جمہوریت واحد قابل عمل سیاسی نظام ہے


جمہوریت کا مطلب یہ ہے کہ ملک عوام کی ملکیت ہے، وہی اس کو چلانے کا حق رکھتے ہیں۔ عملاً ساری قوم مملکت کے ہر امر کی انجام دہی میں حصہ نہیں لے سکتی، اس لیے نمائندگی کا طریقہ کار ایجاد کیا گیا۔ عوام چند سال کے لیے کچھ افراد کو اپنا نمائندہ چنتے ہیں جو ملک کا نظام چلاتے ہیں۔ عوام میں مختلف نقطہ نظر والے لوگ ہوتے ہیں جو مملکت کو اپنے نقطہ نظر کے مطابق چلتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس بنیاد پر سیاسی جماعتیں وجود میں آتی ہیں جو مختلف نقطہ ہائے نظر کی ترجمانی کرتی ہیں۔

پبلک کسی ایک پارٹی کو اس کے پیش کردہ پروگرام کو دیکھتے ہوئے مقررہ میعاد کے لیے حکومت سونپتی ہے۔ لیکن اس کے بعد پبلک مملکتی امور سے لاتعلق نہیں ہو جاتی بلکہ مختلف طریقوں سے حکومت کی نگرانی کرتی ہے۔ جیسے پریس، اجتماعات، اور آج کل سوشل میڈیا کے ذریعے۔ وہ پارٹیاں بھی حکومت کی نگرانی کرتی ہیں جو خود حکومت بنانے میں کامیاب نہیں ہوتیں۔ مقررہ میعاد کے اختتام پر ساری پارٹیاں اپنے اپنے پروگرام لے کر دوبارہ عوام کے سامنے پیش ہوتی ہیں اور اگلے ٹرم کے لیے ان کا ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔

جمہوریت کے فروغ سے پہلے دنیا میں بادشاہتوں کا رواج تھا۔ ایک شخص کسی علاقے پر قابض ہوجاتا تھا تو وہ علاقہ اس کی ملکیت بن جاتا اور اس کے بعد اس کی اولاد کی ملکیت میں رہتا۔ اپنے زمانے میں یہ ایک جائز طریقہ کار تھا اور بہت سے ممالک میں یہ نظام عمدہ طریقے سے کام کرتا رہا۔ یورپ میں بادشاہت سے جمہوریت کی طرف ارتقا رفتہ رفتہ ہوا۔ یعنی بادشاہ کے اختیارات رفتہ رفتہ عوام کو منتقل ہوتے گئے۔ کچھ ملکوں میں برائے نام تاجدار اب بھی موجود ہیں۔

بادشاہت سے جمہوریت کی طرف سفر میں بعض موقع پرست لوگوں نے جمہوریت کی آڑ میں خود بادشاہ بننے کی کوشش کی۔ ایسے لوگ نہ تو بادشاہت کا روایتی جواز رکھتے تھے اور نہ انہیں عوام کا اعتماد حاصل تھا۔ ان لوگوں کو ڈکٹیٹر کہتے ہیں۔ ڈکٹیٹرشپ اصولاً ایک ناجائز طرز حکومت ہے اور کسی ڈکٹیٹر کا دوسروں کی نسبت بہتر حکمرانی کا حامل ہونا اسے جائز نہیں کر سکتا۔ ڈکٹیٹرشپ اکثر پس ماندہ معاشروں میں نکلتے ہیں کیونکہ ترقی یافتہ معاشروں کے با شعور لوگ انہیں برداشت نہیں کرتے۔

موجودہ دور میں خاندانی بادشاہتوں کے قیام کا امکان باقی نہیں رہا ہے۔ رہا ڈکٹیٹرشپ تو وہ یوں سمجھیے کہ ایک قدرتی آفت ہے، جو کسی کی خواہش سے آتی ہے اور نہ جاتی ہے۔ ایک ڈکٹیٹر تب تک اقتدار پر قابض رہتا ہے جب تک کوئی اس سے طاقتور آ کر اسے ہٹا نہ دے۔ وہ کسی قانون یا دستور کا پابند نہیں ہوتا اور نہ اس کی کارکردگی کو جانچنے کا کوئی معیار کسی کے پاس ہوتا ہے۔ اس کی کارکردگی انتہائی خراب بھی ہو تو کوئی اس کو ہٹا نہیں سکتا، کیونکہ ایسا کوئی طریقہ ہوتا ہی نہیں۔

باقی رہتی ہے جمہوریت، تو اس میں آپ حکومت کی کارکردگی کو جانچ سکتے ہیں، اس پر تنقید کر سکتے ہیں، اسے فیڈ بیک دے سکتے ہیں، اسے ڈرا سکتے ہیں کہ اگلی بار اسے ووٹ مانگنے آنا ہے، کارکردگی بہت خراب ہوئی تو اگلی بار اسے ووٹ نہ دے کر کسی اور کو موقع دے سکتے ہیں۔

آپ کہیں گے کہ یہ تو آئیڈیل صورت حال ہے، اور گراؤنڈ رئیلٹی کچھ اور ہے۔

جی ہاں، انسانی معاشرے میں آئیڈیل کے مطابق کچھ نہیں ہوتا۔ لیکن آئڈیل کے قریب ہو سکتا ہے۔ دنیا کے بہت سے ملکوں میں جمہوریت نہایت کامیابی سے صدیوں سے چل رہی ہے۔ ان معاشروں میں سیاسی اور معاشی استحکام دیگر معاشروں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔ جہاں جمہوریت جتنی مستحکم ہے، امن، قانون کی عملداری، انصاف اور معاشی خوش حالی اتنی زیادہ ہے۔ آپ اگر دنیا کے دو سو سے زیادہ ملکوں میں جمہوریت کے انڈیکس اور معاشی خوشحالی کے گوشواروں کا تقابلی مطالعہ کریں تو ان دونوں کے درمیاں بہت مضبوط مثبت تعلق نظر آئے گا۔

جہاں تک ہم جیسے ممالک کا تعلق ہے تو ہم برائے نام جمہوری ہیں۔ جمہوریت کے لحاظ سے دنیا میں ہمارا نمبر 123 واں ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ کویت اور اردن جیسی بادشاہتیں بھی جمہوری اقدار کی پاسداری میں ہم سے بہت بہتر ہیں۔ یعنی ہماری خراب حکمرانی کا بنیادی سبب جمہوریت نہیں، جمہوریت کا نہ ہونا ہے۔

آخر میں یہ بھی سن لیجیے کہ دنیا میں جمہوریت کے دو بڑے علمبرداروں امریکہ اور انڈیا کی حالت بھی مثالی نہیں۔ امریکہ 36 ویں اور انڈیا 85 ویں نمبر پر ہے۔

Facebook Comments HS

ممتاز حسین، چترال

ممتاز حسین پاکستان کی علاقائی ثقافتوں اور زبانوں پر لکھتے ہیں ۔ پاکستان کے شمالی خطے کی تاریخ، ثقافت اور زبانوں پر ایک ویب سائٹ کا اہتمام کیے ہوئے ہے جس کا نام makraka.com ہے۔

mumtaz-hussain has 11 posts and counting.See all posts by mumtaz-hussain