موبائل فون کا استعمال، فائدہ یا نقصان


ستر اور اسی کی دہائی میں پیدا ہونے والے یہ ضرور جانتے ہوں گے کہ اس زمانے میں گھر میں ٹیلی فون ہونا بھی ایک بڑے فخر اور اعزاز کی بات ہوتی تھی۔ ہر ایک گھر میں فون ہوتا بھی نہیں تھا، پورے محلہ میں معدودے چند گھروں میں فون لگا ہوتا تھا، وہ بھی ان لوگوں کے ہاں زیادہ ہوتا تھا جن کے گھر سے کوئی بیرون ملک کام کرنے گیا ہوتا تھا یا ان کے کوئی قریبی رشتہ دار ملک سے باہر رہتے تھے۔ یہ وہ دور تھا جب فون لگوانا بھی جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔ لوگوں کو کبھی سفارش تو کبھی رشوت کا سہارا لینا پڑتا تھا تب کہیں جاکر گھر میں ٹیلی فون کی لائن لگتی تھی۔ جب سے موبائل فون آیا بیچارہ لینڈ لائن والا فون جیسے یتیم ہو کر رہ گیا۔ اب اس کی حالت کچھ ایسی کہ۔ ’پھرتے ہیں میر خوار کوئی پوچھتا نہیں‘ ۔

موبائل فون مسلسل ترقی کر رہا ہے، شروع شروع میں بڑے بڑے فون ہوا کرتے تھے اور سہولیات کم، موبائل فون سے صرف بات ہی کی جا سکتی تھی، پھر میسج کا فیچر متعارف ہوا، اس کے بعد فون چھوٹے ہوتے گئے فیچرز بڑھتے چلے گئے اور اب حال یہ کہ ٹچ موبائل نے رہی سہی ساری کسر پوری کردی ہے۔ اب موبائل فون میں ہی سب کچھ موجود ہے، جیسے سارا جہان ایک موبائل فون میں سمٹ کر رہ گیا ہے۔ یہ ہے تو فون مگر ویڈیو کالنگ ڈیوائس بھی ہے، گھڑی بھی ہے، کیلنڈر بھی ہے، کیمرہ بھی ہے، نوٹ بک بھی ہے، لیپ ٹاپ بھی ہے، فون ڈائریکٹری بھی ہے، اس کے علاوہ ہزاروں ایسے فیچر موجود ہیں جو اپنی مثال آپ ہیں، جن کا ہم کبھی تصور بھی نہیں کر سکتے تھے، جیسے گروپ چیٹنگ، گیمنگ، میوزک، مووی اس کے علاوہ سوشل میڈیا کی بے شمار ایپس اسے اپنی ذات میں انجمن بنائے دے رہی ہیں۔

اور ہر گزرتا دن ان فیچرز میں اضافہ کے ساتھ وارد ہو رہا ہے، کیوں کہ مقابلے کا دور ہے ایک کمپنی ایک کیمرہ متعارف کراتی ہے تو دوسری دو کرا دیتی ہے، تیسری تین کیمرہ والا فون مارکیٹ میں لے آتی ہے۔ اسی طرح باقی فیچرز کا معاملہ ہے، روز نت نئے فیچرز متعارف کرا دیے جاتے ہیں، گویا دریا کو کوزے میں حقیقتاً بند کر دیا گیا ہے۔ اور آپ کو اندازہ ہی نہیں کہ آپ اپنی جیب میں ایک جہان لئے پھر رہے ہیں۔ بینکنگ موبائل پر ہو رہی ہے، بڑے بڑے کاروبار موبائل پر ہو رہے ہیں، دور دراز سے نگرانی میں بھی معاون و مدد گار ہے۔

موبائل فون کے جی پی ایس سسٹم کے ذریعے آپ دنیا بھر میں راستہ تلاش کر سکتے ہیں اور با آسانی انجان جگہوں پر سفر کر سکتے ہیں اور وہ آپ کو منزل مقصود پر پہنچنے تک مستقل رہنمائی بھی دیتا رہے گا، ویڈیو کالنگ کے ذریعے مفت میں آپ دوسرے شہروں یا ملکوں میں موجود اپنے عزیزوں اور دوستوں سے بات کر سکتے ہیں بالکل اس طرح کہ آپ انہیں دیکھ اور سن رہے ہوتے ہیں اور وہ آپ کو دیکھ اور سن رہے ہوتے ہیں یوں سمجھیں کہ ننانوے فیصد بالمشافہ ملاقات جیسی کیفیت ہوتی ہے صرف چھو نہیں سکتے۔

اس طرح کی اور بہت سی مفید سہولیات ہیں جن کے ذریعے موبائل فون ہماری زندگی کو آسان بنا دیتے ہیں۔ مگر یہ تمام فوائد ہیچ اور نہایت ہی کم تر نظر آتے ہیں جب ہم موبائل کے غلط استعمال کی جانب نظر ڈالتے ہیں۔ وہی کیمرہ جو آپ کو ہزاروں میل دور بیٹھے اپنوں سے ملاقات کرا رہا ہوتا ہے، وہی نوجوان نسل میں بے راہ روی اور بد اخلاقی کا موجب بن رہا ہے، سینکڑوں لڑکیاں اس کے ذریعے بدترین نادانیاں کر چکی ہیں اور ہزاروں اس آزار میں مبتلا ہیں کہ جس کے بعد اگر وہ مر گئیں تو ان کے پیچھے رہ جانے والے ورنہ وہ خود کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہتیں۔

اس ہی موبائل کیمرے کی وجہ سے اوباش نوجوان لڑکیوں کو بلیک میل کر کے ان کی زندگیاں برباد کرتے ہیں ان سے مال بٹورتے ہیں اور نہ جانے کون کون سے مذموم مقاصد حاصل کرتے ہیں۔ جھوٹے پیار کا چکمہ دے کر ان کی نازیبا تصاویر یا ویڈیو حاصل کر لیتے ہیں پھر اس کے بعد بلیک میلنگ کا کھیل شروع ہو جاتا ہے، جو خود کی اور خاندان کی ذلت، رسوائی اور کبھی کبھی موت پر ختم ہوتا ہے۔ دوسرا جان لیوا شوق ہے سیلفی لینا، دیکھا یہ گیا ہے کہ بے شمار لوگ سیلفی کے چکر میں اپنی جان گنوا بیٹھتے ہیں، جیسے ریل کی پٹریوں پر پیچھے سے آتی ریل کے ساتھ سیلفی لینے کی وجہ سے بہت سارے لوگ اپنی جان گنوا بیٹھے ہیں یا کسی بہت ہی اونچی عمارت، پہاڑ کی منڈیر پر سیلفی لینے کی وجہ سے گر کر مر چکے ہیں۔

دوسرا بڑا تکلیف دہ استعمال دوران ڈرائیونگ ہے، دنیا بھر میں تو کار چلانے کے دوران موبائل فون کا استعمال معیوب و ممنوع سمجھا جاتا ہے چہ جائیکہ موٹر سائیکل پر مصروف ترین شاہراہوں پر موبائل فون استعمال کیا جائے، ہمارے ہاں اس کے برعکس لوگ بلا تکلف مصروف ترین شاہراہوں پر گاڑیوں یہاں تک کہ موٹر سائیکلز تک پر موبائل فون کثرت سے استعمال کر رہے ہوتے ہیں اور اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کی جان کے لئے بھی خطرہ بنے ہوئے ہوتے ہیں۔

بنیادی وجہ اس کی شاید یہ ہے کہ قانون کا ادراک اور خوف عام آدمی کو بالکل نہیں ہے، لہذا لوگ قانون بھی توڑ رہے ہیں اور اپنی اور دوسروں کی ہڈیاں پسلیاں بھی توڑ رہے ہوتے ہیں، ذرا غور کریں تو یہ سب کے لئے ایک بہت ہی خطرناک بات ہے مگر کون پرواہ کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک نیا ٹرینڈ بہت تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے وہ ہے چھوٹے بچوں کو موبائل سے بہلانا، جہاں بچہ رویا ماں نے اس پر کچھ متحرک نظمیں جو عموماً میوزک کے ساتھ ہوتی ہیں موبائل پر لگا کر بچے کو پکڑا دیا، شروع شروع میں تو یہ محض بچے کو بہلانے کا طریقہ ہوتا ہے جس کے بچے کی صحت پر اور بالخصوص بینائی پر زبردست منفی اثرات پڑ سکتے ہیں مگر خطرے سے نابلد والدین کسی خطرے کو خاطر میں نہیں لاتے اور اپنی تحریک جاری رکھتے ہیں، یوں بچے کی سب سے پہلی دوستی موبائل فون سے ہوجاتی ہے اور وہ آہستہ آہستہ موبائل کے بنیادی استعمال سے بھی واقف ہوتا جاتا ہے جس پر والدین بڑے فخر سے بتاتے ہیں کہ منا یا منی اب تو بہت مہارت سے موبائل استعمال کرنے لگے ہیں۔

لوگ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ دنیا بھر میں فحش فلمیں دیکھنے والے ممالک میں پاکستان کافی اوپر پایا جاتا ہے، اور ہر ویب سائٹ اور بالخصوص سرچ انجن نے آرٹیفیشل انٹلیجنس لگایا ہوا ہوتا ہے، جو یہ کام بھی کرتا ہے کہ صارف کی گزشتہ تلاش کی روشنی میں ملتی جلتی دوسری سائٹس تجویز کرتا رہتا ہے، ایسے میں اگر آپ کے انٹرنیٹ کنکشن پر کوئی صارف کسی بھی ایسی ویسی سائٹ کو دیکھ رہا ہے تو اس کنکشن کے دوسرے صارف بھی ویب سرفنگ ہسٹری کی بنیادوں پر ان ناپسندیدہ سائٹس کی تجاویز وصول کر سکتے ہیں اور ایسا ہوتا بھی ہے، یہ ایک اور نہایت ہی تکلیف دہ بات ہے، بچے جنہیں معلوم ہی نہیں کہ وہ کیا دیکھ رہے ہیں بلا ارادہ کسی ایسی ہی تجویز کردہ غلط سائٹ پر کلک کر دیتے ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے ان پر وہ سب کچھ آشکار ہوجاتا ہے جس کے لئے ابھی ان کا ذہن تیار ہی نہیں ہوتا۔

آہستہ آہستہ وہ نفسیاتی بدنظمی کا شکار ہو کر عملی تجربہ کے فراق میں لگ جاتا ہے، اور یوں کسی دوست یا کسی گروہ کے ہاتھوں ایسا کچھ کر گزرتا ہے جس پر وہ اور اس کے گھر والے زندگی بھر پچھتاتے رہتے ہیں۔ ساتھ ساتھ ایک علت اور بھی گلے پڑ جاتی ہے کہ بچہ موبائل فون کے استعمال کا عادی ہو جاتا ہے، یہ بھی ایک طرح کا نشہ جس سے دامن چھڑانا ناممکن نہ صحیح بہت مشکل ضرور ہے۔ یہاں اس بحث سے مراد موبائل کی برائیاں گنوانا نہیں تھا، مگر اس کے صحیح استعمال کی طرف توجہ دلانا تھا، جیسے دنیا میں بہت سی چیزیں انسان کی آسائش و آسانی کے لئے ایجاد کی گئیں مگر بعد میں وہ انسانوں کے لئے تکلیف کا سبب بن کر رہ گئیں۔

جیسے چھری تو کھانا پکانے کی سہولت کار ہے مگر لوگ اس سے لوگوں کا گلا بھی کاٹ دیتے ہیں۔ جیسے دیکھا گیا ہے کہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد کھانسی کے شربت کو نشہ بطور بھی استعمال کرتے رہے ہیں، اب وہ کوئی نشہ کرنے کے لئے تو نہیں بنایا گیا تھا نہ ہی اس کے اشتہار میں اس کی نشہ چڑھا دینے کی اضافی خوبی بیان کی گئی تھی مگر لوگوں نے یہ راز پا لیا اور دوا کو بھی نہ بخشا۔ لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ معاملات کو حقیقت نظری سے دیکھا جائے اور بات کو اس حد تک نہ بگڑنے دیا جائے کہ پھر سدھارا ہی نہ جا سکے۔

Facebook Comments HS