سائنس۔ سم۔ ایک فکشن۔ طنز و مزاح
سم
سائنسی فکشن سے نکلی ہوئی بات ہے یا کیا۔ کہ ایک وقت ایسا بھی ہو گا جب انسان کے ایک چپ ( chip) لگا دی جائے گی اور اس کی حرکات و سکنات اس کی روزمرہ کی کارروائی سب پر کنٹرول حاصل کر لیا جائے گا۔
اس بات پہ سنا دنیا میں بڑا شور اٹھا خوف و ہراس پھیلا اور اپنے تئیں عام آدمی نے بھی خوب واہی تباہی بک کر (گویا جس طرح شیطان کو واہی تباہی بک کے قابو کرلیتے ہیں۔ ) سائنس کو بھی کھری کھری سنا کر دل ہلکا کیا۔ کچھ عرصے یہی ہو ہا کا عالم رہا گویا کوئی ہاتھ میں چپ لیے اب آیا یا جب۔
موجودہ عالم اسلام (جیسی بھی ہے ) یہ خبر پھیلی۔ بالخصوص پاکستان میں اب تک اس عالم میں رہتے ہیں کہ بس عالم اسلام بنے اور عالم کفار فتح ہو۔ تب بھی سنا کہ کچھ ایسا ہی عالم تھا۔ عالم اسلام نے سائنس پر ہی پابندی عائد کردی۔ نہ سائنس ہوگی نا ایسی باتیں سننے کو ملیں گی۔ نکل آیا سائنس فکشن کے پھیلانے ہوئے شوشے کا عملی حل۔
دوسرے مسلم ممالک نے اس پابندی کو سنجیدگی سے لیا یا نہیں پاکستان میں یہی پابندی انتہائی سنجیدگی سے لی گئی اور عام آدمی نے تو گویا اس سنجیدگی کو اپنا شعار بنا کر اسے ذہنی طور سے کافروں اور انتہائی حدود پر دجال کی آمد تک پہنچا ڈالا۔
پھر عالم اسلام کی بات ہو یہ عالم ہمیشہ پاکستان کی حد تک رہتا ہے اور عام پاکستانی اس پر بغیر سوچے سمجھے ردعمل نہ کرے یہ کیسے ممکن۔ یہ تو اس کی مذہبی وابستگی ( چاہے اونی پونی ہو صرف مسلمان ہونے کی بدولت اس کی دانست میں سو فیصد ہوتی ہے۔ ) و مذہبی غیرت پہ حملہ تھا سو اس عام آدمی نے یہ حملہ اس وقت کے کرتا دھرتا پہ لبیک کر کے ناکام بنا دیا۔
یہ تو عالم اسلام کے ردعمل پہ ردعمل ہوا۔ پاکستان میں اپنا ردعمل بھی ہوتا ہے۔ اب تک ہوتا ہے۔ جو کرنا باقی تھا۔
سو یہاں پاکستان میں بھی سائنس کو سائنس فکشن کی بدولت گالیاں خوب سننے کو ملیں۔ پھر شیطانی وسوسہ سمجھ کے سب بھول بھال گئے۔ کچھ تو اپنے تئیں سنا تھا اس حد تک تیار رہتے تھے کہ گھر سے نا نکلتے۔ کب کوئی ہاتھ میں چپ لیے آئے اور یہ اس کا سر پھاڑ ڈالیں اور بھگا دیں۔
جیسے شیطان کو ہر گناہ کا آلہ کار سمجھا جاتا ہے۔ سائنس کے ساتھ بھی یہی کیا۔ سائنس تو پھر سائنس ہے اس کو ہر برائی کا ذمہ دے دیا جائے اسے سخت ناگوار گزرا۔
عرصہ گزرا۔ ایک چپ تو سائنس نے ایجاد کی لیکن نام اس کا سم رکھا۔
باقی سارا مذکورہ بالا کام یا کنٹرول آج انسان۔ صارف بنا اپنی مرضی اپنی خوشی سے خود انجام دے رہا ہے۔ دلچسپی کا عنصر یہ ہے کہ اگر اب سائنس اسی چپ کو صارف کے جسم میں لگانے کی سہولت عطا فرما دے۔ تو اس سم کو ہر ایک جسم میں چسپاں کرا لے۔ انسان بخوشی صارف بنا لائن میں کھڑا اس عمل سے بھی خود کو گزار لے گا بالخصوص پاکستان میں وہ سر پھاڑنے والے لوگ اس عمل میں سب سے آگے لگے ہوں جو سائنس کو دشمن۔ دجالی طاقت کہہ کر اپنی دانست میں کمزور کر رہے تھے۔
اب ممکن ہے لائن میں آگے لگنے کے لیے لوگوں کے سر پھاڑ دیں۔ آج انہیں اپنی محکومی اور سائنس سے دور رہنے کی محرومی کا اندازہ بھی نہیں ہو سکے گا۔ یہ چپ۔ سم بنی ہوئی کنٹرول تو کر رہی ہے لیکن ہے۔ سہولت۔ یہ انسان میں لگی ہوئی نہیں ہے پھر بھی ہمہ وقت اس کا کچھا چٹھا کہیں منتقل ہو رہا ہے وہ بھی اس کے اپنے ہاتھ سے۔ جو انسان یا صارف خود ذمہ داری سے انجام دے رہا ہے۔ یہ ہے سائنس۔
جس کی افادیت سمجھنے کے بجائے اس کے حصول میں دجالی غفلت برتی گئی۔
یوں جنہوں نے سائنس کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا وہ دینا سائنس دان پیدا کر رہی ہے اور پاکستان صارف۔
سائنس وقت کی طرح کب رکتی ہے اس ہوہا کے بعد یہاں سے یوں اڑن چھو ہوئی کہ سائنس فکشن بھی لے اڑی۔


