اسلام کوٹ میں واقع نینو رام کا آشرم
پاکستان کے صوبہ سندھ کا ضلع تھرپارکر ایک طرف اپنی رنگا رنگ اور منفرد ثقافت و تہذیب، رہن سہن، دلفریب فطری حسن اور ایک خاص رعنائی کی وجہ سے دنیا میں پہچانا جاتا ہے تو دوسری طرف خشک اور قحط سالی، غربت و افلاس، پانی کی قلت، مویشیوں میں بیماری، بچوں میں غذائی قلت، صحت اور تعلیم سے وابستہ سہولیات عدم موجودگی، حکومتی عدم توجہی کے باعث پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر وقتاً بہ وقتاً خبروں کی زینت بنا رہتا ہے۔ لیکن اسی خطے کے مرکزی شہر اسلام کوٹ میں ہندو سادھو سنت نینو رام کا آشرم ایک ایسی جگہ بھی ہے جہاں ہر جاندار کی آؤ بھگت ہوتی ہے، جہاں کسی بھی چیز کی قلت اور عدم دستیابی کا تصور نہیں ہے۔
سنت نینو رام کا جنم ایک غریب خاندان میں میگھو رام لوہانا کے گھر میں سال 1898 ع میں ہوا، ان کے والد کا انتقال ان کے جنم لینے سے 3 ماہ قبل ہو چکا تھا، جب ان کی عمر 6 ماہ ہوئی تو والدہ بھی اس دارفانی سے رخصت کر گئی، بچپن میں ہی ماں باپ کے گزر جانے کے بعد پرورش چچا لکھو رام نے کی، اسکول میں تعلیم تو فقط 3 درجہ تک حاصل کر سکے، لیکن ان کا ایک اہم مشغلہ شاہ عبداللطیف بھٹائی، بھگت کبیر، بلھے شاہ اور سوامی کے کلام کو پڑھنا بھی تھا، ایک دن وہاں سے ایک قافلے کا گزر ہوا جو کہ تیرتھ یاترا پر جا رہا تھا، وہ اپنی دکان چھوڑ کر اس قافلے میں شامل ہو گئے اور انہوں نے یہ سفر ننگے پاؤں طے کیا۔ واپس لوٹنے پر وہ راجستھان کے علاقے چہوٹن کے نزدیکی گاؤں کیکڑ میں پہنچے جہاں وہ گرو کنیا رام کے آشرم میں رہے، وہاں رہنے کے بعد 1937 میں وہ واپس شہر اسلام کوٹ لوٹ کر آئے۔
نینو رام سے قبل یہ آشرم سوامی پورن بھارتی آشرم کے نام سے جانا جاتا تھا، نینو رام نے بھی سوامی پورن کے ساتھ آشرم کو اپنا آستان بنا لیا، بالغ ہونے پر آرام و آسائش کی زندگی کو چھوڑ کر روحانیت کے سفر کا آغاز کیا، گزرتی عمر کے ساتھ دنیا کی دو رنگی روایتوں سے کنارہ کشی کر کے اپنے زندگی کے چند اصول انسان ذات کی خدمت، مویشیوں سے لے کر پرندوں، درختوں کی سیوا کرنا وغیرہ ٹھان لیے تھے۔ انسان ہوں یا حیوان، چرند ہو یا پرند، سب کے لیے ان کے دل میں محبت تھی۔ اس آشرم کو آج سنت نینو رام آشرم کہا اور مانا جاتا ہے، نینو رام کے نام سے منسوب اس جگہ پر صرف ایک آشرم ہی نہیں مندر بھی ہے، جہاں بھجن گائے جاتے ہیں، ہندو مذہب کے دیگر تہوار بھی منائے جاتے ہیں، آشرم میں پوجا پاٹ کا بھی مکمل بندوبست ہے۔
نینو رام کے برسی پر شہر اسلام کوٹ میں تین روزہ میلا ستمبر یا اکتوبر کے دوران سجایا جاتا ہے، رواں سال آنے والی 48 ویں برسی کی تیاریاں عروج پر ہیں، 24 ستمبر سے میلے کی شروعات ہو گی، برسی کے موقعے پر میلے میں دیس اور پردیس میں رہنے والے مختلف عقیدوں پر یقین رکھنے والے لوگ شرکت کریں گے۔
وسیع اراضی پر مشتمل اس آشرم میں عقیدت مندوں نے ہی آشرم کے مختلف کاموں کی ذمے داریاں اٹھا رکھیں ہیں، فی الوقت خاص طور پر شہر اسلام کوٹ کے قدیم رہائشی لوہانا کمیونٹی کے لوگوں نے ذمے داریاں اٹھا رکھیں ہیں، آشرم کے تمام تر انتظامات لوہانا کمیونٹی کے زیر اہتمام ہیں، عقیدت مندوں کی جانب سے اس آشرم کو مزید بہتر بنانے کے لیے مقامی ہندو مذہب سے وابستہ تاجروں و دیگر سیاسی اور سماجی اراکین کے ساتھ تعاون کیا اور انھیں اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ بھی اس کار خیر میں ان کا ساتھ دیں تا کہ غربت و قحط کے مارے اس خطے میں زیادہ سے زیادہ غریبوں و یتیموں کو کھانا میسر کیا جا سکے۔
اس آشرم میں روزانہ کی بنیاد قریب 600 سے 700 سائلین کے لیے کھانا پکایا جاتا ہے، جو کہ مہمانوں اور مقامی غریبوں، مزدوروں اور یتیموں کو بنا کسی رنگ، نسل، ذات و مذہب کے تین وقت کا کھانا پڑوسا جاتا ہے، کھانے کے وقت آشرم میں موجود عقیدت مند اور خدمتگار آپ کو کھانا کھائے بغیر جانے نہیں دیں دیتے ہیں، یہ روایت پچھلے 50 برس سے آج تک چلتی آ رہی ہے، مگر یہ نینو رام کا آشرم صرف انسانوں کی بھوک نہیں مٹاتا، بلکہ یہاں پرندوں اور جانوروں کے لیے بھی پانی، دانا اور کھانا رکھا جاتا ہے۔
آشرم کے داخلی دروازے کے ساتھ ہی چوپائیوں کے لیے ایک باڑہ بھی موجود ہے، اس وقت آشرم کی 60 سے زائد گائے و دیگر مویشیاں ہیں، جن کی دیکھ بھال کمل کمار نامی شخص بغیر تنخواہ کے کرتا ہے، وہ اس کام کو عقیدے کے طور پر سالوں سے نبھاتا آ آ رہا ہے
اس ضمن میں ہماری کمل کمار کے ساتھ گفتگو ہوئی تو انھوں نے بتایا کہ: آشرم کی 60 گائے ہیں، جن کا دودھ مارکیٹ میں بیچنے کے بجائے وہاں پر آنے والے لوگوں کے لیے آشرم میں تیار ہونے والی خورد و نوش کی اشیاء میں استعمال کیا جاتا ہے، جن کی دیکھ بھال بھی میں کرتا ہوں، آشرم انتظامیہ نے آشرم کے نزدیک مال مویشی کے لیے الگ جگہ مختص کی ہے، جہاں مویشیوں کو گھاس، چارہ پانی وغیرہ دیا جاتا ہے، جن کے لیے 4 ملازم رکھے ہوئے ہیں، ساتھ و ساتھ بیمار جانوروں کا علاج بھی مفت میں کیا جاتا ہے۔ اور اس کے علاوہ قحط کی صورتحال میں بیراجی علاقوں کی طرف آنے جانے والے تھری باشندے اپنے مال مویشی آشرم کی جانب سے مختص کی گئی جگہ پر ٹھہراتے ہیں، جن کو گھاس، چارہ اور پانی وغیرہ بھی مفت میں فراہم کیا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ نینو رام آشرم پر پرندوں کو دانا پانی بھی دیا جاتا ہے، خاص طور پر باجرے کے دانے، روٹی کے ٹکڑے فرش پر بکھیرے جاتے ہیں اور گھنے درختوں کے نیچے پرندوں کے لیے مٹی کے برتنوں میں پانی بھر دیا جاتا ہے جو کہ ہر وقت دستیاب ہوتا ہے، روز مرہ کی بنیاد پر 6 من سے زائد آشرم کی طرف سے دانے ڈالے جاتے ہیں، اور آشرم میں آنے والے عقیدت مند لوگ بھی اپنے ساتھ پرندوں کے لیے دانے لاتے ہیں، جس وجہ سے ہزاروں کی تعداد میں مختلف اقسام کے پرندوں کا آشرم پر آنا جانا لگا رہتا ہے۔
شہر اسلام کوٹ میں قائم نینو رام چیریٹی اسپتال میں اس وقت 2 ایم بی بی ایس ڈاکٹر اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں جو کہ آنے والے مریضوں کا مفت میں علاج کرتے ہیں، ساتھ و ساتھ مختلف بیماریوں کے ٹیسٹ بھی اسپتال کی لیب سے مفت میں کیے جاتے ہیں۔ پچھلے 27 برسوں سے شہر اسلام کوٹ میں ماہ نومبر یا دسمبر کے دوران لگنے والی آنکھوں کی کیمپ میں مریضوں کو آشرم کی جانب سے ادویات، کھانا اور رہائش مفت میں فراہم کی جاتی ہے۔







