چودہ فروری! پھول یا موم بتی؟


آج کل فروری کا مہینہ شروع ہے اور اس مہینے ویلنٹائن ڈے یا یوم محبت آتے ہی یہ دن منانے یا نہ منانے کے حوالے سے ایک سخت بحث چھڑ جاتی ہے۔ تو ویلنٹائن ڈے یا یوم محبت کا آغاز کیسے ہوا؟

ہوا یوں کہ روم کے بادشاہ نے حکم جاری کیا کہ فوج کے اہل کار شادی نہیں کر سکتے۔ کیونکہ وہ اس سے سست پڑ جاتے ہیں اور قوم کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔ ویلنٹائن ایک پادری تھے جو چھپ چھپا کر ایسے فوجیوں کی شادیاں کرواتے تھے۔ جب بادشاہ کو اس گستاخی کا علم ہوا تو اس نے پادری ویلنٹائن کو سخت اذیتیں دے کر چودہ فروری سنہ 269 عیسوی کو قتل کروا دیا۔ بعد میں ویٹی کن نے انہیں سینٹ یا ولی کا درجہ عطا کیا۔ یوں بعد میں چودہ فروری ویلنٹائن ڈے یا یوم محبت کے نام سے منایا جانے لگا۔

اب تنگ نظر افراد یہ شکایت کرتے نظر آتے ہیں کہ یہ ایک عیسائی تہوار ہے اور یہ کہ اس سے لوگوں کا اخلاق تباہ ہو رہا ہے۔ جبکہ لبرل یا بائیں بازو کی سوچ کے لوگ کہتے ہیں کہ یہ محبت کا تہوار ہے اور یہ کہ اگر کوئی شادی سے پہلے جنسی تعلق استوار کرتے ہیں تو یہ ان کی ذاتی مرضی ہوتی ہے۔ سینٹ ویلنٹائن نے تو اس کی حمایت نہیں کی تھی۔ اگر وہ اس کی حمایت کرتے تو وہ فوجیوں کی شادیاں کرا کر اپنی جان کیوں خطرے میں ڈالتے۔

یہ بحث ہر سال ہوتی ہے اور ہر ایک فریق دوسرے پر چڑھ دوڑتا ہے۔ لیکن ایک انتہائی اہم حقیقت کو دونوں ہی فراموش کر جاتے ہیں۔

اور وہ اس خطے کے رہنے والوں کی اجتماعی سوچ ہے جو کہ اگر آپ غور کریں تو بحیثیت مجموعی انتہائی خلاف محبت ہے۔ ان کا بس نہیں چلتا کہ اگر انہیں پتا لگے کہ کوئی دو فریق آپس میں محبت کرتے ہیں تو انہیں کیسے ایک دوسرے سے جدا کر دیں۔ مثال کے طور پر آپ نے آج کل ایک ڈرامے کے حوالے سے بحث و مباحثہ سماجی ذرائع ابلاغ پر پڑھی ہی ہو گی۔ اس کی کہانی یہ ہے کہ دو جڑواں بہنوں کی دو جڑواں بھائیوں سے شادی طے پاء جاتی ہے لیکن دونوں ہی فریق لڑکا لڑکی کو ایک دوسرے کو آمنے سامنے بٹھا کر دکھانا تو دور، ایک دوسرے کو تصویر بھی نہیں دکھاتے صرف ایک دوسرے کے نام سے واقف ہوتے ہیں۔

وہ تو سہاگ رات کو پتا چلتا ہے کہ دونوں دلہنیں ایک دوسرے سے بدل گئی ہیں اور دلہنوں کا یہ تبادلہ ایک حاسد پھپھو نے کیا ہوتا ہے جو اپنی بیٹی کا رشتہ دونوں میں سے ایک لڑکے سے کرنا چاہتی ہے۔ اب آپ کہیں گے کہ یہ تو محض لکھاری کے تخیل کی پیداوار ہے اور اس کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔ لیکن آپ نے یہ خبر تو اکثر ہی سنی ہوگی کہ لڑکے یا لڑکی والے رشتہ دکھاتے وقت دوسر لڑکا یا لڑکی دکھاتے ہیں اور شادی کے وقت دوسرا دے دیتے ہیں۔

ایسی شادیاں اول تو چلتی ہی نہیں یا انتہائی مجبوری کے عالم میں چلتی ہیں۔ ایسی صورت میں ایسی شادیاں صرف بچوں کی وجہ سے چل پاتی ہیں۔ یہ بھی محبت کے بغیر زندگی گزارنے کی اذیت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ کئی دفعہ ایسی خبریں آتی ہیں کہ دوسرے مذہب یا فرقہ کی بات تو چھوڑیے، ایک ہی مذہب، فرقے، حتٰی کہ ایک ہی خاندان سے تعلق رکھنے والے لڑکا لڑکی ایک دوسرے کو پسند کرنے لگیں تو محض اس ضد میں ان کی شادی نہیں ہونے دی جاتی ہے کہ انہوں نے ایک دوسرے کو پسند کیوں کر لیا ہے۔

یعنی کہ اگر لڑکا لڑکی ایک دوسرے کو ناپسند کرتے ہیں تو پھر خاندان والوں کو ان کی شادی کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا لیکن اگر وہ ایک دوسرے کو پسند کرنے لگیں تو یہ بات ان کے لیے گناہ ٹھہر جاتی ہے۔ چاہے لڑکا لڑکی اس رشتے کو نامنظور کرتے ہوئے خود کشی ہی کیوں نہ کر لیں اور ایسے واقعات ہوتے بھی ہیں کہ لڑکا یا لڑکی شادی سے پہلے یا فوری بعد خود کشی کر لیتے ہیں، لیکن پھر بھی کوئی اصلاح احوال کرنے پر تیار نہیں ہوتا۔

حالانکہ زیادہ تر ایسے خاندان اپنے بچوں کو ان کی مرضی کا کھانا پہننا، مرضی کی تعلیم، نوکری دلواتے ہیں لیکن زندگی کے اس انتہائی اہم فیصلے کو مرضی سے طے نہیں کرنے دیتے چاہے بعد میں کتنا پچھتائیں۔ اب اگر میں استاد محترم نصرت جاوید کے الفاظ میں جان کی امان پاتے ہوئے ایسے لوگوں کو تنگ نظر نہ کہوں تو اور کیا کہوں؟

چاہے ان کی بعد کی زندگی جوتیوں میں دال بانٹتے ہوئے گزر جائے۔ محض ضد برائے ضد، اپنی مرضی دوسرے پر تھوپنا اور کسی کو خوش نہ دیکھنا۔ چاہے اس ضد میں دو انسانوں کی ساری زندگی محبت کے بغیر ایک دوسرے سے بے زاری کے عالم میں بیت جائے لیکن انہیں اپنے بڑوں کے حکم کے تحت ایسی زندگی گزارنا پڑتی ہے۔ اور معاشرہ اور قانون انہیں اس ظلم کی کھلی اجازت دیتا ہے۔

اب مذہب بیزار کہیں گے کہ یہ مذہبی قانون سازی کی وجہ ہے۔ لیکن آپ اس بات کو کہاں فٹ کریں گے کہ ہمسایہ ملک ہندوستاں تو آئینی طور پر سیکولر ہے لیکن ہر سال یوم محبت کے دن بھارت کا بنیاد پرست گروہ ویلنٹائن ڈے پر محبت کرنے والے جوڑوں کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔ اور دو بالغ مسلمان لڑکا اور ہندو لڑکی اگر اپنی مرضی سے شادی کر لیں تو اسے ”لو جہاد“ کا نعرہ لگا کر ان کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔ حالانکہ کہاں اسی کروڑ سے زائد ہندو اور کہاں بیس کروڑ مسلمان۔

دونوں کا آپس میں کوئی مقابلہ ہی نہیں بنتا۔ کہ مسلمانوں کی کل تعداد سے تقریباً دوگنا تو صرف ہندو عورتیں ہیں مگر محبت سے نفرت کرنے والے پھر بھی پیچھے پڑ جاتے ہیں۔ اور بات صرف ہندو مسلمان جوڑے کی نہیں ہے۔ بھارت میں دونوں لڑکا لڑکی اگر ہندو بھی ہوں لیکن خاندان والے کسی وجہ سے رشتے پر راضی نہ ہوں تو بھی غیرت کے نام پر قتل کر دیے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر بی بی سی کی یہ خبر کہ غیرت کے نام پر والدین نے بیٹی کو مار ڈالا حالانکہ اس نے ایک ہندو ہی سے پسند کی شادی کی تھی۔

https://www.bbc.com/urdu/regional/2014/11/141122_delhi_honour_killing_mb

اس کے علاوہ کراچی کے ”رومیو جیولٹ“ کنور احسن اور رفعت آفریدی کی داستان محبت پڑھ لیجیے جو کہ اس وجہ سے دشمنی میں بدل گئی کہ لڑکا مہاجر اور لڑکی پشتون تھی۔

https://www.independenturdu.com/node/85656

چنانچہ مان لیجیے کہ برصغیر کا معاشرہ بحیثیت مجموعی محبت بے زار معاشرہ ہے۔ ہاں! اگر بات شادی کے ذریعے دولت جائیداد کے حصول کی ہو تو پھر زیادہ تر لوگوں کے لیے ذات برادری، فرقہ وغیرہ کوئی معنی نہیں رکھتے۔ لیکن سچے پیار کی راہ میں کوئی نہ کوئی راہ کی رکاوٹ بن جاتا ہے۔ حتیٰ کہ اگر سارا خاندان شادی پر راضی ہو لیکن کوئی ایک قریبی فرد کو وہ رشتہ نامنظور ہو تو پھر صرف وہی فرد اس رشتے کی راہ میں ایسی ایسی رکاوٹیں کھڑی کرتا ہے کہ اس کی مثالیں دینے کی ضرورت نہیں، آپ اور ہم سبھی ایسی مثالوں سے اچھی طرح واقف ہیں۔

یہ تو اس معاشرے کی صورت حال ہے۔ کہ جہاں مرضی سے شادی کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی اور اس حالت میں آپ نوجوان یہ چاہتے ہیں کہ ہماری کسی سے محبت کرنے کے حق کا احترام کیا جائے۔ ہمیں ملنے جلنے کا حق دیا جائے۔ نہیں صاحب! ایسی نازک باتیں اور جذبے ہمارے معاشرے میں نہیں چل سکتے ہیں۔ ابھی تک تو صرف مرضی سے شادی کرنے کا حق نہیں ملا ہے۔ اور آپ چلے ہیں یوں ہی وقت گزاری کی خاطر ملنے ملانے اور وقتی رشتوں کی جانب۔

آپ کہیں گے کہ یہ بات غلط ہے۔ آئین و قانون تو اپنی مرضی سے شادی کرنے، محبت کرنے کی اجازت دیتا ہے تو یہ بات بالکل غلط ہے۔ یہ محض ایک خوش نماء سیاسی نعرے سے زیادہ کچھ نہیں۔ پہلے اپنے معاشرے سے مرضی سے شادی کرنے کا حق واقعی حاصل کر لیجیے، پھر کسی اور جانب سوچئیے گا۔

ہمارے خیال میں تو یہ دن یوم محبت نہیں بلکہ اپنی محبت کو حاصل کرنے کے حق کو منوانے کے دن کے طور پر منانا چاہیے کیونکہ جن طاقتوں نے پادری ویلنٹائن کو محبت کرنے والوں کو ملانے کی پاداش میں موت کے گھاٹ اتارا تھا، وہ سوچ اب بھی ویسی ہی تروتازہ ہے، ورنہ اب تک کم از کم مرضی سے صحیح معنوں میں شادی کرنے کا حق تو دے دیا گیا ہوتا لیکن یہ حق اب تک نہیں دیا گیا ہے۔ ورنہ ہم ایسے واقعات نہ سنتے۔ بجائے اس دن ایک دوسرے کو پھول دینے کے، لوگوں کو پادری ویلنٹائن کی یاد میں شمعیں جلانی چاہیں اور ان کی قربانی کو اجاگر کیا جائے کہ جو انہوں نے دوسروں کو مرضی سے شادی کرنے کا حق دلوانے کے لیے دی تھی۔

Facebook Comments HS