پہنچے ہوئے لوگ


ہمیشہ سے سنا تھا کہ فلاں بزرگ بہت پہنچے ہوئے تھے۔ کوئی کہتا ہمارے مرشد بہت پہنچے ہوئے تھے۔

پھر پتہ چلا کہ رات کے کھانے پر ایک لڑکی نے اپنی ماں سے کہا اماں مجھے لگتا ہے کل ہمارے گھر میں ایک فرد کم ہو گا اور صبح اپنے دوست کے ساتھ سارا زیور وغیرہ لے کر بھاگ گئی۔

صبح جب ماں باپ کی آنکھ کھلی تو سب کچھ بیٹی کے ساتھ غائب تھا۔ باپ نے شور مچانا شروع کر دیا ہائے ہم لٹ گئے ہماری لڑکی بھاگ گئی۔

ماں کہنے لگی پر ہماری لڑکی بہت پہنچی ہوئی تھہےی۔ رات کو ہی اس نے بتا دیا تھا کہ صبح گھر کا ایک فرد کم ہو گا۔ دیکھو کتنی پہنچی ہوئی تھی کہ وقت سے پہلے بتا دیا تھا۔ کہ صبح ایک فرد کم ہو گا۔ اس کے باپ نے لوگوں کو کہا ہماری لڑکی بھاگ گئی مگر آپ غور کریں کہ وہ کتنی پہنچی ہوئی تھی۔

آج میں پیٹرول کے مہنگا ہونے پر بالکل پریشان نہیں ہوں۔ پر مجھے یقین ہو گیا کہ پاکستان تحریک انصاف کے تمام کارکن بہت پہنچے ہوئے ہیں۔ جب پہلی دفعہ ان کے دور حکومت میں تیل کی قیمتیں بڑھی تھیں تو ان سب نے کہا تھا کہ بے شک پیٹرول دو سو روپے لیٹر ہو جائے ہمیں پرواہ نہیں۔ ہم کپتان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ پیٹرول دو سو روپے کی طرف گامزن ہے۔ اور میرے پہنچے ہوئے خان کے ساتھ کھڑے ہیں۔

کیونکہ 160 روپے لیٹر پیٹرول ڈلوا کر کوئی چل تو نہیں سکتا پر کھڑا تو ہو سکتا ہے۔ کتنے پہنچے ہوئے لوگ ہیں جو پہلے چلتے تھے اب کھڑے ہیں۔

چند ماہ پہلے 2021 میں علاج کے سلسلے میں جب لاہور یاترا شروع کی تو پیٹرول 123 روپے تھا 30 لیٹر × 123 روپے = 3690 یک طرفہ خرچہ آتا ہے۔ میرے بچے مجھے دیکھنے آئے ہوئے تھے آج واپس گئے ہیں اور پیٹرول 160 روپے لیٹر ہو چکا ہے 30 لیٹر × 160 روپے = 4800 روپے کچھ خاص فرق نہیں ہے، صرف 1110 روپے یک طرفہ اور دو طرفہ 2220 روپے علاوہ ٹال ٹیکس اضافہ ہوا ہے۔ دو طرفہ 9600 روپے پیٹرول+ 1820 روپے ٹال ٹیکس= 11420 روپے آئل تبدیل کیے بغیر خرچہ ہو گیا ہے۔ آئل کے ساتھ یہ ٹور ہر دفعہ تقریباً 13000 روپے صرف گاڑی کا خرچ ہوجاتا ہے۔

میں پچھلے 50 دن سے لاہور ہی ہوں جب ڈاکٹر اجازت دیں گے تو سفر کر سکوں گا سوچ رہا ہوں یہ کیسا سفر ہے جس میں پوری قوم انگریزی والا سفر اور اردو والا سفر ساتھ ساتھ کر رہی ہے۔ مجھے دنیا کی قیمتوں اور تنخواہوں کا پتہ نہیں پر اگر مجھے بتانا ہے تو پھر میری تنخواہ بھی دنیا کے برابر کی جائیں۔ ورنہ برائے مہربانی مجھے دنیا نہ دکھائی جائے اور نہ ہی کوئی نئی تسلی پریس کانفرنس دکھائی جائے۔ ہمیں خود پتہ ہے جب روٹی نہ ملے کھانے کو تو کیک کھانا ہے۔ پر اب نہ ہی روٹی مل رہی ہے اور نہ ہی کیک۔

میں تو بران بریڈ کھا لیتا ہوں پتہ نہیں باقی عوام کیا کرتی ہوگی۔ آج ایک ریڈیالوجی ڈپارٹمنٹ سے ریویو کروانے کا حکم ہوا انھوں نے کل کا الٹرا ساونڈ دیکھ کر صرف پٹی تبدل کی اور 3000 روپے ریویو کے چارج کر لیے۔

ہر دوسرے دن میری بیوی یہ پٹی خود تبدیل کرتی ہے اور ساتھ حوصلہ بھی دیتی ہے آپ پریشان نہ ہوں انشاء اللہ جلد ٹھیک ہوجائیں گے۔ آج اس بات پر بھی میرا شکریہ ادا کرنے کو جی چاہا۔ پر کس کس بات پر اس کا شکریہ ادا کروں۔

شکریہ ادا کرنے اور معافی مانگنے میں میں دیر نہیں کرتا۔ پر کچھ اپنوں کی محبتیں اتنی زیادہ ہیں کہ شکریہ کا لفظ مناسب نہیں لگتا۔ بہت کم لگتا ہے۔ ہر قوم عظیم ہے۔ کسی کی دل آزاری کرنا میرا مقصد نہیں بہت سے جٹ میرے دوست اور رہبر ہیں۔ جیسا کہ، سجاد نبی بابر صاحب، ابرار چیمہ صاحب، زوہیب چیمہ صاحب، حسن چیمہ صاحب، رزاق وینس صاحب اور بہت سے جو بہت سیانے، پیارے اور سمجھدار جٹ ہیں۔ ہمیشہ جٹوں کا شملہ بلند کرتے دیکھا ہے ہمارے گاؤں میں گجر اور آرائیں آباد ہیں۔ لیکن آرائیوں کے ایک بچے کو الیاس جٹ یا صرف جٹ کہا جاتا تھا۔ ایک دن ابا جی سے پوچھا کہ ابا جی ارائیوں کا بچہ جٹ کیسے۔ کہنے لگے میرے بیٹے۔ جٹ ہونا بھی ربی کام ہے۔ پر کچھ لوگوں کے رویوں سے نظر آتا ہے۔ اور کچھ کی حرکتوں سے۔ ابا جی کہنے لگے بیٹا الیاس اپنے کاموں کی وجہ سے جٹ ہے اس لئے اس کو جٹ کہا ہے۔

میرے لائلپور کے رہائشی وزیراعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر صاحب کے ساتھ ٹی وی کی سکرین اور سوشل میڈیا پر ملاقات رہتی ہے اور ماشاء اللہ سے یہ سب ایک جٹ ہی کر سکتا ہے۔ جس کا نام اور کام دونوں جٹ ہیں۔ ماشاء اللہ انکو بھی سب پہلے سے معلوم ہے۔ مجھے یقین ہے کہ میرے وزیراعظم کو بھی سب معلوم ہے اور بہت پہنچے ہوئے ہیں۔ اور مرشد ہیں۔ ان سے عرض ہے مرشد دعا نہ دیجئے میرے دکھوں کا ازالہ کیجئے۔ آپ کو تو آپ کے بقول سب سے زیادہ معلوم ہے آپ وقت کے حکمران اور ولی ہیں۔ بہت پہنچے ہوئے ہیں۔

امید کے راستے بہت لمبے ہیں مرشد کوئی درمیانی راستہ نکالیں ورنہ عوام نہیں ہوں گے  تو وزیراعظم کس کے بنیں گے۔

Facebook Comments HS