خلیل آرٹسٹ: ایک فنکار ہزار روپ


گزشتہ دنوں جب میں کراچی میں تھا تو مجیب قریشی سے نگار ویکلی میں ملاقات ہوئی۔ یہ نگار ویکلی میں لکھتے اور ایف ایم ریڈیو پر سنائی دیتے ہیں۔ بڑے مزے دار آدمی ہیں۔ مجھے ایک ایسی جگہ لے گئے جہاں میں نے چار پانچ قسم کے ہارمونیم، ایک نامور استاد کے استعمال میں رہا سرمنڈل، تان پورہ، رباب، اک تارا چھوٹی اور بڑی دف دیکھیں۔ ان میں سب سے خاص بات چھ سبتک اور پانچ سبتک والے ہارمونیم تھے۔ یہ میں نے اس سے پہلے کبھی کہیں بھی نہیں دیکھے نہ سنے۔

میں نے ان کو بجایا بھی۔ پھر ایک ایسا تاریخی ہارمونیم بھی دیکھا / بجایا جو پاک و ہند کے معروف گلوکار طلعت محمود ( متوفی 1998 ) کے زیر استعمال 1953 سے 1970 رہا۔ مجیب قریشی نے بتایا کہ یہ ہارمونیم اور چھ اور پانچ سبتک والے باجے خلیل آرٹسٹ صاحب کے ہیں۔ ذہن پر زور دیا تو خلیل آرٹسٹ صاحب کی شبیہ ابھری۔ پھر تو میں خلیل آرٹسٹ سے بات چیت کرنے کے لئے بیتاب ہو گیا۔ مجیب کا ان کے ہاں آنا جانا ہے۔ لہٰذا خلیل صاحب سے جلد ایک نشست ہوئی۔ خلیل آرٹسٹ کے بارے میں یہ کہنا ضروری ہے کہ ان کی وجہ مشہوری خوش نویسی، خطاطی، مجسمہ

سازی، گھریلو فرنیچر بنانا، کالم نگاری، اسٹیج پلے رائٹر، سیٹ ڈیزائنر، گیت نگاری، موسیقی ترتیب دینا اور فلمسازی ہے۔ یہ بتانا میرا فرض ہے کہ اتنے بہت سے میدانوں میں یکساں مہارت رکھنے والا کوئی دوسرا شخص آج تک میری نظر سے نہیں گزرا۔ خلیل آرٹسٹ سے گفتگو، نگار کے پڑھنے والوں کے لئے پیش خدمت ہے :

” پہلے تو یہ بتائیے کہ آپ کے نام کے ساتھ لفظ آرٹسٹ کیوں لگتا ہے؟“ ۔

” میں نے سب سے پہلے روزنامہ ’حریت‘ میں سرخیاں اور ٹائٹل لکھنے کا کام کیا۔ پھر پرنٹرز کمبائین مرکنٹائل لمیٹڈ ( پی سی ایم ) کے آرٹ کے شعبے میں آ گیا۔ میری کارکردگی دیکھ کر مجھے آرٹ ڈائریکٹر بنا دیا گیا۔ ادارے نے مجھے آرٹ کا ایوارڈ بھی دیا۔ یہاں کے مالکان اور ملنے جلنے والے مجھے خلیل آرٹسٹ کہنے لگے۔ یہ لفظ اتنا مشہور ہوا کہ میرے نام، محمد خلیل خان کا حصہ ہی بن گیا“ ۔

” ریڈیو پاکستان میں آمد کیسے ہوئی؟“ ۔

” میرے ایک دوست مسعود احمد، موسیقی سے میرا لگاؤ دیکھتے ہوئے مجھے ریڈیو پاکستان لے گئے اور مہدی ظہیر سے ملاقات کرائی۔ میں نے موسیقی پر جس انداز سے گفتگو کی تو وہ دنگ رہ گئے اور کہنے لگے کہ موسیقی میں جو آپ بتلا رہے ہیں وہ چیزیں نہ ہم نے سنیں نہ کبھی انہیں استعمال ہی کیا۔ یہ بھی پوچھا کہ مجھے ان کے بارے میں کیسے معلوم ہوا؟ میں نے کہا کہ میرا اٹھنا بیٹھنا استاد امراؤ بندو خان کے گھر ہوتا تھا“ ۔

” استاد امراؤ بندو خان تک آپ کی کیسے رسائی ہوئی؟“ ۔ میں نے سوال کیا۔

” میں لیاقت آباد کے رہنے والے اپنے دوست وزیر احمد خان کے ذریعے گیا۔ یہ رشتے میں استاد صاحب کے بھانجے لگتے تھے۔ “ ۔

چھ اور پانچ سبتک کا ہارمونیم بنانا:

” میں نے آپ کے چھ اور پانچ سبتک والے ہارمونیم دیکھے اور بجائے بھی۔ ایسے ہارمونیم تو میں نے اس سے پہلے کہیں بھی نہیں دیکھے۔ اس کی کیا کہانی ہے؟“ ۔

” میرے دوست کے پاس فرانس کا بنا ہوا سوا پانچ سبتک کا پیڈل آرگن تھا جس کو اٹھا کر ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانا مشکل تھا۔ مجھے کہا گیا کہ اس کا کچھ حل نکالوں۔ میں سمجھ گیا! آواز کی نالیاں اور پیڈل ختم کر کے کی بورڈ الگ کیا۔ پھر اس کے پیچھے دھمن/پردہ لگادیا۔ میں نے کوشش کی اور وہ کامیاب ہو گئی۔ اس وقت میری نگاہ اور صحت ٹھیک تھی اس لئے یہ کام بہ آسانی ہو گیا۔ پھر اس کے بعد میں نے چھ سبتک والا ہارمونیم خود بنایا۔ قوت تخیل اور ندرت خیال اللہ دیتا ہے۔ کسی بھی فن میں جب آپ انتہائی گہرائی میں جا کر جاننے کی کوشش کریں گے تو سب مشکلیں آسان ہو جائیں گی“ ۔

ہارمونیم کی وجہ سے گھر چھوڑنا اور خود ہارمونیم بنانے کا ماہر ہونا:

” ایسا ہوا کہ ریڈیو پاکستان کے پاس سلیم میوزک سینٹر سے میں نے 1964 میں 300 روپے کا ہارمونیم خریدا۔ میں چوری چھپے اس پر کئی کئی گھنٹے ریاض کرتا تھا کیوں کہ میرے والد صاحب بہت مذہبی تھے۔ ایک دن والد صاحب نے ہارمونیم اٹھا کر باہر پھینک دیا۔ میں اس وقت گھر کا سودا لینے بازار گیا ہوا تھا۔ جب سودا لے کر گلی میں داخل ہوا تو دیکھا کہ گھر کی دہلیز پر میرا ہارمونیم ٹکڑوں کی صورت پڑا ہے۔ والدہ نے روتے ہوئے کہا کہ یہ تمہارے والد نے پھینک دیا ہے۔ میں نے والدہ سے ایک کپڑا منگوایا اور ہارمونیم کے ٹکڑوں کو اس میں لپیٹا، کاندھے سے لٹکایا اور والدہ کو خدا حافظ کہہ کر گھر چھوڑ دیا۔ پھر تین سال تک گھر نہیں گیا“ ۔

” اوہ! اتنا عرصہ کہاں رہے؟“ ۔
” لیاقت آباد میں میرا دوست عدیل احمد رہتا تھا اس کے ہاں چلا آیا“ ۔
” جو ندیم کوثر کے ساتھ ہوتا تھا! “ ۔

” جی ہاں! وہ ہی! فوراً پیسے لایا اور لالو کھیت میں جگہ تلاش کر کے ’تھری ایم‘ کے نام سے فوٹو اسٹوڈیو قائم کر دیا۔ میں وہاں بیٹھتا تھا۔ وہیں پر میں نے ٹکڑوں کی صورت اپنے ہارمونیم کو دیکھا کہ کیسے بنا تھا۔ میں ریگ مار لایا اور جوڑ جاڑ کر اصل سے بھی زیادہ اچھا کر دیا۔ اس وقت مجھے خیال آیا کہ معلوم کروں کہ اس میں کون سی لکڑی استعمال ہوئی ہے۔ پھر میں ابرار صاحب کے برابر سلیم میوزک ہاؤس میں بیٹھنے لگا اور دیکھا کہ ہارمونیم کیسے بنائے جا رہے ہیں۔

میں نے کہا کہ کیا میں اس سے اچھا بنا دوں؟ تو وہ ناراض ہو گئے کہ تم اس سے اچھا کیسے بناؤ گے۔ پھر اس شرط پر ہارمونیم بنانے کی اجازت دی کہ اگر نقصان ہوا تو میں دگنے پیسے ادا کروں گا۔ پہلے میں نے لکڑی کے بارے میں معلومات حاصل کیں پھر مرضی کی لکڑیاں لاکر جب ہارمونیم بنایا تو وہ دنگ رہ گیا۔ یہ لوگ بھارت سے ’ریڈز‘ منگواتے اور میں ہارمونیم بناتا۔ پھر میں نے سوا تین اور ساڑھے تین سبتک کے ہارمونیم بھی بنائے۔ عام ہارمونیم نہیں! بلکہ اسکیل چینجر! جو کہ خاصا باریک بینی والا کام ہے۔ پھر نگاہ کمزور ہونے کے بعد یہ کام چھوڑ دیا“ ۔

” ٹیوننگ کرنا بھی کیا آپ نے وہیں سے سیکھی؟“ ۔

” میں اس زمانے میں ٹیوننگ کرنا آسان سمجھتا تھا۔ بڑے میاں ابرار صاحب جلد ہی میرے دوست بن گئے۔ وہ بہترین ٹیوننگ کرتے تھے۔ میں نے سوچا کہ اکثر لوگ ان ہی سے ٹیوننگ کرا رہے ہیں پھر لانڈھی میں رہنے والے زاہد صاحب بھی ٹیوننگ کرتے تھے۔ ایک صاحب سخی حسن کے پاس بھی یہ کام کرتے تھے۔ یہ سب اچھی ٹیوننگ کرنے والے ایمان دار لوگ تھے۔ میں نے سوچا کہ ٹیوننگ تو کوئی بھی کر لے گا اصل چیز تو ہارمونیم بنانا ہے۔ پھر جب یہ لوگ دنیا سے گزر گئے تو ٹیوننگ کروانا بے حد دشوار ہو گئی“ ۔

” اچھے گانے بجانے والے نہیں رہے لہٰذا ہارمونیم کو ٹیون کرنے والے بھی اب پہلے والوں کی طرح سے ٹیون نہیں کرتے۔ بڑے میاں ابرار صاحب اور ان جیسے کچھ دوسروں کو سر گیان تھا۔ وہ ٹیونر سے نہیں بلکہ اپنے ذہن سے ٹیوننگ کرتے تھے“ ۔

” ایسے ماہر حضرات نے اپنے متبادل ٹیونر کیوں نہیں تیار کیے ؟“ ۔

” اصل میں تو سیکھنے والے ہی نہیں ہیں! اوپر سے روزگار بھی نہیں۔ کوئی آدمی ڈاکٹر کوئی انجینیئر یا فنکار بننا چاہتا ہے تو لوگوں نے وہاں رجحان کیا۔ اب ٹیوننگ سیکھنے اور ٹیونر بننے کوئی نہیں آتا۔ ہارمونیم بجانے والوں اور گانے والوں کی تعداد کم ہے۔ فنکشن میں کی بورڈ بجایا جاتا ہے یا پھر گٹار۔ میوزک انڈسٹری نہیں رہی۔ ان سیکھنے والے نے اچھی ٹیوننگ سیکھ بھی لی تو وہ اپنا رزق کیسے کمائے گا؟ اس کے پاس ٹیوننگ کو کتنے لوگ آئیں گے؟“ ۔

” بات تو بالکل صحیح کہی! آپ نے کون کون سی لکڑیوں سے ہارمونیم بنائے؟“ ۔ مجیب قریشی نے سوال کیا۔

” بھارت میں برما ٹیک کے ہارمونیم بنتے تھے۔ ویسے برما کا ملک ان کو نزدیک بھی پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ لکڑی وہاں بھی پائی جاتی ہے۔ مزے کی بات اسی برما ٹیک کا بیج لے کر آپ پاکستان میں لگائیں۔ یہ نشو نما حاصل کرے گی لیکن جا بجا اس کی لکڑی میں ’گانٹھیں‘ ہوں گی۔ ہموار شفاف نہیں ہو گی۔ کیوں؟ اس لئے کہ ہماری زمین اور ماحول گندا اور آلودہ ہے۔ جب یہ سب پانی میں شامل ہو کر جڑوں سے ہوتے ہوئے اوپر تنے میں پہنچتا ہے تو جہاں جہاں مٹی باریک نالیوں میں پھنسی، وہیں گانٹھ بن جاتی ہے“ ۔

” بھارت میں تو یہ باجے بڑی تعداد میں بنتے ہیں۔ وہاں تو گھریلو عورتیں ’بیلو‘ بنا کر کارخانوں میں دیتی ہیں۔ کچھ خواتین صرف کالے اور سفید رنگ کی ’کیز‘ keys بناتی ہیں۔ پھر تکنیکی ماہر اس کھوکے میں ’ریڈز‘ سیٹ کرتا ہے اور ہارمونیم تیار۔ البتہ ٹیوننگ کا طریقہ ء کار بھارت میں بہت اچھا ہے۔ انہوں نے ٹیوننگ باکس بنایا ہوا ہے۔ ہمارے ہاں تو ہارمونیم رکھا ہوا ہے اسی کے اندر دھوکنی مار رہے ہیں ٹیوننگ کر رہے ہیں۔ وہاں تو ’ریڈ بورڈ‘ کا سارا سسٹم نکال کے اس میں لگا کر کس دیتے ہیں۔

ہوا گزر نہیں سکتی اور باجوں کی خود بخود ٹیوننگ ہوتی چلی جاتی ہے اور یوں بہترین ٹیوننگ حاصل ہوتی ہے۔ بجائیکی کے ریڈز گائیکی کے ریڈز سے مختلف ہوتے ہیں۔ گانے کے لئے پتلی زبان کے اور نرم ہوتے ہیں۔ اس سے وہ سر نکلتا ہے جو گلے کی ضرورت ہوتی ہے یا اس سر کی نقل ہوتی ہے، اس طرح گانے والے کو ہارمونیم بہت مدد دیتا ہے۔ تھوڑی بہت سارنگی والا کام دیتا ہے“ ۔

” کیا آپ کی پہچان ہارمونیم بنانے والے کی ہو گئی اور پھر آپ اسی کام میں لگ گئے؟“ ۔

” نہیں! میرا میدان پرنٹنگ پریس تھا۔ میں دوا ساز ادارے ’ایبٹ‘ کا کام کرتا تھا۔ میں پروگریسیو کے مالک یوسف صاحب اور ایم اے یحییٰ کی کمپنی ’آرکو‘ پاکستان فارماسوٹیکل پراڈکٹس کے لیبل، لٹریچر، دوائیوں کے ڈبوں کا ڈیزائین خود بنا تا اور پرنٹ کرتا تھا۔ میرا اصل کام یہ ہی تھا۔ باقی چیزیں میرا شوق تھیں“ ۔

ذکر مہدی ظہیر صاحب کا :

” آپ کا ریڈیو پاکستان کے نامور پروڈیوسر، گیت نگار، گلوکار، موسیقار اور براڈکاسٹر مہدی ظہیر صاحب کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا تھا۔ کچھ اس کا ذکر بھی ہو جائے“ ۔ مجیب قریشی نے پوچھا۔

” ریڈیو پاکستان کراچی میں مہدی ظہیر صاحب نے ملاقات کے بعد اپنے گھر بلوایا کہ آپ سے بات کرنا ہے۔ ان کے گھر میں ’وال پیانو‘ رکھا ہوا تھا۔ وہ اس پر کوئی چیز کمپوز کر رہے تھے۔ ہماری گفتگو پیانو پر گانے اور سارنگی کے ساتھ گائیکی پر ہونے لگی۔ میں نے مہدی ظہیر سے کہا کہ سارنگی کی گائیکی اور پیانو کی گائیکی میں بڑا فرق ہے۔ پیانو اٹنگ گائیکی ہے جس میں کھڑا سر استعمال ہوتا ہے۔ اس میں آمد اور گھمک، گھلاؤ اور رس نہیں ہوتا۔

سیدھے سیدھے سر لگتے ہیں جیسے انگریز کوڈ سسٹم پر گاتے ہیں۔ لیکن سارنگی بجانے والا ’کل‘ کا استعمال کرتا ہے۔ اب جس نے سارنگی کے ساتھ گایا ہو اور سارنگی کی معلومات ہوں تو اس کی گائیکی اور فن کی کیا بات ہے! مجھے استاد صاحب نے اپنے والد استاد بندو خان کی لکھی ہوئی موسیقی کی کتاب ’بی بیک درپن‘ پڑھنے کے لئے دی۔ بی بیک سنسکرت میں موسیقی کو اور درپن آئینہ کو کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھاتھکنڈہ لکھنو سے شائع شدہ موسیقی کی کتابوں کے تراجم پڑھے۔

جب موسیقی کو قریب سے جاننے کی کوشش کی تب پتہ چلا کہ سنگیت وہ نہیں ہے جو لوگ استعمال کر رہے ہیں۔ اصل سنگیت تو وہ ہے جس میں تاثیر ہو۔ اب گائیکی میں تو مہندر کپور نے بھی گایا، محمد رفیع نے بھی گایا۔ رفیع کے گانوں میں کھرج سر استعمال ہوا ہے پھر وہ اوپر تک بھی جاتے ہیں۔ یہ کیفیت اور تاثیر لئے ہوتی ہے۔ مہندر کپور بھی سر میں گاتے ہیں لیکن اوپر کے سروں پر جانے سے تاثیر ختم ہو جاتی ہے“ ۔

” گفتگو کے بعد مہدی ظہیر نے اپنی کمپوزیشن مجھے سنا نے سے پہلے کہا کہ جب میں ریڈیو پاکستان میں اپنی تخلیق کردہ کوئی دھن سناتا ہوں وہاں موجود سب ہی افراد واہ واہ کرتے ہیں! خامیاں بھی ہوں گی جو نہیں بتاتے۔ آپ کھرے آدمی ہیں اور چاپلوسی نہیں کرتے تو جو خامی نظر آئے بتائیے گا۔ تب انہوں نے پیانو پر اپنی کمپوزیشن میں کھڑے سر کا اٹنگ گانا سنایا۔ میں نے کہا دوبارہ گائیں۔ انہوں نے سنایا۔ میں نکات نوٹ کرتا گیا۔

میں نے کہا کہ جو سر لگا رہے ہیں اس کے ساتھ تھوڑی سی آس لے کر دوسرے سر میں جائیں۔ انہوں نے دو ایک مرتبہ کوشش کی اور صحیح ہو گیا۔ پھر میں نے کہا کہ یہ جو میں نے نشانات لگائے ہیں یہاں آپ نے غلط سر لگائے ہیں۔ پوچھا کیسے؟ میں نے کہا کہ کومل سر لگتا ہوا آ رہا ہے۔ آواز کیا کہہ رہی ہے نیچے کا آدھا سر چھو کر پھر اوپر جائیں۔ انہوں نے اس بات کو بہت اہمیت دی اور پھر مجھے اکثر نئی دھن سنوانے کے لئے بلاتے تھے“ ۔

” خلیل صاحب! مجھے یاد پڑتا ہے کہ میں نے مہدی ظہیر بھائی کے گھر میں دو تین دفعہ آپ کو دیکھا اور ایک مرتبہ تو آپ کی موجودگی میں صادقین صاحب سے بھی ملاقات ہوئی تھی“ ۔

” جی ہاں! مجھے بھی یاد پڑ رہا ہے“ ۔
فلم ”اڑتے پنچھی“ :
” اپنی فلم“ اڑتے پنچھی ”کے بارے میں بتائیے“ ۔

” میں پہلے بھی اپنے لئے گانے ( شاعری ) لکھتا اور باقاعدہ ان کی ریکارڈنگ کرواتا رہا تھا۔ پھر میری ملاقات بشیر احمد سے ہوئی۔ وہ فلموں میں بی اے دیپ کے نام سے شاعری اور بشیر احمد کے نام سے گلوکاری کرتے تھے۔ میں نے اپنی بننے والی فلم“ اڑتے پنچھی ”کے لئے اپنے لکھے اور اپنی ترتیب دی ہوئی دھن میں گیت سنائے تو بہت خوش ہوئے کہ تم اتنا جانتے ہو۔ پھر میں نے کہا کہ تیار ہو جائیں میں آپ کی آواز میں یہ گانے ریکارڈ کروں گا۔

میں نے ان سے گراموفون کمپنی آف پاکستان، ای ایم آئی میں گانے ریکارڈ کروائے۔ ان کی بیگم مینا بشیر کے ساتھ دوگانا بھی کیا۔ یہ بھارتی معروف اداکارہ مالا سنہا کی چھوٹی بہن تھیں۔ میری اس فلم کے گانے ریڈیو پاکستان سے بجے۔ اس سے زیادہ آل انڈیا ریڈیو سے اور سب سے زیادہ ریڈیو ایران زاہدان سے۔ یہاں سے تو ایک عرصہ بجتے رہے۔ یہ 1975 / 1976 کے زمانے کی بات ہو گی“ ۔

اس فلم میں 08 گانے تھے۔ پہلا گانا ’ہم تو اڑتے پنچھی ہیں کبھی اس ڈار کبھی اس ڈار‘ دوسرا ’آؤ چلیں ہم دونوں سجنی پنچھی بن کے اڑ جائیں‘ تیسرا ’جب رات نے گیسو پھیلائے دو دل ملنے آئے‘ چوتھا گانا ’اس پار کبھی اس پار یہ دنیا اک منجدھار ہیا ہو ہیا‘ پانچواں ’مجھ کو ڈھونڈے گیتوں کی یہ سرگم۔ ‘ چھٹا ’بھیگی سی رت میں کبھی مسکرا لو کبھی پیار میں گنگنا لو‘ ساتواں ’لو غم کے دیپ جلائے اک پل بھی چین نہ آئے‘ آٹھواں گانا ’آج کوئی دل لے گیا چندا کی روپہلی رات میں‘ ۔ گیت نگار کا نام خلیل باقرؔ لکھا ہے۔ وہ شاعری اسی نام سے کرتے تھے۔ تمام گانے خلیل آرٹسٹ صاحب ہی کے کمپوز کیے ہوئے ہیں۔ ارینجر البتہ الیاس احمد ضرور تھے لیکن نا معلوم وجوہ کی بنا پر گراموفون ریکارڈ پر موسیقار کا نام الیاس احمد لکھا ہے۔

” فلم“ اڑتے پنچھی ”بنانے کا خیال آپ کو کیوں آیا؟“ ۔

” اللہ ہر ایک شخص کو صلاحیت دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے بھی تھوڑی بہت صلاحیتیں عطا کیں اور ساتھ ہی ان کے استعمال کی توفیق بھی بخشی۔ لوگ سنیما گھر میں فلم سے لطف اندوز ہوتے تھے جب کہ میں کیمرا مین کا کام، لائٹنگ اور ایڈیٹنگ، سین کی شوٹنگ، کیمرے سے اداکاروں کا فاصلہ، کلوز اپ، لانگ اور مڈ شاٹ دیکھتا تھا۔ اور یہ کہ نیا کردار سین میں کس اینگل سے داخل ہو گا۔ لاہور کی فلموں میں اکثر ان باتوں کا خیال نہیں رکھا جاتا تھا۔

ہالی ووڈ کی فلمیں، ان کی ڈائریکشن، کیمرا مین کا کام بھی بغور دیکھا۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسٹرن اور مارڈرن اسٹوڈیو میں جا کر دیکھتا کہ فلم کی ایڈیٹنگ کیسے ہو رہی ہے۔ پھر ایڈیٹنگ کے دوران ڈبنگ کو بھی بغور دیکھا اور سمجھا۔ جب کہ میں پہلے ہی اسٹل اسٹوڈیو کا آدمی تھا اب مووی اسٹوڈیو کی الف ب سے بھی خاصی واقفیت ہو گئی۔ گھر سے تو ویسے ہی نکلا ہوا تھا۔ وقت ہی وقت میسر تھا 24 گھنٹے یہ ہی کام۔ ایک میں نہیں بلکہ فلمی دنیا کے اکثر لوگ کم و بیش اسی طرح کام کے دھتی ملیں گے۔ یہ کام کی دیوانگی اور جنون ہے! “ ۔

” آپ کی فلم“ اڑتے پنچھی ”کی کہانی کا مرکزی خیال کیا کسی ناول سے لیا گیا تھا؟“ ۔
” نہیں! وہ میرا اپنا خیال تھا۔ ایک گھریلو کہانی تھی“ ۔
” میوزیشن کون کون تھے؟“ ۔

” میوزیشن میں ریاض وائلن والے سمیت مظہر بھائی اور ان کا پورا گروپ، سنتور نواز کامل، بانسری استاد سلامت حسین، طبلہ نواز امیر سلطان، لاہور سے ماسٹر صادق یا صدیق کے بیٹے نے پیانو بجایا۔ سازوں میں اکارڈین کے علاوہ بھی دیگر ساز استعمال ہوئے“ ۔

” کیا اس فلم میں احمد رشدی نے بھی گانا گایا تھا؟“ ۔ مجیب قریشی نے پوچھا۔
” نہیں“ ۔
” فلم کی کہانی کس نے لکھی؟“

” فلم کی کہانی میں نے لکھی۔ یہ فلم پیسے کمانے کے لئے نہیں بنائی جا رہی تھی۔ مجھے اللہ تعالیٰ نے بہت پیسہ دیا تھا۔ ایک وقت تھا کہ ہفتہ میں ایک لاکھ روپے کماتا تھا۔ میں لالو کھیت اور دیگر علاقوں کے تمام سازندوں کے ہاں گاڑی بھر کر راشن پہنچا کر آتا تھا۔ میرا دل بہت خوش ہوتا تھا۔ مجھے سکون ملتا“ ۔

” اس وقت مارڈرن اور ایسٹرن اسٹوڈیو میں بننے والی فلم لاہور کے تقسیم کار اکثر قبول نہیں کرتے تھے۔ اس طرح کراچی کی فلم انڈسٹری بتدریج برباد ہو گئی۔ مارڈرن اسٹوڈیو ویران ہو گیا بعد میں ایسٹرن کا بھی یہ ہی حال ہوا۔ لیکن اس کے باوجود میں نے اپنی یہ فلم شروع کر دی۔ میں نے سوچا کہ کوئی بات نہیں مشرقی پاکستان میں اپنی فلم چلا دیں گے۔ میری فلم بننا شروع ہی ہوئی تھی کہ مشرقی پاکستان میں سیاسی حالات اس قدر خراب ہوئے کہ شیرازہ بکھر گیا۔ میرے اداکاروں میں شبنم اور رحمن تھے جن سے میری دوستی بھی تھی۔ یہ پہلے تو شوٹنگ کے حوالے سے تھی پھر بشیر احمد کے توسط سے اور زیادہ ہو گئی“ ۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا : ”بزمی صاحب اصولی آدمی تھے۔ وہ اپنے کام میں کسی کی بھی مداخلت پسند نہیں کرتے تھے۔ آہستہ آہستہ لاہور میں ان کے لئے ایسے حالات بنے کہ وہ کراچی آ گئے۔ تب میری ان سے ملاقات ہوئی۔ پھر میرا بیٹا نوید بھی ان کے ہاں گیا اور ان کا پیانو بجایا۔ بہت خوش ہوئے کہ اتنا اچھا پیانو بجاتا ہے۔ اس نے مشہور کی بورڈسٹ اظہر حسین سے سیکھا تھا پھر کتابوں سے مغرب کا کورڈ سسٹم بھی سیکھا۔ اس نے اس میدان کو اس لئے چھوڑا کہ پاکستان میں کسی بھی میوزیشن کا کوئی مستقل روزگار نہیں ہے۔ بیٹا پہلے فنکشنوں میں جاتا تھا لیکن معاوضے کم تھے۔ میں نے بھی دس بارہ سال قبل میوزک چھوڑ دیا“ ۔

” اس کی کیا وجہ ہوئی؟“ ۔

” اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلے میری والدہ بیمار ہو گئیں۔ میں ان کی خدمت میں لگا رہا۔ پھر ساڑھے پانچ سال بیوی بیمار رہیں۔ میں نے تو اس زمانے میں ہارمونیم بجانا بھی ترک کر دیا تھا۔ اب جب سے مجھ پر تھوڑا سا فالج کا حملہ ہوا ہے تو میرے ہاتھ لرزتے ہیں اس لئے ہارمونیم پر سر مکمل نہیں نکلتا“ ۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے بتایا : ”کچھ راگ ایسے بھی ہیں جو گلا خراب کرتے ہیں“ ۔
” ارے! وہ کیسے؟“ ۔ میں نے حیرت سے سوال کیا۔

” اور کچھ راگ ایسے ہیں جن سے گلا بنتا ہے۔ مثلاً ’پہاڑی‘ سے گلا کھلتا ہے۔ منہ کا پورا دہانہ کھل جاتا ہے۔ اس سے کھرج کا ریاض بہت اچھا ہوتا ہے۔ ’مالکوس‘ سے گلا بند ہو جاتا ہے۔ یہ پانچ سروں کا راگ ہے۔ اس میں اوپر جا کر گلا بند ہو جاتا ہے۔ لیکن جو شخص ’ایمن‘ اور ’درباری‘ پر ریاضت کرے گا اس کا گلا کھلا ہو گا۔ پھر وہ ’بھیرویں‘ پہ بھی جا سکتا ہے اور ’مالکوس‘ پھر آسانی سے گایا جائے گا۔ لیکن جس نے ’مالکوس‘ سے ریاض شروع کیا وہ ’ایمن‘ بھی نہیں گا سکے گا“ ۔

گائیکی میں تاثیر جاتی رہی :

” موسیقی کے مختلف دور آئے اور گئے۔ 1950 کے بعد بہت اچھے موسیقار آئے لیکن بعد کے موسیقاروں نے گائیکی کا انداز بدل دیا۔ گائیکی میں رقص شامل ہو گیا اس سے ٹیمپو بدل گیا۔ جو بلمپت میں گانا گایا جاتا اب وہ درت میں گایا جانے لگا۔ یعنی دو ماترے یا چار ماترے کی تال میں۔ اب ناچ گانے کے حساب سے سر مختصر استعمال ہونے لگے اور وہ بات اور تاثیر نہیں رہی“ ۔

بنانا آرٹ اینڈ میوزک کلب کا:

” کراچی کے اسٹیج اور تھیٹر میں آپ کے کلب کا بھی نام لیا جاتا تھا۔ کچھ اپنے آرٹ اینڈ میوزک کلب کے بارے میں بتلائیے“ ۔ مجیب قریشی نے سوال کیا۔

” میں نے عارف صاحب کے ساتھ مل کر ایک کلب بنایا جس کا میں ڈائریکٹر تھا۔“

” وہ ہی عارف صاحب جنہوں نے ابن انشاء کا فلمی گیت ’اک بار کہو تم میری ہو۔ ‘ گایا تھا جو ریڈیو پاکستان کراچی سے بہت بجتا تھا؟“ ۔ مجیب قریشی نے سوال کیا۔

” ہاں یہ وہی ہیں، اس گیت کے موسیقار وزیر احمد خان تھے“ ۔ میں نے بات کو آگے بڑھایا۔

” جی ہاں! اس کلب میں چھوٹے بڑے سب ہی فنکار آتے تھے“ ۔ خلیل صاحب نے کہنا شروع کیا ”ندیم کوثر، اخلاق احمد سمیت ریڈیو پاکستان کی فنکار گلی کے فنکار اور سب ہی میوزیشن یہاں آتے تھے۔ میں کہانی لکھتا اور ڈرامے کے سیٹ بھی بناتا تھا۔ میں نے تھیوسوفیکل ہال میں کچھ ڈرامے جیسے ’رنگ ترنگ‘ ، ’افسانہ بنا دیا‘ کیے ۔ ڈرامہ ’اڑتے پنچھی‘ بھی وہیں سے شروع کیا تھا لیکن پھر بعد میں اس پر فلم بنانے کا سوچا۔ اسی کلب کی وساطت سے بشیر احمد اور مینا بشیر نے میرے ہاں کئی مرتبہ محفل موسیقی میں گانے سنائے۔ مجھے بھی انہوں نے اپنے ہاں طارق روڈ، پی ای سی ایچ ایس سوسائٹی میں مدعو کیا۔ ان کے ہاں کی ایسی ہی ایک محفل میں اداکار رحمن سے میری ملاقات ہوئی جو پھر دوستی میں بدل گئی۔ ان کے گھر کے قریب ہی نامور گلوکار طلعت محمود کا بھانجا رہتا تھا۔ بشیر احمد کی و جہ سے میرا وہاں بھی آنا جانا شروع ہو گیا ”۔


طلعت محمود کے ہارمونیم کا ایک انوکھا واقعہ:

” بشیر احمد طلعت محمود سے بہت متاثر تھے۔ وہ اپنی بیگم کے ساتھ بھارت گئے۔ اس دورے میں یہ لوگ طلعت صاحب کے ہاں بھی گئے۔ وہاں طلعت محمود نے انہیں اپنا ایک ہارمونیم دیا کہ یہ میرے بھانجے کو کراچی میں پہنچا دینا۔ بشیر احمد وہاں سے اس کے علاوہ ایک نیا باجا بھی ساتھ لے کر آئے۔ اب جب بشیر احمد طلعت محمود کے بھانجے کے ہاں یہ باجے لئے پہنچے اور کہا کہ یہ باجا آپ کے ماموں جان نے تمہارے لئے بھجوایا ہے تو بھانجے کو وہ باجا کوئی زیادہ پسند نہ آیا۔

یہ ہارمونیم 1953 سے طلعت صاحب کے استعمال میں تھا۔ اس لڑکے کو باجے کا کوئی تجربہ ہی نہیں تھا۔ بجائیکی کے لحاظ سے اس کے سر بہت اعلی، میٹھے اور پتلی زبان کے تھے۔ یہ مدہم سر طلعت محمود کے گلے کے حساب سے بنائے گئے تھے۔ ان کا بھانجا کہنے لگا کہ انکل مجھے تو نیا باجا چاہیے! ( سب بے اختیار ہنسے ) ۔ تو بشیر احمد نے خوشی کے ساتھ اپنا نیا باجا اسے دے دیا اور وہ بے مثال باجا خود اپنے گھر لے گئے۔ پھر جب وہ مستقل بنگلہ دیش جا رہے تھے تو اپنے ایوارڈ، شو کیس، برتن، دیگر استعمال کی چیزوں کے ساتھ وہ طلعت محمود والا باجا بھی میرے حوالے کر گئے“ ۔

اتنے بہت سے کام کئیے مہارت کس میں حاصل کی؟

” آپ نے موسیقی سیکھی، کمپوزیشن کیں، گیت لکھے، فلمسازی کی، ہارمونیم بنائے، فرنیچر بنایا، دو پرنٹنگ پریس اور دو فوٹو اسٹوڈیو چلائے اور بھی کیا کچھ نہیں کیا۔ آپ نے ماسٹری کس میدان میں کی؟“ ۔

” دنیا میں ایسا کوئی بھی نہیں جو اس بات کا دعویٰ کرے کہ اس نے فلاں چیز میں مہارت حاصل کر لی۔ وجہ یہ ہے کہ ہزاروں سال سے ارتقائی عمل جاری ہے گاڑی اور جہاز بنے تو کسی اور شکل کے تھے اب ان میں بہت زیادہ تبدیلیاں آ گئیں۔ پہلے سنگل اسکرین سنیما میں 35 ایم ایم کی فلمیں چلتی تھیں اب آپ دیکھ لیجیے۔ “ ۔

” اصل میں خطاطی میرے بچپن کا شوق تھا۔ پھر میوزک کا شوق ہوا۔ پھر میں نے مضامین لکھے۔ سب سے پہلے میں روزنامہ حریت میں گیا۔ اس وقت فخر ماتری صاحب ہوتے تھے۔ یہ ہیرا آدمی تھے۔ پھر وہاں سے شاہد اسحق کے پرنٹرز کمبائین مرکنٹائل لمیٹڈ ( پی سی ایم ) میں آ گیا۔ یہاں بینکوں کی چیک بک چھپتی تھیں۔ یہ میں بنا تا تھا۔ جامعہ کراچی کی ڈگریاں بھی میں بناتا اور ڈیزائن کرتا تھا۔ اس کا کاغذ بھی الگ ہوتا تھا۔ یہ بہت ذمہ داری اور راز داری کا کام تھا۔ یہ 1970 کے بعد کی بات ہے۔ سعودی بینکوں کی چیک بک بھی میرے ہاتھ کی بنی ہوئی ہیں“ ۔

” کوہاٹ میں بھی آپ نے خطاطی کا کام کیا تھا۔ وہ کس کے لئے کیا؟“ ۔ مجیب قریشی نے پوچھا۔

” کوہاٹ میں دوران تعلیم اسکول میں خطاطی کا بہت کام کیا۔ میں اسکول میں خاصا مشہور تھا۔ اسکول کے لئے بڑے بڑے پوسٹر بنائے جن کا حاشیہ بھی میں خود پھولوں سے بناتا تھا۔ آرٹ کے میدان میں کوہاٹ کے تمام سرکاری اسکولوں کا میں ممتاز ترین طالب علم بن گیا۔ لیکن فوجی اسکول اس بات کو نہیں تسلیم کرتے تھے۔ پھر ان کے اسکول میں فوجیوں نے ایک پروگرام رکھا اور مجھے بلوایا۔ میرے آگے پیچھے میرے اسکول کے ماسٹر اور ہیڈماسٹر تھے۔ میں نے آرٹ کی کچھ چیزیں انہیں بنا کر دیں تو وہ دنگ رہ گئے“ ۔

قصہ محمد رفیع کی توہین کا:

” لیاقت آباد میں جتنے بھی گھرانے کے لوگ تھے، دہلی گھرانے، امراؤ بندو خان کا گھرانا، بھائی بلندی، اشرف، نظام خان صاحب، وزیر احمد خان صاحب، امیر سلطان، بھائی شریف، نسیم ہارمونیم والا وغیرہ ان سب سے میری اچھی دعا سلام تھی۔ میوزک کے حوالے سے بھی مجھ کو جانتے تھے۔ انہوں نے ایک میوزک کا پروگرام رکھا۔ وہاں یہ سب لوگ موجود تھے۔ اس کے علاوہ بہت سے گلوکار بھی تھے جیسے ندیم کوثر۔ اس پروگرام میں ایک صاحب گانا گانے آئے تو بہت تالیاں بجائی گئیں۔

منتظم اور کمپیئر ان کی تعریفوں کے پل باندھنے لگے کہ ان کے سامنے رفیع بھی کیا گائے گا۔ مجھے اس بات پر بہت غصہ آیا۔ اب جس بھونڈے طریقے سے ان گلوکار نے سر لگائے اور گائیکی کی۔ واہ واہ ہوئی۔ پھر دوسرا گانا سنایا۔ اس گانے کے بارے میں کمپیئر نے کہا کہ یہ تو رفیع سے اونچا چلا گیا۔ تیسرے گانے کے بعد پھر کہا گیا۔ اب مجھ سے برداشت نہ ہو سکا۔ اسٹیج پر چڑھا اور کمپیئر کو باہر کا راستہ دکھا دیا۔ وہاں موجود تمام افراد حیران و پریشان ہو گئے کہ آخر ہوا کیا!

وہاں کسی خاتون نے کہا کہ ضرور اس نے کسی لڑکی کو چھیڑا ہو گا۔ ( بلند آواز میں قہقہے ) ۔ وہ گلوکار اور اس کی ٹیم بھی چلی گئی۔ باقی دوسرے فنکار گاتے رہے۔ جب فنکشن ختم ہوا تو بھائی بلندی ( موسیقار بلند اقبال ) ، امیر احمد خان اور امیر سلطان پوچھنے آئے کہ اس شخص نے کس کو چھیڑا تھا؟ میں نے کہا نہیں کسی کو نہیں چھیڑا نہ کسی کو اشارہ کیا۔ انہوں نے حیرت سے پوچھا کہ پھر کیا بات ہوئی؟ تب مجھے کہنا ہی پڑا کہ ایک دفعہ ہو گیا دو مرتبہ ہو گیا۔ اس کمپیئر نے تو رفیع کا پیچھا ہی پکڑ لیا کہ وہ اس گلوکار کے مقابلے میں کیا گائے گا! میرے سامنے تو یہ محمد رفیع کی توہین تھی۔ وہ سب بھی خوب ہنسے“ ۔

” اس زمانے میں ریڈیو پاکستان میں فنکاروں کے معاوضے کم ضرور تھے لیکن اس کے باوجود ادارہ بہترین چل رہا تھا۔ تمام عملہ اپنے کام سے مخلص تھا۔ وہاں فن کا عروج تھا“ ۔

ذکر نیاز فتح پوری اور صادقین کا:

باتوں باتوں میں انہوں نے بتایا : ”لائبریریوں کے علاوہ میں اساتذہ کے پاس جاتا تھا جیسے نیاز فتح پوری صاحب۔ ان کے بیٹے نجم الاسلام عثمانی میرے دوست تھے۔ یہ میرے ساتھ پریس میں کام کرتے تھے۔ میرا ان کے ہاں آنا جانا تھا۔ میں بیٹھا ہوں نیاز صاحب لکھ رہے ہیں۔ چائے اور کھانا رکھا ہے۔ توجہ ہی نہیں ہے۔ کہہ کہہ کر کھلایا پلایا جاتا۔ صادقین صاحب کے ساتھ بھی کوئی اس سے الگ کہانی نہیں تھی۔“ ۔

” ارے! حیرت ہے! “ ۔

” صادقین صاحب کچھ بنا رہے ہیں۔ بیگم چائے لائیں۔ نہ جانے کیوں چائے کی پیالی اٹھا کر پھینکنا چاہی لیکن رنگ کی پیالی کینوس پر دے ماری۔ کچھ دیر بعد کھانا آ گیا۔ اس پر کہا کہ پوچھ کے لایا کرو۔ اب جو کینوس پر نظر پڑی تو دیکھا کہ رنگ پہنتا ہوا آ رہا ہے۔ اب برش پکڑا اور اس کو ٹھیک کرنے میں جت گئے۔ اس سے بھی شاہکار بن گیا۔ ماشاء اللہ! “ ۔

میں حکیم رازی اور حکیم محمد سعید:

” میں نے 17 سال حکیم رازی کے ساتھ گزارے۔ میرے آفس کے برابر ان کا مطب تھا۔ وہ تنہا تھے۔ شادی کے کچھ سال بعد ہی بیگم گزر گئیں پھر انہوں نے دوبارہ شادی نہیں کی۔ میں بھی ان کے مطب میں جا کے بیٹھتا تھا۔ وہ حکمت کے بہت بڑے استاد تھے۔ مطب کے لئے جوڑیا بازار سے جڑی بوٹیاں میرے ساتھ میری ہائی روف میں لاتے۔ ان کے ہاں حکیم محمد سعید آتے تھے۔ یہ ہمیشہ کریم کلر کی شیروانی اور چوڑی دار پاجامہ میں ہوتے۔ حکیم سعید حکیم رازی کو اپنے استاد کا درجہ دیتے تھے۔

حکیم رازی انہیں کہتے کہ مشینوں کا چکر غلط ہے۔ مشین سے پسنے کے بعد جڑی بوٹی کی طاقت کم ہو جائے گی۔ اس پر حکیم سعید کہتے کہ پھر میں دو ہزار آدمیوں کو سل بٹہ دے کے بٹھا دوں؟ حکیم محمد سعید پھر حکیم رازی سے فارمولوں پر بات کرتے۔ میں دیکھ رہا ہوتا تھا۔ پھر جانے سے پہلے آنکھ بچا کر نوٹوں کی گڈی ان کے دراز میں رکھ دیتے۔ اور پھر جانے کی اجازت چاہتے۔ جب حکیم رازی کسی کام سے دراز کھولتے تو نوٹوں کی گڈی دیکھ کر بے ساختہ کہتے : ’دیکھو جوتا مار گیا مجھے! ‘ ۔ کچھ دیر بعد مصالحے والے کالے ٹیلی فون پر حکیم سعید کو فون ملاتے۔ وہ کہتے کہ یہ رقم آپ کے لئے نہیں دے گیا۔ آپ غریبوں سے پیسے نہیں لیتے۔ پھر جڑی بوٹیاں بھی تو لانا ہوتی ہیں یہ پیسے اس کے لئے ہیں“ ۔

” کچھ اپنی کالم نگاری کا بھی ذکر کیجئے؟“ ۔ مجیب قریشی نے سوال کیا۔

” میں نے کالم نگاری کوئی زیادہ نہیں کی۔ سیاسی موضوعات پر لکھا۔ سچ بولنا سچ لکھنا سچ کہنا جرم ہوتا ہے! خاص و عام کو سچ برداشت نہیں۔ اس لئے میں نے درمیانی راستہ نکال کر متوازن کالم نگاری شروع کی لیکن مجھے تسلی نہیں ہوئی اور یہ کام زیادہ نہ چل سکا“ ۔

” خلیل صاحب گھریلو فرنیچر بنانے کا کیا ماجرا ہے؟“ ۔

” ہارمونیم بنانے کے دور میں لکڑیوں پر میں پہلے ہی کافی تحقیق کر چکا تھا۔ یہ اب یہاں کام آئی۔ ہوا یہ کہ میری صاحب زادی کی شادی کا فرنیچر خریدنا تھا۔ مختلف مارکیٹوں میں گھوما پھرا لیکن فرنیچر تو دور کی بات، لکڑی کہیں بھی صحیح نہیں ملی۔ تب مجھے ایک خیال آیا کہ لکڑی کی الف ب تو مجھے معلوم ہے۔ کیوں نہ کسی فرنیچر ہاؤس والے سے بات کر کے اسی کے کارخانے میں، میں خود اپنی بیٹی کے لئے فرنیچر بناؤں! تو صاحب یوں میں نے اپنی بیٹی کی شادی کا تمام تر فرنیچر خود بنایا“ ۔

” ماشاء اللہ خلیل صاحب ایسا تحفہ تو واقعی انمول ہو گا! “ ۔
” بس اللہ کا کرم ہے۔ اس میں میرا کیا کمال ہے! “ ۔ خلیل صاحب نے انکساری سے کہا۔

” ذرا وہ قصہ سنائیے جب بزمی صاحب آپ کے ہاں خاص طور پر اپنی مرضی کا ’چٹخارے دار‘ کھانا کھانے آتے تھے! “ ۔ مجیب نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔

” پوری زندگی میرا لوگوں سے میل ملاپ رہا۔ بزمی صاحب کا قصہ یہ ہے کہ کسی وجہ سے ان کے ہاں پرہیزی کھانا بنتا تھا۔ کبھی کبھار وہ مجھے فون کرتے : ’میاں کوئی مزے اور چٹخارے دار چیز بنواؤ! ان آئے روز کے بد مزہ کھانوں سے ایک آدھ چھٹی کرنا چاہتا ہوں‘ ۔ پھر میں اپنے گھر میں ان کی پسند کو سامنے رکھتے ہوئے پکوان بنواتا جس کو وہ خوب مزے لے کر کھاتے تھے“ ۔

” آپ نے اب تک کوئی اپنے جیسا شاگرد کیوں روشناس نہیں کروایا؟“ ۔

” مجھ سے میری چیزیں سیکھنے کے لئے لوگ مختلف زمانوں میں آئے لیکن سنجیدگی سے کسی نے بھی نہیں لیا۔ ذرا سی معلومات حاصل ہوئیں اور چلے گئے! یہاں سیکھنے والے کا قصور ہے سکھانے والے کا نہیں! “ ۔

Facebook Comments HS