روزگار کا سنگ میل یا نوکری کی کچی تازہ قبر


”تو آپ قیصر ابراہیم کے بڑے بھائی ہیں“ اس کے بیٹھتے ہی انہوں نے سوال کر ڈالا۔
”جی ہاں“ وہ کچھ بوکھلا سا گیا۔ انٹرویو اس طرح شروع ہو گا اس نے سوچا بھی نہ تھا۔
”آپ کی کوالیفی کیشن“ ۔ انہوں نے فائل الٹتے ہوئے پوچھا ”انٹر میڈیٹ“
”بس! کوئی معقول وجہ؟“
”نا مساعد حالات کی بنا ر مجھے تعلیم کا سلسلہ منقطع کرنا پڑا“ ۔ اس نے عذر پیش کیا۔
”کہاں کہاں نوکری کی آپ نے“ ۔ وہ اس سے کچھ زیادہ متاثر نظر نہیں آرہے تھے۔
”پایونیر پرنٹرس۔ اور اس کے بعد ایک کیمیکل کمپنی میں کام کیا تھا۔“
”وہاں کیا کام آپ کے ذمہ تھا؟“
”جی ٹائپسٹ تھا“ ۔
”آپ نے ٹائپسٹ کا اگزام پاس کیا ہے؟“
”جی ہاں۔ ہائرگریڈ اگزام پاس ہوں۔“
”اسپیڈ کیا ہے آپ کی“ ؟
” 80 لفظ فی منٹ۔ اور تھوڑا بہت شارٹ ہینڈ بھی جانتا ہوں۔“

”تھوڑا بہت سے آپ کا کیا مطلب ہے۔ شارٹ ہینڈ پوری طرح آنا چاہیے۔ ورنہ اس کا آنا نہ آنا دونوں برابر ہیں آپ کچھ ڈکٹیشن شارٹ ہینڈ میں اور کچھ لانگ ہینڈ میں لینے سے تو رہے۔“

وہ خاموش رہا۔ اس سے کوئی جواب بن نہیں پڑا۔

”آپ کل سے آفس جوائن کر لیجیے۔ سپرنٹنڈنٹ صاحب سے اپوائنمنٹ لیٹر لے لیجیے۔ وقت کی پابندی کیجئے۔ اگر آپ آج ساڑھے دس بجے آ جاتے تو آج ہی سے ڈیوٹی جوائن کر سکتے تھے۔“ وہ کیا کہہ سکتا تھا۔ وہ تو انٹرویو کے انتظار میں صبح سے ہی باہر بیٹھا ہوا تھا۔ انہیں ہی دو بجے کے بعد انٹرویو لینے کا وقت ملا تھا۔

”یہ فائل سکریٹری صاحب کو دے دیجئے۔ غالباً آپ سگریٹ بہت پیتے ہیں۔ بہت بدبو آ رہی ہے۔“

اس نے جواباً کچھ نہیں کہا۔ وہ جانے کے لئے اٹھا تو وہ کہنے لگے ”ہمیں امید ہے کہ آپ اپنے بھائی قیصر ابراہیم کی طرح دل لگا کر محنت سے کام کریں گے اور ہمیں شکایت کا موقع نہیں دیں گے۔

اس نے کمرے سے نکلتے ہوئے سوچا کیا وہ کبھی اپنے چھوٹے بھائی قیصر ابراہیم سے آگے نکل سکے گا۔ یا صرف اس کی پرچھائیں کی طرح ہی زندگی بسر ہو گی۔ بچپن سے لے کر آج تک قیصر اس سے دو قدم آگے ہی رہا اور وہ لاکھ جتن کرنے کے باوجود اس کے ساتھ قدم ملا کر نہ چل سکا۔ بچپن سے دونوں ایک ہی جماعت میں پڑھتے تھے۔ اسکول کی زندگی کے پورے دس سال اس سے پیچھے نہ ہو جانے کی کوشش میں کٹ گئے۔ جہاں قیصر کا شمار جماعت کے پانچ چھ ذہین بچوں میں ہوتا وہیں اس کا کوئی شمار نہ تھا۔ وہ مشکل تمام پاس ہو کر اگلی جماعت میں پہنچ پاتا تھا۔ اس وجہ سے آخر آخر میں اسے پڑھائی سے نفرت سی ہو گئی تھی۔ وہ اپنے آپ کو کھیل کے میدانوں میں نمایاں کرنے کی کوشش کرنے لگا۔ لیکن یہاں بھی قیصر آگے ہی تھا۔ اسکول کی کرکٹ کا وائس کیپٹن اور بہترین فاسٹ باؤلر تھا۔

میٹرک کا امتحان دونوں نے ساتھ ہی دیا۔ قیصر نے میٹرک کا امتحان فرسٹ ڈویژن میں پاس کیا تو وہ بمشکل تمام تھرڈ ڈویژن لا سکا۔ پپا نے نتیجہ دیکھ کر کہا تھا۔ مجھے قیصر سے زیادہ تمہاری فکر تھی۔ ڈر تھا کہ کہیں تم میٹرک میں ہی نہ رہ جاؤ۔ دونوں ساتھ پڑھنے کی وجہ سے تم اتنے نمبر لا سکے۔ اکیلے ہوتے تو اتنے نمبر بھی نہ آتے۔ اس کی ساری خوشی کافور ہو گئی۔

جب مزید تعلیم کی بات نکلی تو پپا نے دکھ کے ساتھ قیصر سے کہا تھا کہ میری دلی خواہش تھی کہ تمہیں انجینئرنگ کی تعلیم دلواؤں لیکن مجبور ہوں۔ چاہتا ہوں کہ تم جلد سے جلد پیروں پر کھڑے ہو جاؤ اور ذمہ داری کا بوجھ اٹھاؤ۔ مجھے زندگی بھر افسوس رہے گا کہ میں تمہیں انجینئرنگ کی تعلیم نہیں دلا سکا۔ جہاں تک اس کا تعلق تھا اسے پپا نے آرٹس سے انٹرمیڈیٹ میں داخلہ کروا دیا تھا کہ کامرس بھی اس سے چلنا مشکل تھا۔ اس کا دل بھی پڑھائی سے اچاٹ ہو گیا تھا کہ اس سے کوئی توقعات وابستہ نہیں تھیں۔ انٹرمیڈیٹ اس نے دو سال ناکام ہونے کے بعد پاس کیا۔ بس ایک چیز میں وہ قیصر سے آگے رہا۔ Type کے دونوں امتحان اس نے قیصر سے پہلے پاس کیے تھے۔ انٹر کے بعد اس نے پانچ سو روپیہ ماہوار کی نوکری کر لی تھی۔ اسے ایک طمانیت کا احساس ہوا کہ وہ بھائی سے پہلے کمانے لگا ہے۔ لیکن جلد ہی طمانیت کا یہ احساس بھی مٹ گیا۔ قیصر نے نہ صرف بی کام جوائن کر لیا بلکہ پارٹ ٹائم جاب سے اتنے ہی پیسے کمانے لگا جتنے وہ دن بھر عرق ریزی کر کے کماتا تھا۔ بی کام مکمل کرنے کے بعد وہ اس پرائیویٹ کالج میں کام کرنے لگا تھا۔

پرچھائیوں کے اس کھیل میں کتنے ہی حادثہ ہوئے۔ پپا اپنے آپ کو زندگی کی اس دوڑ سے لاتعلق کر چکے تھے زندگی کی کڑوی حقیقتوں سے انھوں نے آنکھیں موند لیں اک رات سوئے تو پھر جاگے ہی نہیں۔ ان کی زندگی کی سب صبحیں اور شامیں ختم ہو چکی تھیں۔ گھرکا سارا انتظام قیصر نے سنبھال لیا۔ وہ خود بھی غیر یقینی حالات کا شکار رہا۔ نوکریاں ملتی رہیں چھوٹتی رہیں۔ اسے اس نوکری کی سخت ضرورت تھی کہ وہ پچھلے دو ماہ سے بیکار تھا۔ اس نوکری کے دلانے میں بھی اس کے ایک دوست اور بھائی کا ہاتھ تھا۔ ان کی کوششوں کے بغیر یہ عارضی نوکری کا ملنا بھی محال تھا۔

شام کو اس کا دوست آ دھمکا۔ وہ خود اس سے جاکر ملنے کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ یہ دوست بھی بڑا عجیب تھا۔ دوستوں سے ملنے کے بارے میں اس کا ایک فلسفہ تھا۔ جس دن اسے یہ دنیا ٹھہری ٹھہری سی لگتی اور زندگی بے معنی سی لگتی اس دن وہ دوستوں کو ڈھونڈ نے نکلتا۔ زندگی میں اتنی بھاگ دوڑ ہونے کے باوجود کبھی کبھی اسے یہ دنیا ساکت سی لگتی۔ یہ آج کے دور کا کولمبس تھا۔ دنیا کا اک اک کونہ دریافت ہو چکا ہے لیکن اس کے نزدیک ابھی انسانوں کی کھوج باقی تھی۔

”آج تم پہلی اور آخری مرتبہ پرنسپل کے روم میں بیٹھ کر آرہے ہو“ اقبال نے تفصیل سن کر کہا۔
”کیا مطلب؟“
یہی کہ پرنسپل صاحب جب نان ٹیچنگ اسٹاف کو اپنے اجلاس میں بلاتے ہیں تو انہیں بیٹھنے کے لئے کرسی پیش نہیں کرتے اور یہ بھی توقع رکھتے ہیں کہ آپ خود بھی بیٹھنے کی جرات نہیں کریں گے ’نان ٹیچنگ اسٹاف پر زیادہ برہم بھی ہوتے رہتے ہیں۔

”شاید پرنسپل ریمارکس بھی کچھ زیادہ ہی کرتے ہیں“ ۔ اس نے سگریٹ کا واقعہ سنا کر کہا۔
”یہ تو کچھ بھی نہیں ہے۔ آپ پاجی ہیں بے وقوف ہیں۔ آپ نالائق گدھے ہیں غصہ میں یہ سب کچھ روا ہے“
”نالائق گدھے؟ گویا دنیا میں لائق گدھے بھی ہوتے ہیں“ اس نے کہا
”ہاں ہوتے ہیں۔ پرنسپل صاحب بھی تو اسی دنیا کے رہنے والے ہیں“ اقبال نے کہا۔ دونوں ہنس پڑے
”اچھا چائے پلاؤ گے یا نہیں؟“

ابھی تھوڑی دیر میں آ جائے گی۔ تمہارے آنے کی اطلاع ہوتے ہی ممی بغیر کچھ کہے سنے چائے چڑھا دیتی ہیں۔ چائے پی کر اس نے سگریٹ سلگائی اور دو تین کش لے کر راکھ پیالی میں جھاڑ دی یہ اس کی پرانی عادت تھی۔ وہ کئی بار منع کر چکا تھا۔ نفاست پسند ممی کو اس حرکت سے سخت نفرت تھی۔

”اپنے کالج میں سیاست کچھ زیادہ ہی چلتی ہے۔ بہتر ہے کہ تم کچھ پہلے ہی سے جان لو“ پھر اقبال فرداً فرداً کئی لوگوں کا غائبانہ تعارف کرانے لگا۔ سپرنٹنڈنٹ صاحب بہت نیک اور سیدھے ہیں۔ اتنے سخت نہیں ہے جتنے نظر آتے ہیں۔ ان کی شخصیت ناریل سی ہے۔ اوپر سے سخت اندر سے نرم۔ ہاں وقت کی پابندی کے معاملے میں بہت سخت ہیں۔ ہاں ایک بات کا خیال رکھنا ضروری ہے اگر ان کی ٹوپی میز پر رکھی ہوئی ہے اور وہ دونوں ہاتھوں سے سر سہلاتے ہوئے بیٹھے ہیں تو سمجھ لینا چاہیے کہ وہ پرنسپل صاحب کی ڈانٹ سن کر آ رہے ہیں۔ ایسے میں ان سے بات کرنے کی کوشش نہیں کرنا چاہیے۔

عظمت بھائی بہت دلچسپ آدمی ہیں۔ جب تم پہلی بار انہیں عظمت بھائی کہو گے تو وہ چونکیں گے اور تمہیں یوں گھور کر دیکھیں گے کہ گویا تم نے ان کی عمر میں دس بارہ سال کا اضافہ کر دیا ہو۔ کم عمر لوگوں میں خود کو ہم عمر سمجھنا ان کی عادت ہے۔ آپ کے ساتھ ہنسیں گے۔ لطیفے سنائیں گے۔ سگریٹ پیش کریں گے۔ حیدرآبادی انداز سے سلام کر کے آپ ان کے سگریٹ کیس سے دو ایک سگریٹ بھی اٹھا لے سکتے ہیں۔ چاندی کے سگریٹ کیس کی تعریف کیجئے تو خوش ہو جائیں گے پھر محروم سی ہنسی کے ساتھ خود ہی بتائیں گے کہ یہ کسی کا دیا ہوا تحفہ ہے۔ اب یہ پوچھنے نہ بیٹھ جانا کہ یہ تحفہ کس نے دیا تھا۔

سلیم میں ابھی بچپن ہے۔ مذاق میں دھول دھپہ پر اتر آتا ہے۔ اس سے ذرا فاصلہ رکھ کر ملنا چاہیے۔

یوسف سے بچ کر رہنا یہ بہت بڑا چالباز ہے۔ تمہارے سامنے دوسروں کی برائی کرے گا۔ لیکن اس کے سامنے کبھی کسی کی برائی کرنے کی کوشش مت کرنا۔ ایک کے لفظوں کے دھتورے دوسرے کے دل کی زمین میں بونا اس کی فطرت ہے۔ تمہارے سامنے وہ پرنسپل صاحب کو تک گالیاں دے گا۔ لیکن اگر تم پرنسپل صاحب کے بارے میں کچھ کہو گے تو وہ بات پرنسپل صاحب تک پہنچ جائے گی۔ اسے دوچار لیکچررز کا بھی اعتماد حاصل ہے۔ تمہیں تو بہت بچ کر رہنا چاہیے وہ تمہاری جگہ اس ویکنسی پر اپنے سالے کا اپائنٹمنٹ کرانا چاہتا تھا۔

ان تعارفات کی وجہ سے جو خاکہ اس کے ذہن میں کالج کا بنا تھا وہ صاف نہیں تھا۔ سارے رنگ گڈمڈ ہو گئے تھے۔ اتنے سارے لوگوں سے غائبانہ تعارف سے اسے وحشت سی ہونے لگی ’اور یہ تاثر دوسرے دن تک بھی اس کے ذہن پر مسلط رہا۔ جب دفتر میں اس کا تعارف لوگوں سے کرایا گیا تو اسے بالکل یاد نہیں رہا کہ اقبال نے کس کے بارے میں کیا کہا تھا۔ البتہ ایک چہرہ اس کے ذہن میں تازہ تھا۔ وہ تھا یوسف کا چہرہ جو اس کے بجائے کسی اور کو اس پوسٹ پر رکھانا چاہتا تھا۔ یوسف بہت خلوص سے ملا۔ گرمجوشی سے مصافحہ کرنے کے بعد وہ بولا۔ ”آج تو مٹھائی ہونی چاہیے۔“

”آج تو پہلی بار کالج آیا ہوں۔ تنخواہ ملنے پر مٹھائی کھلاؤں گا“ اس نے وعدہ کیا

”نہیں یار۔ ہم تو تمہارے اپائنٹمنٹ کی خوشی میں مٹھائی کھانا چاہتے ہیں۔ اگر تنخواہ کی مٹھائی کھلانا چاہتے ہو تو ہر ماہ کھلانا پڑے گا“ یوسف نے اصرار کیا۔

اقبال نے اسے دیکھ کر آنکھ ماری۔ لنچ میں اسے سب کو اپنی طرف سے چائے پلانی پڑی تب کہیں جاکر اسے چھٹکارا ملا۔

پانچ چھ دن میں ماحول کی اجنبیت کچھ کم ہوئی۔ وہ اپنے کام کو سمجھنے لگا۔ جو صاحب چھٹی پر گئے تھے وہ سینئیر کلرک تھے۔ ان کی جگہ پر اقبال کو ترقی دی گئی تھی۔ اور اقبال کی جگہ پر اسے رکھا گیا تھا۔ اس شرط پر کہ جب وہ چھٹی سے واپس آجائیں گے تو اقبال کی ترقی واپس لے لی جائے گی اور اسے برخواست کر دیا جائے گا۔

جو صاحب چھٹی پر گئے تھے ان کا نام محمود تھا۔ ان کے بارے میں پوری جانکاری نہ ہو سکی تھی۔ ان کے بارے میں زیادہ گفتگو نہیں ہوتی تھی۔ گاہے گاہے سرسری ذکر آ جاتا تھا۔ ہاں جب بھی کوئی کام اقبال ٹالنے کی کوشش کرتا۔ سپرنٹنڈنٹ صاحب کہتے۔ ”تمہاری جگہ محمود ہوتا تو یہ کام فوری کر دیتا۔“ اس کے پوچھنے پر اقبال نے بتایا ہاں محمود بھائی ہر کام منٹوں میں کر دیا کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا۔ آج نہیں تو کل یہ کام ہمیں ہی کرنا ہے۔ پھر ٹالنے سے کیا فائدہ۔ اسے کام کرتے ہوئے پندرہ بیس دن گزر گئے تھے۔ ایک دن سپرنٹنڈنٹ صاحب نے کہا کہ محمود کے پاس سے چھٹی کی درخواست نہیں آئی ہے۔ پہلی تاریخ پرچھٹی ختم ہو جائے گی۔ شاید وہ پھر سے نوکری جوائن کرلے۔ اس کے دل کو ایک دھکا سا لگا۔ دس بارہ دن میں یہ نوکری ختم ہو جائے گی پھر وہی نوکری کی تلاش ہوگی اور ہم ہوں گے۔ کیا میری ساری زندگی نجی کمپنیوں کی نوکریاں کرتے چھوڑتے گزر جائے گی۔

دو دن اسے ایک اضطراب سا رہا۔ کالج کا ماحول جس سے وہ کچھ کچھ مانوس سا ہو گیا تھا۔ یکایک اجنبی سا لگنے لگا۔ جب اس کے ساتھی گفتگو کرتے ’ہنستے‘ لطیفوں پر قہقہہ لگاتے تو اسے ایسا محسوس ہوتا کہ یہ آوازیں بہت دور سے آ رہی ہیں اور ان کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ کچھ دن بعد جب سپرنٹنڈنٹ صاحب نے اطلاع دی کہ چھٹی کی درخواست آ گئی ہے تو اسے اپنی نوکری کی طرف سے اطمینان ہوا۔

پہلی تاریخ کو اقبال نے آ کر اس سے کہا۔ ”چلو محمود بھائی کے پاس چلتے ہیں۔“ ہر مہینہ ان کی تنخواہ میں ہی ان کے گھر پہنچاتا ہوں۔ دفتر سے وہیں چلیں گے۔ میں چاہتا ہوں کہ اپنے گھر تنخواہ پہنچنے سے پہلے ان کے گھر پہنچ جائے ”۔ یکایک اسے احساس ہوا کہ ان سے ملنے کی خواہش اس کے دل میں کئی دن سے پل رہی ہے۔

دروازہ ان کے چھوٹے بھائی نے کھولا۔ ایک ضعیف و نا تواں جسم پلنگ پر پڑا ہوا تھا جس کی آنکھوں میں زندگی کی چمک ابھی باقی تھی۔ انہوں نے لیٹے لیٹے گرمجوشی سے ہاتھ ملایا۔ اس سے ہاتھ ملاتے وقت ایک مدہم سی مسکراہٹ ان کے ہونٹوں پر پھیلی ہوئی تھی۔ اقبال نے تعارف کرایا۔ آپ ہیں جواد ابراہیم۔ آپ کی جگہ پر یہ کام کر رہے ہیں۔

”آپ سے مل کر مسرت ہوئی“ ۔ انہوں نے بمشکل کہا۔ شاید انھیں گفتگو کرنے میں تکلیف ہو رہی تھی۔ اقبال نے چپکے سے ان کے ہاتھ پر تنخواہ کا لفافہ رکھ دیا۔ انہوں نے اشارے سے اپنے بھائی کو بلا کر کہا۔ ”اپنی بھابی کو دے دینا۔ کہ دینا ابھی سے اپنے آپ کو عادی کر لے۔ اگلے ماہ سے صرف آدھی تنخواہ آئے گی“ ۔ ہنوز ان کے ہونٹوں پر دھیمی سی مسکراہٹ پھیلی ہوئی تھی۔ یہ سن کر اس کے چہرے پرایک پرچھائیں سی گزر گئی۔ اگلے مہینہ اقبال کس ہمت سے آدھی تنخواہ لا کر دے گا۔ دو بچے پردہ کے پیچھے سے نمودار ہوئے۔ اقبال سے دونوں کچھ مانوس تھے۔ بچی اقبال کے اشارے پر اس کے پاس چلی آئی اور اس کے جیب میں لگے ہوئے قلم سے کھیلنے لگی۔ لڑکا ایک خالی کرسی کی پشت پکڑ کر جھولنے لگا۔ اس سے پہلے کہ کوئی منع کرتا وہ چاروں خانہ چت گرا ہوا تھا۔ دوسرے ہی لمحہ وہ ”کچھ نہیں ہوا ’کچھ نہیں ہوا امجد بہادر بچہ ہے“ کہتا ہوا اور خفت مٹانے کے لئے مسکراتا ہوا اندر بھاگ گیا۔ وہ سوچنے لگا یہ جملہ ماں یا باپ نے کہا تھا ہو گا اسے تسلی دینے کے لئے جب وہ پہلی بار گرا تھا۔ اب بچے نے خود یہ جملہ اپنا لیا ہے۔ اپنی ہمت بڑھانے کے لئے۔ شاید اس کا دل وہیں اٹکا ہوا تھا۔ کچھ ہی دیر میں وہ پھر واپس آ گیا اور محمود بھائی سے پوچھنے لگا ”پپا پھر گروں؟“ ۔

”حوصلہ ہے تو ضرور گرو بھائی“ انہوں نے جواب دیا۔
”آپ کا بچہ کافی ہمت والا ہے“ اس نے پہلی بار گفتگو میں حصہ لیا

”اب تو اسے زندگی میں یونہی گرنا اور گر کر سنبھلنا ہے“ انہوں نے کہا ”ماحول بوجھل سا ہوتا جا رہا تھا۔“ اچھا اب ہم چلتے ہیں محمود بھائی ”اقبال نے اٹھتے ہوئے کہا۔“ نہیں انکل چائے پی کر جانا ”۔ بچی نے اقبال کے جیب میں قلم رکھتے ہوئے کہا۔ دونوں چائے پی کر ہی اٹھے۔

”تمام لوگوں سے ملنے کے لئے جی بہت چاہتا ہے لیکن نقاہت بہت بڑھ گئی ہے“ ۔ محمود بھائی نے کہا۔ ”ویسے کوئی بھی اب ملنے نہیں آتا ایک سپرنٹنڈنٹ صاحب کبھی کبھی آ جاتے ہیں اور دوسرے تم ہو“

چھوٹا بھائی باہر تک چھوڑنے کے لئے آیا۔ ڈاکٹر بھی اب مایوس ہو گئے ہیں۔ کینسر سینہ سے گلے کی طرف پھیل رہا ہے۔ بہت جلد بات کرنے کی صلاحیت سے بھی بھائی محروم ہو جائیں گے ”۔ چھوٹے بھائی کا گلہ رندھ گیا۔ رخصت ہوتے وقت تینوں نے خاموشی سے ہاتھ ملایا جیسے تینوں گونگے ہوں۔

”جب مصیبت آتی ہے تو ہر طرف سے آتی ہے۔ بیماری کے ساتھ ساتھ محمود بھائی کی معاشی پریشانیاں بھی بڑھتی جا رہی ہیں اب آدھی تنخواہ والی چٹھی چل رہی ہے پھر بغیر تنخواہ والی چٹھی کا دور آئے گا۔ پھر ایک دن نوکری ختم ہو جائے گی۔“ اقبال چند فرلانگ چلنے کے بعد بولا اس کا دل بار بار بھرا رہا تھا۔

”دوستوں نے محمود بھائی کو بہت جلد بھلا دیا۔“

اس کا بھی یہی خیال تھا کہ دوست ان کا ذکر کرنے میں بخل سے کام لیتے ہیں۔ یہاں اپنے اپنے رونے سے ہی کسے فرصت ہے کہ دوسروں کی بات کی جائے۔

ایک دن گیارہ بجے کے قریب دفترمیں اطلاع آئی کہ محمود بھائی کا انتقال ہو گیا ہے۔ پرنسپل صاحب نے ایک تعزیتی میٹنگ منعقد کی اور کالج برخواست کر دیا۔ تدفین ظہر میں تھی۔

”آج چٹھی موقع سے ملی ہے۔ ایک بہت ضروری کام تھا وہ نبٹا لوں گا ایک نے کالج سے نکلتے ہوئے کہا۔
مجھے بھی نیند بہت آ رہی ہے۔ کام کرنے کو جی ہی نہیں چاہ رہا تھا اب جاکر خوب سو جاؤں گا ”
دوسرے نے کہا۔
”اٹھنا مت بھولنا۔ ورنہ کل بھی ایک تعزیتی میٹنگ رکھنی پڑے گی“

”لیکن ابھی چھٹی ملی کہاں ہے۔ تدفین میں بھی تو شرکت کرنا ہے آدھا دن تو بیت ہی جائے گا“ ۔ کسی نے یاد دلایا

”آدھے دن کی چھٹی کے عوض اس کڑی دھوپ میں قبرستان جانے سے تو بہتر ہے کہ دفتر میں پنکھے کھول کر بیٹھے رہیں“ ایک نے کہا۔

”آدھا دن کہاں۔ تدفین ختم ہونے تک تین تو بج ہی جائیں گے“ ایک اکاؤنٹنٹ نے حساب جوڑا۔

قبر ڈھانکنے سے پہلے محمود بھائی کی صورت دکھائی گئی ان کے ہونٹوں پر وہ مدھم سی مسکراہٹ اب منجمد ہو چکی تھی۔ آج وہ گونگے ہو چکے تھے۔ لیکن اللہ کا ان پر یہ کرم رہا کہ جیتے جی انھیں گونگے پن کا عذاب نہیں سہنا پڑا۔ زبان سو جائے اور احساس جاگتا رہے تو زندگی عذاب ہو جاتی ہے۔ یہ عذاب ان کے ملنے والوں کو بھی اٹھانا پڑتا۔ ان کے سامنے بات کرتے ہوئے بھی جرم کا احساس ہوتا۔

باقی دن بے کیف سا گزرا۔ شام کو جب بیٹھے بیٹھے طبیعت بے زار ہونے لگی تو جواد اقبال کے پاس چلا گیا۔ دونوں جاکر کوثر کیفے میں بیٹھ گئے۔

”اب تو تمہاری ترقی مستقل ہو گئی ہے“ اس نے چائے کا گھونٹ لیتے ہوئے اقبال سے کہا۔ اقبال کچھ بھی نہ سن سکا کیوں کہ اسی لمحہ جیوک باکس سے ایک اذیت ناک قہقہہ گونجا۔ بے ہنگم شور سے اپنی آواز بچاتے ہوئے اس نے اپنی بات دہرائی۔ اقبال معنی خیز انداز میں مسکرایا ”۔

اور تمہاری نوکری بھی سمجھو پکی ہو گئی۔ ”وہ سمجھ گیا تھا کہ یہ اپنی نوکری کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہے۔ دونوں خاموشی سے بیٹھے رہے وہ خالی پیالی سے کھیلنے لگا۔ وہ اقبال کو اس کی ترقی کی مبارکباد دینا چاہتا تھا۔ لیکن اس کے ذہن میں ایک گرہ سی پڑ گئی تھی جو کھل نہیں رہی تھی۔ اقبال دھوئیں کے مرغولے بنانے میں مصروف تھا۔ میز پر پڑی ہوئی ڈبیہ سے سگریٹ نکالتے ہوئے اس نے سوچا۔ چلو آج ڈھنگ کی نوکری تو مل گئی۔ زندگی کا ایک سنگ میل تو طے ہوا۔ ایک مرحلہ تو طے ہوا

یکایک اسے مجرمانہ احساس ہوا کہ جسے وہ سنگ میل سمجھ رہا ہے وہ سنگ میل نہیں بلکہ ایک قبر ہے۔ ایک کچی تازہ قبر۔

 

Facebook Comments HS