نیلی آنکھوں والی گڑیا (قسط نمبر 3


چھ محرم کو گھر میں کوئی نہ ہوتا۔ سب عورتیں امام بارگاہ کے برآمدے میں اور مرد صحن میں بیٹھے مجلس سنتے۔ مجلس ختم ہونے کے بعد مرد آہستہ آہستہ باہر نکل جاتے اور عورتیں برآمدے سے صحن میں آ کر جھولے کے گرد دائرہ بنا کر مصائب شہزادہ علی اصغر پڑھتیں۔ فرحی آنٹی زمین پر بیٹھ کر جھولے سے لپٹ کر بہت گریہ کرتیں۔ انہیں دیکھ کر جو آنکھ نم نہ ہوتی اس آنکھ سے بھی آنسو رواں ہونے لگتے۔ ہم دو تین بچے برآمدے میں لگی جالی کی کھڑکیوں کی اوٹ سے ایک نظر باہر رکھتے ایک اندر سوئی زینب پر۔

اتنے میں بیا آنٹی کو باہر نکلتے دیکھ کر ہم اپنی چیزیں سمیٹنے لگتے اور وہ زینب کو اٹھائے گھر چلی جاتیں۔ ہم بھاگے بھاگے پیچھے جاتے۔ جہاں داخلی دروازے پر حسنی ماموں رال ٹپکائے اداس بیٹھے ہماری راہ تک رہے ہوتے۔ وہ فرحی آنٹی کو دیکھ کر طرح طرح کی عجیب و غریب آوازیں نکالتے خود کو گھسیٹتے اندر آتے۔ ان کے ہاتھ میں سلور کا خالی گلاس ہر وقت ہوتا۔ اماں اکثر بتاتیں یہ سلور کا چمکتا گلاس جب حسنی ماموں پیدا ہوئے تب ان کی نانی نے خالص چاندی سے بنوایا تھا۔ وہ اپنا چاندی کا گلاس اپنے ساتھ ساتھ لیے پھرتے۔ فرحی آنٹی زینب کو کمرے میں لٹا کر حسنی ماموں کا منھ صاف کرتیں۔ وہ منھ کا رخ کبھی ادھر موڑتے کبھی ادھر۔ جب وہ ناراض ہوتے تو زیادہ تر منھ موڑے رکھتے۔

بچے بہت کم ان کے قریب جاتے۔ حالاں کہ بہت خوبصورت تھے لیکن بچے پاس جاتے ڈرتے۔ سب ان کے ہاتھ میں پکڑی پلیٹ دیکھ کر فاصلہ رکھتے کہیں وہ مار نہ دیں۔

زینب کو دیکھ کر وہ کھلکھلا کر ہنستے اور جب وہ روتی تو اس کے گھنگریالے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگتے۔ اس دوران سب کے دل سہمے ہوتے کہیں حسنی ماموں زینب کو کوئی نقصان نہ پہنچائیں۔ فرحی آنٹی چپکے سے پیچھے سے جا کر زینب کو اٹھا کر ہمیں پکڑا کر اماں کے پاس بھیج دیتیں۔ کیونکہ حسنی ماموں کو جب دروہ پڑتا تو وہ کسی کے قابو میں نہیں آتے تھے۔

چھ سے دس محرم کا دن آ جاتا۔ حسنی ماموں جو گھر میں قید ہوتے وہ دس محرم کو باہر تعزیے کے سامنے بیٹھے آرام سے قیدی بنے بیٹھے ہوتے۔ بچے بار بار آ کر دیکھتے۔ یہ اتنے سکون سے کیسے بیٹھے ہیں۔ مائیں بھی حسنی ماموں کے جانے کا انتظار کرتیں اپنے بچے تعزیے کے قریب نہ لاتیں۔ فرحی آنٹی دس منٹ بعد جب سب زنجیریں اتار کر حسنی حسنی کرتے سر ہلاتیں تو وہ جھکا سر اوپر نہ اٹھاتے۔ یوں لگتا اب یہ سر ہمیشہ جھکے رہے گا۔ آج کے دن سارا غصہ سارا نخرہ حسنی ماموں بھول جاتے۔ وہ تعزیے سے پھولوں کا ہار گلے میں ڈال کر جب گھر آتے تو پھپھو شبینا بے شرم، بے حیا منکر کہتیں حسنی ماموں کے گلے سے ہار اتار کر کوڑے دان میں اچھال دیتیں۔ وہ آس پاس پڑی جو چیز ہاتھ لگتی وہ اٹھا اٹھا کر شبینا پھپھو کی طرف پھینکتے۔

”چل ہٹ منحوس دس محرم کے دن بھی تجھے پھولوں کی ہار سنگھار کی پڑی ہے“ ۔

فرحی خاموش تماشائی بنی کھڑی دیکھتی رہتیں۔ جب تک حسنی ماموں زندہ رہے یہ تماشا ہر دس محرم کو لگتا۔ وہ پھولوں کے دیوانے تھے۔ جہاں پھول دیکھ لیتے یا گلاب کی خوشبو آ جاتی وہیں وہ دیوانہ وار خود کو گھسیٹتے پہنچ جاتے۔ سب بچوں کو شبینا پھپھو سخت زہر لگتیں۔ جو ماموں کا ہار کوڑے میں پھینکتیں۔ یہی پھول امام بارگاہ اور تعزیے کے پاس بکھرے پڑے ہوتے۔ تو شبینا پھول چن چن کر اپنے رومال میں باندھ کر گرہ لگاتی پھرتیں۔ انہیں نفرت پھولوں سے نہیں بلکہ حسنی ماموں سے تھی۔ جو ان کے بھائی کا اکلوتا وارث تھا اور وہ بھی کسی کام کا نہیں تھا۔ معذور بھتیجا اور ایک بھتیجی انہیں ایک آنکھ نہ بھاتی۔ باہر والے سب کہتے شبینا بڑی عقیدت والی عورت ہے۔ پکی مومنہ ہے۔ اور گھر والے ایسی کینہ پرور اور کافر مزاج سے سخت عاجز رہتے۔

شام ہونے تک ساری چہل پہل رک جاتی۔ تاریک و سنسان گلیوں میں ہر طرف ”واویلا واویلا“ کی آوازیں سنائی دینے لگتیں۔ حسنی ماموں بھی صحن میں اپنی الٹی چارپائی پر اپنے آگے نیاز کے پیکٹ رکھے بیٹھے ہوتے۔ گھر کے سب بچے اپنے حصے کی نیاز ماموں کے سامنے لا کے رکھ دیتے۔ وہ خوشی سے اپنے گلاس پر چمچ بجاتے۔

اب حسنی ماموں کا سر سفید بالوں سے بھرنے لگا تھا۔ فرحی آنٹی نے بہت چاہا وہ بال رنگ لیں۔ جیسے ہی وہ مہندی گھول کر یا کوئی ہیئر کلر لے کر لگانے لگتیں۔ تو وہ پیالہ الٹ دیتے۔ شبینا پھپھو بھی قہقہہ لگاتے کہتیں۔ اس کے بال رنگ کر گھوڑی چڑھاؤ گی؟ وہ اپنوں سے خائف اور غیروں پر ہر پل قربان ہوتیں۔ فرحی آنٹی کہتیں۔ فی زمانہ پکے مومن کی یہی نشانی ہے اپنوں سے خار رکھتے ہیں اور غیروں پہ جان نچھاور کرتے ہیں۔ وہ سچی تھیں۔

اللہ نے حسنی ماموں کو اپنے پاس بلایا بھی یکم محرم کو۔ نہ رسم قل ہوئی۔ اور نہ ہی دسویں کا ختم۔ ختم تو فرحی آنٹی نے خود کہا کہ محرم میں احترام میں ہم اپنا سوگ گھر نہیں رکھ سکتے۔ سب نے ان کے فیصلے کو بہت سراہا۔ اور رسمی تعزیت کو بھی غیر ضروری سمجھا۔ سب یہی کہہ رہے رہے تھے بے چارے کی اذیت کم ہوئی۔ اتنے سال بہن نے جوان آدمی سنبھالے رکھا۔ ان کی سزا بھی ختم ہوئی۔

کہیں سے آواز آتی۔ آج حسنی ماں باپ کے پاس چلا گیا۔
فرحی آنٹی اور پھوٹ پھوٹ کے رونے لگتیں۔

لوگ جنازے کے بعد میت والے گھر آتے ہیں۔ لیکن یہاں جنازے جانے کی دیر ہوئی سب اپنے گھروں کو چل دیے۔ کسی نے جنازے کے بعد آ کے تعزیت کرنے کی رسمی زحمت بھی نہ کی سوائے ایک شبینا پھپھو کے۔

Facebook Comments HS