کیا ذہنی اذیت دینے والوں کے خلاف بھی کوئی قانون بنے گا؟


آج صبح ایک درد ناک خبر سننے کو ملی کہ شعبہ اردو کے سابق چیئرمین اور سابق ڈائریکٹر سرائیکی ایریا اسٹڈی سینئر پروفیسر ڈاکٹر قاضی عبدالرحمٰن عابد حرکت قلب بند ہو جانے کی وجہ سے انتقال کر گئے، حال ہی میں چھپنے والی میری کتاب ”دانائی کا سفر“ کی اعزازی کاپی میں نے ڈاکٹر صاحب کو بھیجی تو شکریہ کے طور مجھ سے رابطہ کر کے مبارک باد پیش کی اور فرمانے لگے کہ میاں چنوں میں اس کتاب کی تقریب رونمائی کا پروگرام ترتیب دے کر مجھے آگاہ کر دیں میں اس تقریب میں حاضر ہو کر آپ کی موجودگی میں کچھ کلمات کہنا چاہوں گا، ان کا فرمانا تھا کہ یہ انسانی سوچ کے ارتقا پر بہت مختصر مگر جامع کتاب ہے اور آپ نے ڈاکٹر خالد سہیل اور ڈاکٹر بلند اقبال کے علمی مقالمات کی سیریز کو ٹرانسکرائب کر کے اردو ادب کے دامن کو وسیع کیا ہے۔

پروگرام ترتیب دینے میں سستی و کاہلی آڑے آ گئی اور ڈاکٹر صاحب ہمیں چھوڑ کر ابدی نیند سو گئے، انتہائی شفیق اور محبت کرنے والے انسان جن سے میری بالمشافہ کوئی ملاقات نہیں ہوئی تھی مگر ”ہم سب“ پر چھپنے والے میرے اکثر بلاگ پر ان کے حوصلہ افزائی والے کمنٹ موجود ہوتے تھے۔ ایک آزاد پنچھی تھا مگر قید میں رہنا پڑا آخر کار زندگی کے سانس بھی تو چار و ناچار پورے کرنا ہوتے ہیں وہ بھی ایک ایسے سماج میں جہاں عقل و شعور رکھنے والے انسان کو درجنوں بار سوچنا پڑتا ہے کہ وہ اپنی ”فری اور ایکسپرٹ“ رائے کا اظہار کرے یا نہ کرے یا گول مول اصطلاحات پر ٹرخا دے تاکہ مطلوبہ سماعتوں تک بات پہنچ جائے۔

شعوری بصیرت سے محروم لوگوں کے لیے تو زندگی ”کھاؤ پیو اور موج کرو“ سے زیادہ کوئی اہمیت نہیں رکھتی مگر ادراک کے خوگروں اور ہر لمحہ نئی سے نئی فکر سے جوجھنے والوں کے لئے زندگی کے معنی کچھ اور ہوتے ہیں اور ایسی روحوں کے لئے آزاد فضا کسی نعمت سے کم نہیں ہوتی کیونکہ یہی آزاد فضا ان کی انفرادیت کو قائم رکھنے میں مدد کا سامان بنتی ہے اور اگر بدقسمتی سے ایسے لوگ ایسے بند معاشرے میں پیدا ہو جائیں جہاں عزت بندوق کی نوک پر حاصل کرنے کا چلن ہو تو پھر یہ لوگ اپنی اوریجنیلٹی اور حقیقی سوچ کو اپنے ہاتھوں دفن کرتے کرتے ذہنی مریض بن جاتے ہیں اور آخر ایک دن منحوس خبر سننے کو مل جاتی ہے کہ حرکت قلب بند ہو جانے کی وجہ سے انتقال کر گئے۔

ڈاکٹر صاحب کے متعلق بھی فیس بک پر ان کے قریبی دوستوں کی طرف سے کچھ ایسی ہی خبریں سننے کو مل رہی ہیں کہ وہ ایک لمبا عرصہ سے ذہنی دباؤ کا شکار تھے اور حال ہی میں انہوں نے استعفی دے دیا تھا۔ اب اس بات میں کتنی صداقت ہے اس کے متعلق تو کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہر چیز کو زوال ہے اور قدرتی پروسس کے تحت آغاز سے ہی تعمیر و تخریب کا سلسلہ چل رہا ہے مگر اگر یہ پروسس قدرتی رہے تو، اگر یہ قدرتی پروسیس ذہنی اذیت میں بدل جائے تو انسانیت اور سماجی پنڈتوں پر ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا ہوجاتا ہے۔

ہم ایک ایسی قوم ہیں جسے جگانے کے لئے مختلف سیاسی و مذہبی پارٹیاں ہر پانچ سال کے بعد میدان میں اترتی ہیں اور اپنے اپنے انویسٹرز اور لابنگ کرنے والے طاقت ور دھڑوں کی جیبیں بھرنے میں لگ جاتی ہیں اور آخر ایک بار کچھ ایسا ہوا جس کے جھانسے میں ایسے لوگ بھی آ گئے جو ووٹ کے عمل کو ہی اذیت سمجھتے تھے۔ اس بندے نے 126 دن کے دھرنے میں ڈی چوک پر کھڑے ہو کر ایسے ایسے بلند و بانگ دعوے کیے تھے کہ انٹرنیشنل میڈیا بھی یہ کہنے پر مجبور ہو گیا تھا اب اس دیس کا کچھ بنے گا، غربت ختم ہو گی، مہنگائی کا سیلاب تھمے گا، رشوت و کرپشن کا چلن بالکل ختم ہو جائے گا اور سب سے بڑھ کر ہمارا انفراسٹرکچر اپنے پاؤں پر کھڑا ہو جائے گا اور غریبوں کی دہائی مختلف ادارے جی حضور کہہ کر سننے لگیں گے۔

ڈی چوک والی سرکار نے کہا تھا بلکہ بجلی کے بل پھاڑ کر ارشاد فرمایا تھا کہ حکمرانوں کی عیاشی کے پیسے ہم بلوں کی صورت میں اپنی جیبوں سے کیوں ادا کریں، فرمانا تھا کہ اگر مہنگائی زوروں پر ہو تو سمجھ لو حکمران بددیانت ہیں اور اس کے علاوہ بہت کچھ تھا اور آج جب ہم ان دعوؤں کی بھیانک تعبیر دیکھ رہے ہیں تو ہمیں وہ ڈی چوک والے دعوے بہت ذہنی اذیت پہنچاتے ہیں۔ ان دعوؤں کی گونج راتوں کو سونے نہیں دیتی بلکہ ذہنوں میں ہتھوڑے برساتی رہتی ہے، سر راہ ایسے بہت سے سٹوڈنٹس اور مہربان دوست مل جاتے ہیں جنہیں ہم نے ووٹ دینے پر آمادہ کیا تھا اور کہا تھا کہ یار ”اسٹیٹس کو“ ٹوٹنے والا ہے باریوں والے چکروں سے چھٹکارا پانے کا یہ واحد موقع ہے اسے خدارا ضائع مت کرو اور خان صاحب کو پردھان منتری بناؤ تاکہ ہماری مشکلات بھی ختم ہو سکیں۔

اب ہم ایسے لوگوں کا سامنا نہیں کر پا رہے ہیں بلکہ کچھ میرے سٹوڈنٹس جو ڈائی ہارڈ قسم کے خان صاحب کے فین تھے مگر اب جب وہ مجھے ملتے ہیں تو جو کلمات ان کی زبان پر ہوتے ہیں وہ قابل بیان نہیں ہیں اور حکومتی آرڈیننس کی وجہ سے اب تو قابل اشاعت بھی نہیں ہیں۔ ہم اس ذہنی اذیت کا کیا کریں جب ہم مختلف مکاتب فکر کے علماء کو مختلف جلسوں، دسویں یا چالیسویں کے اجتماعات پر ایک دوسرے کے فرقوں کے خلاف زہر اگلتے سنتے ہیں مگر قانون کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی۔

کیا کبھی کسی کو یہ گمان بھی گزرا ہے کہ ایک بیلنس اور بھائی چارہ پر یقین رکھنے والے عام انسان کے ذہن پر یہ زہر گوئی کیا اثر ڈالتی ہے؟ تخلیقی ذہن رکھنے والے کیا کریں جن کا ذہن سوالات کی صورت میں لاوے کی طرح پکتا رہتا ہے ان کے اظہار پر ہزاروں قدغنیں ہوں اور انہیں ہر لمحہ یہ کھٹکا لگا رہے کہ کوئی ان کی بات کا اپنی مرضی کا مفہوم اخذ کر کے گستاخ ڈکلیئر کر کے اس کی جان جوکھوں میں نہ ڈال دے؟ یا تو تاراج بغداد والوں کی طرح جنہوں نے کتابیں سمندر برد کر دی تھیں ان تخلیقی اذہان کو بھی کشتی میں بٹھا کر سمندر برد کر دیا جائے ویسے بھی ہم نے ایسے دماغوں کا کیا اچار ڈالنا ہے جو ہمیں سوچنے پر اکساتے رہیں۔

ہمیں تو جی حضوری والا مٹیریل سوٹ کرتا ہے جو وقت کے حساب سے ”اسٹیٹس کو“ کو قائم رکھنے میں مددگار بنا رہتا ہے۔ غریبوں کے صحت کارڈ کا جو حشر ڈاکٹرز مافیا کر رہے ہیں کبھی اس سلوک کا جائزہ بھی لینا چاہیے، صحت کارڈ کے نام پر جن غریبوں کے آپریشن ہو رہے ہیں کیا ان کے ساتھ ڈاکٹرز وہی سلوک کر رہے ہیں جو پیسے والے صاحب حیثیت لوگوں سے کرتے ہیں؟ ہمارے علاقہ میں ایک 70 سالہ مریض کا ہرنیا کا آپریشن ہوا جسے ایک رات ہسپتال میں رکھنے کے بعد چھٹی دے دی گئی اور اگر اس کا علاج صحت کارڈ کی بنیاد پر نہ ہوتا تو کم از کم اسے تین راتیں ہسپتال میں رکھتے۔

اس طرح کے واقعات غریبوں کو ذہنی اذیت سے ہمکنار کرتے ہیں ان کو ایسا لگتا ہے کہ وہ اپنے دیس میں بھی لاوارث ہیں خدارا غریبوں کو ذہنی اذیت سے بچا لیں۔ مہنگائی اور آئے روز بجلی کے بلوں میں اضافہ اور آسمان کو چھوتی ہوئی پٹرول کی قیمتوں کی وجہ سے ان گنت غریب ذہنی اذیت کا شکار ہو چکے ہیں اور ان کو اپنی زندگیاں بیکار لگنے لگی ہیں کیا ان اذیتوں کا سبب بننے والی قوتوں کے خلاف بھی کوئی قانون سازی ہوگی؟ ہمیں ایسے وحشی ہجوموں سے بہت زیادہ ذہنی اذیت ہوتی ہے جو مذہب کے نام پر کسی مظلوم کے جسم کا سرمہ بنا دیتے ہیں اور جب کبھی بھی اس قسم کا سفاکانہ واقعہ رونما ہوتا ہے تو ہمیں کئی دنوں تک نیند نہیں آتی۔ کاش معاشرے کی ذہنی اذیتوں کو ماپنے کا کوئی پیمانہ ہوتا اور اگر ایسا کوئی پیمانہ بن جائے تو ہمارا معاشرہ مختلف طرح کی ذہنی بیماریوں میں اول نمبر پر ہو گا۔ اب اتنی ذہنی اذیتوں کا شکار بندہ اگر اظہار کرنے کی غلطی کر بیٹھا تو فوری قانون حرکت میں آ جائے گا۔

Facebook Comments HS

One thought on “کیا ذہنی اذیت دینے والوں کے خلاف بھی کوئی قانون بنے گا؟

  • 23/02/2022 at 9:43 صبح
    Permalink

    سدا سلامت رہیں ایسی بہترین تحاریر لکھنے پر۔ بہت شکریہ

Comments are closed.