نئے زمانے کی سہیلیاں ”ڈیجیٹل سسٹر ہڈ“
پہلے جب لوگ گلی محلوں میں رہا کرتے تھے، تو سہ پہر کے بعد بچے گلی میں مل کر کھیلتے تو ماؤں کو بھی موقع مل جا تا کہ وہ بھی مل بیٹھیں، لڑکیاں اپنی ہم جولیوں کے ساتھ گپیں لگاتیں۔ پھر آہستہ آہستہ یہ روایت بھی دم توڑ گئی۔ ورکنگ ویمن کو تو چلو دفتر میں کوئی نہ کوئی سہیلی مل جاتی مگر گھریلو خواتین کی یہ تفریح بھی ختم ہو گئی۔ کبھی یوں ہو تا ہے کہ خواتین اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرنے کے لئے اپنی جیٹھانی دیورانی یا ہمسائی سے اپنے دل کی بات کہہ بیٹھتی ہیں لیکن انہیں اس بات کا بھی ڈر لگا رہتا ہے کہ کہیں وہ جا کر کسی اور کو نہ بتا دیں۔ اس لئے کچھ خواتین اندر ہی اندر گھٹتی رہتی ہیں۔
سوچیں اگر کوئی ایسی جگہ ہو جہاں آپ اپنی پہچان صیغہ راز میں رکھ کر اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرسکیں۔ جہاں سننے والا آپ کے بارے میں منفی رائے قائم نہ کرے۔ جہاں آپ جی بھر کر اپنے شوہر، ساس، نندوں، جیٹھانیوں کی برائیاں کر سکیں۔ حتیٰ کہ اگر خونی رشتوں سے نالاں ہوں تب بھی اپنے لاشعور میں چھپے دکھوں اور غموں کو کسی کے ساتھ شیئر کر سکیں۔ اپنی مشکلوں، مصیبتوں کے حل کے لئے کسی سے مشورہ کرسکیں۔ یہ محض خیالی باتیں نہیں ہیں۔ سچ میں ایسی جگہیں موجود ہیں جہاں نئے زمانے کی عورت اپنے دل کی بات دھڑلے سے کرتی ہے، اور اس کی ہم جولیاں اس کا تمسخر اڑانے کی بجائے اس کی ہمت بڑھاتی ہیں۔
سوشل میڈیا پر ایسے کئی گروپ موجود ہیں جہاں خواتین اپنے مسائل، اپنی خوشیاں، اچھے لمحات کی یادیں، مصیبتیں، اپنے حالات کے بارے میں کھل کر بات کر سکتی ہیں۔ کیونکہ یہ کلوز گروپس صرف خواتین کے لئے مخصوص ہوتے ہیں اور ان میں مردوں کو شمولیت کی اجازت نہیں ہوتی۔ اس لئے خواتین محسوس کرتی ہیں کہ ان کے پاس ایک ایسی محفوظ جگہ ہے جہاں وہ اپنے دل کی بات کہہ سکتی ہیں۔ ڈیجیٹل سسٹر ہڈ ایک ذہنی کیفیت ہے۔ آپ اپنی ہم جولیوں کے ساتھ جڑی ہوتی ہیں۔ یعنی آپ ایک بہنوں والا تعلق بنا کر اپنی باتیں شیئر کر رہی ہیں، لیکن یہ بہنوں والا تعلق ڈیجیٹل دنیا میں ہے۔
عموماً ان گروپس میں ایسے موضوعات ہیں جن میں عام طور پر عورت کو ہی قصوروار قرار دیا جاتا ہے یا پھر ان کو خاموش رہنے کو کہا جاتا ہے۔ مثلاً شادی نہ ہونا، ہو کر ختم ہو جانا، جنسی ہراسانی، جسمانی ساخت کی بنیاد پر امتیازی سلوک یا باڈی شیمنگ، گھریلو تشدد یا پھر دفاتر میں مخلتف وجوہات کی بنا پر امتیازی سلوک اور زبردستی کی شادی وغیرہ۔
ان گروپس میں خواتین نہ صرف ان موضوعات پر کھل کر بات کر سکتی ہیں، بلکہ ایسی خواتین جو اپنی سماجی یا معاشی حیثیت کی وجہ سے کسی کی قانونی، مالی یا جذباتی یا پھر پیشہ ورانہ مدد کرنا چاہتی ہوں تو وہ بھی کر سکتی ہیں۔ عین ممکن ہے کہ آپ حقیقت میں کبھی ان خواتین کو مل بھی نہ پائیں، لیکن آپ خود کو ان کے ساتھ جڑا ہوا محسوس کرتی ہیں، ان کی تسلیاں، مشورے، پیار بھرے دو بول آپ کی زندگی میں سکون لا رہے ہوں گے۔ ذیل میں کچھ مثالیں دی جا رہی ہیں، دیکھیں کیا کبھی آپ نے ایسی باتیں کسی کے ساتھ شیئر کی ہیں جو کہ ڈیجیٹل سسٹر ہڈ کے پروان چڑھنے کے بعد خواتین ان گروپس میں کرتی ہیں۔
میری شکل ہی میری آزمائش ہے!
ہم تین بہنیں ہیں، میں سب سے بڑی ہوں۔ میں اچھی نہیں ہوں، بالکل بھی نہیں۔ قد چھوٹا ہے، جسم کمزور ہے، عمر اکیس سال ہے مگر دیکھنے میں پندرہ سال سے زیادہ نہیں لگتی، بال ہیں تو روکھے پھیکے اور چہرہ کیل مہاسوں اور نشانوں سے اٹا ہوا ہے۔ ہاں اگر کوئی شے مجھے خود میں بھلی لگتی ہے تو وہ ہیں میرے ہونٹ، بھرے بھرے سے ہیں۔ شکل تو میری خوبصورتی میں شمار نہیں ہوتی لیکن مجھے اپنی روح بھی بدصورت ہی لگتی ہے۔ وہ کیوں، اس لئے کہ میں اپنی دونوں بہنوں سے دل ہی دل میں حسد کرتی ہوں۔
حسد کہنا بہرحال مناسب ہے یا نہیں، یا اس احساس کو میں کچھ اور نام دوں کیونکہ جب میں آئینے میں اپنا عکس دیکھتی ہوں اور پھر ایک نظر ان دونوں کے حسین چہروں پر ڈالتی ہوں تو مجھے اچھا محسوس نہیں ہو تا۔ مجھے اپنی بہنوں سے بے حد محبت ہے، اور انہیں دیکھ کر میرے دل میں بھی ایک حسرت جاگ اٹھتی ہے کاش میں بھی ان کی طرح حسین ہوتی۔ لوگ ان کی تعریف یوں کرتے ہیں، ”کتنی پیاری لگ رہی ہو۔“ میری تعریف یوں کی جاتی ہے۔
”آج کپڑے اچھے لگ رہے ہیں یا تمہاری فلاں تصویر اچھی ہے لگتا نہیں کہ تم ہو۔“ میں اللہ سے شکوہ کرتی ہوں، ہر وقت اپنی شکل کے بارے سوچتی رہتی ہوں، اور روتی رہتی ہوں۔ یہ پوسٹ لکھتے ہوئے بھی آنسو تھم نہیں رہے۔ میرے لوگ، میرے بہت قریبی لوگ میری کبھی تعریف نہیں کرتے، یہ بات میرا دل دکھاتی ہے۔ میرے لئے سب دعا کیجئے کہ اللہ میری آزمائش آسان کر دے۔
میرا ہکلانا میری راہ کی رکاوٹ ہے
میں بات کرتے ہوئے ہکلاتی ہوں، میں ٹھیک سے بات نہیں کر پاتی۔ خاص طور پر پریشانی میں تو ایک لفظ بھی منہ سے نہیں نکال پاتی۔ میں پیدائشی طور پر ایسی نہیں تھی، مگر جب میں بارہ سال کی تھی تو میری والدہ بہت سخت بیمار ہوئیں۔ میں بہن بھائیوں میں بڑی تھی، میں نے ان کا بھی خیال رکھا اور ماں کو بھی سنبھالا لیکن اس سانحے کو میں بھلا نہیں پائی اور اس کا اثر بعد ازاں میری اس حالت کی صورت ظاہر ہوا۔ زمانہ طالب علمی میں، میں اچھی تھی لیکن زیادہ تر بات کرنے سے کتراتی تھی۔
کیونکہ جب بھی بولنے کے لئے منہ کھولتی، بچے میرا مذاق اڑاتے اور یوں میرے اعتماد کی دھجیاں اڑ جاتیں۔ ایم سی ایس کے بعد کچھ عرصہ تدریس کے شعبے سے بھی وابستہ رہی لیکن وہاں بھی میری یہی کمزوری آڑے آئی۔ اب شادی شدہ ہوں اور بیرون ملک مقیم ہوں۔ ابھی بھی میرے لئے کسی سے بات کرنا ایک انتہائی دشوار مرحلہ ہوتا ہے۔
سانولی ہوں کیا یہ گناہ ہے؟
مجھے نہیں معلوم کہ میں یہ سب کیوں لکھ رہی ہوں، بچپن ہی سے میرا رنگ سانولا ہے اور میرا شمار خوبصورت بچوں میں ہو تا بھی نہیں تھا۔ خیر میرے والدین نے مجھے کبھی اس کا احساس نہیں ہونے دیا، ہمیشہ مجھے تعلیم اور کیرئیر پر توجہ دینے کا کہا۔ لیکن آس پاس کے لوگوں، بطور خاص میرے کزنز وغیرہ کا شکریہ جنہوں نے ہمیشہ مجھے یہ احساس دلوایا کہ میں چونکہ سانولی رنگت کی حامل ہوں اس لئے خوبصورت تو بالکل نہیں ہوں۔ خیر اس سب کے باوجود میں جب بڑی ہوئی تو ظاہر ہے اپنی شخصیت کو سنوارنا بھی سیکھ لیا۔
مگر شادی کے بعد رشتہ داروں او ر کزنز والی ڈیوٹی میری ساس اور نندوں نے سنبھال لی ہے۔ وہ ہمہ وقت یہ باور کروانے میں لگی رہتی ہیں کہ میں کالی ہوں، موٹی ہوں۔ جبکہ میرے شوہر بھرپور کوشش کرتے ہیں کہ میں ان کی باتوں کو دل پر نہ لوں، مگر میں ان کے طعنے اور تمسخر سے اتنا تنگ آ چکی ہوں کہ میں دو پرچوں میں بری طرح فیل ہوئی ہوں کیونکہ میں اپنی پڑھائی پر فوکس ہی نہیں کر پاتی۔ میں نے یہ ماننا شروع کر دیا ہے کہ واقعی میں اپنی نندوں سے کم تر ہوں، ورنہ وہ تو تین تین بچوں اور مجھ سے عمر میں بڑی ہونے کے باوجود خوبصورت ہیں اور جواں نظر آتی ہیں۔
دوسروں کے ایسے جذبات پڑھنے کے بعد آپ کو نہیں لگتا کہ ایسے پلیٹ فارمز پر بات کرنے سے پہلے اور کسی حد تک بعد میں بھی یہ عورتیں کس قدر ذہنی کرب سے گزری ہوں گی ۔ ان گروپس کی اچھی بات یہ ہے کہ جب کوئی خاتون اپنا دل ہلکا کرنے کے لئے اپنا غم اپنی ہم جولیوں کے ساتھ شیئر کرتی ہے تو اسے بڑی حد تک سپورٹ کیا جا تا ہے، اس کی ہمت بندھائی جاتی ہے، تسلی کے بول بولے جاتے ہیں، حیران کن بات یہ ہے کہ ان فورمز پر موجود خواتین حقیقی زندگی میں بھی ہمارے آس پاس موجود ہوتی ہیں لیکن پھر ایسا کیا ہے جو انہیں کمپیوٹر یا موبائل کی سکرین کے پیچھے تو نرم دل بنا دیتا ہے مگر حقیقی دنیا میں سخت دل۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم ڈیجیٹل دنیا میں جا کر اپنی حقیقی شخصیت پر اچھائی کا لبادہ اوڑھ لیتے ہیں۔ سوچیں جن ہم جولیوں کے ساتھ آپ سوشل میڈیا پر نرمی برتتی ہیں، آپ کے آس پاس رہنے والی خواتین کا بھی حق نہیں کہ آپ ان کو بھی سپورٹ کریں۔ ان کی دادرسی کریں تاکہ وہ بھی اچھا محسوس کرسکیں۔


