’سوئس سیکرٹس‘ میں شامل پاکستانی جرنیل کون ہیں ؟

عمر فاروق، فاروق عادل - اسلام آباد


پاکستان آرمی کے اہم ترین عہدوں پر فائز رہنے والے دو سابق جنرلز پر الزام ہے کہ انھوں نے غیر قانونی طور پر سوئٹزر لینڈ کے بینک میں ناجائز طریقوں سے حاصل کی گئی دولت اکھٹی کی۔

یہ الزامات بین الاقوامی نجی بینک ’کریڈٹ سوئز‘ کے صارفین کے اکاؤنٹس کی خفیہ معلومات پر مشتمل ’دی سوئز سیکرٹس‘ کا حصہ ہیں جن میں دنیا بھر سے سیاست دانوں، فوجی آمروں، جرائم پیشہ افراد سمیت کئی دیگر افراد کا نام بھی شامل ہے۔

ان افراد میں پاکستان کے دو سابق جنرلز کے نام بھی شامل ہیں۔ ان میں سے ایک سابق آئی ایس آئی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی جنرل اختر عبد الرحمان ہیں اور دوسرے جنرل زاہد علی اکبر۔

یہ افراد کون ہیں؟ بی بی سی نے سوئز سیکرٹس کے تناظر میں قارئین کے لیے اس خصوصی رپورٹ میں چند اہم تفصیلات پیش کی ہیں۔

general abdur rehman akhtar
جنرل اختر عبدالرحمان

جنرل اختر عبدالرحمٰن

’جسم توانا، چست اور مضبوط، وردی اُجلی شفاف اور بے داغ اور سینے پر رنگین تمغوں کی تین قطاریں جن سے معلوم ہوتا کہ قیام پاکستان کے بعد وہ کتنے فوجی معرکوں میں شریک ہو چکے ہیں۔‘

پاکستان کی انٹر سروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) کے سربراہ اور بعد میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی تعینات رہنے والے جنرل اختر کا یہ خاکہ بریگیڈیئر ریٹائرڈ محمد یوسف نے کھینچا ہے۔

جنرل اختر نے قیام پاکستان سے قبل سنہ 1946 میں رائل برٹش آرمی میں شمولیت اختیار کی اور تین جنگوں میں شریک رہے۔

اس کے باوجود اُن کی عسکری زندگی کا سب سے اہم معرکہ وہ ہے جسے سرد جنگ کا نکتہ عروج بھی قرار دیا جا سکتا ہے اور اس کے خاتمے کا سبب بھی۔

عرف عام میں اسے ’جہاد افغانستان‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ’جہاد افغانستان‘ میں اُن کی شرکت اور دلچسپی ایک دستاویز سے شروع ہوئی۔

بریگیڈیئر محمد یوسف نے اپنی کتاب ’خاموش مجاہد‘ میں اس پس منظر کا تفصیل سے ذکر کیا ہے جو جنرل اختر کی جہاد افغانستان میں شرکت کی وجہ بنی۔ سنہ 1979 میں سوویت یونین کی مسلح افواج پاکستان کے پڑوس یعنی افغانستان میں داخل ہوئیں تو ملک کے انتظامی سربراہ اور چیف آف آرمی سٹاف کی حیثیت سے جنرل ضیا الحق نے انھیں طلب کیا اور ان کی رائے طلب کی۔

جنرل ضیا نے اس مقصد کے لیے جنرل اختر سے مشورہ کیوں کیا؟ بریگیڈیئر یوسف کے خیال میں اس کی دو وجوہات ہو سکتی تھیں۔ پہلی وجہ تو اُن کا منصب ہی تھی کیوںکہ ان دنوں وہ فوج کے اہم ترین خفیہ ادارے انٹر سروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) کے سربراہ تھے۔ دوسری وجہ شاید یہ رہی ہو کہ قیام پاکستان سے قبل یہ دونوں جرنیل کیڈٹس کی حیثیت میں اکھٹے کام کر چکے تھے۔

ممتاز تجزیہ کار، کالم نگار اور جنرل اختر عبدالرحمن کی سوانح حیات ’فاتح‘ کے مصنف ہارون رشید یقین سے کہتے ہیں کہ اس قربت کی وجہ دونوں جرنیلوں کے خاندانوں کی مشرقی پنجاب سے نقل مکانی تھی۔

مسلح افواج کے ان دونوں ذمہ داروں میں قربت غیر معمولی تھی۔ ہارون رشید بتاتے ہیں کہ جنرل ضیا اور جنرل اختر کے گھروں کی دیواریں ملتی تھیں۔ چنانچہ دیوار میں ایک دروازہ بنا دیا گیا تھا تاکہ دونوں جرنیل جب چاہیں ایک دوسرے کے گھر جا کر افغان جنگ کے بارے میں خفیہ مشاورت کر سکیں۔

تیزی سے بگڑتی ہوئی افغانستان کی صورتحال کے پیش نظر جنرل اختر نے جنرل ضیاالحق سے کچھ وقت طلب کیا اور ایک جامع تجزیاتی رپورٹ مرتب کی۔

بطور جی او سی 12 ڈویژن جنرل اختر آرمی چیف جنرل ضیا کے ہمراہ سنہ 1976
بطور جی او سی 12 ڈویژن جنرل اختر آرمی چیف جنرل ضیا کے ہمراہ سنہ 1976

یہ رپورٹ تین حصوں پر مشتمل تھی۔

پہلا نکتہ یہ تھا کہ پاکستان کو پوری دل جمعی کے ساتھ ’افغان جہاد‘ کا حصہ بننا چاہیے۔ رپورٹ کے مطابق اس کا ایک سبب خالصتاً پاکستان کا مفاد تھا۔ انھوں نے لکھا کہ افغانستان پر کمیونسٹ قبضے کے بعد پاکستانی علاقے میں ان کی توسیع کے امکانات میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا ہے، اس لیے پاکستان کا ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنا درست نہیں۔

دوسرے نکتے میں انھوں نے اولاً سوویت یونین کے سامنے مزاحمت کرنے اور ثانیاً انھیں واپس سوویت یونین میں دھکیل دینے کا تصور پیش کیا۔

تیسرے نکتے میں انھوں نے مزاحمت کی حکمت عملی کی نشان دہی کی۔ انھوں نے افغان عوام کے قبائلی اور نسلی مزاج کا جائزہ لیتے ہوئے بتایا کہ یہ لوگ بے پناہ قوت برداشت اور قربانی کا جذبہ رکھتے ہیں، لہٰذا انھیں مناسب رہنمائی، تربیت اور اسلحہ فراہم کر دیا جائے تو یہ ناقابل شکست گوریلا فوج کی حیثیت اختیار کر سکتے ہیں۔

جنرل ضیا نے ان تجاویز سے اتفاق کیا اور انگریزی میں ایک جملہ بولا جو بعد میں جہاد افغانستان کے ضمن میں پالیسی کی صورت اختیار کر گیا۔ جنرل ضیا نے کہا:

The water in Afghanistan must boiled at the right temperature

بریگیڈیئر یوسف نے اس جملے کی وضاحت یوں کی: ’افغان جنگ محدود شدت کے ساتھ لڑی جائے تاکہ روس کو پاکستان کے خلاف کسی جارحیت کا موقع نہ ملے۔‘

بریگیڈیئر یوسف لکھتے ہیں کہ آنے والے برسوں میں یہ جنگ اسی پالیسی کے تحت لڑی گئی اور جنرل اختر نے یقینی بنایا کہ اس جنگ کا کوئی بھی پہلو اس حکمت عملی کی مخالف سمت میں نہ جائے۔

جنگیں طے شدہ منصوبے کے تحت مشکل سے ہی لڑی جاتی ہیں اس لیے کسی لمحے کوئی بھی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ یوسف لکھتے ہیں کہ جنرل اختر نے اس جنگ کے سلسلے میں دو فیصلے کیے تھے۔

  • افغان جنگ کے لیے اسلحہ کی فراہمی کمانڈروں کے بجائے تنظیموں کو کی جائے۔ اس مقصد کے لیے ان ہی کی کوششوں سے سات جماعتی افغان اتحاد تشکیل پایا تھا۔
  • اسلحے کی فراہمی اور مجاہدین کی تربیت کا تمام تر عمل پاکستان کے ہاتھ میں رہے۔ اس میں کوئی بڑی سے بڑی طاقت بھی کوئی مداخلت نہ کرے۔

امریکا چاہتا تھا کہ ان معاملات تک اسے بھی رسائی دی جائے اور اسلحہ جماعتوں کی بجائے براہ راست کمانڈروں کو دیا جائے۔ امریکی خواہش کو پیش نظر رکھتے ہوئے جنرل ضیا اس سلسلے میں نرمی پیدا کرنے پر آمادہ تھے لیکن جنرل اختر اس میں رکاوٹ بن گئے۔

وہ سمجھتے تھے کہ اگر اس اصول کی پاسداری نہ کی گئی تو ’افغان جہاد‘ شکست سے دوچار ہو جائے گا۔

بریگیڈیئر یوسف کے مطابق افغان جہاد کی ایک اور غیر اعلانیہ حکمت عملی بھی جنرل اختر کے ایک جملے سے اخذ کی گئی تھی۔ جنرل اختر نے کہا تھا: ‘دشمن کو ہزاروں چھوٹے چھوٹے زخم لگا کر ناتواں کر دیا جائے۔‘

‘دشمن’ کو لاتعداد زخم لگا کر ناتواں کرنے ہی کا ثمر تھا کہ ایک وقت ایسا بھی آیا جب گوریلا دستوں نے سوویت علاقوں میں جا کر کارروائیاں شروع کر دیں۔

سی آئی اے کے سربراہ ولیم کیسی جنرل اختر کے ہمراہ
سی آئی اے کے سربراہ ولیم کیسی جنرل اختر کے ہمراہ

افغان گوریلوں کی تربیت اور کارکردگی ایسی تھی کہ اختلاف کے باوجود امریکی اس سے متاثر ہوئے بغیر رہ نہ سکے۔ چنانچہ سی آئی اے کے سربراہ ولیم کیسی پاکستان آئے تو جنرل اختر کی تربیت اور منصوبہ بندی کا اعتراف کیے بغیر نہ رہ سکے۔

افغان جنگ کے دوران فوج اور سول انتظامیہ کے درمیان اکثر بدمزگی رہا کرتی تھی۔ جنرل اختر کے سامنے اکثر شکایت کی جاتی کہ افغان کمشنریٹ بدعنوانی کی آماجگاہ ہے اور مہاجرین کا کوئی کام رشوت کے بغیر نہیں ہوتا۔ بریگیڈیئر یوسف کے مطابق جنرل اختر ایسی خبروں پر کچھ کر نہیں پاتے تھے اور دکھی ہو جاتے تھے۔

بریگیڈیئر یوسف نے لکھا ہے کہ جنرل اختر بے داغ شخصیت کے مالک فوجی افسر تھے جن کے دامن پر بدعنوانی کا کوئی داغ نہیں تھا۔ اس سلسلے میں انھوں نے ایک واقعے کا ذکر بھی کیا ہے۔ ان کے مطابق ایک بار آئی ایس آئی کے لیے گاڑیاں خریدی گئیں تو متعلقہ شخص نے کمیشن کے طور پر انھیں 20 لاکھ روپے پیش کیے۔

جنرل اختر نے قبول کرنے سے انکار کیا تو پیشکش کرنے والے نے کہا کہ یہ رقم اُن کا حق ہے اور حکومت کا کوئی افسر فوجی ہو یا غیر فوجی، وہ ایسے کمیشن کو قبول کرنے سے انکار نہیں کرتا۔ جنرل اختر نے یہ دلیل بھی مسترد کر دی اور کہا کہ اگر وہ بہرصورت یہ رقم دینا ہی چاہتا ہے تو وہ چند گاڑیاں مزید فراہم کر دے جنھیں وہ ’افغان جہاد‘ میں استعمال کر سکیں۔

افغان مجاہدین
افغان مجاہدین کو سوویت یونین کے خلاف لڑنے کے لیے امریکہ اور دوسرے کئی ممالک نے ہتھیار فراہم کیے

بریگیڈیئر یوسف کے مطابق یہ جنرل اختر ہی کی حکمت عملی تھی جس کے نتیجے میں افغان جنگ کی کامیابی یقینی تھی لیکن عین فیصلہ کن مرحلے پر جنرل اختر کو آئی ایس آئی سے ہٹا کر چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی بنا دیا گیا۔

وہ کہتے ہیں کہ اس فیصلے سے جنرل اختر کو بھی صدمہ پہنچا اور خود افغان جنگ کو بھی۔ لہٰذا اس زمانے کے حالات کو انھوں نے عہد زوال کے عنوان سے قلم بند کیا ہے۔ جنرل اختر کو اس منصب سے کیوں ہٹایا گیا، بریگیڈیئر یوسف کے خیال میں یہ فتح کے کریڈٹ کا معاملہ تھا۔

افغان جنگ سے جنرل اختر کی وابستگی کتنی گہری تھی۔ اس سلسلے میں ہارون رشید ایک واقعہ بیان کرتے ہیں۔ انھوں نے مجھے بتایا کہ ایک بار مجاہدین کے لیے چینی ساختہ توپیں حاصل کی گئیں۔ یہ توپیں 60 گولے لگاتار فائر کرنے کی صلاحیت رکھتی تھیں۔ جنرل اختر کی دلچسپی ان توپوں میں غیر معمولی تھی لہٰذا ان کی کارکردگی میں مزید اضافے میں انھوں نے خصوصی دلچسپی لی جس کے نتیجے میں یہ توپیں 120 گولے برسانے کے قابل ہو گئیں۔

ہارون رشید کہتے ہیں کہ جنرل اختر کو سنگین الزامات کا سامنا کرنا پڑا لیکن یہ تمام الزامات بے بنیاد تھے۔ وہ اپنی ذاتی معلومات کی بنیاد پر کہتے ہیں کہ اس خاندان کی تمام دولت جنرل اختر کے بیٹوں کی محنت کی مرہون منت ہے۔

وہ جنرل اختر کے سب سے بڑے بیٹے اکبر کا ذکر کرتے ہیں۔ خاندان میں انھیں دولت بنانے کی مشین کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق وہ فیکٹری لگا کر چلانے کا غیر معمولی تجربہ رکھتے تھے۔

اکبر اب امریکا میں کام کرتے ہیں جب کہ جنرل اختر کے تین دیگر بیٹے اختر، ہارون اور غازی بھی کاروبار کی غیر معمولی مہارت رکھتے ہیں۔

جنرل اختر اپنے بیٹوں ہمایوں اور ہارون کے ہمراہ
جنرل اختر اپنے بیٹوں ہمایوں اور ہارون کے ہمراہ

واضح رہے کہ جنرل ضیا کے دور میں راولپنڈی، اسلام آباد کے سنگم پر واقع اوجھڑی کیمپ میں اسلحے کے ذخیرے میں خوفناک آتشزدگی کا الزام عام طور پر انھیں دیا جاتا ہے۔

ہارون رشید کہتے ہیں کہ اس واقعہ کا جنرل اختر سے کوئی تعلق ہو ہی نہیں سکتا کیوںکہ اس وقت آئی ایس آئی سے ان کا کوئی تعلق نہ تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ اسلحے کے اس ذخیرے کے تباہی میں امریکا ملوث تھا جو نہیں چاہتا تھا کہ پاکستان ’مجاہدین‘ کو مزید اسلحہ فراہم کرے۔

جنرل اختر اور افغان جنگ سے متعلقہ کہانیاں تاریخ کے اوراق پر محفوظ ہو چکی ہیں۔ بہت سی کہانیاں سینہ بہ سینہ آج بھی منتقل ہوتی ہیں۔ ان سب کہانیوں پر بحث ہو سکتی ہے لیکن ایک حقیقت ایسی ہے جس پر ان کے دوست اور مخالف سب متفق ہیں۔

اس حقیقت میں کوئی شبہ نہیں کہ افغانوں جنگجوؤں کی گوریلا صفات کی شناخت سب سے پہلے جنرل اختر نے کی۔ اس جنگ کو چار دہائیاں گزر چکی ہیں اور ہر آنے والا دن افغانوں کی اس شناخت کو مضبوط بناتا جا رہا ہے۔

افغانستان
افغانستان سے واپس آتے ہوئے سوویت فوجی

جنرل زاہد علی اکبر

جنرل ضیا الحق کے دور میں ریٹائر ہونے والے لیفٹیننٹ جنرل زاہد علی اکبر نے فوج کی راولپنڈی کور کی قیادت کی، پھر 1987 سے 1992 تک چیئرمین واپڈا رہے اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئیرمین کے عہدے پر بھی کام کیا۔

جنرل مشرف کے دور میں قومی احتساب بیورو (نیب) نے ان پر رشوت ستانی (کرپشن) کے علاوہ آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا الزام لگایا۔

مقامی میڈیا میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق انھوں نے نیب کو اعترافی بیان دیا اور 20 کروڑ (200 ملین) روپے قومی خزانے میں جمع کرائے۔

ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل زاہد علی اکبر کو انٹرپول کے ذریعے اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ کروشیا سے بوسنیا میں داخل ہو رہے تھے لیکن برطانوی شہریت کے سبب انھیں بوسنیا سے برطانیہ منتقل کر دیا گیا۔

نیب دستاویزات کے مطابق ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل زاہد علی اکبر کے 77 بینک اکاﺅنٹس تھے جن میں 20 کروڑ سے زائد رقم جمع کرائی گئی تھی۔ یہ بینک کھاتے اُن کے قریبی عزیز اور مختلف کمپنیوں کے نام پر تھے۔

ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل زاہد علی اکبر پاکستان آرمی کی انجینئرنگ کور کے ایک انجینیئر افسر تھے جو آرمی کے صدر دفتر یعنی ’جی ایچ کیو‘ راولپنڈی میں سول تعمیرات کے نگران تھے۔

جنرل زاہد علی اکبر
جنرل زاہد علی اکبر

بعدازاں وہ انجینیئرنگ ریسرچ لیبارٹریز (ای آر ایل) کے فرائض پر مامور رہے جو 1970 میں ایٹم بم کے خفیہ پروگرام کی تیاری سے متعلق تحقیق کا صف اول کا ادارہ تھا۔ صدر ضیا الحق نے انھیں میجر جنرل کے بعد لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دے دی۔

ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ جنرل ضیا الحق کے رشتہ دار تھے اور دونوں جرنیلوں کی دوسری نسل میں شادیاں اس رشتے کا باعث بنی تھیں۔

سنہ 1980 میں انھیں جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) میں انجینیئر اِن چیف کے عہدے پر تعینات کیا گیا۔ وہ کمانڈر10 کور کے علاوہ چئیرمین واپڈا بھی رہے۔ سنہ 1984 سے سنہ 1989 تک اس عہدے پر وہ ’سکینڈمنٹ‘ (عارضی تبادلہ) کی بنیاد مقرر ہوئے تھے۔

انھوں نے ’ڈیفنس سائنس اینڈ انجینئرنگ آرگنائزیشن‘ کی سربراہی کی اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین بھی رہے۔ اُن کی سربراہی کے دور میں ہی پاکستان کی قومی ٹیم نے 1992 کا کرکٹ ورلڈ کپ جیتا تھا۔

جنرل ضیا نے جنرل اکبر کو بھٹو کے قریبی حلقوں میں متعارف کروایا تھا جو اس وقت چیف آف آرمی سٹاف تھے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے وزیراعظم بھٹو نے آرمی چیف جنرل ضیا سے بات کی کہ وہ ایک قابل انجینیئرنگ مینیجر تلاش کر کے دیں۔

جنرل ضیا

اگست 1976 میں (اس وقت) بریگیڈیئر اکبر کی شہرت پاکستان آرمی کے سول انجینیئرنگ منصوبوں کے ضمن میں تھی اور وہ اس لحاظ سے اچھی طرح جانے پہچانے جاتے تھے۔

اس وقت کے آرمی چیف جنرل ضیا نے انھیں رازداری سے جاری ایٹم بم پروگرام کا حصہ بنانے کی منظوری دے دی اور انھیں کہا گیا کہ وہ ڈاکٹرعبدالقدیر خان سے ملیں۔

میجر جنرل اکبر نے اس پختہ ڈھانچے کی تعمیر و تیاری میں کلیدی کردار ادا کیا جس پر ڈاکٹر خان کے فراہم کردہ سینٹری فیوجز استوار ہوئے۔ سینٹری فیوجز ہی وہ چابی تھی جس کے ذریعے پاکستان کے ایٹم بم کے لیے افزودہ مواد مہیا ہوا۔

میجر جنرل اکبر نے کمیٹی بنائی جسے ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ اس اہم اور رازدارانہ منصوبے کے لیے ضروریات کو پورا کرے گی اور مالی وسائل کی فراہمی کی نگرانی کرے تاکہ کہوٹہ میں سینٹری فیوجز سہولیات تعمیر ہو سکیں۔

ڈاکٹرعبدالقدیر خان

1980 میں زاہد علی اکبر کو ’تھری سٹار جنرل‘ کے عہدے پر ترقی دی گئی اور انھوں نے پاکستان آرمی کی انجینیئرنگ کور کے انجینیئر انچیف کے عہدے پر کمان سنبھال لی۔ فوج کے اندرونی حلقوں کے مطابق جنرل اکبر نے ملک کی انٹیلیجنس سروسز کے ساتھ قریبی اشتراک سے کام کیا۔ جنرل ضیا نے انڈین جوہری پروگرام پر خصوصی رپورٹ تیار کرنے کی ذمہ داری انھیں سونپی تھی۔

جنرل ضیا الحق نے ہی لیفٹیننٹ جنرل اکبر کو آبی و توانائی ترقیاتی ادارے (واپڈا) کا چیئرمین بھی مقرر کیا تھا۔

سنہ 1987 میں وہ ’فور سٹار‘ جنرل کے طور پر تقرری اور ترقی کی دوڑ میں بھی شامل تھے لیکن صدر ضیا اور وزیراعظم جونیجو کے درمیان وائس چیف آف آرمی سٹاف کی تعیناتی کے بڑے تنازع میں ملوث ہو گئے۔

’نائب آرمی چیف‘ پاکستان آرمی کی ’آپریشنل کمانڈ پوسٹ‘ (فوج کو چلانے کا کلیدی) عہدہ تصور ہوتا ہے۔ ابتدا میں صدر ضیا نے سینیئر ترین لیفٹیننٹ جنرل مرزا اسلم بیگ پر ترجیح دیتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل اکبر کو ’وائس آرمی چیف‘ مقرر کیا تھا تاہم وزیراعظم محمد خان جونیجو نے اس تعیناتی کی توثیق کرنے سے انکار کر دیا اور لیفٹیننٹ جنرل مرزا اسلم بیگ کی بطور وائس آرمی چیف تقرری پر اصرار کیا۔

چیئرمین واپڈا کے طور پر اُن کی تعیناتی کی توثیق کے بعد انھوں نے وزیراعظم بینظیر بھٹو کی حکومت میں بھی کام کیا تھا۔ سنہ 1989 میں لیفٹیننٹ جنرل اکبر کو ’ڈیسٹو‘ میں دوبارہ مقرر کر دیا گیا جہاں وہ ڈائریکٹر تھے۔ یہ ادارہ فوج کے خفیہ اور حساس منصوبوں سے متعلق تھا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 24793 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments