سندھ میں قبائلی دہشتگردی، بے گناہوں کا بہتا خون، اور جنگل راج


اللہ کو مانو فائرنگ بند کرو، ایس ایچ او صاحب بھی زمین پر گرا پڑا ہے، 8 سے 10 افراد قتل ہو چکے ہیں اب تو بس کرو۔ سوشل میڈیا ہر وائرل ویڈیو میں ایک پولیس اہلکار زمین پر موجود کسانوں پر فائرنگ کرنے والے زرداری قبیلے کے مسلح افراد کو منتیں کر رہا دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک ہفتہ قبل آصف علی زرداری کے آبائی ضلع نوابشاہ کے علاقے نواب ولی محمد میں زمین کے تنازع پر زرداری اور بھنڈ قبائل میں جھگڑا ہوا، زرداری مسلح افراد کی فائرنگ سے ایس ایچ او عبدالحمید کھوسو سمیت بھنڈ برادری کے 6 افراد جاں بحق ہو گئے اور ایک درجن کے قریب لوگ زخمی ہوئے۔

تقریبا تین دن تک قاضی احمد روڈ پر لاشیں رکھ کر دھرنا دیا گیا۔ جی ایم سید کے پوتے سید زین شاہ مقتولین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے دھرنے میں دن رات بیٹھے رہے۔ پولیس کی اتنی مجال نہیں کہ زرداری قبائل لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کر سکیں یا جو ملوث عناصر تھے ان کو گرفتار کیا جائے۔ دھرنے میں ایس یوپی کے سید زین شاہ، جے یو آئی سندھ کے سیکرٹری جنرل علامہ راشد محمود سومرو، قومی عوامی تحریک کے ایاز لطیف پلیجو، ستپ کے چیئرمین ڈاکٹر قادر مگسی، شاعر مہر ڈبائی و دیگر شریک رہے۔

میڈیا کے ساتھ سوشل میڈیا پر مہم چلائی گئی جس کی وجہ سے پیپلز پارٹی حکومت نے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو گئی۔ تین دن لاش رکھنے اور دھرنا دینے کے بعد زرداری گروپ کے خلاف مقدمہ درج ہوا، ۔ 390 ایکڑ زمین بھنڈ برادری کو واپس دی گئی۔ اور 7 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ یوں مقتولین کی نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد تدفین کی گئی۔ اس واقعہ سے قبل بھی زمین پر قبضہ کی کوشش کے خلاف دھرنا دیا گیا تھا۔ سردار میر منظور پنہور کے سرپنچ میں فیصلہ بھی ہوا مگر فتوی نہ آنے کی وجہ سے 6 انسانی جانوں کا ضیاع ہو گیا۔

واقعہ کے پانچویں روز شہید ایس ایچ او عبدالحمید کھوسو کا قتل کیس سرکاری مدعیت میں درج کیا گیا۔ یہ پولیس کی بدنصیبی ہوگی یا لاوارثی جو ایس ایچ او قتل ہوا ہے اور پولیس حکمران جماعت کی وجہ سے ملزم کے خلاف کارروائی نہیں کر رہی تھی۔ ایس ایس پی سعود مگسی کو ڈر تھا کہیں ان کا تبادلہ نہ ہو جائے۔ شاید اتنی پولیس پہلے کبھی کمزور نہیں تھی۔ آپ اس سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ سندھ میں مسلسل 13 سالوں سے پیپلز پارٹی کو اقتدار ملنے کی وجہ سے کتنے سفاک بن گئے ہیں۔

جس کو جی چاہا قتل کر دیا جس کو جی چاہا مار دیا اور زمینوں بنگلوں، شوگر ملز پر قبضہ کر لیا۔ ابھی نواب ولی محمد میں لاشیں پڑی ہی تھی کہ سکھر کے علاقے تماچانی تھانے کی حدود گاؤں گیلو میں زمین کے تنازعے پر بھائیوں کی آپس میں لڑائی ہو گئی جو خونی جھگڑے میں تبدیل ہو گئی۔ دو بھائیوں نے فائرنگ شروع کردی اور اپنے ہی بھائیوں کو قتل کرنا شروع کر دیا، چند لمحوں میں ایک خاتون سمیت 6 افراد قتل ہو گئے اور ایک خاتون زخمی ہو گئی۔

پولیس کے مطابق فائرنگ میں تین سگے بھائی غلام محمد، غلام نبی، غلام اکبر اور اس کی بیوی نسرین شیخ، بھتیجا اویس شیخ، اور پرویز شیخ جاں حق ہوئے۔ تا ہم ابھی تک واقعہ کا مقدمہ درج نہ ہو سکا ہے۔ سندھ میں محکمہ ریونیو کی وجہ سے جھگڑے عام ہو رہے ہیں۔ جبکہ پولیس کا کردار بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔

تین سال قبل میہڑ میں آم رباب چانڈیو والد چچا اور دادا کو قتل کیا گیا جس میں حکمران جماعت پیپلز پارٹی کے دو ارکان سندھ اسمبلی سردار خان چانڈیو اور برہان خان چانڈیو کو کیس میں نامزد کیا گیا۔ ملیر ضلع میں ایک نوجوان ناظم جوکھیو کو اغوا کر کے بنگلے میں تشدد کا نشانہ بنا کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ جس کا مقدمہ پیپلز پارٹی کے رکن سندھ اسمبلی جام اویس اور ایم این اے جام عبدالکریم کے خلاف درج کیا گیا ہے۔ لاڑکانہ کے قریب قمبر میں زمین کے تنازع پر رکن سندھ اسمبلی گھنور خان اسرار اور اس کے والد غلام شہید اسرار نے فائرنگ کی گولیاں قرآن پاک کو شہید کرتے ہوئے منتیں کرنے والی فہمیدہ سیال کو لگیں اور خاتون موقع پر ہی جاں بحق ہو گئی۔

لاڑکانہ کی میڈیکل کالج میں دو طالبات کی لاشیں ملیں۔ یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق بچیوں نے خودکشیاں کی ہیں۔ جبکہ لمس کی رپورٹ کے مطابق دونوں بچیوں کو جنسی زیادتی کے بعد قتل کیا گیا ہے اور رپورٹس کے مطابق ایک ہی شخص نے دونوں کے ساتھ زیادتی کی ہے۔ ملزم کوئی با اثر ہے شاید اس وجہ سے یونیورسٹی انتظامیہ اسے بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وی سی کو جبری چھٹی پر بھیجا گیا ہے۔ نؤ کوٹ کے علاقے میں دو بچیوں اغوا کر کے گاؤں میں ننگا گھما کر ریپ کیا گیا ہے۔ اس واقعے میں بھی با اثر افراد ملوث پائے گئے ہیں۔

نوشہرہ فیروز کے علاقے محراب پور میں کاوش اور کے ٹی این نیوز کے رپورٹر عزیز میمن کا گلا گھونٹ کر قتل کیا گیا۔ مقتول نے قتل سے قبل پیپلز پارٹی کے ایم این اے سید ابرار شاہ کے خلاف اسلام آباد تک دھمکی ملنے کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ صالح پٹ کے مقتول صحافی اجی کمار لالوانی قتل کیس میں بھی پیپلز پارٹی کے لوگ ملوث پائے گئے تھے۔ مطلب سندھ میں جہاں امن امان کی صورتحال خراب ہے، اس میں براہ راست حکمران جماعت ملوث ہے۔

سندھ میں پولیس کو کمزور کر کے حکم کا پابند بنایا گیا ہے۔ جب تک کوئی ایم این اے یا ایم پی اے این او سی نہیں دے گا تب تک اس ضلع میں کوئی ایس ایس پی یا ڈی ایس پی نہیں لگ سکتا ہے۔ سندھ کے عوام پہلے بھوک، بدحالی، بیروزگاری کی وجہ سے سخت اذیت کا شکار ہیں، وہاں قبائلی دہشتگردی کی وجہ سے زندگی اجیرن بنائی گئی ہے۔ تعلیم، صحت، زراعت، معیشت، امن امان تباہ ہو چکا ہے۔ سپریم کورٹ کو چاہیے کہ سندھ میں زمینوں کے تنازع، قبائلی دہشتگردی، قتل و غارت اغوا برائے تاوان سمیت کرائم میں ملوث عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اور عام لوگوں کو تحفظ فراہم کر کے ان کی جان مال کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔

سندھ میں قبائلی دہشتگردی میں بے گناہ لوگ مارے جاتے ہیں۔ زمینوں، موروثی ملکیت، پلاٹ کے تنازع پر شروع ہونے والے جھگڑے خونی تکرار میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ جس میں خاندان یا رشتہ دار اپنی جگہ مگر کوئی قومیت کا بندہ کہیں پر بھی مل گیا اس کو مار دیا جاتا ہے۔ جس کا نہ کوئی جرم نہ کوئی لینا دینا۔ 90 فیصد زمینوں کے تنازع پر جھگڑوں، قتل و غارت، اغوا برائے تاوان میں با اثر سردار جاگیردار، وڈیرے اور منتخب نمائندے ملوث پائے گئے ہیں، مگر افسوس کہ ان کے خلاف آج تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے۔

سندھ میں سردار جب فیصلہ کرتے ہیں تو قتل، قتل میں برابر کرتے ہیں۔ جس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ وقتی طور پر فریقین آپس میں صلح کرلیتے ہیں بعد میں پھر لڑائی شروع کر دیتے ہیں۔ ہونا یہ چاہیے کہ فی قتل کی سزا دیت یہ رقم کم از کم 100 اونٹ کے برابر، 2 کروڑ روپے سے 3 کروڑ روپے تک جرمانہ عائد کیا جائے۔ جب کوئی کسی کا قتل کرے گا اور بھاری جرمانے بھرے گا تو آئندہ کوئی بھی قتل کرنے کا سوچے گا بھی نہیں۔ عدالتوں میں قتل میں ملوث ملزمان کی ضمانت نہ دی جائے اور نہ ہی کمپرومائز ہونے دیا جائے۔

جب تک سخت اور بڑی سزائیں نہیں دی جائیں گی تب تک لوگوں میں خوف ڈر پیدا نہیں ہو گا اور لوگ جھگڑے سے باز نہیں آئیں گے۔ سندھ میں امن امان کی خراب صورتحال بہتر بنانے کے لئے پولیس کو با اختیار بنا کر سیاسی مداخلت ختم کی جائے پولیس کو ململ طور پر فری ہینڈ دیا جائے۔ سندھ میں اس وقت عوام کی زندگی بہت مشکل گزر رہی ہے۔

Facebook Comments HS