہا جاتا تھا۔ نبیلہ کی چھوٹی بہن جمیلہ اسے یوں بھی بہت پسند کرتی تھی۔ ماجد صدیقی صاحب بھی اسے منع تو نہیں کرتے تھے مگر جاگیرداروں کے بارے میں نبیلہ کو اپنے خیالات سے آگاہ ضرور کرتے رہتے تھے۔

ان کا استدلال تھا کہ یہ جاگیردار کتنا ہی پڑھ لکھ جائیں یا خود کو لبرل ظاہر کر رہے ہوں مگر اندر سے ویسے ہی رہتے ہیں جیسے کہ وہ صدیوں سے چلے آرہے ہیں۔ ان کی فطرت میں ایک خاص انداز کا احساس برتری ہمیشہ قائم رہتا ہے۔ پھر ان کی دلچسپیاں بھی ہمیشہ اپنے طبقے کے ساتھ ہی منسلک رہتی ہیں۔ ماجد صدیقی کے خیالات کی بنیاد میں ان کا وہ تجربہ بھی شامل تھا، جو انہوں نے سرکاری نوکری کے دوران حاصل کیا تھا۔

نبیلہ کا مسئلہ یہ تھا کہ وہ بلال کو اپنی آنکھ سے دیکھ رہی تھی۔ صبح شام کا ساتھ اٹھنا بیٹھنا تھا۔ گھنٹوں کے حساب سے دونوں اکٹھے رہتے تھے۔ وہ کیسی باتیں کرتا ہے؟ دوسرے لوگوں کے ساتھ اس کا رویہ کیا ہے؟ کون لوگ اس کے دوست ہیں؟ ان سب ذاتی تجربات کی بدولت اس کا خیال تھا کہ جاگیرداروں کے بارے میں ماجد صدیقی صاحب کی سوچ اپنی جگہ سو فیصد درست ہو سکتی ہے، مگر بلال شاہ پر ان کا فارمولا منطبق نہیں ہوتا۔

تقریباً دو سالوں کی ملاقاتوں کے دوران بلال حسین شاہ نے کبھی کوئی ایسی حرکت یا گفتگو نہیں کی تھی جو نبیلہ پر گراں گزرتی۔ جبکہ ان کے آس پاس کئی ایسے واقعات رونما ہو چکے تھے جہاں محبتوں کا ماحول پروان چڑھتے ہی لڑکوں نے جسمانی طور پر پیش قدمی کرنے کی کوشش کی تھی۔ بلال بھی اس دوران میں اچھی طرح جان چکا تھا کہ نبیلہ نہایت خوددار اور پراعتماد لڑکی ہے۔ روپے پیسے کی بھی اسے کوئی کمی نہیں، اس لئے اس نے بھی نبیلہ کو ہمیشہ وہ عزت دی جس کی وہ حقدار تھی۔

لیکن جب بلال نے نبیلہ کو شادی کی پیشکش کی تو اس نے صاف لفظوں میں بتا دیا کہ وہ ایم اے کی ڈگری حاصل کرنے سے پہلے کسی صورت بھی شادی نہیں کرے گی۔ گو اس نے ابھی یہ بھی فیصلہ نہیں کیا تھا کہ وہ ایم اے کرنے کے بعد ضرور کوئی جاب وغیرہ کرے گی یا گھر تک محدود ہو جائے گی۔ بلال نے ایسے ہر موقع پر اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے اسے جاب کرنے پر اکسایا تھا۔ وہ کہتا تھا کہ ہمارے ملک کا یہ بڑا المیہ ہے کہ ہماری خواتین اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے بھی ہاؤس وائف بن کر بیٹھ جاتی ہیں۔ اس طرح قوم و ملک کا بڑا نقصان ہو رہا ہے۔ وہ اور بھی بہت سی ایسی باتیں کرتا تھا جو ظاہر کرتی تھیں کہ وہ صنفی مساوات کا حامی اور خواتین کو برابری کے حقوق دینے کا علم بردار ہے۔

ایم اے کے امتحانات سے فارغ ہو کر جب بلال اپنی جاگیر والی حویلی پہنچا تو اس کا شاندار استقبال کیا گیا۔ اس کے والد سید جلال حسین شاہ نے خود بیرونی مرکزی دروازے پر آ کر اسے خوش آمدید کہا۔ آس پاس کے علاقوں سے بہت سے مہمانوں کو مدعو کیا گیا تھا۔ کئی دن تک حویلی میں جشن کا سماں رہا۔ رقص و سرود کی محفلیں بپا کی گئیں۔ بلال کی والدہ اور والد، دونوں بے حد خوش تھے۔ اسی خوشی میں جلال حسین شاہ نے ایک موقع پر ایم اے کے بعد بلال کو اعلیٰ تعلیم کے لئے یورپ یا امریکہ بھیجنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ مگر بلال نے یہ بتا کر سب کو حیران کر دیا کہ وہ پہلے یہیں رہ کر ایم بی اے کرے گا۔

جلال حسین شاہ کو بیٹے کے ارادوں کی تھوڑی بہت خبر تو تھی مگر حیرت اسے بھی ہوئی۔ بعد میں یہی حیرت غصے میں بدل گئی، جب شہر سے اس کے ایک جاسوس نے اسے اپنی کھوج سے آگاہ کیا۔ اطلاع یہ تھی کہ بلال شہر میں ایک بزنس مین کی بیٹی کے عشق میں بری طرح مبتلا ہو چکا ہے۔ اسی وجہ سے وہ مزید دو سال اسی یونیورسٹی میں رہنا چاہتا ہے۔ جلال شاہ کو کسی حال میں بھی منظور نہیں تھا کہ بلال شاہ خاندان کے رسم و رواج کے خلاف کوئی قدم اٹھائے۔ خاص طور پر شادی کے ضمن میں تو ایسی اجازت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔

پھر اس کا خاندان ہمیشہ سے اپنا اثر و رسوخ کسی نہ کسی سیاستدان کے حق میں استعمال کر کے، اپنے مفادات کی حفاظت کرتا چلا آیا تھا۔ اب اس کی خواہش تھی کہ وہ بلال شاہ کو بیرون ملک سے اعلیٰ تعلیم دلوانے کے بعد اسے سیاست میں لائے۔ اس کا خواب تھا کہ بیٹے کی سیاست کے ذریعے مزید دولت اور طاقت حاصل کی جائے۔ بلال شاہ کے ارادوں سے اسے اپنی تمام آرزوئیں خاک میں ملتی محسوس ہو رہی تھیں مگر اس نے انتہائی برداشت سے کام لیا۔ اس نے بیٹے کو اپنی دل برداشتگی کی بھی خبر نہ ہونے دی۔

ممکن ہے جلال شاہ نے بیٹے کے ارادوں کے بارے میں، کچھ نہ کچھ خبر اس کی ماں کو بھی دے دی ہو، مگر بظاہر وہاں ایسے کوئی آثار نہیں تھے۔ اس لئے بلال شاہ نے حویلی میں قیام کا باقی وقت بھی بہت اچھا گزارا۔ اس دوران میں وہ دیہاتی زندگی سے بھی لطف اندوز ہوتا رہا اور نبیلہ کے ساتھ ٹیلی فونک رابطہ بھی قائم رکھا۔ یہاں تک کہ اچھے رزلٹ کی خبریں بھی آ گئیں اور کانووکیشن کے انعقاد کی بھی۔

نبیلہ اور بلال پھر سے یونیورسٹی کے اسی ماحول میں آ گئے لیکن علی ارشد کو ایک مقامی بینک میں جونیئر افسر کی جاب مل گئی۔ وہ اب اپنی جاب میں خوش تھا۔ نبیلہ اور بلال بھی خوش تھے کہ وہ پھر سے یونیورسٹی میں اکٹھے تھے، بے شک ان کے ڈیپارٹمنٹس علیحدہ علیحدہ تھے۔ انہی دنوں ماجد صدیقی نے نبیلہ کو اپنا بینک اکاؤنٹ کھولنے کی ہدایت کی۔ نبیلہ اسی لئے بلال شاہ کے مشورے سے علی ارشد کے پاس پہنچی۔ اس کا اکاؤنٹ کھل گیا۔

اسی موقع پر علی ارشد اور نبیلہ کی پہلی بار ایک ایسی ملاقات ہوئی جو نبیلہ کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھی۔ تقریباً ایک گھنٹہ کی اس گفتگو میں کئی موضوعات زیر بحث آئے۔ نبیلہ کے لئے علی ارشد کے سنجیدہ خیالات سے آگاہی کا یہ اولین مقام تھا۔ علی ارشد نے سوال و جواب کے اس سلسلے میں اپنا نقطہ ء نظر کچھ ایسے الفاظ میں بیان کیا۔

”انسان زندگی بھر اور ہر چیز کو اپنے زاویہ ء نگاہ سے دیکھتا ہے۔ جبکہ اس کا زاویہ ء نگاہ اس کے ذاتی ماحول، مطالعہ، مشاہدہ اور اس کی خواہشات کے طابع ہوتا ہے۔ یہ ادراک وہ بہت ہی کم کر پاتا ہے کہ اس کی سوچ کتنی محدود ہے۔ اپنے قریبی دوستوں کے سلسلے میں ہم اس ضمن میں سب سے زیادہ دھوکا کھاتے ہیں۔ ہاتھی کے بالکل قریب کھڑے ہو کر باقی دنیا میں اس کے مقام کا صحیح تعین نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ ہاتھی سے کچھ فاصلہ اختیار کیا جائے۔ بدلتے ہوئے وقت کی رفتار خاص طور پر خواتین کو زیادہ مجبور کر رہی ہے کہ وہ پہلے سے بڑھ کر محتاط رویہ اختیار کریں اور اپنے قریب ترین لوگوں کو بھی تنقیدی نظر سے دیکھیں“ ۔

علی ارشد کے بیان میں نبیلہ نے اور بھی کئی اقسام کے الارم محسوس کیے ۔ کچھ رمزیہ کنائے بلال کے بارے میں بھی تھے۔ اسی لئے وہ اس سے مزید سوالات کر کے اس کے احساسات کے بارے میں اضافی آگاہی چاہتی تھی مگر اس محدود وقت میں یہ ممکن نہ تھا۔ سو وہ چند ادھورے سے اشارے لے کر چلی آئی۔ اس کے بعد وہ جب بھی وہاں گئی تو علی ارشد بہت مصروف تھا، کوئی بات نہ ہو سکی۔ چھ مہینے بھی نہ گزرے تھے کہ علی ارشد کا تبادلہ کسی اور برانچ میں ہو گیا اور نبیلہ خواہش کے باوجود اسے ملنے وہاں نہ جا سکی۔

نبیلہ اور بلال کی ملاقاتیں بغیر کسی روک ٹوک کے جاری تھیں۔ انہی ملاقاتوں کے دوران نبیلہ نے اکثر بلال کو موبائل فون پر اپنے باپ سے گفتگو کرتے سنا تھا۔ ہر ایسی گفتگو سے یہی تاثر ابھرتا تھا کہ دونوں باپ بیٹا آپس میں بہت بے تکلف ہیں۔ بلال اپنے طور پر یہی سمجھ رہا تھا اور اس نے نبیلہ کو بھی باور کرایا تھا کہ اس کا باپ ایک ماڈرن اور لبرل سوچ کا جاگیردار ہے۔ اس لئے انہیں شادی کے ضمن میں کسی مخالفت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ لیکن جلال شاہ اب پہلے کی طرح سکون سے نہیں بیٹھا تھا۔ وہ محاذ جنگ پر اگلے مورچے میں موجود سپاہی کی طرح چوکنا تھا۔ اسے نبیلہ اور بلال کے پل پل کی خبر مل رہی تھی۔ اور وہ آنے والے ممکنہ خطرات کا مقابلہ کرنے کی تیاریاں بھی کر رہا تھا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3