نور مقدم قتل کیس کا فیصلہ اور والدین سے ایک ملاقات ’نور میری ہیرا بیٹی تھی، ظاہر کو سزا ملنی ضروری تھی‘
نور کی قبر اب پختہ ہو چکی ہے اور اس پر رنگ برنگے پھول ہی پھول ہیں نارنجی، سرخ، سفید اور پیلے اور وہاں تختی پر لکھا ہے ’پیاری بیٹی نور۔۔۔‘
شاید گھر والوں نے کچھ ہی دیر پہلے وہاں اگر بتیاں جلائی تھیں جن کی مہک پھیل رہی تھی۔
نور مقدم کے قتل کیس میں عدالت کا فیصلہ سننے کے کچھ ہی دیر بعد میں تقریباً 30 کلومیٹر دور نور کی قبر پر جانے کے لیے قبرستان پہنچی۔ موسم میں اس دن بہت خنکی تھی لیکن مجھے وہ دن یاد آ رہا تھا جب میں چھ ماہ قبل نور کی تدفین پر یہاں آئی تھی۔ اس کڑی دھوپ اور دل دہلا دینے والے واقعے کے نقش آج چھ ماہ بعد بھی مِٹ نہیں پائے اور شاید کبھی مٹ بھی نہ پائیں۔
نجانے کیوں میں کمرہ عدالت میں فیصلہ سننے کے بعد یہاں آنا چاہتی تھی اور کچھ لمحے یہاں بیٹھنا چاہتی تھی شاید اپنی تکلیف کم کرنے جو میں بطور عورت اور انسان اس کے لیے محسوس کرتی ہوں۔
عدالت میں کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔ جب جج عطا ربانی فیصلہ سنانے لگے تھے تو سب کھڑے تھے، جج نے ظاہر جعفر کے لیے ’سینٹینس ٹو ڈیتھ’ کا فیصلہ سنایا۔ ظاہر جعفر نے کھچا کھچ بھری عدالت میں فیصلہ سنا۔
نور کی قبر کے سامنے قبرستان کے بینچ پر بیٹھے میرے سامنے عدالت میں موجود خواتین کی آوازیں اور صحافیوں کے نور کے اہلِخانہ سے کیے گئے سوالات گونج رہے تھے۔
’ظاہر کو پھانسی کی سزا ہوئی کیا آپ مطمئین ہیں؟‘ اس کا جواب تو ’ہاں‘ تھا لیکن دو ملازموں کے علاوہ والدین اور دیگر ملزمان کی بریت پر ایک ہی سوال کیا جا رہا تھا ’کیا آپ اپیل میں جائیں گے؟‘
نور کے والد نے جواب میں تفصیلی فیصلے کا انتظار کرنے اور وکیل سے مشورہ کرنے کی بات کی۔
نور کی والدہ سے فون پر رابطہ کیا تو انھوں نے گھر آنے کی اجازت دی۔ قبرستان سے دو منٹ کے فاصلے پر وہ گھر ہے جہاں نور رہتی تھی جہاں 22 جولائی کو نور کا جسد خاکی لایا گیا تھا۔
ڈرائنگ روم میں بیٹھی نور کی والدہ میری منتظر تھیں۔ دعاؤں کا وِرد کرتیں وہ گاہے بگاہے اپنا فون اٹھا رہی تھیں جس پر ان کے عزیز و اقارب انھیں کال کر کے اظہار تشکر میں ان کا ساتھ دے رہے تھے کہ عدالت نے انصاف کیا۔
ایک کال پر انھوں نے وزیر اطلاعات شیخ رشید کا حوالہ دیا کہ ’میں نے سنا ہے۔۔۔ انھوں نے کہا ہے کہ ظاہر کو سزا ملے ریاست اس کو یقینی بنائے گی۔‘
ظاہر جعفر کو سزائے موت دیے جانے پر سب ہی خدا کا شکر ادا کر رہے تھے لیکن اس کے والدین کو چھوڑے جانے کا فیصلہ جیسے کمرہ عدالت میں نور کے والد کو ایک شاک کی کیفیت میں لے گیا اور خواتین کہنے لگیں ’ماں باپ کو کیوں چھوڑا۔۔۔ تھوڑا تو جرمانہ کرتے۔۔۔ تھوڑی تو سزا دیتے‘۔
یہاں نہایت صبر اور شائستہ انداز میں گفتگو کرتی مسز شوکت کے بھی یہی تاثرات تھے۔ وہ کہنے لگیں ’تمھیں معلوم ہے وہ میری ہیرا بیٹی تھی، میرے پاس نور کی دوست آتی ہیں، بچیاں آتی ہیں۔‘
انھوں نے بتایا ’سبھی خوفزدہ ہیں کہ یہ کیا ہوا ہے۔‘
وہ بتانے لگیں کہ ’آج میرے فون پر فیصلے کے بعد مسلسل کالز آ رہی ہیں اور مہمان آ رہے ہیں۔‘
مسز شوکت نے کہا کہ ظاہر کو یہ سزا ملنا ضروری تھی تاکہ ہر بیٹی محفوظ ہو، یہ مثال بنے ورنہ تو نجانے کتنی لڑکیوں کے ساتھ یہ ہوتا۔
انھوں نے مجھے بتایا کہ ’تمھیں معلوم ہے کہ وہ لوگوں کی ایسے مدد کرتی تھی کہ میں حیران ہوتی تھی، بہت زیادہ۔ اور بزرگوں کے قریب بیٹھنا، ان کی باتیں سننا، ان کو وقت دینا اسے کبھی نہیں تھکاتا تھا‘۔
انھوں نے نور کے رشتے کی ایک دادی اماں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ڈیمنشیا کی مریض تھیں، ہر بار جب بھی آتیں دن میں کئی بار ایک ہی بات تفصیل سے دوہراتیں اور ’میں نے ہر بار نور کو ان کے پاس بیٹھے ان کو وقت دیتے دیکھا اور ایک بار میں نے کہا کہ پھر سنی کہانی دوبارہ سے تو اس نے مسکرا کر جواب دیا، جی امی مجھے اچھا لگتا ہے ان کو وقت دینا۔‘
مزید پڑھیے
نور مقدم قتل کیس میں ظاہر جعفر کو سزائے موت، مجرم کے والدین اور دیگر ملزم کیوں بری ہوئے
’اب بھی نُور کے لیے ’تھی‘ کا لفظ استعمال نہیں کر پاتے‘
وہ کہنے لگی نور کسی کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی تھی اور مجھے نور کی پوسٹ مارٹم رپورٹ اور وہ فوٹیجز یاد آ رہی تھیں جب وہ خود کو بچانے کی کوشش کر رہی تھی۔
نور کی موت کی وجہ دماغ کو آکسیجن نہ پہنچنا تھی اور ایسا اس لیے ہوا کیونکہ اس کا سر تن سے جدا کر دیا گیا تھا۔ اس کے چہرے، اس کی گردن پر زخموں کے نشان تھے اور اس کا ریپ کیا گیا تھا۔
موت سے پہلے اسے کتنی تکلیف برداشت کرنی پڑی اس کی ایک جھلک آپ اور ہم سب گذشتہ چھ ماہ میں سامنے آنے والی فوٹیجز میں دیکھ چکے ہیں۔
میں نے ہچکچا کر ان سے سوال کیا کہ کیا میں نور کا کمرہ دیکھ سکتی ہوں، تو انھوں نے بخوشی اجازت دی وہ چلتے چلتے نور کی ہی باتیں کرتے ہوئے بیسمنٹ کی جانب مڑیں۔
سیڑھیاں اترتے ہوئے مسز شوکت نے بتایا کہ نور کا کمرہ ویسا ہی ہے کیوں کہ اس کے والد اس کی چیزوں کو ادھر ادھر نہیں کرنے دیتے، ’ان کا نور سے بہت پیار ہے‘۔
نور کے کمرے میں داخل ہوں تو سب سے پہلے پینٹ کی ہوئی دیوار آپ کی توجہ حاصل کرتی ہے۔ نور کی پینٹنگ اور اس کی نفاست آپ کو متاثر کرتی ہے۔ یہ رنگ وہی ہیں جو اس کی قبر پر لگے پھولوں کے ہیں۔ گھر والوں نے اس کی رنگوں سے محبت کا خیال اور ان کو یاد رکھا۔
کمرے میں کتابوں کی شیلف سے نور کی والدہ نے ایک نوٹ بک نکالی جس کے مختلف صفحات پر نور نے قرآن کی مختلف سورتوں کے بارے میں لکھا ہوا تھا۔ یہ تحریریں ایسے ہی تھیں جیسے کوئی طالبعلم بہت لگن سے اپنے نوٹس بناتا ہے۔
انھوں نے مجھے نور کے کیلی گرافی کے شوق کے بارے میں بھی بتایا جس کی بعد میں انھوں نے نمائش بھی کی تھی۔
میں نے ایک بار پھر اس کمرے کی تصویر لینے کی اجازت چاہی اور کیمرہ آن کیا۔
باہر لیونگ روم سے گزرتے ہوئے مسز شوکت نے مجھے چھت پر لٹکتا فانوس دکھایا کہ دیکھو نور نے اسے کیسے بدل دیا تھا اور پھر سائڈ پر بنی الماریوں کی جانب اور کچن کی جانب اشارہ کر کے کہا کہ ’یہ سب پینٹ میری بیٹی نے خود کیا ہے‘۔
اوپر جاتے ہوئے انھوں نے الماریوں کے اوپر بنی شیلف کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ یہاں پر ان سب کو ملنے والے میڈلز پڑے ہوتے تھے لیکن ’اب شوکت صاحب یہیں بیٹھ کر نور کے کیس کے حوالے سے جو بھی کام ہوتا، میٹنگ ہوتی تھی، کرتے تھے۔‘
خاموش پڑے لیونگ روم کی ان شیلفز پر اب مجھے بس فائلز ہی دکھائی دے رہی تھیں۔
ہم اب ایک بار پھر اوپر ڈرائنگ روم میں تھے جہاں اس خاندان نے نور کو الوداع کہا تھا۔
دوپٹہ اوڑھے اور تسبیح کا ورد کرتے مسز شوکت نے مجھے پھر سے بیٹھنے کو کہا تو میں نے چند لمحوں بعد ان سے اجازت چاہی۔
لیکن تبھی مرکزی دروازے سے نور کے والد اور تایا اور تائی داخل ہوئے۔ وہ عدالت کا فیصلہ سن کر لوٹے تھے۔ سب ایک دوسرے سے مل رہے تھے اور ان کی آوازیں نم تھیں اور اس مشکل وقت میں ایک دوسرے کی ہمت بندھانے کے لیے شکریہ ادا کرتے الفاظ۔
شوکت مقدم نے اپنی مختصر گفتگو میں مجھے جہاں ظاہر کو ملنے والی سزا پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ نور کو انصاف ملا ہے وہیں یہ بھی کہا کہ ’حمیرا میں نے اپنی بیٹی کے لیے یہ سب کیا کیونکہ وہ جیسی اچھی بیٹی تھی یہ اس کا حق تھا کہ میں اس کے لیے کھڑا ہوتا۔‘


