کرناٹک سے بہاولپور تک: ایک سی کہانی اور ایک سے کردار
کرناٹک کی مسکان کی کہانی یقیناً افسوسناک ہے، ظلم اور جبر جہاں بھی ہو منظور نہیں۔ ہندوستان تو ایک سیکولر ریاست کہلانے پر فخر کرتا تھا چنانچہ اس میں یہ تنزلی بہت تکلیف دہ ہے۔ لیکن مسکان والے واقعہ پر افسردہ لوگو! میں آپ کو آپ کے ارد گرد پھیلی کہانیوں میں سےایک سچی کہانی سناتا ہوں۔ گو یہ سچی کہانیاں ہر طرف بکھری ہوئی ہیں لیکن چونکہ یہ میرے ذاتی علم میں ہے، اس لئے تحریر کئے دیتا ہوں۔
کچھ سال ادھر کی بات ہےاسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں قانون (Law) کے شعبہ میں ایک طالب علم نے داخلہ لیا۔ ظاہری بات ہے مرد طالبعلم ہو تو لباس سے اس کے عقیدے یا مذہب کا اندازہ نہیں ہوتا۔ وہ صبح کلاس میں حاضر ہوتا اور کلاس ختم ہونے پر اٹھ آتا۔ کبھی کچھ ساتھیوں سے بات ہوتی بھی تو مذہب پر نہ ہوتی۔ کچھ عرصے بعد اس کے والد صاحب کی وفات ہوجاتی ہے۔ تدفین کے چند دن بعد جب واپس آتا ہے تو کیمپس میں خبر پھیل جاتی ہے کہ یہ لڑکا اپنے والد کی تدفین کے لئے ربوہ گیا تھا چنانچہ مصدقہ طور پر لڑکا احمدی ہے۔
اب مقدس آئین پاکستان ہو یا ہماری مقتدرہ کے بیانات، مذہبی طبقے میں اقلیتوں کے حقوق کی یقین دہانیاں ہوں یا تاریخی مثالیں ہوں، ان سب میں تو کسی بھی مسلک یا مذہب کے فرد کا کسی بھی شعبے میں تعلیم حاصل کرنا منع نہیں ہے۔ قانون ویسے بھی اسلامیات جیسا کوئی مضمون نہیں کہ کسی غیر مذہب یا مسلک والے پر پابندی لگا دی جائے (اگرچہ کوئی غیر مسلم اسلامیات کی تعلیم حاصل کرنا چاہے تو اسے بھی ممانعت نہیں ہو سکتی) لیکن ان نوجوانوں کو کون سمجھائے جو نہ تو کرناٹک کی جنتا دل کے افراد تھے نہ ہی آر ایس ایس کے غنڈے۔ اس نوجوان کے لئے عرصہ حیات تنگ ہونا شروع ہوگیا۔ کرناٹک کی مسکان پر ایک دن نعرے لگے تو ہمارے وزیر خارجہ تک نے ہندوستان کی گوشمالی کر ڈالی۔ لیکن اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے Law ڈیپارٹمنٹ میں روزانہ یہی منظر ہوتا۔
وہ نوجوان خاموشی سے نعروں کے درمیان سے گذرتا، مسکراتا اور کلاس میں پہنچ جاتا۔ کلاس ختم ہوتی خاموشی سے اٹھتا اور پھر انہی نعروں کے درمیان سے گذر کر گھر واپس آتا۔ یہ ایک دو دن کا قصہ نہ تھا بلکہ مہینوں پر پھیلی داستان تھی۔ اس دوران ایک استاد نے بھی یہ قسم کھا لی کہ میں اسے یہاں سے قانون کی ڈگری حاصل نہیں کرنے دوں گا چنانچہ اس نے تعلیمی بہانوں سے تنگ کرنا اور اسائنمٹس میں کم نمبر دینے شروع کردیئے۔ جب دل ذرا اوب جاتا تو ایک دو دن گھر بیٹھ جاتا، واپس یونی ورسٹی پہنچتا تو پتہ چلتا کہ مذکورہ استاد نے یونیورسٹی سے نام خارج کرا دیا ہے۔ محنت اور کوشش سے پھر نام بحال کرایا جاتا، استاد صاحب پھر نام خارج کرا دیتے۔ یہ معاملہ بارہا ہوا شاید اس یونیورسٹی کی تاریخ کا واحد واقعہ بھی ہو۔ دوبارہ بحال کرنے والے بھی اسی یونیورسٹی کے ایک نوجوان مہربان استاد ہی تھے جو سارے واقعہ سے بخوبی واقف تھے۔
جب ان نعروں کا اثر نہ چلا تو ایک مقامی مذہبی تنظیم کو بھی ساتھ شامل کرلیا گیا۔ موٹر سائیکل گاڑی سے ٹکرائے گئے، بتایا گیا کہ ہ جانتے ہیں کس راستے سے گھر جاتے ہو، کہیں بھی قتل کردیے جاؤ گے۔ یونیورسٹی میں جو نعرے لگتے، وہ ہر نعرے کے جواب میں مسکراتا ہوا خود بھی زندہ باد کہہ دیتا۔ ساتھ ہی گزرتے ہوئے کسی لڑکے کی طرف یہ جملہ اچھال دیتا کہ "باقی نعرے ٹھیک ہیں بس وہ اللہ اکبر والا نعرہ نہ لگانا” (ان دنوں خود کش حملوں میں نعرہ تکبیر استعمال ہوتا تھا۔)
خیر کرتے کراتے، اعصاب شکن مرحلہ مکمل ہوا، فائنل امتحان آن پہنچے۔ جس استاد نے یہ کہا تھا کہ اس یونیورسٹی سے ڈگری نہیں لینے دوں گا اس نے پھر نام کاٹ دیا۔ نام بھی ہفتے کے آخر پر کاٹا، جب امتحان کی فیس جمع کرانے کے لئے مزید دن باقی نہ رہے۔ اس نے سارا معاملہ Dean کے گوش گذار کیا جس نے کمال مہربانی سے پہلے پیپر والے دن فیس جمع کرنے کا بندوبست کر کے کمرہ امتحان میں داخل کر دیا۔ جہاں مذکورہ بالا استاد اسے دیکھتے ہی فرمانے لگے "تم یہاں کہاں تمہارا نام کٹا ہوا ہے، تم امتحان نہیں دے سکتے۔” جب اس نے ایگزام سلپ سامنے کی تو استاد محترم کی ہوائیاں اڑ گئیں۔
آخری پیپر والے دن بڑی سیریس دھمکی ملی کہ آج بہرحال آخری دن ہے، اسے زندہ نہیں جانے دیا جائے گا۔ کمرہ امتحان سے تھوڑے فاصلے سے لے کر یونیورسٹی آنے والے معمول کے راستے پر (گیروی پٹیاں پہنے بغیر) غنڈے اسلحے سمیت جمع ہو گئے، اطلاع مصدقہ تھی، عزیزوں دوستوں نے سمجھایا کہ امتحان نہ دو، ڈگری زندگی سے اہم نہیں۔ اس نے بھی ٹھان لی کہ امتحان سے گذرنا ہے۔ امتحان تو ہوتا ہی مشکل ہے۔ خیر راستہ بدل کر ایک موٹر سائیکل پر سنسان راستے سے کمرہ امتحان تک پہنچایا گیا۔ ایک گاڑی کمرہ امتحان کے نزدیک تیار کھڑی رکھی گئی جس میں فوری طور پر بیٹھ کر واپسی کی راہ لی۔ جب تک خدائی فوجداروں کو خبر ہوتی، نوجوان بخریت محفوظ منزل تک پہنچ چکا تھا۔
مسکان کی چند سیکنڈ کی ویڈیو ہو یا اس نوجوان کی یہ چند منٹ کی کہانی، جس پر گزرے، اس پر صدیاں بیت جاتی ہیں۔ اس واقعے کو بہت سال بیت چکے۔ میری اس نوجوان سے اس موضوع پر بات ہو تو اس کے بدن پر جھرجھری طاری ہوجاتی ہے اور وہ اپنی اس بہادری کو بیوقوفی پہ محمول کرتا ہے لیکن اس قسم کے حالات میں پھنسے فرد کے لئے کوئی راہ فرار ہوتی ہے؟
تمہارے بام کی شمعیں بھی تابناک نہیں
مرے فلک کے ستارے بھی زرد زرد سے ہیں
تمہارے آئنہ خانے بھی زنگ آلودہ
مرے صراحی و ساغر بھی گرد گرد سے ہیں
ستم تو یہ ہے کہ دونوں کے مرغزاروں سے
ہوائے فتنہ و بوئے فساد آتی ہے
الم تو یہ ہے کہ دونوں کو وہم ہے کہ بہار
عدو کے خوں میں نہانے کے بعد آتی ہے
چراغ جن سے محبت کی روشنی پھیلے
چراغ جن سے دلوں کے دیار روشن ہوں
چراغ جن سے ضیا امن و آشتی کی ملے
چراغ جن سے دیئے بے شمار روشن ہوں



