کچھ روس یوکرین تنازع کے بارے میں

مارشل آرٹس کے ماہر اور سوویت یونین کی نمبر ون خفیہ ایجنسی کے جی بی کے سابق افسر اور پھر روسی سربراہ ولادی میر پیوٹن سوویت یونین کی ٹوٹ پھوٹ کے بعد سے زخمی شیر بنے ہوئے تھے اور انہوں نے اپنی آنکھوں سے سوویت یونین کا شیرازہ بکھرتے دیکھا تھا اور پھر ایک پلاننگ کے تحت انہیں سیاست اور پھر حکومت میں اہم ترین عہدوں پر لایا گیا اور اب وہ یوکرین پر زبردستی قبضے کا اعلان کرچکے اور آگے بڑھ کر کئی یوکرینی شہروں پر قابض ہوچکے ہیں اور المیہ یہ بھی ہے کہ اس وقت یوکرین کے صدر ایک مزاحیہ اداکار زیلنسکی ہیں جو کہ ”سرونٹ آف دی پیپل“ نامی ڈرامے سے شہرت پا کر 2019 میں حادثاتی طور پر ملک کے صدر بن گئے تھے اور بنتے ہی زیلنسکی نے روس سے تنازعات ختم کرنے کی بات بھی کی تھی لیکن افسوس کہ ان کی خواہش پوری ہونے سے رہ گئی اور پیوٹن نے یوکرین پر حملہ کر دیا۔
بظاہر پیوٹن کا الزام یہ ہے کہ وہ یوکرین کو نیٹو کا حصہ بنتا دیکھ کر روس کے صحن میں ”موت کا فرشتہ“ کھڑا نہیں دیکھ سکتے ہیں لیکن اندر کھاتے بات یہ ہے کہ پیوٹن کے توسیع پسندانہ عزائم بھی ایک کھلی حقیقت ہیں اور وہ ”انکل سام اور اس کے عزیزوں“ کو روس پر نظر رکھنے کے لیے کوئی جگہ دینے کو بالکل بھی تیار نہ ہیں اور ایسا عمل روکنے کے لیے وہ کسی بھی حد کراسنے کے لیے ذہنی و اسلحی لحاظ سے تیار نظر آرہے ہیں اور ان کا یہ قول بھی سب اب توجہ، دھیان اور دھمکی آمیز لہجوں میں سن رہے ہیں کہ
”اگر لڑائی ہو جائے تو پھر پہلا مکا تمہارا ہونا چاہیے“
اور مارشل آرٹ کے ماہر اس سابق خطرناک جاسوس نے مکا پوری قوت سے رسید کر دیا ہے اور اس کی چوٹ انکل سام اور اس کے نام لیواؤں کو بھی زخمی سانپ بنا چکی ہے لیکن وہ چاہتے ہوئے بھی کچھ نہ کر سکتے ہیں کیونکہ پیوٹن نے کھلی دھمکی دی ہے کہ
” اگر کسی نے مداخلت کی تو وہ اسے بھی پلٹ کر نشان عبرت بنا دیں گے اور یہ صرف دھمکی نہیں ہے“
یوکرین کے صدر زیلنسکی اپنی ناتجربہ کاری کی وجہ سے عالمی برادری کو بھی متوجہ کرنے سے قاصر نظر آرہے ہیں اور اب انہوں نے بچوں کے سے انداز میں مغربی ممالک سے تعاون نہ کرنے کے شکوے شروع کر دیے ہیں لیکن ان کی جانب سے اپنے عوام کو بہادری کا درس دینے کے لیے صدارتی محل کے سامنے ڈٹے رہنے کی ویڈیو نے سب کو متاثر کیا اور ان کا یہ کہنا کہ
”ہم دارالحکومت کیف کے لیے آخری سانس تک لڑیں گے“
کو خاصی پذیرائی ملی ہے اور اس نے انہیں اپنے عوام میں مقبول بھی کر دیا ہے، ان کی حکومت نے کیف کے شہریوں میں سینکڑوں کلاشنکوفیں بھی تقسیم کی ہیں مگر یہ بات تجربہ کار روسی فوج کو آگے بڑھنے سے روک نہ سکے گی اور پھر جب بائیڈن نے زیلنسکی سے کہا کہ
”آپ کو کیف سے نکالنے کے لیے میں اپنا خصوصی جہاز بھیج سکتا ہوں“
تو زیلنسکی نے ایک جرات مند لیڈر کی مانند جواب دیا
”ہمیں لڑنے کے لیے ٹینکوں کی ضرورت ہے بھاگنے کے لیے جہاز کی نہیں“
حیرت ہے کہ روس کی کھلی جارحیت کے باوجود امریکہ اور اس کے حواری ممالک چپ ہیں اور کچھ بھی کرنے کی بجائے صرف پابندیوں کی دھمکیاں دے رہے ہیں ورنہ سب جانتے ہیں کہ عراق کے کویت پر قبضے کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادی 29 ممالک کس برق رفتاری سے صدام حسین کے عراق پر یلغار کے لیے پہنچے تھے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ ”کیا دنیا کا مسلم ممالک کے حوالے سے معیار کوئی اور ہوتا ہے؟
ادھر سلامتی کونسل میں روس نے اپنے خلاف پیش ہونے والی مذمتی قرارداد ویٹو کردی ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ چین نے اس ویٹو میں حصہ نہیں لیا اور بھارت اور عرب امارات نہایت استادی گر کھیلتے ہوئے ووٹنگ کے عمل سے ہی غیر حاضر ہو گئے تھے۔ یوکرین کو نیٹو کا حصہ بنانے کے سب سے زیادہ بے چین برطانیہ کے وزیرداخلہ نے روس کے سفیر کو اپنے کمرے سے جلد نکالنے پر ہی اکتفا کیا ہے اور جاپان نے کچھ آگے بڑھ کر کچھ پابندیاں لگائی ہیں۔
روس سے 2022 کے فٹ بال چیمپیئنز لیگ کی میزبانی واپس لے کر پیرس کو دے دی گئی ہے۔ امریکہ کے اعلی حکام بھارت پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ ماسکو کے خلاف سخت بیان دیں لیکن بھارت سر دست اپنے دیرینہ دوست ماسکو کے خلاف ایسا کوئی بھی بیان دینے پر تیار نہیں ہو رہا ہے بس ”تشویش“ کا اظہار ہی کرتا ہوا مل رہا ہے، فن لینڈ کی نوجوان اور خوبصورت وزیراعظم کو بھی روس نے نیٹو کا حصہ بننے پر دھمکی دے ڈالی ہے اور ایسا کرنے کی صورت میں اسے سیاسی و عسکری انداز سے نمٹنے کی دھمکی دے ڈالی ہے جس پر فن لینڈ کی وزیراعظم نے خاصی گھبراہٹ والے بیانات دینا شروع کر دیے ہیں۔
پوپ بھی صورت حال سے خوش نہ ہیں اور انہوں نے جنگ کو شرمناک شکست سے تعبیر کیا ہے جب کہ اقوام متحدہ کی خصوصی سفیر اداکارہ انجیلا جولی نے یوکرین کے بے گھر افراد کی بحالی کے لیے اقدامات اٹھانے کا اعلان کر دیا ہے اور امریکہ اور ڈنمارک نے یوکرینی پناہ گزینوں کے لیے اپنی سرحدی حدود کو وا کرنے کے انتظامات کرنا شروع کر دیے ہیں۔ نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی نے بھی فی الفور جنگ بندی پر زور دیا ہے کہ اس سے انسانوں کو ناقابل تلافی نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
یاد رہے کہ یوکرین میں 3 ہزار کے قریب پاکستانی اسٹوڈنٹس اور شہری پھنس چکے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ پاکستانی سفارت خانہ ان سے تعاون نہ کر رہا ہے جس سے ان کو سنگین صورت حال سے گزرنا پڑ رہا ہے اور وہ پولینڈ کی سرحد تک پہنچنا چاہتے ہیں تاکہ وہاں سے اپنے ملک پاکستان آ سکیں۔
یہاں قارئین کے لیے یہ بات دلچسپی سے خالی نہ ہونی چاہیے کہ روس کے اور یوکرین کے جنگی ساز و سامان کی تعداد، معیار، ساخت، خطرناکی اور اپروچ میں زمین آسمان کا فرق ہے، بس ایک مثال دوں گا اور اسی سے قارئین سب اندازہ کر سکتے ہیں کہ روس کے پاس 1500 لڑاکا جہاز اور یوکرین کے پاس صرف 98 ہیں اور پھر روس کی قیادت اس وقت ہر لحاظ سے تجربہ کار اور جہاندیدہ ولادی میر پیوٹن کے پاس ہے اور یوکرین کی صدارت نوآموز سابق کامیڈین زیلنسکی کے پاس ہے جو کہ اپنے ایک ڈرامے کی کامیابی کے بعد حادثاتی طور پر عوام میں مقبول ہو کر اعلی عہدے پر براجمان ہو جاتے ہیں اور ابھی جنگی گمبھیر صورت حال میں زیلنسکی کے بچگانہ بیانات بتا رہے کہ وہ اپنے عوام کی زندگیاں، مال و متاع، ساکھ اور زمین بچانے کے لیے کسی صورت بھی کامیاب نہ ہو سکیں گے اور کیف ان کے ہاتھوں جس تیزی سے پھسل رہا ہے اس کی خبریں بھی عالمی میڈیا تواتر سے دے رہا ہے۔
یاد رہے کہ پیوٹن اپنی عمر سے بڑے لڑکوں سے لڑنے کی شہرت کے حامل بھی ہیں، ان کی 30 سالہ رفاقت کے بعد اپنی اہلیہ لیوڈمیلا سے علیحدگی ہو گئی تھی لیکن لیوڈمیلا آج بھی پیوٹن کے لیے اچھے الفاظ ادا کرتی ہوئی ملتی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ
”پیوٹن کوئی عام سے انسان نہیں ہیں بلکہ وہ ایک حیرت انگیز شخص ہیں جو ناقابل یقین صلاحیتوں کا حامل ہے اور اس سے کچھ بھی بعید نہیں ہے“
پیوٹن کی 2 بیٹیاں ہیں ایک کترینہ ہے جو کہ ماسکو کی اسٹیٹ یونیورسٹی میں ایک اعلی ترین انتظامی عہدے کو کامیابی سے سنبھالے ہوئے ہیں اور دوسری بیٹی ماریہ ہیں جن کی فیلڈ ایجوکیشن ہے اور دونوں بیٹیاں خوبصورتی میں بھی اپنی مثال آپ ہیں خصوصاً ان کی بیٹی کترینہ جو کہ ایک ذمہ دار پوسٹ پر ہونے کے باوجود ایکروبیٹک راک اینڈ رول مقابلوں میں بھی نہایت عمدگی سے پرفارم کرتی ہوئی نظر آتی ہیں۔
پیوٹن کی ظاہری شکل و صورت اور بدن بولی خاصی متاثر کن ہے اور عمر کے اس حصے میں بھی ان کی چال ڈھال کسی نوجوان سے لگا کھاتی ہے اور ان کا دماغ کسی شیطان کی مانند چلتا ہے اور وہ دور، حاضر کے سب لیڈروں سے زیادہ بے باک، ذہین، برق رفتار، سنجیدہ اور معاملہ فہم سمجھے جاتے ہیں اور ان کا کسی بھی قسم کا کبھی کوئی اسکینڈل بھی نہ آیا ہے جو کہ انہیں اپنی قوم میں مدت سے مقبول بنائے ہوئے ہے ورنہ 1999 سے شروع ان کا سفر ان کو یقیناً غیر مقبولیت کی طرف دھکیل سکتا تھا اور جہاں تک ان کی مغربی ملکوں کو دی گئی ”ایٹمی دھمکی“ کی بات ہے تو اس بارے ان کی بات کو خاصی سنجیدگی سے دیکھنا چاہیے کیونکہ وہ اپنے کے جی بی والے مخصوص پس منظر کی وجہ سے جنگ و جدل، مار دھاڑ اور خون خرابے سے ڈرنے یا ہچکچانے والے بالکل بھی نہیں ہوں گے؟ اگر اس کے باوجود فرانسیسی وزیرخارجہ ژان ایولودریان نے جواب میں اگر یہ کہا ہے کہ
”شاید پیوٹن نہیں جانتے کہ نیٹو کے پاس بھی نیوکلیئر ہتھیار موجود ہیں اور نیٹو اتحاد دراصل ایک“ نیوکلیئر اتحاد ”ہے“
فرانسیسی وزیرخارجہ کی بات ایک تشویش ناک صورت حال کا اشارہ دے رہی ہے کیونکہ اگر اگر ایٹمی ہتھیار استعمال ہوتے ہیں تو بات بہت خطرناک مرحلے کی طرف بڑھ جائے گی اور نقصان کا اندیشہ بھی ہزاروں گنا ہو سکتا ہے کیونکہ پھر تیسری عالمگیر جنگ کو روکنا ناممکن ہو جائے گا لیکن افسوس ناک بات یہ ہے کہ اس وقت بڑھتے جنگی اور توسیع پسندانہ جنون کو دیکھنے کے باوجود بھی کوئی بھی طاقت ایسی نظر نہ آ رہی ہے جو کہ روس اور اس کے مقابل کھڑی زخمی طاقتوں کو سمجھا بجھا کر کسی ڈائیلاگی ٹیبل پر بٹھا سکے اور پھر بات یہ بھی ہے کہ جب بڑی طاقتیں مد مقابل یوں تو چھوٹی طاقتوں کی صلح کے لیے کوششوں کو خاطر میں کون لائے گا؟
صلح بھی وہی کروا سکتے ہیں جو کہ دنیا میں کچھ اثر و رسوخ رکھتے ہوں اور یہاں تو متحارب قوتیں ہی باہم دست و گریبان ہیں، ایسے میں صورت حال کی گمبھیریت کا ادراک کوئی بھی کر سکتا ہے لیکن شاباش ہے پاکستان کے نادان وزیراعظم کو کہ اس لڑائی اور پیچیدہ ترین ماحول کو جانے اور جانچے بغیر ہی اس روس کے دورے پر درخواست کر کے پہنچ گئے جو کہ امریکہ اور اس کے ہمنوا ملکوں اور قوتوں کے لیے اس وقت ”گالی“ بنا ہوا ہے اور یہ یقیناً ایک دانش مندانہ فیصلہ نہیں کہا جاسکتا ہے لیکن جس دماغ میں یہ سوچ راسخ ہو چکی ہو کہ
”میں سب سے زیادہ جانتا ہوں“
اسے آپ کیسے سمجھا سکتے ہیں۔

