پنجاب پبلک سروس کمیشن حاضر ہو!


پنجاب پبلک سروس کمیشن صوبہ پنجاب کے حکومتی اداروں کی ماں ہے۔ ماں اس طرح کہ یہ کم و بیش تمام پبلک اداروں کو قابل افسران کی کھیپ مہیا کرتا ہے۔ صوبائی بیوروکریسی کے بہت سے افسران اسی ادارے کے کوالیفائیڈ ہیں۔ پچھلے کچھ ماہ سے یہ ادارہ دباؤ میں ہے۔ اس دباؤ کا نقطہ آغاز وہ سیاہ سکینڈل ہے جس نے اس عظیم ادارے کے منہ پہ وہ کالک ملی کہ آج تک اترنے کا نام نہیں لیتی۔ امر واقعہ یوں ہے کہ سوشل میڈیا پہ ایک مہم چلی کہ اس ادارے میں ایک مافیا سرگرم اور باقاعدہ پیپر کی بولی لگاتا ہے۔

اس پہ احتجاج ہوئے مگر سروس کمیشن کسی ضدی بچے کی طرح نہیں ہے، نہیں ہے کی گردان کرتا رہا۔ چاہیے تو تھا کہ کوئی انکوائری اپنے لیول پہ کر لی جاتی مگر جب سٹاف پہ اندھا اعتبار کر لیا جائے تو یہی نتیجہ نکلتا ہے جو پنجاب پبلک سروس کمیشن کے ننگ زمانہ کرپشن کیس میں نکلا۔ تحصیلدار کے پیپر میں وہ پورا مافیا اینٹی کرپشن نے دبوچ لیا۔ اور تب اس ادارے بارے بزبان میڈیا وہ مبینہ ہولناک انکشافات ہوئے کہ عوام دہل کے رہ گئی۔ کچھ دبی دبی سی آوازیں تو یہاں تک کہتی رہیں کہ اس میں صرف سروس کمیشن نہیں بلکہ افسر شاہی سے کچھ جگادری ملوث ہیں۔ مگر اب تک کا نتیجہ کیا ہے۔

ڈھاک کے وہی تین پات!

پورے صوبے کے سرکاری اداروں کو قابل ملازمین فراہم کرنے کے دعویدار اس ادارے کا اپنا حال یہ ہے کہ ان کمپیوٹرز پہ کوئی سیکیورٹی سافٹ ویئر ہی نہیں بٹھایا گیا تھا جن میں پیپر تیار ہوتا تھا۔ جس کا دل کرے یو ایس بی لگائے اور ایک سنگل کلک پہ سارا پیپر لے اڑے۔ اور ہوتا بھی یہی رہا۔ کچھ پیپرز کا کمیشن والوں نے دوبارہ انعقاد کروایا۔ مگر ان پیپرز کا کیا جن پہ بھرتی ہو گئی اور نا اہل افراد کی ایک کھیپ گورنمنٹ اداروں میں پہنچ گئی۔

ڈیڑھ سال سے کچھ زیادہ عرصہ ہی لد گیا ہے۔ مجال ہے کہ سروس کمیشن نے اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کرنے کے لیے کبھی کوئی پریس کانفرنس کی ہو اور عوام کو کرپشن کے اس بدنام زمانہ کیس کی پیش رفت بارے کچھ بتایا ہو۔ اور اپنی شفافیت پہ اعتماد میں لیا ہو۔ حیرت ہے کہ جرم میں ملوث ہونے اور پکڑے جانے کے باوجود کیا زعم ہے، کیسی بے نیازی ہے!

پچھلے دنوں لاہور کے ایک نجی ٹی وی چینل پہ پنجاب پبلک سروس کمیشن نے اپنا موقف دینے کے لیے ایک خاتون ترجمان بھیجی ہوئی تھی۔ مد مقابل ملتان سے تعلق رکھنے والا وہ جوان تھا جس نے گئے برس پنجاب پبلک سروس کمیشن کے نوکری فروش مافیا کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔ اس خاتون کے انداز گفتگو اور معلومات سے آگاہی ادارے کے انٹرنل سٹرکچر اور قابلیت پہ ایک بڑے والا سوالیہ نشان لگا رہی تھی۔ ترجمان گفتگو اس طرح کر رہی تھیں جیسے نو زائیدہ سیاستدان کرتے ہیں۔ فقط الزام در الزام!

بنیادی حقیقت سے ادراک صفر اور مجال ہے کہ فریق مقابل کی طرف سے اٹھائے گئے اعتراضات پہ کسی ایک کا بھی تسلی بخش جواب دیا گیا ہو۔ اینکر پرسن کی طرف سے پوچھا گیا کہ پیپر کمرہ جماعت سے باہر کیسے نکل جاتا ہے اور آپ یہ پیپر امیداواران کو باقاعدہ دے ہی کیوں نہیں دیتے تو آگے سے جواب تھا کہ ہمارے پاس مخصوص ڈیٹا بینک ہے، ہمارا ادارہ پیپر دینے لگ جائے تو ہمارا معیار سٹیک پہ لگ جائے گا۔

دوسرا پیپر کمرہ امتحان سے نگران عملے کی وجہ سے باہر نکلتا ہے۔ اور حل یہ ہے کہ ہم اب عملے سے حلف لیا کریں گے۔

ایک دنیا جانتی ہے کہ لاہور کے مشہور پبلشرز سالوں سے پنجاب پبلک سروس کمیشن کے پانچ سالہ پیپرز چھاپ رہے ہیں اور ہر سال ان کے نئے ایڈیشنز بھی آتے ہیں۔ کمیشن کو اتنا ہی اپنے معیار سے پیار ہے تو کبھی کوئی انکوائری کی گئی کہ یہ پیپرز ان پبلشرز تک من و عن کیسے پہنچتے ہیں۔

رہی بات حلف لینے سے پیپر روک لینے کی تو اس پہ سوائے زور زور سے ہنسنے کے اور کچھ نہیں کیا جاسکتا۔ ڈیوٹی کرنے والوں کا حال یہ ہے کہ ان کی شاید ہی کبھی ٹریننگ کروائی گئی ہو۔ جس نے بھی سیکھنا ہے، غلطیاں کرتے اور اپنی کوشش سے ہی سیکھنا ہے۔ ورنہ ادارے کے پاس شاید ہی کوئی پلان ہو۔

ایک اور سوال جس نے امتحانی عمل بارے خاتون ترجمان کی آگاہی اور علمیت کا پردہ فاش کر کے رکھ دیا وہ تھا کہ آپ کا ادارہ امیداواران کو "پیپر کی” (حل کی کلید) کیوں فراہم نہیں کرتا۔

تو جواب میں ترجمان صاحبہ نے ایک ہی رٹا رٹایا جواب دیا کہ جی وہ ادارہ اپنا پیپر بینک آؤٹ نہیں کرنا چاہتا۔ واقفان حال جانتے ہیں کہ "پیپر کی” کا سوالات سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اس سے ایک امیدوار پیپر دینے والی شام ہی ٹیسٹنگ سروس کی ویب سائٹ پہ آپ لوڈ کی گئی Key سے اپنی Key میچ کر کے اندازہ لگاتا ہے کہ وہ کتنے نمبر حاصل کر پائے گا۔ یہ key پیپر دراصل ایک امیدوار کو اپنے مستقبل کی پلاننگ میں مدد دیتی ہے۔ اور پاکستان میں بہت سے ٹیسٹنگ سروس ادارے کئی برسوں سے یہ key پیپر فراہم کرتے آرہے ہیں

اور تو اور اب فیڈرل سروس کمیشن نے بھی پیپر Key فراہم کرنا شروع کردی ہے۔ پنجاب پبلک سروس کمیشن وہ ادارہ ہے جس نے بلاشک پنجاب بھر کے اداروں کو قابل ترین لوگ دیے ہیں۔ مگر مخصوص حالات میں مخصوص فیصلے کرنے سے ہی اپنا وقار بحال رکھا جا سکتا ہے۔ اگر پنجاب پبلک سروس کمیشن نے اپنی شکستہ ساکھ مکمل بحال کرنی ہے تو اسے فی الفور کچھ انقلابی قدم اٹھانا ہوں گے۔ جس میں سر فہرست ایک پریس کانفرنس کرنا ہے۔ جس میں گئے سال کے کرپشن کیس کی پیش رفت بارے عوام کو آگاہ کیا جائے، اور اس بابت اپنی طرف سے کی گئی اصلاحات کے بارے بتایا جائے۔ دوسرا نگران عملے کو مکمل ٹریننگ فراہم کی جائے۔

اور سب سے بڑھ کر امیداواران کو پیپر Key فراہم کی جائے۔ تاکہ ایک طرف تو امیداواران میں سے یہ اضطراب ختم ہو کہ شاید اندر کھاتے نمبر کم زیادہ کیے جاتے ہیں دوسرا انہیں اپنے مستقبل کی پلاننگ کرنے میں مدد مل سکے۔

Facebook Comments HS