اسد سلیم شیخ کی "شجر کہانی”

شجر کہانی ”اسد سلیم شیخ صاحب کی اشجار اور فطرت سے محبت کا اظہار ہے۔ جو اسد صاحب اور اشجار کے مابین اپنائیت کے رشتے کو اجاگر کرتی ہے۔ اسد صاحب اشجار سے اپنے دیگر دوستوں کی طرح کلام کرتے ہیں اور اشجار بھی گفتگو کے دوران ان سے بے تکلف دوستوں کی طرح گھل مل جاتے ہیں۔ اس سے اسد صاحب اور اشجار کے درمیان مکالمہ تشکیل پاتا ہے۔ جس کی بدولت اشجار کو زبان مل جاتی ہیں اور وہ انسانوں کی طرح ناطق بن جاتے ہیں۔ بالکل ایسے ہی جیسے اساطیری کہانیوں میں اشجار انسانوں سے کلام کرتے نظر آتے ہیں۔ لیکن“ شجر کہانی ”میں اشجار کی گفتگو کا انداز اساطیری کہانیوں سے الگ اور منفرد ہے۔ جو اسد صاحب کے گہرے مشاہدے تجربے اور وسیع مطالعہ کا غماز ہے۔
”شجر کہانی“ اسد صاحب کو ماہر نباتات کے طور پر متعارف کرواتی ہے۔ اسد صاحب اشجار کی مختلف خاصیتوں اور ان کے مزاج سے مکمل واقفیت رکھتے ہیں۔ وہ بڑی چابکدستی سے اشجار کی ضرورت، اہمیت اور افادیت کو بیان کرتے ہیں۔
دراصل ”شجر کہانی“ اشجار کے وجود کی سیاحت کی ڈائری ہے۔ جس میں اسد صاحب پہلے اشجار کے وجود میں خود اترتے ہیں اور پھر ان کی زبانی اپنی بات کہتے ہیں۔ جس سے ”شجر کہانی“ محض معلومات کا ذخیرہ نہیں رہتی بلکہ فکشن کا روپ اختیار کر لیتی ہے اور تحقیقی اور تالیفی کاوش ہونے کے باوجود تخلیقی کاوش کا تاثر دیتی ہے۔
”شجر کہانی“ کا اسلوب بہت جاندار اور ادبی چاشنی لیے ہوئے ہے۔ جس کی بنیاد پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اسد صاحب کی اس کاوش کے امر ہونے کے تمام ممکنہ امکانات موجود ہیں اور یہ زمانے کی دھول سے محفوظ رہے گی۔
اسد صاحب نے ”شجر کہانی“ کی ابتدا میں بہار کا پورا نقشہ کھینچ دیا ہے۔ جس میں انھوں نے منظر نگاری کے تمام لوازمات کو ملحوظ خاطر رکھا ہے۔ شجر کہانی کا آغاز کچھ یوں ہوتا ہے کہ مارچ کا آخری ہفتہ ہے اور بہار اپنی پوری تابناکیوں کے ساتھ جلوہ فروز ہے۔ جس سے اسد صاحب کا جی چاہتا ہے کہ وہ اشجار (جو فطرت کے حسن کے عکاس ہیں ) سے مکالمہ کریں۔ اسد صاحب کا اشجار سے مکالمہ دراصل فطرت کے حسن سے مکالمہ ہے۔ وہ اپنے اس مکالمے کا آغاز کالج کے ایک شجر سے کرتے ہیں۔ جو کالج کے دیگر اشجار سے ہوتا ہوا ان اشجار تک جا پہنچتا ہے جو انھوں نے مختلف جگہوں کی سیاحت کے دوران دیکھے ہیں۔
اسد صاحب اشجار سے مکالمہ کرتے ہوئے ان سے جڑی ماضی کی یادوں کو تازہ کر دیتے ہیں۔ جب کبھی مکالمے کے دوران انہیں بوریت اور یکسانیت کا احساس ہوتا ہے تو وہ اشجار سے جڑے کسی ایسے واقعہ یا کردار کو سامنے لاتے ہیں جس سے تحریر میں افسانویت پیدا ہو جائے۔ اسد صاحب اشجار سے مکالمے کے دوران اشجار سے جڑے اساطیری، تاریخی، تہذیبی،
ثقافتی اور مذہبی تصورات کو دریافت کرتے ہیں۔
کوئی بھی کہانی ہو وہ کرداروں کے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔ بظاہر تو ”شجر کہانی“ میں اشجار کے روپ میں بہت سے کردار ملتے ہیں۔ لیکن حقیقت میں ”شجر کہانی“ میں ایک ہی کردار ہے اور وہ کردار ہے اسد صاحب کا ہے۔ باقی سب کردار تو اس کردار کے تخیل اور معلومات کی ترسیل کا فقط ذریعہ ہیں۔ اسد صاحب کا کردار پوری ”شجر کہانی“ پر چھایا ہوا ہے۔ اس کردار کے علاوہ جو اشجار کے کردار ہیں وہ کردار نگاری کے لوازمات کو پورا نہیں کرتے۔
ہاں اگر اسد صاحب اشجار کا مکالمہ آپس میں کرواتے اور کسی ایک شجر کے گرد باقی تمام اشجار کی کہانی کو بن دیتے تو یقیناً اشجار باقاعدہ طور پر کردار بن سکتے تھے لیکن ایسا کرنے سے شجر کہانی کی تخلیق کا مقصد پس پشت جا سکتا تھا شاید اسد صاحب نے اس قباحت سے بچنے کے لیے اشجار کا مکالمہ آپس میں نہ ہونے کے برابر کروایا ہے۔ بر حال اسد صاحب کی یہ کاوش قابل تعریف ہے جو یک کرداری ہونے کے باوجود کہانی کا پورا تاثر دیتی ہے۔
اسد صاحب اشجار کے لیے ماں جیسی ممتا رکھتے ہیں۔ جب اشجار ان سے ماحول دشمن عناصر کی شکایت کرتے ہیں تو وہ ماں کی طرح ان سے لاڈ پیار کرتے ہیں۔ ان کا حوصلہ اور ہمت بڑھانے کے ساتھ ان کو بتاتے ہیں کہ جیون کی جنگ میں وہ تنہا نہیں ہیں بلکہ ان کے بہت چاہنے والے بھی شامل ہیں
”شجر کہانی“ اسد صاحب کی شخصیت کے رومانوی پہلو کو بھی آشکار کرتی ہے۔ اسد صاحب اشجار سے مکالمہ کرتے ہوئے ان کے احساس مروت میں ایسے ہی کھو جاتے ہیں جیسے کوئی عاشق اپنے محبوب کی آنکھوں کے نیلے سمندر میں اتر جائے۔ بعض اوقات تو اسد صاحب اشجار کو شعر سنا کر ان کو خوش کرتے ہیں جس سے اسد صاحب کے شعری ذوق کا بھی پتا چلتا ہے۔
”شجر کہانی“ اسد صاحب کی شخصیت کے فلسفیانہ پہلو کو بھی دریافت کرتی ہے۔ ایک جگہ پر اسد صاحب سرو کی زبانی کہتے ہیں کہ ”جس کا زمین سے رشتہ نہیں رہتا وہ کہیں کا بھی نہیں رہتا“ ۔ یہاں زمین سے مراد اساطیر، تاریخ، تہذیب، تمدن، ثقافت اور مذہب لیا جا سکتا ہے کیونکہ انسان کا تعلق جب ان چیزوں سے ٹوٹ جاتا ہے تو اسے تخلیق توانائی نہیں ملتی جس وجہ سے اس کا ذہن بانجھ اور اس کی پہچان مٹ جاتی ہے۔
دنیا کی ہر زبان کے ادب میں اشجار مختلف جذبات کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ شجر کہانی میں اسد صاحب نے اشجار کے استعاراتی پہلووں پر بھی بڑی عمدگی سے روشنی ڈالی ہے۔

