خواتین کی مرضی، کام کرنے والے ادارے اور عورت مارچ
عورت مارچ سے پہلے ہی بہت ہنگامہ ہے جو کہ ابھی چاردیواری کے اندر ہے۔ جی ہاں ان ہی چار دیواری کے اندر کیا ہو رہا ہے اس آرٹیکل میں پڑھا جائے گا۔ چاردیواری جس میں خواتین کی مرضی کے خلاف فیصلے ہوتے ہیں، فیصلے ہونے اور فیصلے کرنے میں بہت فرق ہوتا جس کو بہت درد کے ساتھ وہ عورت ہی نبھاتی ہے جس کی مرضی کے خلاف ہوتا ہے۔ پاکستان میں ویسے تو عدالتیں بھری پڑی ہیں پریکٹس کرنے والے وکیل سے لے کر بڑے جج تک سب ہی وہ کیس دیکھ رہے ہیں جس میں عورتیں انتہائی بے شرمی سے باپ اور شوہر کی عزت کی پرواہ کیے بغیر طلاق لینے کے لیے عدالت پہنچ جاتی ہیں۔
پتہ نہیں سارے وکیل اور ججز کے پاس اور کوئی کیس کیوں نہیں پہنچ رہا شاید ملک میں باقی سارے جرائم کی شرح صفر ہو گئی ہے۔ وہ تمام ادارے جہاں پر خواتین اپنے تحفظ جو ان کا بنیادی انسانی حق ہے ان جگہوں پر خواتین سے کس قسم کے سوال کیے جاتے ہیں وہاں پر کام کرنے والا عملہ (مرد و عورت) کس قسم کی سوچ رکھتا ہے اور پھر اس سوچ کے تحت خواتین کے لیے کیا فیصلے ہوتے ہیں۔ ہمارے ملک میں خاتون جہاں بھی انصاف کے لیے جائے گی وہاں پر اس کو صرف ایک ہی بات پر آمادہ کیا جائے گا جس کو راضی نامہ کہا جاتا ہے۔
سمجھ نہیں آتا کہ اتنے بڑے اداروں میں پڑھنے والے اور پھر ان اداروں میں سرکاری عہدوں پر فائز ہو جانے والے مرد و عورت کی عقل کا معیار صرف راضی نامہ پر ہی کیوں ختم ہو جاتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان اداروں کی چار دیواری کے اندر اور باہر خواتین کے حقوق کے تحفظ پر آئین پاکستان کے مطابق بنے ہوئے قوانین شاہی طرز کے فریموں میں سجا کر قید کر دیے جاتے ہیں جیسے اس ملک میں خواتین بہت منصوبہ بندی کے ساتھ قید کی گئی ہیں۔
مجھے چار سال ہو گئے ہیں خواتین کے حقوق اور ان کی خودمختاری کے لیے کام کرتے ہوئے۔ میں نے ان چار سالوں میں گاؤں کی ان پڑھ خاتون سے لے کر کراچی، اسلام آباد جیسے بڑوں شہروں کی خودمختار خاتون اور اپنی ذات کو جب بھی اپنے حق کے لیے آگے آتے دیکھا ہے ہم خواتین کو ہمیشہ راضی نامے کا سبق پڑھایا گیا ہے۔ فرنٹ ڈیسک پر شکایت درج کرنے والے، کاونسلنگ کرنے والے، کیس لڑنے والے وکیل اور جج سمیت سب ہی (مرد و عورت ) چاہتے ہیں کہ ہم خواتین راضی نامہ کر لیں۔
یہ راضی نامہ کروانے والے بالکل اس خاتون جیسے ہوتے ہیں جس کو کوئی مرد زبردستی پکڑ کر دیوار کے ساتھ لگا لیتا ہے اور وہ یہ دہائیاں دیتی ہے ”کوئی دیکھ لے گا“ اس زبردستی کی حالت میں بھی خاتون کو ادھر ادھر کے لوگوں کا ڈر ہے اس کو اس بات کا احساس نہیں کہ یہ مرد اس کو اس کی مرضی کے بغیر چھو رہا ہے تو اس پر اگلا عمل اس مرد کو دیوار کے ساتھ لگانا ہونا چاہیے یا پھر لوگوں کی پرواہ کرنی چاہیے؟ یہی کچھ ہمارے انصاف مہیا کرنے والے اداروں میں ہوتا ہے زبانی کلامی خاتون کی مرضی پوچھی جاتی ہے لیکن راضی نامے کی تلوار گلے پر رکھ کر پوچھی جاتی ہے۔
افسوس یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن سے کئی بار سننے کو یہ ملا ہے کہ ہم اپنے بچوں کی ٹیوشن پڑھانے والی استانی کو کہہ کر آتے ہیں کہ ”میرے بچے نوں چانڈ کے رکھیں“ مطلب ہمارے بچوں پر ذہنی و جسمانی تشدد کی آپ کو اجازت ہے کیونکہ ہم ان کے ماں باپ ہیں۔ ان لوگوں کی گاڑی پر سبز رنگ کی نمبر پلیٹ ہوتی ہے۔ ان کو سرکاری خزانوں سے مراعات حاصل ہیں۔ یہ لوگ شکایت درج کروانے والی خاتون کو تفتیشی نظروں سے دیکھتے ہیں اگر اس کے پاس کوئی شاپر ہے جس میں اس کی دائیاں یا جسم ڈھانپنے کا کوئی کپڑا ہوتو اس کو کہا جاتا ہے بی بی تم تو پوری منصوبہ بندی کے ساتھ نکلی ہو۔
تمہیں کس قسم کا تشدد کا سامنا کرنا پڑا ہو گا ہمیں تو یہ سمجھ نہیں آتا۔ وکیل جو ہیں ہمارے جنہوں نے زندگی کے دس سال قانون پڑھنے میں اور باقی زندگی لوگوں کو قانون سکھانے میں لگادی ہوتی ہے ان سے میں نے کئی بار سوال کیا ہے کہ جب آپ کے پاس کوئی خاتون تشدد کا کیس لے کر آتی ہے اور اس کیس کی پیروی کے دوران جب آپ کے سامنے تشدد کرنے والا بیٹھا ہوتا ہے تو آپ اس مرد کو ذہنی و جسمانی تشدد کے خلاف بنے ہوئے قانون کے بارے میں آگاہی دیتے ہیں؟ وکیلوں کا ایک ساتھ جواب آیا اتنا وقت نہیں ہوتا ہمارے پاس اور ہماری تو کوشش ہوتی ہے بی بی کا راضی نامہ کروا دیا جائے۔ اور یہ راضی نامہ کا سبق پڑھانے والے مرد و عورت ہوتے ہیں۔
خاتون کی مرضی اگر تو راضی نامہ ہے تو اس کو یہ بات خود سے کہنے دیں اس پر زور مت ڈالا جائے۔ پھر چاہے آپ کو اس کے ساتھ دس بار بھی نشست جمانی پڑے۔ اگر خاتون راضی نامہ نہیں کرنا چاہتی تو اس کا ساتھ دیں اس پر دین و دنیا کا بوجھ مت ڈالیں۔ اس کے کہے ہوئے ایک ایک لفظ آپ کے پاس امانت ہے۔
عورت مارچ پر ان سب اداروں میں کام کرنے والوں کو سڑکوں پر نکلنا چاہیے۔ کیونکہ ان ہی کے بقول عدالتیں کچہریاں اور عورتوں کے تحفظ کے لیے بننے والے اداروں میں موجود الماریاں طلاق ناموں کی درخواستوں سے بھری پڑی ہیں۔ کیونکہ اب اونچی سرکاری عمارتوں میں بیٹھ کر عورت مارچ کا کیک کاٹنے اور فوٹو سیشن کرنے سے نہ بات بنے گی نا تشدد ختم ہو گا۔ آئیے ہم بے شرم عورت مارچ والی عورتوں کے ساتھ مل کر سڑکوں پر ڈنڈے، پتھروں اور گالیوں کا سامنا کیجیے تا کہ آپ کی سوچ راضی نامے کے علاوہ بھی کسی اور دھارا میں بہہ سکے۔


