عباس ممتاز کی شاعری ”سادہ الفاظ اور اور خوب خیال“

اس کرہ ارض پر انسان کے باطن میں موجود ارتعاش ایک ایسا موضوع ہے، جس پر انسان کی علمی بصارت مبنی ہے۔ حس لطافت اور حس جمالیات ایک ایسا شعبہ ہے جو دور قدیم سے لوگوں کو اپنے حصار میں مقید رکھتا ہے۔ اگر ہماری زندگی میں سے لطافت، جمالیات، جذبات و احساسات کو نکال دیا جائے تو انسان ایک خالی مکان کی مانند ہو جائے گا۔ انسان دراصل خالی مکان ہی تو ہے، جب تک مختلف لوازمات اس کی زندگی کو اپنے رمز سے کمال عطا نہ کریں۔
شاعری ایک ایسا سلسلہ ہے جو ادب برائے ادب اور ادب برائے زندگی پر صلا کی مانند ہے۔ آج کا انسان تکنیکی ہونے کی وجہ سے جذباتی ارتعاش کو اپنے اندر سے ختم کرتا جا رہا ہے۔ ان حالات میں متعدد شاعر اپنا کردار ادا کر رہے ہیں تاکہ انسان اپنی اہمیت کو یاد رکھ سکے۔ آج دنیا جہاں جدت کے نت نئے انداز اپنا کر ہر کسی کو جدیدیت کا درس دے رہی ہے، وہیں شاعروں کی ایک فہرست جدیدیت کے استقبال کے ساتھ ساتھ انسانیت کی عظمت کو لے کر فکرمند بھی رہتی ہے۔
عباس ممتاز ایک ایسے شاعر، جرنلسٹ، نیوز اینکر، ہیں جن کا تعلق ایف ایم سے بھی دس برسوں سے جاری و ساری ہے۔ عباس ممتاز کا خاصا ان کی ژرف نگاہ ہے جس بنیاد پر ان کے اشعار معاشرے میں چلتے پھرتے وجود کی مانند ہیں۔ اشعار کے اوزان سے لے کر ان کی ادائی ان کا خاصا ہے جو ان کی باطنی تحریک کا مظہر ہے۔ ان کے الفاظ سامعین کے دل میں اتر جانے میں ذرا دیر نہیں لگاتے۔ ہر پڑھنے والے کے لیے ان کے اشعار سرکا پائے گئے اور معاشرتی طور پر وجودیت کی تمثیل کے معترف ہیں۔
ان کی شاعری میں فلسفے کے موضوع امپیریکلزم اور ریشنلزم دونوں کا امتزاج نظر آتا ہے۔ ان کے اکثر اشعار انسانی احساسات کی پاسداری کرتے ہیں اور وہ اس احساس کو معاشرتی سچ کے طور پر پیش کرنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ وہ اپنے قوانین کو مشاہدے اور تصدیق کی روشنی میں دیکھنے کے قائل ہیں۔ ان کی شاعری میں ان کا کردار گواہ کی مانند نظر آتا ہے اور کئی جگہوں پر وہ اپنی ہی آنا کے پاسدار بھی نظر آتے ہیں۔ کہیں ان کے اشعار میں وہ اپنا ہی محاسبہ کرتے نظر آتے ہیں اور کہیں بشریت کو موضوع بنا کر وہ اپنی ہی تلاش میں کھوئے نظر آتے ہیں۔
عباس ممتاز کی شاعری کا خاصا ہے کہ ان کی شاعری عوام دوستی اور ہم آہنگی کی دعوت دیتی نظر آتی ہے۔ ویسے تو اس شخصیت کے کئی حوالے ہیں مگر اس مضمون میں ان کی شاعری کو موضوع خاص بنایا گیا ہے۔ اگر ان کے اکثر اشعار کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کا ہدف لوگوں کے عام مسائل اور کیفیات پر تبصرہ ہے۔ بھاری بھاری الفاظ کے چناؤ کے بجائے ان کے اشعار نہایت سہل انداز میں سامعین کے شعور کا حصہ بن جاتے ہیں۔ نہایت آسان انداز میں ان کے مصرعے ایک انسان میں موجود خیالات کی ترجمانی کرتے نظر آتے ہیں۔
ایک شاعر کے لیے طنزیہ لہجہ اختیار کرنا جہاں قابل برداشت نہیں نظر آتا وہیں ان کا طنزیہ انداز لوگوں کو ان سے اور ان کے کلام سے قرب کی شدید خواہش کے لیے ابھارتا ہے۔ ان کے کمالات شاعری پاکستان کے کئی شہروں میں ان کے مداحوں کے اضافے کا سبب ہیں۔ ان کے مداحوں کا دلی میلان ان کی شاعری اور ذاتی شخصیت کی وجہ سے ہے۔ انہوں نے امتیازی شاعری کے بجائے عام انسان کے موضوعات پر قلم اٹھایا اور اس کے اندر کی مثبت تحریک کو مزید متحرک کیا۔ ان کا دلجو رویہ جہاں ہر کسی کو ان کے قریب لے آتا ہے وہیں ان کا علم دوسروں کے لیے موثر ثابت ہوا۔
عباس ممتاز اپنے اشعار میں مختلف انداز میں اپنے آپ کو پیش کرتے نظر آتے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے یہ شاعر بنیادی طور پر خود کو مختلف کردار عطا کر کے اپنی تفہیم اور سچ کو منظر عام پر لاتا ہے۔ الغرض ان کا معروف ہونا، ان کے فہم اور فکر کا عامیانہ لوگوں سے منسلک ہونے کی وجہ سے معلوم دیتا ہے، جو سب کو آئینے میں ان کا خوب صورت چہرہ دکھاتا ہے۔
کسی فلسفی کے پیدا ہونے میں کئی برس لگتے ہیں، عباس ممتاز کی شاعری اور ان کا بیانیہ فلسفے کی دنیا میں استقبال کرتا معلوم ہوتا ہے۔ ان کی غزلیں تعمق کے ساتھ تعلیل پیش کرنے میں ماہر ہیں اور ان کا مصرعہ کیفیاتی تاریخ کی بہ خوبی عکاسی کرتا نظر آتا ہے۔ تاریخ کے اوراق میں ان کا شمار ایسے شاعروں میں ہونے کا امکان ہے جنہوں نے انسانی الجھنوں کو اسقرا سے قابل فکر بنایا۔ ان کا استشہاد جہاں ظرافت کا خیال رکھتا ہے وہیں استمزاج ان کی شخصیت کا وہ پہلو ہے جو ان کو استقلال کے ساتھ منظر نامے کا حصہ بنائے رکھتا ہے۔
ان کا شاعری میں بیانہ لوگوں کے حلقہ در سے مس یابس دلوں کو شعوری طور پر احساس دلاتا ہے۔ وہ آنے والے شاعروں کی پذیرائی کے عمل میں بھی مصروف رہتے ہیں اور آنے والی نسل میں خام دستی کے اثرات کے خاتمے کے لیے ہر لمحہ کوشاں ہیں۔ ان کی آرزو شاعری کے مستقبل کو تابناک کرنا ہے تاکہ ان کے بعد بھی یہ فکری سلسلہ رکاوٹ محسوس نہ کرے۔
ایک شاعر کا مرام اس کے تخیلات سے مربوط ہوتا ہے۔ عباس ممتاز کی فکر ان کی شاعری میں انسان کے روز مرہ کے معاملات کے ساتھ ساتھ اس میں موجود بہت سی کیفیات کا درس دیتی معلوم ہوتی ہے۔ بظاہر سادہ شاعری جہاں سننے والے کو خیال کی سادگی کا احساس دلاتی ہے وہیں ان کے انسان دوست ہونے کا ثبوت بھی ہے۔ ان کو ادبی حلقے میں موقر ان کے اسلوب نے کیا جو ان کے احوال کو بہ آسانی معاشرتی مسئلہ بنا کر پیش پا افتادہ ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ ایک شاعر اپنے احساس کو مشکل الفاظ میں بیان کر اپنا پیغام پیچیدہ کردے بلکہ آسانی کے ساتھ پہنچ جانے والا پیغام ہی اصل میں معاشرتی سطح پر اثر انداز ہوتا ہے۔
عباس ممتاز نے اسی بات کا خیال رکھتے ہوئے اردو زبان کی قدر کو بھی بلند رکھا اور ساتھ ساتھ اس زبان کو عوام دوست رکھنے کے لیے احسن اقدام کیے۔ اردو زبان کی جدیدیت اور اس کی قدیم روایات کے درمیان انہوں نے ایسا ربط قائم کیا جس سے زبان کی خوب صورتی اور عوامی سطح پر زبان کا مستعمل رہنا مشکلات کا شکار نہ رہا۔
ان کے اشعار میں انسانی قدر اور اس کی اہمیت کو بھی مدنظر رکھا گیا جس بنا پر عام انسان اپنے اندر کی انفرادیت کا احساس کرتا ہے۔ ان کی شاعری موجودہ حالات میں سامعین سے استدعا کرتی ہے جس وجہ سے ہر سننے والا اپنے اندر کی تخلیقی توجیہات کا تخمینہ لگانے میں آسانی محسوس کرتا ہے۔
اکثر و بیشتر ایک شاعر اپنے پیغام کو عجلت میں بیان کرنے کی وجہ سے متن بیان کرنے سے قاصر رہتا ہے۔ عباس ممتاز کی خوبی ان کا متواتر کلام ہے جس نے اپنے قصد کی حفاظت بھی غیر معمولی انداز میں کی۔ ادبی حلقہ عباس ممتاز کی شاعری میں ابحار کو مستند اور مضمون کو معیاری بتاتا ہے۔ اردو زبان کے حوالے سے اس شاعر نے آواز بلند کی تاکہ لسانیت کے میدان پر لوگوں کی توجہ کو مرکوز کیا جا سکے۔ ان کی شاعری میں محبت، وجودیت، اضطراب اور طنز قابل ذکر ہے جس سے ان کی شخصیت کے احوال کا اندازہ لگانے کا موقع بھی ملتا ہے۔ عالمی اردو کانفرنس میں ان کا کلام منتخب کیا گیا اور انہوں نے اپنے مداحوں کا ہر بار کی طرح دل جیت لیا۔ کم الفاظ پر مبنی مصرعے ہی ان کے کلام کو مزید خوب صورت بناتے ہیں تاکہ علم کو شائستہ انداز میں لوگوں تک منتقل کیا جا سکے۔
متعدد شاعروں کے درمیان عباس ممتاز کا کلام امتیازی اہمیت کا حامل ہے جو ان کو صفاتی طور بھی ممتاز کرتا ہے۔

