کیا آپ اینزائٹی کی نفسیات سے واقف ہیں؟


اینزائٹی ایک ایسا نفسیاتی مسئلہ ہے جو عوام و خواص کے لیے ایک معمہ ہے۔ ایک بجھارت ہے۔ ایک ایسی پہیلی ہے جسے مختلف مکاتب فکر کے ماہرین اور محققین بوجھنے اور اس کے راز جاننے کی کئی دہائیوں سے کوشش کر رہے ہیں۔

اینزائٹی ایک ایسی بے نام سی ’بے سبب سی اور بظاہر بے وجہ سی پریشانی اور بے چینی کا نام ہے جس میں انسان بے بس اور غیر محفوظ محسوس کرتا ہے۔

میں نے اینزائٹی کے موضوع پر جتنی کتابیں پڑھی ہیں رولو مے کی کتابTHE MEANING OF ANXIETY ان میں سب سے زیادہ مستند اور معتبر کتاب ہے۔ میں اپنے خیالات کے ساتھ ساتھ اس کالم میں اس کتاب کے چند اقتباسات کا ترجمہ اور تلخیص بھی پیش کرنا چاہوں گا۔

رولو مے فرماتے ہیں کہ جو شخص اینزائٹی کا شکار ہوتا ہے اگر آپ اس سے پوچھیں کہ آپ کیوں اتنے بے چین اور پریشان ہیں تو وہ کوئی تسلی بخش جواب نہیں دے پاتا کیونکہ وہ خود ایک بے یقینی کا شکار ہوتا ہے۔ اس بے یقینی کی ایک وجہ یہ ہوتی ہے کہ اس کی بے چینی کا تعلق کسی ایسے گہرے نفسیاتی مسئلے سے ہوتا ہے جس کا اسے خود پوری طرح شعور نہیں ہوتا کیونکہ اس مسئلے کا کچھ حصہ لاشعور میں چھپا ہوتا ہے۔ اینزائٹی کا مسئلہ ایک آئس برگ اور ایک ایسی جل پری کی طرح ہوتا ہے جو آدھی پانی سے باہر اور آدھی پانی کے اندر مخفی ہوتی ہے۔

اینزائٹی کا شکار انسان ایک ایسی صورت حال کا شکار ہوتا ہے جہاں اس کی جان کو تو نہیں لیکن اس کی ذات کو ’اس کے اعتماد کو‘ اس کی عزت نفس کو اور اس کی خود داری کو خطرہ محسوس ہوتا ہے۔ اسے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اس کی زندگی کی افادیت اور معنویت خطرے میں ہو۔ اس کے دل میں کوئی ایسی خواہش ’کوئی ایسی امید اور کوئی ایسی آرزو ہوتی ہے جو اس کی زندگی کو بامعنی بناتی ہے۔ اور جب اس انسان کو لاشعوری پر بے معنویت کا خطرہ پیدا ہوتا ہے تو وہ اینزائٹی کا شکار ہو جاتا ہے۔

یہ خطرہ خارجی سے زیادہ داخلی اور سماجی سے زیادہ نفسیاتی ہوتا ہے۔ وہ خطرہ دوسروں کو دکھائی نہیں دیتا اسی لیے وہ اینزائٹی کے شکار شخص کو حیرانی سے دیکھتے ہیں اور اس کی بے چینی کا سبب جاننے کے لیے بیسیوں سوال پوچھتے ہیں لیکن اینزائٹی کا مریض ان سوالوں کا تسلی بخش جواب نہیں دے پاتا کیونکہ ان کا جواب شعور سے زیادہ لاشعور میں مخفی ہوتا ہے جس سے مریض خود بھی بے خبر ہوتا ہے۔

اینزائٹی میں انسان بے بس محسوس کرتا ہے۔ وہ عقلمند ہوتے ہوئے بھی کم عقل محسوس کرتا ہے۔ وہ بھری دنیا میں تنہا محسوس کرتا ہے۔ وہ دوستوں میں گھرا ہونے کے باوجود مجبور محض اور غیر محفوظ محسوس کرتا ہے۔

جب ہم اینزائٹی کے مریض کا نفسیاتی تجزیہ کرتے ہیں تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ اینزائٹی کے مریض کی کوئی ایسی داخلی قدر ہوتی ہے جو خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ ایک مریض نے انٹرویو میں کہا ’اگر مجھے نوکری نہ ملی اور میں اپنے خاندان کا خیال نہ رکھ سکا تو خود کشی کر لوں گا‘

اس مرد کے لیے اپنے بیوی بچوں کا خیال رکھنا اس کی عزت نفس کے لیے اتنا اہم تھا کہ اگر وہ ایسا نہ کر سکتا تو اس کے ضمیر کے لیے زندہ رہنا محال ہو جاتا۔

اینزائٹی میں انسان کی ذات اور اس کی انا اور اس کی عزت نفس اور اس کی خود داری کی بنیاد کی کوئی اینٹ ہلنے لگتی ہے اور اس کی خود اعتمادی کی عمارت ڈگمگانے لگتی ہے۔ اسے لگتا ہے اس پر کسی نے پیچھے سے انجانے میں حملہ کر دیا ہے ایسا حملہ جس کے لیے وہ بالکل تیار نہ تھا۔ اسی لیے وہ بے بس محسوس کرتا ہے اور اس کی بے بسی اور لاچارگی اسے بے چین اور پریشان کر دیتی ہے۔

بعض دفعہ اینزائٹی کے مریض کو یہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ کہیں وہ عاقل و بالغ ہونے کے باوجود اپنا ذہنی توازن نہ کھو بیٹھے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اینزائٹی کی دو اقسام ہیں۔

پہلی قسم کی اینزائٹی فطری اور نارمل ہے جس میں انسان مسئلے کو جانتا ہے سمجھتا ہے اور اس سے نبرد آزما ہونے کی تیاری کرتا ہے۔ جیسے کسی عورت کے لیے ملازمت کے انٹرویو کی اینزائٹی یا کسی طالب علم کے لیے امتحان کی تیاری کی اینزائٹی۔ وہ اینزائٹی اس کے لیے کار آمد ثابت ہوتی ہے۔ فرائڈ ایسی اینزائٹی کو objective anxietyکا نام دیتے تھے۔

دوسری قسم کی اینزائٹی ابنارمل اور غیر فطری ہوتی ہے۔ وہ جب ایک حد سے بڑھ جاتی ہے تو انسان کو نفسیاتی طور پر مفلوج کرنے لگتی ہے۔ ماہرین ایسی اینزائٹی کو neurotic anxiety کا نام دیتے ہیں۔

بعض ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ بعض اینزائٹی کے مریضوں کو سمجھنے کے لیے انسان کا موت سے رشتہ سمجھنا ضروری ہے۔

ذہنی طور پر صحتمند انسان موت کو معروضی حقیقت کی طرح قبول کرتا ہے اور جانتا ہے کہ ہر زندہ چیز کو ایک دن مرنا ہے۔ موت زندگی کی آخری منزل ہے۔

ذہنی طور پر غیر صحتمند انسان موت کے بارے میں حد سے زیادہ خوف زدہ اور پریشان رہتا ہے۔ یہ پریشانی اس کا دن کا چین بھی خراب کرتی ہے اور راتوں کی نیند بھی اڑا دیتی ہے۔ نفسیاتی طور پر غیر صحتمند انسان موت کے بارے میں پریشان ہو کر نیوروٹک اینزائٹی کا شکار ہو جاتے ہیں۔

بعض ماہرین نفسیات کا خیال ہے کہ ایک خاص قسم کی اینزائٹی کا تعلق محبت کے رشتوں میں جدائی سے بھی ہے ایسی اینزائٹی SEPARATION ANXIETY کہلاتی ہے۔ ماہر نفسیات اوٹو رینک کا موقف تھا کہ اگر کسی انسان کو اپنے بچپن میں اپنی ماں کی شب و روز کی بے لوث محبت نہ ملی ہو تو اس بچے کے دل میں عدم تحفظ کا جذبہ پنپنے لگتا ہے اور وہ نوجوانی تک پہنچتے پہنچتے اینزائٹی کا شکار ہو جاتا ہے۔ وہ محبت کے رشتوں میں غیر محفوظ محسوس کرنے لگتا ہے۔

ماہر نفسیات جون بولبی کی نفسیاتی تحقیق اور ATTACHMENT THEORY نے اوٹو رینک کے موقف کی تائید کی۔ ایسی اینزائٹی انسانی رشتوں کو متاثر کرتی ہے اور محبت کے رشتوں میں عدم اعتمادی کا زہر گھولتی رہتی ہے۔ ایسا انسان ہر وقت اتنا بے چین رہتا ہے کہ اسے دھڑکا لگا رہتا ہے کہ اس کا محبوب اسے کبھی بھی چھوڑ کر جا سکتا ہے۔ اسے دن رات FEAR OF ABANDONMENTکھائے جاتا ہے اسے محبوب کی تسلی دینے کے باوجود بھی تسلی نہیں ہوتی۔ اینزائٹی کے مریض کو یقین ہی نہیں آتا کہ کوئی اسے اتنا چاہتا ہے اس سے ٹوٹ کر محبت کرتا ہے کیونکہ اس میں خود اعتمادی کی اتنی کمی ہوتی ہے کہ وہ خود کو UNLOVABLEسمجھتا ہے۔

ماہر نفسیات آر ڈی لینگ نے اس نفسیاتی کیفیت کو ایک ڈرامائی مکالمے میں پیش کیا ہے جو حاضر خدمت ہے

کیا تم مجھ سے محبت کرتے ہو؟
عورت :کیا تم مجھ سے محبت کرتے ہو؟
مرد :ہاں میں تم سے محبت کرتا ہوں
عورت :سب سے زیادہ؟
مرد :ہاں سب سے زیادہ
عورت :سارے جہاں سے زیادہ؟
مرد:ہاں سارے جہاں سے زیادہ
عورت :کیا تم مجھے پسند کرتے ہو؟
مرد: ہاں میں تمہیں پسند کرتا ہوں
عورت :کیا تم میری قربت پسند کرتے ہو؟
مرد:ہاں میں تمہاری قربت پسند کرتا ہوں
عورت :کیا تم مجھے دیکھنا پسند کرتے ہو؟
مرد:میں تمہیں دیکھنا پسند کرتا ہوں
عورت: کیا تمہارے خیال میں میں چغد ہوں؟
مرد :نہیں میرے خیال میں تم چغد نہیں ہوں
عورت :کیا تمہارے خیال میں میں دلکش ہوں؟
مرد : ہاں میرے خیال میں تم دلکش ہو
عورت :کیا میں تمہیں بور کرتی ہوں؟
مرد: نہیں تم مجھے بور نہیں کرتی
عورت :کیا تمہیں میرے ابرو پسند ہیں؟
مرد:ہاں مجھے تمہارے ابرو پسند ہیں
عورت: کیا بہت زیادہ؟
مرد: ہاں بہت زیادہ
عورت: کون سا تمہیں زیادہ پسند ہے؟
مرد :اگر ایک کی تعریف کروں گا تو دوسرا حسد کرے گا
عورت :تمہیں کہنا پڑے گا
مرد :دونوں بہت پیارے ہیں
عورت :سچ کہتے ہو؟
مرد :ہاں سچ کہتا ہوں
عورت: کیا میری پلکیں بہت خوبصورت ہیں؟
مرد :ہاں تمہاری پلکیں بہت خوبصورت ہیں
عورت :کیا تم مجھے سونگھنا پسند کرتے ہو؟
مرد: ہاں میں تمہیں سونگھنا پسند کرتا ہوں
عورت :کیا تمہیں میرا عطر پسند ہے؟
مرد: ہاں مجھے تمہارا عطر پسند ہے
عورت :کیا تمہارے خیال میں میں خوش مذاق ہوں؟
مرد : ہاں میرے خیال میں تم خوش مذاق ہو
عورت :کیا تمہارے خیال میں مجھ میں بہت سی صلاحیتیں پوشیدہ ہیں؟
مرد:ہاں میرے خیال میں تم میں بہت سی صلاحیتیں پوشیدہ ہیں۔
عورت :کیا تمہارے خیال میں میں سست ہوں؟
مرد :نہیں میرے خیال میں تم سست نہیں ہو
عورت :کیا تم مجھے چھونا پسند کرتے ہو؟
مرد : ہاں میں تمہیں چھونا پسند کرتا ہوں
عورت :کیا تمہارے خیال میں میں مسخری ہوں؟
مرد :صرف دلکش انداز میں
عورت :کیا تم میرا مذاق اڑا رہے ہو؟
مرد :نہیں میں تمہارا مذاق نہیں اڑا رہا
عورت :کیا تم حقیقتا مجھ سے محبت کرتے ہو؟
مرد:ہاں میں تم سے حقیقتا محبت کرتا ہوں
عورت:کہو ”میں تم سے محبت کرتا ہوں“
مرد:میں تم سے محبت کرتا ہوں
عورت :کیا تم مجھے گلے لگانا چاہتے ہو؟

مرد :ہاں ’میں تمہیں گلا گلے لگانا چاہتا ہوں‘ اپنی آغوش میں لینا چاہتا ہوں اور راز و نیاز کی باتیں کرنا چاہتا ہوں

عورت : قسم کھاؤ کہ تم مجھے چھوڑ کر نہیں جاؤ گے

مرد :میں قسم کھاتا ہوں کہ میں تم کو چھوڑ کر نہیں جاؤں گا۔ میں دل پر ہاتھ رکھ کر کہتا ہوں کہ اگر جھوٹ بولوں تو مر جاؤں۔

(کچھ عرصے کے لیے خاموشی)
عورت :کیا تم مجھ سے ”حقیقتا” محبت کرتے ہو؟

نیوروٹک اینزائٹی کے مریض کی جب تھراپی ہوتی ہے تو اس کی خود اعتمادی میں اضافہ ہوتا ہے۔ پھر وہ اپنی ذات پر بھی اور دوسروں سے محبت کے رشتوں پر بھی اعتماد کر سکتا ہے۔ وہ اپنے شعور اور لاشعور کے تضادات کا مناسب حل تلاش کرنے کے بعد ایک صحتمند زندگی گزار سکتا ہے۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail