پی ٹی ایم کے خلاف ریاست کی ہٹ دھرمی
دو ہزار اٹھارہ میں جب سے پی ٹی ایم شروع ہوا ہے تب سے ریاست پی ٹی ایم کے ساتھ مذاکرات میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔ چاہے وہ مسنگ پرسنز کا مسئلہ ہو یا ماوراء عدالت قتل عام کا ہو، لینڈ مائنز کا ہو یا پھر متاثرین کی بحالی کا ہو۔ ریاست ان میں سے کسی مطالبے کو ماننے پر آمادہ نہیں حالانکہ یہ سب جائز مطالبات ہیں۔ اور تمام مطالبات پاکستانی آئین کے مطابق ہیں۔ پی ٹی ایم پاکستانی آئین میں دیے گئے شہری حقوق کے لیے پرامن جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں۔
مگر نہ جانے ایسی کون سی وجوہات ہیں۔ جس کی وجہ سے ریاست کے حکمران ان مطالبات کو حل کرنے سے کتراتے ہیں۔ پچھلے تین چار سالوں کے دوران کئی مذاکراتی بیٹھک ہوئیں مگر بدقسمتی سے کوئی مثبت نتائج کی بجائے کئی بار ناخوشگوار واقعے پیش آئے۔ اگر پی ٹی ایم کا کوئی مطالبہ غیر قانونی ہو تو عدالت میں جاکر ان کو خلاف قانون ڈیکلیئر کر دیں۔ ورنہ جب ٹی ایل پی کی غیر قانونی جماعت کو قانونی بنا سکتے ہو ان کے گرفتار شدہ لوگوں کو بغیر عدالت کے رہا کر سکتے ہو۔
پی ٹی ایم والوں سے کئی گنا سخت لہجہ تو تحریک لبیک والوں نے استعمال کیا ہے۔ یہ ریاست اگر ٹی ٹی پی سے مذاکرات کی پیشکش کر سکتی ہے تو پھر ایک پر امن طریقے سے اپنے حقوق مانگنے والوں سے کیوں بات کرنے کو تیار نہیں۔ دوسری جانب علی وزیر پر جو مقدمہ بنایا گیا ہے میرا نہیں خیال کہ علی وزیر نے احسان اللہ احسان کی طرح ریاست کے خلاف بندوق اٹھائی ہو یا تحریک لبیک والوں کی طرح پولیس والوں کو مارا ہو یا زخمی کیا ہو جس کو پچھلے سال سے ایک تقریر کی پاداش میں پابند سلاسل رکھا ہوا ہے۔
اگر پنجاب حکومت تحریک لبیک پر درج مقدمات کو واپس لے سکتی ہے تو پھر اپنے آپ کو جمہوریت کے چیمپئن کہنے والی پیپلز پارٹی علی وزیر کے خلاف مقدمہ کیوں واپس نہیں لے سکتی۔ اس لئے ریاستی اداروں اور بالخصوص سیاسی پارٹیوں کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ ان جیسے بڑے مسائل سے غافل رہنے کی بجائے آپس میں مل بیٹھ کر مسائل کو حل کرنے کے لئے بہترین منصوبہ بندی کریں کیونکہ ریاست کی مثال ایک ماں جیسی ہے۔ ماں کا دل سمندر سے گہرا اور آسمانوں سے زیادہ وسیع ہوتا ہے۔ ماں اولاد سے نفرت نہیں کر سکتی، ماں پیار ہی پیار ہے، غلطیاں معاف بھی کرتی ہے اور غلطیوں کے باوجود سینے سے بھی لگاتی ہے۔ ریاست کو ماں سے اس لیے تشبیہ دی جاتی ہے کہ ریاست گندے، میلے، روتے بسورتے بچوں کو اپنی آغوش میں سمیٹ لیتی ہے۔ اور یہ روتے، چیختے، چلاتے بچے ریاست کے ہی بچے ہیں۔

