کیا یوم حیا والوں کو ہر جگہ سیکس ہی دکھائی دیتی ہے


اخلاقی اجارہ داری یا اپنے فلسفہ حیات کو سب سے اعلیٰ جان کر اس پر اترانا دراصل بیمار ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے۔ اسی بیمار ذہنیت کا اظہار ہمیں ہر سال فروری کے مہینہ میں یوم حیا کے پوسٹرز کی صورت میں دیکھنے کو ملتا ہے، جہاں اس قسم کے سٹال لگے ہوتے ہیں وہاں عجیب طرح کی وحشت و دہشت، ایک خاص طرح کی رعونت اور تناؤ والے چہرے خشک مزاجی کے ساتھ اس سحر میں مستغرق ہو کر اپنی نشستوں پر براجمان پائے جاتے ہیں کہ ”آج خواتین کی جو عزت و عصمت محفوظ ہے وہ صرف ہماری وجہ سے ہے اور ہم ہی ان کے پاسبان ہیں“۔

کہتے ہیں کہ نفرت کے اندھے کو ہر طرف نفرت ہی دکھتی ہے کیونکہ محبت سرنڈر کرنے کا نام ہے اور اس قسم کے نزاکت والے انسانی پہلوؤں سے ایسے لوگ ناواقف ہوتے ہیں۔ بد قسمتی سے ان کا تعارف عورت کے ساتھ کوئی صحت مندانہ یا نارمل نہیں ہوتا بلکہ یہ ان کو آلہ شیطان اور مرد کا محکوم تصور کرتے ہیں اور اسی وجہ سے یہ عورت کو کمتر، کم عقل اور جذبات کی رو میں بہہ جانے والی مخلوق سمجھتے ہوئے اس کا حاکم بننے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

ایسی نظروں و دماغ کا نفسیاتی معائنہ یا جائزہ لیا جانا چاہیے جنہیں عورت میں فحاشی کے علاوہ کچھ بھی نظر نہیں آتا۔ یہ تماشا ہم ہر سال دیکھتے ہیں اور ہماری یونیورسٹیاں ارجنٹ نوٹس ایشو کرتی ہیں جس میں خاص طور پر ویلنٹائن ڈے کے حوالے سے تنبیہ، ہدایت نامہ اور ڈریس کوڈ کے احکامات درج ہوتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایسا کرنے سے کوئی فرق پڑتا ہے؟ یا ہم خلا میں بستے ہیں یا ایسے دور میں زندہ ہیں جہاں ابھی خط و کتابت یا محبت کارڈ کا چلن ہو؟

کیا انٹرنیٹ اور موبائل کے اس دور میں دو محبت کرنے والوں کو کالج لان یا یونیورسٹی کے گراؤنڈ یا کمروں کی ضرورت ہوتی ہے؟ کیا محبت جیسے انسانی جذبہ کو یوم حیا کا سٹال لگا کر کچلا جا سکتا ہے؟ کیا جس نے محبت کرنی ہے وہ کسی کوڈ آف کنڈکٹ یا کسی اخلاقی بھاشن کو خاطر میں لائے گا؟ کیا محبت بڑوں کے مشوروں سے کی جاتی ہے یا یہ خود بخود پیدا ہونے والا جذبہ ہوتا ہے؟ کیا ہمارے لڑکے اپنے بڑوں کو بتا کر آنکھ مٹکا کرتے ہیں؟

یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب ہمیں اپنے معاشرے سے ہی مل جاتے ہیں اور اس بات میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ جن معاشروں میں بلاوجہ کی قدغنیں، روک ٹوک اور چوائسز کا فقدان ہوتا ہے وہاں کبھی بھی خالص رویے پیدا نہیں ہو سکتے بلکہ ایسے معاشروں میں منافقانہ رویے آپ کو قدم قدم پر نظر آئیں گے۔ وہ مرد جو والد یا بھائی کہلاتے ہیں وہ اپنی زندگی اپنے مطابق انجوائے کر کے جب گھر کے سربراہ بنتے ہیں تو وہ اپنے بچوں کے لئے نفرت کی علامت یا منافق بن جاتے ہیں، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اپنی زندگی کے تجربات کی روشنی میں اپنے بچوں کی صحیح فکری رہنمائی کر کے انہیں اعتماد کی دولت سے مالا مال کیا جاتا تاکہ وہ منافقانہ رویوں سے بچ کر اپنی ذات کے حقیقی سچ کے مطابق زندگی گزارنے کے قابل ہو جاتے مگر ایسا نہیں ہوتا اور والدین جانوروں کی طرح اپنے بچوں کی مہار اپنے ہاتھ میں رکھ کر ان کی زندگی کے فیصلے لینے لگتے ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان سخت گیر قسم کے رویوں کی وجہ سے کیا ہمارے بچے اپنے والدین کے ساتھ مخلص رہ سکتے ہیں؟ بالکل بھی نہیں بلکہ وہ وہی کام اپنے طریقہ سے کرنے لگتے ہیں جن سے آپ ان کو منع کرتے ہیں مگر آپ کے سامنے فرماں برداری کی ایکٹنگ بڑے کمال کی کر رہے ہوتے ہیں۔ ہمارے بچوں کو اس نہج تک پہنچانے والے کون ہیں؟ والدین ہیں جو کہ رول ماڈل بھی بن سکتے تھے مگر اپنے منافقانہ رویوں کی وجہ سے وہ یہ موقع خود اپنے ہاتھ سے کھو دیتے ہیں۔

یوم حیا والے بھی دراصل وہی معاشرتی کیدو ہیں جو خود تو چھپ چھپ کر اپنا من ہلکا کر چکے ہوتے ہیں مگر معاشرے کے لیے رول ماڈل بننے کی ایکٹنگ میں لگے رہتے ہیں۔ یہ دراصل کلر بلائنڈ اور خشک طبیعت کے مالک ہوتے ہیں جنہیں حقیقی زندگی میں کبھی حقیقی محبت نصیب نہیں ہوئی ہوتی تو پھر اس محرومی کا معاشرے سے بدلہ لینے چل پڑتے ہیں۔ دنیا کو اس بیمار نظری سے دیکھنے والوں کو انگریزی میں (jaundiced eye ) کہتے ہیں جس کا عام فہم مطلب زندگی کے کسی بھی پہلو کو وسعت نظری یا امید پرستانہ انداز سے دیکھنے کی بجائے تعصب، خشک مزاجی یا منفی انداز سے دیکھنا بنتا ہے۔

ایسے بندوں کو ویلنٹائن ڈے پر ہر جگہ سیکس ہی سیکس نظر آنے لگتا ہے اور ان کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس دن ہر خاتون غلط نیت و ارادہ سے گھر سے نکلے گی اور سر راہ چلتے لوگوں کو گلے لگانا اور ان سے سیکس کرنا شروع کر دے گی۔ یہ ایک انٹرنیشنل ڈے ہے جو دنیا کے تقریباً ہر حصے میں اپنی اپنی ثقافت و کلچر کے مطابق منایا جاتا ہے اور آج کل کے گلوبل ورلڈ میں ایسا ممکن نہیں رہا کہ ہم خود کو ایک بکس میں بند کر کے دنیا کے اثرات سے خود کو محفوظ بنا لیں۔

لیکن ذرا کھلے دل سے سوچیں کہ ویلنٹائن ڈے کے موقع پر یوم حیا کا دن منانا، یونیورسٹی اور کالج میں سخت قسم کے کوڈ آف کنڈکٹ کا اجرا کر کے ہم اپنے معاشرے کی بچیوں کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟ کیا ہم ان کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ مردوں کے سماج میں عورت کی حیثیت ایک سیکسی ڈول سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتی اور وہ مردوں کے معاشرے میں محفوظ نہیں ہیں؟ کیا یہ ان کی جنس کے ساتھ زیادتی نہیں ہے کہ ہم صرف ان کو ایک سیکس اوبجیکٹ کی نظر سے دیکھیں؟

کیا ہم اپنی بچیوں کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ مردانہ برتری کے سماج میں مردوں سے ڈر کر اور چھپ چھپ کر اپنی زندگی بسر کریں؟ کیا ہم اپنی بچیوں کو اعتماد کی دولت سے مالا مال کرنے کی بجائے مردم بیزاری سکھانا چاہتے ہیں تاکہ زندگی بھر ان کا استحصال ہوتا رہے؟ اپنے بیمار رویوں کا تدارک کرنے کی بجائے خواتین کو انڈر تھمب رکھنا کوئی صحت مندانہ رویہ نہیں ہے۔ ہماری اس سے بڑی ناکامی کیا ہوگی کہ ہم آج تک ایک ایسا معاشرہ نہ بنا پائے جہاں پر سب افراد منافقانہ رویوں کی بجائے خالص رویوں کے ساتھ اپنی زندگی اپنے طور پر جی سکیں۔

غور سے جائزہ لیں تو ہماری انتہا پسندانہ سوچ ہی ہماری سب سے بڑی دشمن ہے جسے گلے لگا کر ہم نے اپنا معاشرہ کچھ اس طرح کا بنا لیا ہے جہاں نفرت تو کھلے عام کی جا سکتی ہے مگر محبت بالکل نہیں، اسی لئے ہم آج وحشیوں کے ہجوم میں جی رہے ہیں ہیں جہاں دس بندے اکٹھے ہو کر اپنی عدالت لگا لیتے ہیں۔ ایک دن یوم حیا منا لینے سے ہم خواتین کا اعتماد نہیں جیت سکتے، صدیوں کی تنگ نظری اور خواتین کا مالک و محافظ بننے کی ذہنیت کو ختم کر کے اور ان کی اڈلٹ چوائس (بالغ انتخاب) کو اہمیت دے کر ہی ان کے اعتماد کو جیتا جا سکتا ہے وگرنہ یہ سارے چونچلے منافقانہ رویوں سے زیادہ کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔ انسانی جذبوں کو دل سے تسلیم کر کے انہیں معاشرے میں جگہ دی جاتی ہے نا کہ اخلاقی چوکیدار بن کر ان پر تنگ نظری کا پہرہ دیا جاتا ہے۔

Facebook Comments HS