تعلیمی اجتہاد

صاحب علم ہونا اور تعلیم یافتہ ہونا دو مختلف عوامل کی نشان دہی کرتے ہیں۔ تعلیم کے ذرائع علم کے ذرائع سے مختلف ہیں۔ تعلیم رسمی غیر رسمی یا نیم
رسمی ذرائع سے حاصل کی جاتی ہے جب کے علم کے ذرائع الہام، عقل و حواس، وجدان اور وحی ہیں۔ اگر آپ معاشرے کے کسی فرد کا مشاہدہ کریں تو وہ مختلف ذرائع سے تعلیم حاصل کرتا ہے تعلیم کی ضرورت و اہمیت اس لحاظ سے بھی واضح ہے کے تعلیم با کردار، صالح، متقی اور خوف خدا رکھنے والے انسان پیدا کرتی ہے سکول کالج یا اداروں کے ذریعہ فراہم کی جانے والی تعلیم رسمی تعلیم کہلاتی ہے اس میں ادارہ بطور تعلیمی مرکز مختلف علوم کو نظم و ضبط کے ساتھ اور نصاب کے تحت فراہم کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔
تعلیمی سلسلے کا جائزہ لینے کے لیے امتحان بھی ہوتا ہے نتیجتاً ادارہ آپ کے تعلیم یافتہ ہونے کی سند جاری کرتا ہے ادارہ طالب علم کی کردار سازی میں بھی بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ رسمی تعلیم فراہم کرنے کے لیے تربیت یافتہ اساتذہ کی خدمات حاصل کی جاتی ہے جو نصاب کو مخصوص عرصے میں مکمل کرتے ہوئے تعلیمی سرگرمیوں کی سرپرستی کرتے ہیں۔ رسمی تعلیم کو انگریزی میں فارمل ایجوکیشن کہتے ہیں۔ اس میں مختلف شعبے اور مضامین ہوتے ہیں۔ ہمارے ملک میں موجود تمام سرکاری اور نجی
تعلیمی ادارے رسمی تعلیم کی مثال پیش کرتے ہیں
دیگر ذرائع میں نیم رسمی جسے سیمی فارمل ایجوکیشن کہتے ہیں اور غیر رسمی تعلیم جسے ان فارمل ایجوکیشن کہتے ہیں۔ نیم رسمی تعلیم کی خصوصیات کافی حد تک رسمی تعلیم سے ملتی جلتی ہیں۔ لیکن اس کی سہولیات رسمی تعلیم کی نسبت کم ہوتی ہیں۔ اسے فاصلاتی تعلیم یا اوپن ایجوکیشن کہتے ہیں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اور ورچوئل یونیورسٹی اس کی مثال ہیں۔ اس میں تعلیم بذریعہ ٹیلی ویژن، انٹرنیٹ اور کمپیوٹر ہوتا ہے۔ مگر نصاب ضرور ہوتا ہے۔ مقررہ وقت میں نصاب مکمل کرنے کا ہدف حاصل کیا جاتا ہے اور پھر باقاعدہ امتحان کے بعد تعلیمی اسناد جاری کی جاتیں ہیں۔
غیر رسمی تعلیم تو انسان پیدائش سے ہی شروع ہو جاتی ہے۔ قدیم وقتوں میں جب سکول کالجز اور یونیورسٹیز موجود ہی نہیں تھے۔ تو انسان اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنا، خوراک اور رہائش کا حصول اور شکار کرنا اپنے ماحول اور ارد گرد کے افراد سے سیکھتا تھا اور معاشرے میں رہنے کی تمیز اپنے آبا و اجداد سے سیکھتا تھا۔ غیر رسمی تعلیم کا سب سے اہم مرکز گھر ہے۔ انسان چھوٹوں بڑوں کا ادب اور تمیز کی باتیں گھر ہی سے سیکھتا ہے۔
نفسیاتی تربیت کے لیے ضروری ہے کے بچوں کو بچپن سے ہی سلجھا ہوا ماحول فراہم کیا جائے۔ ہمارے ملک میں مکینک، کاری گر، فیکٹری، لوہار، سنار، حجام، کمہار، موچی، رنگ ساز، اور گھڑی ساز وغیرہ کی دکان پر جو بھی کام سکھایا جاتا ہے، یہ غیر رسمی تعلیم کی مثال ہے۔ غیر رسمی تعلیم میں کوئی باقاعدہ نصاب نہیں ہوتا۔ استاد کی مرضی پر منحصر ہوتا ہے جس وقت جتنا علم سکھا دے اس کے علاوہ انسان اپنی تمام عمر خاندان، گلی محلے، مسجد، بازار، ٹیلی ویژن، ناولوں، رسالوں، دوست احباب یا والدین، اور کبھی کبھار تو چھوٹی عمر کے بچوں سے بھی جو کچھ سیکھتا ہے وہ سب غیر رسمی تعلیم کے ذرائع ہیں۔
علم کے ذرائع میں تمیز کرنا بھی انتہائی اہم ہے۔ حالت وجد اور الہام کے ذریعہ علم حاصل کرنا برصغیر کا سب سے مقبول ذریعہ ہے، بزرگ، صوفیہ کرام اور خدا کے نیک افراد میں سے بیشتر جنھیں رسمی یا نیم رسمی تعلیم تک رسائی نہیں ہوتی وہ غیر رسمی تعلیم اور ان ذرائع علوم پر اکتفا کرتے ہیں۔ تحقیق سے یہ بات معلوم ہوئی ہے کے محض الہام یا وجدان پر حصول علم کے لیے اکتفا کرنا نفسیاتی نشو و نما کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔
اگر دنیاوی علوم میں دلچسپی دینی علوم کی نسبت کم ہو تو طالب علم پر لازم ہے کے وہ مساجد یا دینی مدارس سے رجوع کرے۔ پاکستان کی کل آبادی کا ستر فیصد حصہ ان افراد پر مشتمل ہے جو کبھی سکول گئے ہیں۔ ان میں خواتین کی تعداد مردوں کی نسبت کم ہے۔ شہری آبادی کے نواسی فیصد مردوں کا کہنا ہے وہ حصول علم کی خاطر سکول گئے ہیں۔ پنجاب کی شہری آبادی میں مردوں کا اکیاسی اور دیہی آبادی کی پچاس فیصد خواتین بھی سکول گئی ہیں۔
ہماری افزائش پذیر نسل میں زیادہ تر بچے فاصلاتی تعلیم سے مستفید ہو رہے ہیں ظاہر ہے اس کی بہت سی وجوہات ہیں۔ ہمیں مجموعی طور پر اس بات کا خیال رکھنا ہو گا کہ اگر انھیں رسمی تعلیم میسر نہیں تو ہم ان کے کردار کو موثر اور اہم بنانے کے لیے غیر رسمی تعلیم کے سب سے اہم مرکز جو کے ہمارے گھر ہیں ان کا ماحول بہترین سے بہترین بنائیں۔ ان کی عادات میں صفائی ستھرائی کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں اور صحت مند ذہنی سرگرمیوں میں ان کی دلچسپی پیدا کریں۔ ان کو بڑوں کا احترام، چھوٹوں سے محبت، جانوروں سے صلہ رحمی اور رواداری کی تلقین کریں۔ اور انھیں دنیاوی علوم کے ساتھ دینی علوم سے آراستہ کرنے کا بھی بند و بست کریں۔ خدا ہم سب کو ہمارے ہر نیک اور جائز مقصد میں کامیاب کرے۔

