محبت اور فلسفی


محبت کا فطری جذبہ خدائی عطیہ ہے۔ یہ کسی کی طرف شدید رغبت، اس کے حصول کی خواہش اور اسے ہمیشہ یا تا دیر اپنے قرب یا قبضے میں رکھنے کی تمنا کا دوسرا نام ہے۔ ان مختصر الفاظ سے محبت کی ماہیت بیان نہیں ہو جاتی کیوں کہ الفاظ کا تنگ جامہ یا محدود ظرف اسے اپنے اندر سمو نہیں سکتا۔ خود سپردگی، بے غرضی، دوسرے کا لحاظ، دوستانہ جذبات کا اظہار اور ہر دم جواں ہونا وہ چند عناصر ہیں جو محبت کا جزو لاینفک ہیں اور اسے مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔

مزید الجھن اس جذبے کی رنگا رنگی پیدا کرتی ہے مثلاً انسانوں سے اس لیے محبت کرنا کہ وہ معاشرے کا حصہ ہیں، رحم دلی ہے ؛ حسیات کی تسکین کے لئے محبت شہوت ہے ؛ بے جا آرام و سکون سے محبت تعیش ہے (Hobbes، 1962، p۔ 92 ) ۔ سخاوت، اقربا سے حسن سلوک، قوانین اور روایات کا احترام، خوش خوراکی کا شوق، حسن فطرت سے لگاؤ، طلب علم، دولت و طاقت کی خواہش، حب وطن، سبھی اس کی بوقلمونی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ قدیم یونانی زبان میں محبت کا لفظ متعدد معنوں میں استعمال ہوتا تھا جو اس کی گہرائی، تنوع اور پیچیدگی مناسب انداز سے ظاہر کرتے تھے۔ اسی تنوع، پیچیدگی اور ثقافتی اختلافات کی بناء پر محبت کی کوئی عمومی تعریف نہیں کی جا سکتی۔ ہاں محبت و نفرت اور رومانویت و ہوس کے متضاد جوڑے اسے سمجھنے میں مدد ضرور دیتے ہیں۔

محبت صدیوں سے موضوع گفتگو چلی آ رہی ہے۔ وقتاً فوقتاً اس کے بارے نئے نئے نظریات پیش ہوتے رہے۔ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین مختلف طرح سے اس کی وضاحت کرتے آئے ہیں۔

جرمن فلسفی شوپنہاؤار کے نزدیک محبت کی جڑ جنسی خواہش ہے۔ تمام محبتوں کا حتمی مقصد تولید نوع ہے۔ (Schopenhauer، 2016، sec۔ 609 ) فرد اپنے مفاد کے دھوکے میں نوع کے مفاد میں محبت کرتا ہے اور جیسے ہی نوعی مفاد پورا ہوتا ہے، وہ اس دھوکے سے باہر نکل آتا ہے۔ ( 2016، sec۔ 617 )

ماہر نفسیات رابرٹ سٹرنبرگ ( 1987 ) نے محبت کا مثلثی نظریہ پیش کیا۔ اس کے مطابق شناسائی، میلان اور بندھن محبت کے اجزائے ثلاثہ ہیں۔ یہ تنہا یا مجموعے کی صورت میں سات مختلف قسم کی محبتوں کو جنم دیتے ہیں جنہیں نیچے دیے گئے خاکے سے ظاہر کیا جا سکتا ہے۔

اس میں مانوسیت کا لفظ معمولی معنوں میں استعمال نہیں کیا گیا۔ ایسی مانوسیت دوستی میں پائی جاتی ہے جہاں گرمیٔ جذبات تو ہوتی ہے مگر میلان اور طویل المیعاد بندھن عنقا ہوتے ہیں۔ میلان خواہ جنسی ہو یا غیر جنسی، شناسائی و بندھن نہ ہونے کی وجہ سے بہت جلد ختم ہو جاتا ہے۔ اس میں بندھن سے مراد ایسا عنصر ہے جو طویل المیعاد تعلق یقینی بنائے مثلاً نکاح، بچے، اغراض و مقاصد، مشترکہ دلچسپیاں وغیرہ۔ محض بندھن پر مشتمل کھوکھلی محبت کی مثال طے شدہ شادیاں ہیں۔

رومانوی محبت کرنے والے شناسائی اور جنسی میلان کی وجہ سے جذباتی و جسمانی دونوں طرح ایک دوسرے سے بندھے ہوتے ہیں۔ دوستانہ محبت مانوسیت کے علاوہ بندھن کے زائد عنصر کی وجہ سے ”محض دوستی“ سے شدید تر ہوتی ہے۔ اس میں جنسی خواہش کے بغیر دوسروں کو راز ہائے حیات میں شریک کیا جاتا ہے۔ اس کی مثالیں گہرے دوستوں اور افراد خانہ سے محبت ہے۔ ایسی شادیاں جن میں میلان کا عنصر موجود نہ ہو بھی اسی کی ایک مثال ہیں۔ دیوانہ وار محبت کی مثال معاشقے کے نتیجے میں پیدا شدہ جنسی میلان سے تحریک پا کر ہونے والی شادی ہے۔

”کامل محبت“ وہ تعلق ہے جسے بہت لوگ قائم کرنا چاہتے ہیں مگر ناکام رہتے ہیں۔ اس تعلق کے حصول کی بجائے اسے قائم رکھنا مشکل ہے، مثلاً اگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ میلان نہ رہے تو کامل محبت دوستانہ محبت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ سٹرنبرگ کا خیال ہے کہ محبت کے مختلف عناصر کا عملی مظاہرہ ضرور ہونا چاہیے کیوں کہ:

Without expression, even the greatest of loves can die. (Sternberg, 1987, p. 341)
یعنی ”اظہار کے بغیر عظیم ترین محبت بھی فنا ہو سکتی ہے۔“

ماہرین حیاتیات محبت کو بھوک پیاس کی طرح کی ہی حاجت سمجھتے ہیں۔ ہیلن فشر نے محبت کو تین مراحل میں بیان کیا ہے : خواہش، کشش اور بندھن۔ جنسی خواہش ہی خواہش وصل کو بیدار کرتی ہے۔ اس کے نتیجے میں ایسٹروجنز اور اینڈروجنز کا اخراج بڑھ جاتا ہے جو اگلے مرحلے یعنی کشش کا سبب بنتا ہے۔ کشش کے مرحلے میں کیمیائی مادے کیٹیکول امینز (یعنی ڈوپامین اور نوریپی نیفرین) ، فینائل ایتھائل امین اور سیراٹونن پیدا ہوتے ہیں جن سے انسان کی توجہ کسی ایک یا زائد ممکنہ ساتھیوں کی جانب مبذول ہو جاتی ہے اور وہ کسی ایک یا زائد کو ترجیح دے کر ان سے جنسی طمانیت کی کوششوں میں لگ جاتے ہیں۔

ڈوپامین فعالیت، توانائی، تیز دھڑکن، بے خوابی، بھوک کا نہ لگنا اور جذباتی احساسات جیسے ذیلی اثرات کا باعث بنتی ہے۔ اگلے مرحلے یعنی بندھن میں جب لوگ گرفتار محبت ہوتے ہیں تو پیپٹائیڈز، ویزوپریسن اور آکسی ٹوسن انسان میں مثبت سماجی رویوں اور پدری و مادری ذمہ داریوں کی ادائیگی میں مصروفیت کا باعث بنتے ہیں۔ (Fisher، 1998، sec۔ Abstract)

افلاطونی محبت، محبت کا معروف ترین نظریہ ہے۔ عرف عام میں اسے پاک محبت بھی کہا جاتا ہے۔ اس نظریے کا بنیادی ماخذ افلاطون کے مکالمے Symposium اور Phaedrus ہیں۔ جب کہ کچھ مواد The Republic اور The Laws سے بھی مل سکتا ہے۔ فلاسفہ میں یہ روایت بعد ازاں ارسطو، پلاٹائینس سے ہوتی ہوئی یورپ کی علمی نشاۃ ثانیہ تک فروغ پاتی رہی اور آج بھی قابل غور ہے۔ عوام کی زبان میں یہ صنف مخالف کے ساتھ خالص دوستانہ تعلق ہے جو جنسی تعلقات سے آلودہ نہیں ہوتا۔ افلاطون کی تعلیمات ہی کی بدولت اسے یہ نام دیا گیا ہے۔ اس مضمون میں افلاطونی محبت پر بحث سمپوزیم کی مدد سے کی گئی ہے۔

سمپوزیم کے مطابق محبت قدیم ترین جذبہ ہے (Plato، 1892، p۔ 548 ) ۔ کسی بھی محب کے لئے یہ بہت تکلیف دہ بات ہے کہ اس کے محبوب یا محبوبہ کو اس کے کسی غیر مہذب یا بزدلانہ فعل کا علم ہو۔ اگر کوئی ریاست یا فوج ایسی تشکیل دے دی جائے جس میں شامل سب افراد ایک دوسرے کے محب و محبوب ہوں تو وہ افراد اپنے شہر کے بہترین ناظم ہوں گے، ہر طرح کی بد تہذیبی سے بچیں گے اور مہذبانہ افعال میں ایک دوسرے کے پیرو ہوں گے۔ یہ افراد مٹھی بھر بھی ہوئے تو لڑائی میں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ یوں کھڑے ہوں گے کہ ایک عالم کو فتح کر لیں گے۔ اس طرح محبت تعمیر ریاست میں اپنا کردار ادا کرتی ہے۔ در اصل محبت کا مقصد ہی محب و محبوب کو تلاش خیر میں مدد دینا ہے۔ ( 1892، p۔ 549 )

سمپوزیم کے مطابق محبت مختلف الطبع انسانوں کو اس طرح ملاتی ہے جس طرح موسیقی کا فن مختلف النوع بے آہنگ آوازوں میں آہنگ پیدا کرتا ہے۔ ( 1892، p۔ 556 )

افلاطون کا خیال ہے کہ اول اول تین اجناس تھیں : مرد، عورت اور دونوں کے خواص کا مجموعہ۔ قدیم مرد کا جسم اس طرح گول تھا کہ اس کی پشت اور پہلو دائرہ بناتے تھے۔ اس کے چار ہاتھ، چار پاؤں، مخالف سمتوں میں دیکھنے والے دو چہرے ایک گردن پر جڑے ہوئے تھے۔ اسی طرح اس کے چار کان تھے اور باقی اعضا بھی اسی تناسب سے تھے۔ وہ بے پناہ قوت کے مالک تھے۔ ان کے حوصلے اس حد تک بڑھ گئے تھے کہ انہوں نے دیوتاؤں سے پنجے آزما لیے۔ زیوس دیوتا نے بطور احتیاطی تدبیر انسان کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ تب سے آج تک وہ اپنی تکمیل میں سرگرداں محبت کرتا آ رہا ہے۔ تبھی سے یہ نرم و نازک جذبہ انسانی دلوں پر حکومت کرتا آ رہا ہے [ 1 ]۔ ( 1892، pp۔ 559۔ 561 )

سمپوزیم میں سقراط کا کلام سب سے دلچسپ ہے۔ اس کے نزدیک انسان صرف حسن و خوبی سے محبت کرتا ہے۔ اسی مکالمے میں افلاطون نے ان الفاظ میں محبت کی تعریف کی ہے :

”Love is the desire of the perpetual possession of the good.“ (Plato, 1951, p. 86)
”محبت، حسن و خوبی کو ہمیشہ اپنے قبضے میں رکھنے کی خواہش ہے۔“

افلاطون کے نزدیک مثالی محب ایک منزل سے ترقی کرتا ہوا دوسری منزل اور پھر اس سے اگلی منزل کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہے حتیٰ کہ اسے حسن و خوبی کا علم و آگہی نصیب ہو جاتی ہے۔ جواں سالی میں پہلے مرحلے میں انسان حسین صورتوں کا دیدار کرتا ہے۔ مناسب رہنمائی سے وہ کسی ایک حسین صورت سے محبت کرنے لگ جاتا ہے۔ دوسرے مرحلے میں اسے احساس ہوتا ہے کہ ایک صورت کا حسن دوسری صورت سے کچھ مختلف نہیں ہے۔ اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ جس کے پیچھے دوڑ رہا تھا وہ صورت حسن تو عام ہے۔

اسے اپنی حماقت کا احساس ہو جاتا ہے کہ کیوں وہ یہ نہیں جان سکا کہ حسن تو سبھی صورتوں میں یکساں موجود ہے۔ اس طرح وہ فرد کی محبت سے آزاد ہو کر تمام حسین صورتوں سے محبت کرنے لگ جاتا ہے۔ تیسرے مرحلے میں اس پر آشکار ہوتا ہے کہ حسن تخیل بیرونی صورتوں کے حسن سے زیادہ محترم ہے۔ اگر محب نیک و حسین روح کا مالک ہوا تو ایسے خیالات پروان چڑھائے گا جو اس میں بہتری پیدا کر دیں گے۔ اسے اداروں اور قوانین میں حسن نظر آنے لگے گا، وہ جان جائے گا کہ ان سب کا حسن ایک ہی خاندان سے علاقہ رکھتا ہے اور یہ کہ شخصی حسن اس کے مقابلے میں معمولی حیثیت رکھتا ہے۔

اس کے بعد چوتھے مرحلے میں وہ علوم و فنون کی طرف آتا ہے۔ وہ کسی ایک جواں صورت، مرد یا ادارے کا محبت میں غلام نہیں رہتا بلکہ اب اسے علم و حکمت سے محبت ہو جاتی ہے۔ اس کے خیالات میں حسن و رفعت آ جاتے ہیں۔ ترقی کرتے کرتے وہ پانچویں مرحلے میں داخل ہو جاتا ہے۔ اب اس پر ایک ہی علم منکشف ہوتا ہے، اور یہ ہے ہر طرف موجود حسن کا علم۔ مثالی محب کے لئے یہ تمام مراحل زینے کا کام دیتے ہیں۔ زمینی حسن کا علم ہو جانے کے بعد وہ ماورائے زمین حسن کی طرف متوجہ ہوتا ہے حتیٰ کہ وہ حسن مطلق اور اس کی اصل سے آگاہ ہو جاتا ہے۔ (Plato، 1892، pp۔ 580۔ 82 )

سمپوزیم میں بیان کیے گئے یہ پانچ مراحل مثالی محب کے لئے سامان ہدایت ہیں۔ ریپبلک میں درجنوں صفحات تعلیم فلسفہ کے لئے وقف ہیں جن میں اخلاقی تربیت، سائنسی تعلیم اور روحانی ضابطے شامل ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ فلسفی کا معمولی معنوں کی محبت ترک کرنا ممکن ہے، اور اگر دونوں دانش و حکمت کے متلاشی ہیں تو ان کے درمیان واحد تعلق باہمی تحقیق و تجسس کا ہی ہو سکتا ہے۔ نچلے درجے کے انسانوں کے لئے قرب محبوب ہی کافی ہوتا ہے اور وہ جنسی اظہار ہی مناسب سمجھتے ہیں۔ اگر وہ اچھے انسان ہوئے تو آزادیٔ روح پر جنسی مسرتوں کے بھیانک نتائج کو سمجھتے ہوئے شاذ و نادر ہی ان میں ملوث ہوں گے۔

عقلیت اور جذباتیت کے درمیان افلاطونی تعلق کی وضاحت اس طرح کی جا سکتی ہے کہ افلاطونی محبت بنیادی طور پر دانش ورانہ ہے جس میں شدت جذبات کا انکار تو نہیں کیا جا سکتا مگر یہ ہمیشہ ایک عقلیت پسندانہ فعل ہی رہتی ہے۔ اس کا مثالی محب جذباتیت کو ایک طرف رکھ دیتا ہے۔ اس کی کوشش شہوانی جذبات کی تسکین یا اظہار نہیں ہوتی بلکہ وہ انہیں عقلیت پسندی سے دبانے کی کوشش کرتا ہے۔

محبت کا جذبہ مختلف رنگوں میں ہویدا ہوتا ہے۔ ایک انسان کے اندر ان سارے رنگوں سے ملی کہکشاں پائی جاتی ہے جس کے سارے رنگ ہمیشہ واضح نہیں رہا کرتے مگر ایک آدھ۔ بقیہ رنگ بعض اوقات اتنے مدھم پڑ جاتے ہیں کہ خاصی کوشش کے بغیر دوسروں کو ان کا ادراک بھی نہیں ہو پاتا۔ کبھی ایک رنگ واضح ہوتا ہے تو باقیوں پر یوں پردہ ڈال دیتا ہے جیسے سورج کی روشنی چاندنی کو چھپا لیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محبوب کے ہاتھ میں ہاتھ دینے کے بعد باقی سب محبتیں کسی کھوہ میں جا چھپتی ہیں۔

یہ جان لینا چاہیے کہ حالات کے مطابق اس جذبے کی شدت خود بخود نئے روپ میں ڈھلتی رہتی ہے۔ در اصل لا تعداد شعبہ ہائے حیات مختلف قسم کی محبتوں کے طلب گار ہیں اور اپنے اپنے مقام پر مطلوبہ قسم کی محبت کرنا ہی بہتر اور ضروری ہوتا ہے۔ یہ فطری تقسیم نسل انسانی کے لئے بہت مفید ہے۔ انسان جب عملاً اس تقسیم کا انکار کر دے اور ایک ہی رنگ ہمیشہ کے لئے غالب آ جائے تو بہت بھیانک اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ بانسری بجانے کی دھن میں غرق رہنے سے نیرو کا روم جل جایا کرتا ہے۔ قیس سا بھلا چنگا اور خوب رو جوان بھی بدن دریدہ اور چاک داماں نظر آتا ہے۔ اس نے مختلف مقامات پر لیلیٰ کے لئے جو فی البدیہہ اشعار کہے ہیں ان سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اگر اس نے خود کو معتدل رکھا ہوتا تو ثانی امراؤ القیس ہوتا۔ آخر یہی جذبہ ہی تو ہے جو بہت سے شعرا کو تخیل سے نوازتا ہے۔

مزید برآں اگر ایک قسم کی محبت ناکام ہو تو بسا اوقات جذبات کی شدت دوسرے روپ میں ظاہر ہو جاتی ہے۔ صوفیا کی تاریخ میں ایسے نام مل سکتے ہیں جو کبھی ”نامراد عشاق“ کی فہرست میں شامل تھے۔ اورنگ زیب عالم گیر، کہ جس کا تقویٰ اور زہد خشک مشہور ہے، زمانۂ شہزادگی میں ایک مغنیہ ہیرا بائی، جو زین آبادی کے نام سے مشہور تھی، کے نغمہ و حسن کی تیر افگن یوں سے زخمی ہوا تھا (آزاد، 2001، pp۔ 358۔ 363 ) ۔

محبت اگر ایک قسم سے دوسری قسم میں بدل سکتی ہے تو عین ممکن ہے کہ ایک کی محبت ترک کر کے انسان کسی دوسرے سے محبت کرنے لگ جائے۔ جولیٹ کی بے ہوشی کو موت کی نیند سمجھ کر زہر ہلاہل پینے والا رومیو پہلے پہل روزالین کا بیمار محبت تھا اور اس کے نزدیک چشم فلک نے اس کا ہم سر نہ دیکھا تھا [ 2 ] (Shakespeare، 1952، p۔ 767 ) ۔ مگر جب خود اس نے جولیٹ کو دیکھا تو اسی کا ہو کر رہ گیا۔ در اصل انسانی ذہن میں حسن و خوبی کا ایک معیار قائم ہوتا ہے۔

جب کوئی اس معیار پر پورا اترتا ہے تو ہم اسے پسند کرنے لگتے ہیں اور آہستہ آہستہ محبت کرنے پر اتر آتے ہیں۔ خوب سے خوب تر کی تلاش انسانی خصلت ہے۔ شعوری یا لا شعوری طریقے سے یہی جستجو بسا اوقات وفاداریاں تبدیل کرنے پر مجبور کر دیتی ہے اور پھر بعد کی چیز پہلی کو بھلا دیتی ہے۔ وفاداریاں بدلنے کی ایک اور وجہ انسانی نفس کا ہمیشہ ایک حالت پر نہ رہنا بھی ہے۔ بعض اوقات حالات ہی ایسے ہوتے ہیں، مثلاً محبوب اگر بہت جاہ و حشم کا مالک ہو کہ محب کمتری محسوس کرے یا اس قدر محفوظ اور کڑے پہرے میں ہو کہ اس تک پہنچنا ہی نا ممکن ہو یا سارا جوش ہی یک طرفہ ہو تو سارے محب ”ہاتھ نہ آئے تھو کڑوی“ نہیں کہا کرتے اور نہ ہی اپنی امنگوں اور آرزوؤں کا خون ہی کیا کرتے ہیں بلکہ اکثر محبوب کو اس کے حال پر چھوڑ کر خوابوں کی تعبیر دیکھنے کے لئے اپنا رخ اس دھرتی کی طرف موڑ لیتے ہیں جہاں کا سورج ان کی صبحوں کو منور کرے، سرد رتوں میں تمازت بخشے اور شجر امید کے لئے بارآور ہونے کا سامان کرے۔

ایسے شخص کو آپ ہرجائی نہیں کہہ سکتے۔ اگرچہ چہرے بدل جاتے ہیں مگر جذبہ وہی کار فرما ہوتا ہے۔ در اصل بہت سے لوگ پچھلی محبت میں جو کچھ نہیں کر سکے تھے نئی محبت میں اس کی کمی کو پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ حسن و خوبی کا معیار بلند تر ہو جائے یا سرے سے معیار ہی بدل جائے مثلاً حسن کی بجائے علم دل پر ڈیرہ جمائے اور عاشق کسی ایسے شخص سے محبت کرنے لگ جائے جس کے علمی مرتبے سے وہ مرعوب ہو۔ لیو ٹالسٹائی ( 1891 / 1983 ) کے بقول ”یہ کہنا کہ آپ عمر بھر ایک ہی شخص سے محبت کر سکتے ہیں، بالکل یہ کہنے کے مترادف ہے کہ ایک ہی شمع آپ کی حیاتی بھر جلتی رہے گی۔“ گویا محبت متعدد بار بھی ہو سکتی ہے۔

اگر متعدد ہونے والی بھی محبت ہی ہے تو ہوس و شہوت اور عیاشی کیا ہیں؟ در اصل دونوں میں زمین و آسمان اور سیاہ و سپید کا فرق ہے۔ محبت ایک قلبی امر ہے اور ہوس ایک جسمانی فعل۔ محب کو محبت سے نشاط شعور حاصل ہوتا ہے اور ہوس پرست کو لذت حواس۔ یہ دونوں ہی شدید ہو جاتی ہیں مگر محبت کرنے والے محبوب کے ادب اور ان تمام افعال کو جو لازمۂ انسانیت ہیں ہاتھ سے جانے نہیں دیتے اور اہل ہوس کے ہاں ایسے کسی قاعدے قانون کی پابندی لازم نہیں۔

محبت میں رقابت بھی پائی جاتی ہے جو محبوب کے معاملے میں غیرت کا پتہ دیتی ہے جب کہ ہوس تو غیرت کی ابجد سے بھی نا واقف ہوتی ہے۔ محبت میں ایک ہی شخص سے دلی وابستگی میں اضافہ ہوتا ہے اور معاملہ ہوس کا ہو تو اہل ہوس اکتاہٹ و یکسانیت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ محبت ہو جانا تو عام سی بات ہے ؛ بڑی بات ہے محبت کرتے جانا، محبت کو نبھاتے جانا۔

حواشی:

[ 1 ] یہ بات نظر انداز نہیں کی جانی چاہیے کہ اس موقع پر افلاطون نے صرف مخالف جنس سے ہی نہیں بلکہ مرد کی مرد سے اور عورت کی عورت سے محبت کی بھی تائید کی ہے۔

[2] One fairer than my love! the all-seeing sun / Ne ’er saw her match since first the world begun.
کتابیات:
یہ مضمون تحریر کرنے کے دوران مندرجہ ذیل کتب و مضامین سے مدد لی گئی۔

Fisher, H. E. (1998) . Lust, attraction, and attachment in mammalian reproduction. Human Nature, 9 (1) , 23–52.

Hobbes, T. (1962) . Leviathan: Edited and abridged with an Introduction by John Plamenatz (J. Plamenatz (ed.) ; p. 92) . Collins/Fontana Library.

Plato. (1892) . Symposium. In B. Jowett (Trans.) , The Dialogues of Plato Translated into English with Analyses and Introductions (Third, Vol. 1, pp. 541–594) . Oxford University Press.

Plato. (1951) . The Symposium (W. Hamilton, trans.; p. 86) . Penguin Books.

Schopenhauer, A. (2016) . The Metaphysics of Sexual Love. In D. Carus & R. E. Aquila (Trans.) , Arthur Schopenhauer: The World as Will and Presentation (Vol. 2, pp. 592–623) . Routledge.

Shakespeare, W. (1952) . Romeo and Juliet. In The Complete Works of William Shakespeare (pp. 764–794) . Oxford University Press.

Sternberg, R. J. (1987) . Liking versus loving: A comparative evaluation of theories. Psychological Bulletin, 102 (3) , 341.

Tolstoy, C. L. N. (1891/1983) . Chapter 2. In D. McDuff (Trans.) , The Kreutzer Sonata and Other Stories. Penguin Books.

آزاد، ا۔ ا۔ ( 2001 ) ۔ خط 24۔ In م۔ رام (Ed۔ ) ، غبار خاطر (pp۔ 331۔ 369 ) ۔ طیب پبلشرز۔

Latest posts by محمود احمد (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments