بات حجاب کی نہیں، عورت کی مرضی کی ہے
بھارتی ریاست کرناٹک میں حجاب کے حوالے سے پیش آنے والے حالیہ واقعے نے پاکستان میں بھی کافی مقبولیت حاصل کی ہے۔ گاندھی کالج کی مسکان خان نے جس طرح اپنی مرضی اور حق کا استعمال کرتے ہوئے حجاب پہنا، ہندو طلباء کی مخالفت کے باوجود اپنے موقف پر قائم رہیں، اور جے شری رام کے نعروں کے جواب میں نعرۂ تکبیر بلند کیا، اس پر پاکستانی لوگوں بالخصوص مردوں نے انہیں بجا طور پر خراج تحسین پیش کیا ہے۔ بلکہ انہیں شیرنی کا بھی خطاب دے دیا۔
حجاب کے حق میں اٹھ کھڑی ہونے والی مسلم طالبہ مسکان خان کی تصاویر پاکستان کے مردوں نے سوشل میڈیا اور واٹس ایپ سٹیٹس پر لگائیں اور ان کی خوب حمایت کی۔ حتیٰ کہ مفتی مسعود الرحمٰن جیسا کٹر اور عورت بیزار بھی سکوٹی چلانے والی مسکان خان کی بہادری اور حجاب کے دفاع پر خوشی سے پھولا نہ سمایا۔ جبکہ اس سے قبل جناب مفتی صاحب موٹر بائیک چلانے والی لڑکیوں کو بے حیا قرار دے چکے ہیں کیونکہ وہ بائیک پر مردوں کی طرح ایک ٹانگ ادھر اور دوسری ادھر کر کے بیٹھتی ہیں۔
سوال یہ ہے کہ مولوی اور عام مرد ایک غیر ملکی طالبہ کی اتنی تعریفیں اور حمایت کیوں کر رہے ہیں؟ صرف اور صرف اس لئے کہ اس نے حجاب کا دفاع کرتے ہوئے کالج یا کلاس روم میں سر ڈھانپ کر آنے کو اپنا جائز حق قرار دیا۔ یقیناً ایسا ہی ہے۔ اگر سر ڈھانپنا اور برقع پہننا عورت کا حق ہے تو جناب، اس لحاظ سے یہ معاملہ پردے یا حجاب کا نہیں بلکہ ”عورت کی مرضی اور لباس کے انتخاب“ کے حق کا ہے۔ ہندوستان میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف مذہبی منافرت اور عدم قبولیت سے قطع نظر میرا موضوع بھی یہی ہے : عورت کی مرضی اور لباس کے انتخاب کا حق۔
عورت کسی بھی مذہب و ملت اور ثقافت سے تعلق رکھتی ہو، اپنی مرضی کا لباس پہننے کی حقدار ہے۔ حجاب پہننا اور نہ پہننا دونوں میں عورت کی مرضی ہے۔ وہ جس لباس میں خود کو خوبصورت اور آرام دہ محسوس کرے، پہن سکتی ہے۔ لباس کی بنیاد پر عورت کے کردار کا تعین وہی مرد کرتے ہیں جو اس پر اپنی مرضی چلانا چاہتے ہوں۔
میرا سوال ہے کہ جو مرد حجاب پہننے والی مسکان خان کی حمایت میں پیش پیش ہیں، کیا وہ ساڑھی یا سکرٹ پہننے والی کسی ہندو یا غیر مسلم خاتون کی بھی اسی طرح حمایت کریں گے، اگر وہ جے شری رام یا جیسس کرائسٹ کا نعرہ لگا کر ”لباس کے انتخاب کے حق“ پر عمل کرے؟ نہیں، وہاں یہ مرد اس لڑکی یا عورت کو ہراساں اور مردانہ وحشیانہ پن کے مظاہرے کو درست سمجھیں گے۔ کیوں؟ کیونکہ ان کے نزدیک صرف حجاب اور اللہ اکبر صحیح ہے۔ دیگر مذاہب کی خواتین اپنی مرضی کا لباس پہنیں، بلکہ مذہب سے قطع نظر مسلم عورت بھی جدید اور فیشن ایبل لباس پہن لے تو یہ مرد اسے فاحشہ اور طوائف کے خطابات سے نوازنے کو عین عبادت و ثواب خیال کریں گے۔
سندھ میں ہندو بچیوں اور لڑکیوں کو زبردستی اسلام قبول کروا کر مردانگی اور انسانیت کے دعوے دار ان سے شادی کر لیتے ہیں جس میں لڑکی کی مرضی شامل نہیں ہوتی۔ شادی اور نکاح کی صورت میں ہونے والے اس زنا بالجبر اور زانیوں کے خلاف تو مفتی مسعود الرحمٰن یا جماعت اسلامی کو کبھی بولنے کی جرات نہ ہوئی۔ سندھ میں اگر کوئی ہندو لڑکی ماتھے پر بندیا اور ساڑھی کے ساتھ جے رام یا جے کرشنا کا نعرہ لگاتے ہوئے مسلمان مردوں کے سامنے آن کھڑی ہو تو اسے توہین مذہب یا بدکاری کا الزام لگا کر یا غیرت کے نام پر قتل کر دیا جائے گا۔ ایسی کسی لڑکی کو ہمارے مرد شیرنی نہیں کہیں گے۔
میرا جسم میرا مرضی کا نعرہ لگانے والی خواتین کو فحش گالیوں سے نوازنے والے یہ نہیں جانتے کہ مسکان خان نے بھی اپنے جسم پر اپنی مرضی کی ہی بات کی ہے۔ جس طرح انہوں نے اپنے لئے حجاب کا انتخاب کیا ہے، اسی طرح ہر عورت کو مرضی کا لباس پہننے کا حق ہے۔ حجاب والی مسکان خان کی تعریفوں کے پل باندھنے والے ہمارے مردوں کی ذہنیت کا یہ رخ بھی دیکھیں کہ سڑک پر ایک بے حیا مرد حجاب والی خواتین کو دیکھ کر کہتا ہے، ”اوپر اوپر سے بڑی نیک شریف بیبیاں بنتی ہیں، اندر سے ان کی کیا اصلیت ہے، ہمیں پتا ہے اچھی طرح۔“ ظاہر میں باپردہ عورت کے باطن اور کردار پر بھی جب انگلی اٹھے تو ایسے حجاب کو کیا کہیں اور باحجاب عورت پر آواز کسنے والے کو کون سی گالی دیں؟
حجاب ہو یا جدید اور فیشن ایبل لباس، انتخاب کا حق عورت کا ہے۔ حجاب والی بھی جسم پر اپنی مرضی چاہتی ہے اور فیشن ایبل لباس والی بھی۔ جس طرح حجاب پہننا عورت کا حق ہے، اسی طرح نہ پہننا بھی اس کی مرضی ہے جو درست ہے۔ 8 مارچ کا یوم خواتین قریب ہے یا یوں کہنا چاہیے کہ خواتین کو گالیاں دینے کا دن۔ حجاب پہننے پر مسکان خان کو شیرنی کا خطاب دینے والے مرد اور لوگ اس دن ”میرا جسم میری مرضی“ کا نعرہ بلند کرنے اور حق انتخاب کا مطالبہ کرنے والی خواتین کو گالیاں دیتے نظر آئیں گے۔


