علامہ اقبال کا انفرادی منہج
مفکرین سماج کا دماغ ہوتے ہیں۔ ان کے افکار ملتوں کو راستہ دکھاتے ہیں۔ دنیائے اسلام نے بھی بڑے بڑے نامی گرامی دانش مندوں کو جنم دیا ہے۔ مثال کے طور پر اسلامی ممالک میں سید جمال الدین افغانی ایک بڑے ممتاز دانشور ہیں۔ ان کا دور مسلمانوں کے زوال اور استعمار کے عروج کے زمانے کا تھا۔ چنانچہ انہوں نے مسلمانوں کی زبوں حالی اور استعمار کی کامیابیوں کا سنجیدگی سے جائزہ لیا۔ ایسے دور میں وہ سب سے پہلے مسلمان دانشمند ہیں کہ جنہوں نے اسلامی دنیا میں ”اسلام کی طرف واپس پلٹنے“ کا پرچم بلند کیا۔
ان کی فکری تحریک نے ہند، مصر اور ایران کو شدید طور پر متاثر کیا۔ ان کے علاوہ ہمارے ہاں ڈاکٹر علی شریعتی کا بھی ایک بڑا نام ہے۔ شریعتی نے نسل نو کی فرہنگ (تہذیب) کے مطابق اسلام کی تعبیر نو کی ہے۔ انہوں نے توحید کو دنیا اور آخرت، فطرت اور مافوق الفطرت، روح اور جسم میں تقسیم کرنے کے بجائے انسانوں کو اور خصوصاً مسلمانوں کو توحید پر جمع ہونے کی دعوت دی ہے۔ ان کے مطابق انسان دو قطبی وجود رکھتا ہے۔ اس کا ایک قطب خاک سے تشکیل شدہ ہے جسے بڑھاپے کا عارضہ لاحق ہوجاتا ہے اور دوسرا قطب خدا کی روح ہے جو اس میں پھونکی گئی ہے جو انسان کو ایک ماورائی مخلوق میں تبدیل کرتی ہے۔
ان کے مطابق وجود انسان کے اندر ان دو قطبوں کا میدان جنگ مسلسل حرکت کر رہا ہے۔ نتیجے کے طور پر ، انسان ایک جامد وجود نہیں ہے بلکہ ایک متحرک اور مسلسل ارتقا پذیر وجود ہے، جو مسلسل اپنے ماورائی عنصر، الہی روح کی طرف بڑھ رہا ہے۔ انسان کے لئے مذہب اسی سمت میں آگے بڑھنے کا راستہ ہے۔ ایک ایسا راستہ جو انسان کو مادی زندگی، جہالت اور شیطانی مزاج سے خدا کی طرف لے جاتا ہے۔ وہ اپنے افکار و نظریات میں انسانوں کو اپنی اصلیت یعنی توحید اور خودی کی طرف واپس آنے کی دعوت دیتے ہیں۔
اسی طرح علامہ محمد اقبال بھی عالمی شہرت رکھتے ہیں۔ انہیں مصور پاکستان اور شاعر مشرق کے طور پر جانا چاہتا ہے۔ اقبال کا مقام اتنا بلند ہے کہ اقبال کے بعد ابھی تک کوئی بھی اس پائے کی شخصیت جنم نہیں لے سکی۔ بنیادی طور پر سید جمال الدین، علامہ اقبال اور ڈاکٹر شریعتی کے نظریات میں جہاں مماثلت پائی جاتی ہے وہیں انفرادیت بھی قابل مشاہدہ ہے۔ مثال کے طور پر شریعتی نے جس ”توحید اور خودی“ کی طرف پلٹنے کی بات کی ہے، یہ وہ بات ہے جو شریعتی سے 40 سال پہلے ہندوستان میں علامہ اقبال نے کر دی تھی۔
اقبال چالیس سال پہلے اپنے نظریہ خودی کے ساتھ ایک ملت کو تراش کر ایک نظریاتی ریاست کو وجود بخش چکے تھے۔ چنانچہ شریعتی خود کو اقبال کا شاگرد کہا کرتے تھے۔ جس طرح ڈاکٹر شریعتی علامہ اقبال سے متاثر تھے، اسی طرح علامہ اقبال بھی سید جمال الدین افغانی کے تحت تاثیر تھے۔ علامہ اقبال بھی سید جمال الدین کی مانند آفاقی نکتہ نگاہ کے حامل تھے۔ وہ سید جمال کی مانند عالمی امور پر گہری نگاہ رکھتے تھے اور اقوام کے تجربات کو امت مسلمہ کی عبرت اور درس کے لئے بیان کرتے تھے۔
ان کے ہاں کتاب و سنت سے رہنمائی لئے بغیر انسان سعادت مند نہیں ہو سکتا ۔ وہ سید کی مانند کتاب خدا اور اطاعت رسولﷺ کو انسان کے مسائل کے حل کے لئے بہترین وسیلہ قرار دیتے ہیں۔ تاہم اقبال کو سید جمال الدین افغانی سمیت بہت سارے دیگر مفکرین سے جو زاویہ ممتاز کرتا ہے وہ اقبال کی نظریاتی مہمات کے لئے عملی کاوشوں اور واضح منزل کے تعین پر مشتمل ہے۔ سید جمال الدین نے جہان اسلام کو بیداری اور خودی کا جو پیغام دیا تھا، اقبال نے اسے ایک درست سمت میں جہت دی ہے۔
چنانچہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ اقبال نے اپنے مطالعات اور تجربات سے جو نظریات اخذ کیے وہ انہیں درست سمت میں جہت دینے میں بھی کامیاب رہے۔ چنانچہ علامہ کی زندگی میں صرف قلمی، سیاسی اور اجتماعی تحرک ہی نہیں ہے بلکہ اس تحرک کی واضح جہت اور روشن منزل بھی دکھائی دیتی ہے۔ اقبال میں جہاں سید جمال الدین یا دیگر دانشمندوں کے ساتھ فکری مماثلت پائی جاتی ہے وہیں یہ انفرادیت بھی پائی جاتی ہے کہ اقبال مسلمان کو صرف بیدار نہیں کرتے بلکہ بیداری کے بعد کا لائحہ عمل بھی دیتے ہیں۔
چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اقبال فلسفی بھی تھے اور سیاستدان بھی، شاعر بھی تھے اور نثر نگار بھی، وہ وکیل بھی تھے اور قانون دان بھی، ایک رہنما بھی تھے اور صحافی بھی لیکن اس کے باوجود وہ ان میں سے کسی بھی ایک میدان میں رکے ہوئے نہیں تھے۔ اقبال کے منہج میں جہاں ایک ہمہ جہتی کاوش اور ہمہ جانب جدوجہد موجود ہے وہیں اس کاوش اور جدوجہد کا رخ بھی متعین ہے۔ علامہ کے منہج کو سمجھنے اور جاری رکھنے کے لئے ہمیں اقبال کی نظریاتی جدوجہد اور فکری تحریک کو دو حصوں میں تقسیم کرنا ہو گا۔
1۔ ایسے نظریاتی اقدامات جو منزل کے حصول کے لئے اقبال نے اٹھائے۔
2۔ ایسے نظریات جو اقبال کے اشعار و مضامین میں موجود ہیں اور منزل کے حصول کے لئے انہیں اقدامات میں بدلنے کی ضرورت ہے۔
قابل ذکر ہے کہ اقبال کا زمانہ استعمار کے غلبے کا زمانہ تھا۔ مسلمانوں کا سیاسی و اجتماعی شعور کچلا جا چکا تھا۔ چنانچہ سب سے پہلے اس حوالے سے اقبال کی جدوجہد ملاحظہ فرمائیں :
1۔ خود فراموشوں کو خودی کی دعوت
اقبال کے زمانے میں استعمار کی سازشوں کے باعث مسلمانوں میں اجتماعی شعور کے فقدان کا مسئلہ اس قدر سنگین تھا کہ مسلمان اپنی خودی اور شناخت تک کھوتے چلے جا رہے تھے۔ چنانچہ بانگ درا میں جواب شکوہ کے سترہویں بند میں اقبال کہتے ہیں :
شور ہے ہو گئے دینا سے مسلماں نابود
ہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجود
وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود
یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود
یوں تو سید بھی ہو، مرزا بھی ہو، افغان بھی ہو
تم سبھی کچھ ہو، بتاؤ تو مسلمان بھی ہو!
اقبال کے نزدیک مسلمانوں کی مثال اس ماہی کی سی تھی، جو علم و حکمت کے سمندروں میں پلی بڑھی تھی، لیکن غفلت نے اسے اس مقام پر لا کھڑا کیا تھا کہ اسے یہ احساس ہی نہیں تھا کہ وہ جس سمندر کی طلب کر رہی ہے، خود اسی سمندر میں اب بھی غوطے کھا رہی ہے۔ اقبال کے نزدیک امت مسلمہ علوم و فنون کے بحر بیکراں کی پروردہ ہونے کے باعث ہر لحاظ سے دوسری اقوام سے بے نیاز اور غنی ہونے کے باوجود بھٹکتی ہوئی پھر رہی تھی اور اپنے کھوئے ہوئے وقار کی بحالی کے لئے دوسروں سے رہنمائی اور مدد کی طالب تھی۔
چنانچہ بال جبریل میں مسلمانوں کی غفلت کی تصویر اقبال نے ایک شعر میں کچھ یوں کھینچی ہے :
خضر کیونکر بتائے، کیا بتائے؟ اگر ماہی کہے، دریا کہاں ہے
اقبال نے امت کی حقیقی شناخت کھو جانے کا حل امت کی خودی کو زندہ کرنے میں ڈھونڈا ہے۔ اقبال کہتے ہیں :
خودی ہے زندہ تو ہے موت اک مقام حیات
کہ عشق موت سے کرتا ہے امتحان ثبات
خودی ہے زندہ تو دریا ہے بے کر انہ ترا
ترے فراق میں مضطر ہے موج نیل و فرات
خودی ہے مردہ تو مانند کاہ پیش نسیم
خودی ہے زندہ تو سلطان جملہ موجودات
اقبال جہاں خودی کو زندہ کرنا چاہتے ہیں، وہاں یہ بھی بتا دینا چاہتے ہیں کہ وہ کسی علاقائی، جغرافیائی یا لسانی خودی کو زندہ نہیں کرنا چاہتے، بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ امت کا ہر فرد مسلمان ہونے کے ناتے اپنی خودی اور شناخت کو زندہ کرے۔ چنانچہ وہ فرماتے ہیں :
ترے دریا میں طوفاں کیوں نہیں ہے
خودی تیری مسلماں کیوں نہیں ہے 5
اقبال کے نزدیک ضروری ہے کہ مسلمان اپنے اصلی مقام کو سمجھے اور غلامی کا طوق اپنے گلے میں دیکھ کر شرمندگی محسوس کرے۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں :
اے کہ غلامی سے ہے روح تیری مضمحل
سینۂ بے سوز میں ڈھونڈ خودی کا مقام 6
اقبال نے صرف خودی کا نعرہ نہیں لگایا بلکہ مسلمانوں کی کھوئی ہوئی خودی کو واپس لانے کے لئے آپ عملی فعالیت کے ذریعے 1926 ء میں پنجاب لیجسلیٹو اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے۔ فکر اقبال کے ساتھ جب ہم اقبال کی ذات کو رکھ کر دیکھتے ہیں تو ایک یہ بات سامنے آتی ہے کہ باصلاحیت اور دانشمند حضرات گوشوں میں بیٹھ کر صرف افکار کی کھچڑی تیار کرنے کے بجائے عملی طور پر میدان میں اتریں اور قوم کی رہنمائی کریں۔
جب مسلمان سیاسی و اجتماعی طور پر پس چکے تھے تو ستم بالائے ستم یہ کہ مسلمانوں میں جرات اظہار اور فکری تربیت کا کوئی اہتمام بھی نہیں تھا۔ چنانچہ اس حوالے سے بھی اقبال خاموش اور بے حس نہیں تھے۔ آئیے اس حوالے سے اقبال کی جدوجہد دیکھتے ہیں :
2۔ مسلمانوں میں جرات اظہار اور فکری تربیت کا اہتمام نہ ہونا
اقبال کے نزدیک امت مسلمہ کا ایک مسئلہ یہ بھی تھا کہ انگریزوں کے مظالم اور ہندووں کی سازشوں نے مسلمانوں کو ان کے اپنے ملک میں ہی غلام بنا کے رکھ دیا تھا، مسلمان اپنی آواز کو نہ ہی تو غاصب حکمرانوں کے سامنے بلند کرنے کا سلیقہ جانتے تھے اور نہ ہی ان کی موجودہ اور آئندہ نسلوں کے لئے فکری و نظریاتی تربیت کا کوئی سلسلہ موجود تھا، چنانچہ اب اس مسئلے کے حل کے لئے اقبال نے خود اپنی سرپرستی میں 1934 ء میں لاہور سے روزنامہ احسان کے نام سے ایک اخبار نکالا، جس میں امت مسلمہ کو درپیش مسائل کی ترجمانی کی جاتی تھی اور جس کا اداریہ تک آپ خود لکھتے تھے اور اس اخبار میں نوجوانوں کی فکری و سیاسی اور نظریاتی تربیت کے لئے آپ کے مضامین و نظمیں شائع ہوتی تھیں۔ 7
اس جرات اظہار کے باعث اقبال کہتے ہیں :
اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں بیگانے بھی ناخوش
میں زہر ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند
مسلمانوں میں جرات اظہار اور فکری تربیت کی مشکل کو حل کرنے کے لئے اقبال نے خود عملی طور پر میڈیا کے میدان میں قدم رکھا، ایک اخبار نکالا اور اس طرح مسلمانوں کو اقوام عالم کے درمیان ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے رہنے کے بجائے اپنے مقام، اپنے دین اور اپنے جذبات کے اظہار کا ہنر سکھایا۔
آپ شاعری کی زبان میں ”مسلمان“ کو مخاطب کر کے کہتے ہیں کہ تو جرات اور تڑپ کے ساتھ اپنی خودی، شناخت اور مقام کو آشکار کر ، تاکہ تو اور تیری آئندہ نسلیں غیروں کی غلامی کو قبول نہ کریں۔ چنانچہ اقبال کہتے ہیں :
کبھی دریا سے مثل موج ابھر کر
کبھی دریا کے سینے میں اتر کر
کبھی دریا کے ساحل سے گزر کر
مقام اپنی خودی کا فاش تر کر
اسی طرح امت کی فکری تربیت کے لئے اقبال نے بے شمار مضامین اور اشعار لکھے ہیں، ہم ان میں سے نمونے کے طور پر چند اشعار اس وقت پیش کر رہے ہیں :
آتی ہے دم صبح صدا عرش بریں سے
کھو گیا کس طرح تیرا جوہر ادراک
کس طرح ہوا کند تیرا نشتر تحقیق
ہوتے نہیں کیوں تجھ سے ستاروں کے جگر چاک
تو ظاہر و باطن کی خلافت کا سزاوار
کیا شعلہ بھی ہوتا ہے غلام خس و خاشاک 8
قوم کو فکری طور پر عقائد کی پاسداری کی ترغیب دینے کے لئے ضرب کلیم میں فرماتے ہیں :
حرف اس قوم کا بے سوز، عمل زار و زبوں
ہوگیا پختہ عقائد سے تہی جس کا ضمیر 9
اقبال اسی طرح پورے عالم اسلام کے جذبات کی بھی ترجمانی کرتے تھے، مثلاً فلسطین، طرابلس، کشمیر اور افغانستان کے بارے میں اقبال کا ایک ایک شعر بطور نمونہ ملاحظہ فرمائیں :
ہے خاک فلسطیں پر یہودی کا اگر حق
ہسپانیہ پر حق نہیں کیوں اہل عرب کا 10
اسی طرح 1912 ء میں جنگ طرابلس میں غازیوں کو پانی پلاتے ہوئے شہید ہونے والی فاطمہ کے بارے میں اقبال لکھتے ہیں :
فاطمہ! تو آبروے امت مرحوم ہے
ذرہ ذرہ تیری مشت خاک کا معصوم ہے 11
کشمیر کے بارے میں ارمغان حجاز میں اقبال فرماتے ہیں :
آج وہ کشمیر ہے محکوم و مجبور و فقیر کل
جسے اہل نظر کہتے تھے ایران صغیر12
افغانستان کے بارے میں بال جبریل میں لکھتے ہیں :
قبائل ہوں ملت کی وحدت میں گم
کہ ہو نام افغانیوں کا بلند 13
سیاسی اور اجتماعی تربیت کے لئے کسی متحدہ پلیٹ فورم کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس زمانے میں مسلمان اس سے بھی محروم تھے۔ چنانچہ اس حوالے سے بھی اقبال کی سعی، کاوش اور جدوجہد کو نزدیک سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔
3۔ ایک متحدہ پلیٹ فارم کے لئے جدوجہد
علامہ پورے عالم اسلام کے لئے ایک مرکز اور پلیٹ فارم کے خواہاں تھے آپ کے بقول:
قوموں کے لئے موت ہے مرکز سے جدائی
ہو صاحب مرکز تو خودی کیا ہے، خدائی 14
لیکن اس وقت بہت سارے لوگ لندن اور جنیوا کو اپنا قبلہ اور مرکز بنا چکے تھے، انھیں جو کچھ ادھر سے حکم ملتا تھا، وہ اسی کے سامنے سر خم کرتے تھے۔ چنانچہ اقبال نے مسلمان قوم کو مخاطب کر کے کہا:
تیری دوا نہ جنیوا میں ہے، نہ لندن میں
فرنگ کی رگ جاں پنجۂ یہود میں ہے 15
اقبال کی دوراندیشی کا یہ عالم تھا کہ آپ اس زمانے میں تہران کو ایک عالمی اسلامی مرکز کے طور پر دیکھ رہے تھے، اس لئے آپ نے کرہ ارض کی تقدیر بدلنے کی خاطر اقوام مشرق کو یہ مشورہ دیا ہے کہ وہ لندن اور جنیوا کے بجائے تہران کو اپنا مرکز بنائیں۔ جیسا کہ آپ ضرب کلیم میں فرماتے ہیں :
تہران ہو گر عالم مشرق کا جنیوا
شاید کرہ ارض کی تقدیر بدل جائے 16
آپ کے نزدیک خلافت عثمانیہ کے زوال کے بعد مسلمانوں کا ایک بڑا مسئلہ ان کے پاس ایک متحدہ پلیٹ فارم کا نہ ہونا تھا، آپ نے اس سلسلے میں لوگوں کو صرف اشعار اور نظمیں نہیں سنائیں بلکہ آپ نے ایک عالمی اسلامی پلیٹ فارم کی تشکیل کے لئے ابتدائی طور پر مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کر کے فعال کردار بھی ادا کیا اور اس طرح مسلم لیگ کو ہندوستانی مسلمانوں کے لئے ایک قومی پلیٹ فورم بنا دیا۔
کسی بھی پلیٹ فورم کی تشکیل کے لئے باشعور قیادت کی ضرورت ہوا کرتی ہے۔ خصوصاً ایسی قیادت جو قومی ذمہ داریوں کو اٹھانے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ اقبال کو اس ضرورت کا شدت سے احساس تھا۔ انہوں نے اس حوالے سے بھی خاطرخواہ فعالیت کی۔ اب باشعور اور ذمہ دار قیادت کے لئے اقبال کی کاوشوں پر ایک نگاہ ڈالئے۔
4۔ باشعور قیادت کے لئے جدوجہد
اس زمانے میں خصوصیت کے ساتھ امت مسلمہ کو جو مسئلہ درپیش تھا، وہ باشعور قیادت و رہبری کا فقدان تھا، جس کے باعث بعض تنگ نظر، کم فہم اور مغربی تہذیب و ثقافت سے مرعوب لوگ، شعوری یا لاشعوری طور پر ہندوستانی مسلمانوں کی دینی و ثقافتی روایات کو پامال کرنے میں غیروں کا ہاتھ بٹا رہے تھے۔ جیسا کہ اقبال ایک جگہ پر فرماتے ہیں :
فتنۂ ملت بیضا ہے امامت اس کی
جو مسلماں کو سلاطیں کا پرستار کرے! 17
اسی طرح ایک اور مقام پر فرماتے ہیں :
یہ مصرعہ لکھ دیا کس شوخ نے محراب مسجد پر
یہ ناداں گر گئے سجدوں میں جب وقت قیام آیا
نا اہل رہبروں کی رہبری کے بارے میں ضرب کلیم کے صفحہ 112 پر نفسیات غلامی کے عنوان سے
ایک نظم میں اقبال کہتے ہیں :
کرتے ہیں غلاموں کو غلامی پہ رضامند
تاویل مسائل کو بناتے ہیں بہانہ
ضرب کلیم کے ہی صفحہ 171 پر اقبال فرماتے ہیں :
خدا نصیب کرے ہند کے اماموں کو وہ سجدہ
جس میں ہے ملت کی زندگی کا پیغام
ذمہ داری سے گریز کرنے کے مسئلے کا حل اقبال کچھ اس طرح سے بتاتے ہیں :
خودی میں ڈوب زمانے سے نا امید نہ ہو
کہ اس کا زخم ہے درپردہ اہتمام رفو
رہے گا تو ہی جہاں میں یگانہ و یکتا
اتر گیا جو تیرے دل میں لا شریک لہ
اقبال نے امت مسلمہ میں قیادت کے فقدان، خصوصاً ہندوستانی مسلمانوں میں پائے جانے والے والے اس خلاء کو پر کرنے کے لئے صرف نوحہ اور آہ و بکا نہیں کی، بلکہ آپ نے اس ذمہ داری کو اپنی توان و صلاحیت کے مطابق نبھانے کے لئے مسلم لیگ کی صدارت کی ذمہ داری کو قبول کیا۔ اسی طرح آپ نے 1931 ء میں دوسری گول میز کانفرنس میں مسلمانوں کی نمائندگی کرنے کے لئے شرکت بھی کی۔
باشعور قیادتیں اہل افراد سے وجود میں آتی ہیں۔ اہل افراد کی تلاش، شناخت اور ان کی حوصلہ افزائی خود ایک بڑا کام ہے۔ اقبال اس زاویے سے بھی غافل نہیں تھے۔ ان کی اس حوالے سے خدمات اور نظریات کا ایک گوشہ ملاحظہ کیجئے۔
5۔ باصلاحیت اور قابل افراد کی حوصلہ افزائی
جو قومیں اپنے صاحبان علم و فن کی قدر نہیں کرتیں اور ان سے فائدہ اٹھانے کے بجائے دوسروں کے پیچھے چلتی ہیں اور دوسروں کے سامنے دست سوال دراز کیے رکھتی ہیں، ایک تو ان کا دامن صاحبان علم و فن و ایجاد سے خالی ہوجاتا ہے اور دوسرے وہ ہمیشہ سوالی بنی رہتی ہیں۔ چنانچہ اقبال کہتے ہیں :
جو عالم ایجاد میں ہے صاحب ایجاد
ہر دور میں کرتا ہے طواف اس کا زمانہ
تقلید سے ناکارہ نہ کر اپنی خودی کو
کر اس کی حفاظت کہ یہ گوہر ہے یگانہ
اس وقت اقبال کے نزدیک امت مسلمہ کا ایک مسئلہ باصلاحیت اور قابل افراد سے صحیح فائدہ نہ اٹھانے کا بھی تھا، جس کی وجہ سے کوئی ایسی قیادت بھی وجود میں نہیں آ رہی تھی، جو انگریزوں اور ہندووں کی سیاسی یلغار کے سامنے ڈٹ سکے، اس کے لئے اقبال نے جہاں اشعار میں اس مسئلے کا حل بتایا ہے، وہیں جب امت مسلمہ کی قیادت کی اہلیت بیرسٹر محمد علی جناح میں دیکھی تو فوراً انھیں مسلم لیگ میں شمولیت اور قیادت کی دعوت دی۔ سچ بات تو یہ ہے کہ محمد علی جناح کو اقبال کی بروقت فعالیت نے ہی قائد اعظم بنایا ہے۔ فکر اقبال کی روشنی اور قائد اعظم کی مسلم لیگ میں شمولیت کے سلسلے میں اقبال کی کاوشوں سے پتہ چلتا ہے کہ امت مسلمہ کے مسائل کا ایک حل یہ بھی ہے کہ امت غیروں کو اپنا رہبر و رہنما بنانے کے بجائے اپنے لائق، ذہین اور باصلاحیت افراد کو خدمت و قیادت کا موقع دے اور ان پر اعتماد کرے۔
اقوام پر اگر ان کی منزل واضح نہ ہوتو وہ کچھ بھی نہیں کر سکتیں۔ اقبال کو مسلمانوں کی اس حالت کا بخوبی علم تھا۔ چنانچہ انہوں نے اس حوالے سے بھی مسلمانوں کی بھرپور رہنمائی کی اور ان کے سامنے ایک واضح منزل رکھی۔
6۔ مسلمانوں کے لئے ایک منزل کا تعین
اقبال کے نزدیک امت مسلمہ کا ایک بڑا مسئلہ یہ بھی تھا کہ خود مسلمانوں پر واضح نہیں تھا کہ وہ کیا کریں اور انہیں کیا کرنا چاہیے، اس کے لئے اقبال نے نہ ہی تو شاعروں کی طرح رومانوی ماحول ایجاد کیا، نہ فلاسفروں کی طرح اپنی تحریروں اور نہ گفتگو میں فلسفہ جھاڑ کر اپنی جان چھڑائی، نہ سیاستدانوں کی طرح دوہری باتیں کیں اور نہ مکاروں کی طرح پلورل ازم کا سہارا لیا، بلکہ اقبال نے صاف و شفاف الفاظ میں خطبہ الہ آباد میں ایک اسلامی ریاست کا واضح نقشہ پیش کیا۔
منزل کے تعین کے بعد بھی مسلمانوں میں کچھ کرنے کی ہمت نہیں تھی۔ اس کی اصلی وجہ مسلمانوں کا استعمار سے مرعوب ہو کر اپنی خودی اور اسلام کو فراموش کرنا تھا۔ چنانچہ اقبال نے مسلمانوں کو اس طرف بھرپور توجہ بھی دلائی اور عملی اقدامات بھی کیے ۔
7۔ اسلام اور خودی کی طرف پلٹنے کی دعوت
اقبال کے نزدیک امت کی زبوں حالی کی ایک وجہ مسلمانوں کا استعماری سازشوں کے باعث اسلامی تعلیمات سے دوری اختیار کرنا بھی تھا۔ اس سلسلے میں اقبال یہ چاہتے تھے کہ مسلمان غیر مسلموں کی سازشوں میں آنے کے بجائے اپنی خبر لیں اور اپنے آپ کو پہچانیں۔ چنانچہ ضرب کلیم میں آپ فرماتے ہیں :
افرنگ از خود بے خبرت کرد۔ وگرنہ اے بندہ مومن! تو بشیری، تو نذیری
اسی طرح آپ نے اپنے ایک مضمون میں اس مسئلے کا ذکر بھی کیا ہے اور اس کا حل بھی وہیں پر لکھا ہے :
”ایک سبق جو میں نے تاریخ اسلام سے سیکھا، یہ ہے کہ آڑے وقتوں میں اسلام نے ہی مسلمانوں کی زندگی کو قائم رکھا، مسلمانوں نے اسلام کی حفاظت نہیں کی۔ اگر آپ اپنی نگاہیں اسلام پر جما دیں اور اس کے زندگی بخش تخیل سے متاثر ہوں تو آپ کی پراگندہ اور منتشر قوتیں ازسر نو جمع ہوجائیں گی اور آپ کا وجود ہلاکت و بربادی سے محفوظ ہو جائے گا۔“ 18
انگریزوں نے مادی تسلط حاصل ہونے کے ساتھ ہی مسلمانوں کو فکری طور پر بھی مغلوب کرنا شروع کر دیا تھا، اس کے لئے انھوں نے اپنی سرپرستی میں کئی تعلیمی ادارے کھلوائے، کتابیں لکھوائیں اور اخبار نکلوائے۔ اس کے علاوہ کئی افراد کو یورپ لے جاکر وہاں ان کی مغربی فکری خطوط پر تربیت بھی کی، لیکن اقبال استعمار کی اس فکری یلغار کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند کھڑے رہے اور آپ نے عملی طور پر یورپی فکری یلغار کا مقابلہ کیا۔ چنانچہ آپ یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں :
خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوہ دانش فرنگ
سرمہ ہے میری آنکھ کا خاک مدینہ و نجف
اسی طرح بال جبریل میں فرماتے ہیں :
عرب کے سوز میں ساز عجم ہے
حرم کا راز توحید امم ہے
تہی وحدت سے ہے اندیشۂ غرب
کہ تہذیب فرنگی بے حرم ہے
یا پھر ضرب کلیم میں اقبال ایک مسلمان سے جو گلہ کرتے ہیں، اس کا ایک شعر ملاحظہ فرمائیں :
یورپ کی غلامی پہ رضامند ہوا تو
مجھ کو تو گلہ تجھ سے ہے، یورپ سے نہیں 19
افرنگی تہذیب و ثقافت سے مرعوبیت کا علاج اقبال نے ضرب کلیم کے ص 556 پر کچھ یوں بتایا ہے :
کل ساحل دریا پہ کہا مجھ سے خضر نے
تو ڈھونڈ رہا ہے سم افرنگ کا تریاق
اک نکتہ میرے پاس ہے شمشیر کی مانند
برندہ و صیقل زدہ و روشن و براق
کافر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گم ہے
مومن کی یہ پہچان کہ گم اس میں ہیں آفاق
یعنی اقبال کے نزدیک سم افرنگ کا تریاق یہ ہے کہ انسان مومن بنے، ورنہ وہ جب تک کافر یا کافر نما رہے گا، یورپ کی تہذیب کے طلسم میں کھو کر حیراں و سرگرداں ہی رہے گا۔
مسلمانوں کی باگ ڈور مسلمان علما کے ہاتھ میں ہی ہوتی ہے۔ اقبال دیکھ رہے تھے کہ اس زمانے کے مسلمان علما فکری طور پر انحطاط کے شکار تھے۔ چنانچہ اقبال نے علمائے کرام کو بیدار کرنے کے لئے انہیں خصوصی طور پر اپنی شاعری میں مخاطب بنایا ہے۔ اس حوالے سے اقبال کی ناقابل فراموش جدوجہد پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالئے۔
8۔ دینی مدارس اور علمائے کرام کی فکری نشو و نما
اقبال کو جو سب سے بڑی مشکل نظر آ رہی تھی، وہ امت کی دینی قیادت یعنی علماء میں سیاسی و اجتماعی شعور کا فقدان تھا، ان کے نزدیک مدارس میں شاہین بچوں کو خاکبازی کا درس دیا جانا ملت کے ساتھ بہت بڑی خیانت تھی۔ اس لئے کہ انہی بچوں نے آگے چل کر ملت کی قیادت اور سیادت سنبھالنی تھی۔
یہ وہ زمانہ تھا جب اکثر علماء انگریزوں کی غلامی اور ہندووں کی بالا دستی کو دل و جان سے قبول کرچکے تھے۔ ایسے علماء کا خیال تھا کہ ہمیں مذہبی رسومات کی نہ صرف اجازت ہے بلکہ ہندو اور انگریز ہمارے ساتھ تعاون بھی کرتے ہیں، اس لئے ہمیں ان کے خلاف مزاحمت کے بجائے ان سے ہمکاری کرنی چاہیے، چنانچہ اس صورتحال پر رنجیدہ ہو کر ایک مقام پر اقبال فرماتے ہیں :
ملا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت
نادان یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد! 20
بانگ درا میں شمع کے عنوان سے لکھی گئی ایک نظم میں اقبال علمائے کرام کے مصلحت آمیز رویے، برہمنوں کی سازشوں اور کھوکھلی نمازوں کی منظر کشی کچھ یوں کرتے ہیں :
جن کے ہنگاموں سے تھے آباد ویرانے کبھی
شہر ان کے مٹ گئے آبادیاں بن ہو گئیں
سطوت توحید قائم جن نمازوں سے ہوئی
وہ نمازیں ہند میں نذر برہمن ہو گئیں
اسی طرح ارمغان حجاز میں اقبال کہتے ہیں :
ملا کی نظر نور فراست سے ہے خالی
بے سوز ہے مے خانۂ صوفی کی مے ناب 21
وہ ایسا دور تھا کہ بعض نام نہاد علماء حضرات نے استعمار کے اشارے پر مسلمانوں میں موجود عقابی روح کو مسخ کرنے کے لئے اسلامی افکار و نظریات اور عقائد کی تردید کرنی شروع کر دی تھی۔ چنانچہ اقبال طنزاً ان کے بارے میں کہتے ہیں کہ
کچھ غم نہیں جو حضرت واعظ ہیں تنگ دست
تہذیب نو کے سامنے سر اپنا خم کریں
رد جہاد میں تو بہت کچھ لکھا گیا
تردید حج میں کوئی رسالہ رقم کریں
علماء سے اقبال کو یہ شکایت تھی کہ انھوں قوم کی قیادت و رہنمائی کرنے کے بجائے قوم کو مغربی افکار سے مرعوب کرنا، فرقہ وارانہ مباحث کو فروغ دینا اور عقیدتی و کلامی بحثوں کو چھیڑنا اپنا معمول بنا رکھا ہے۔
دوسری طرف ملت دن بدن غلامی کے نشے میں مست ہوتی جا رہی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ توحید جو امت کی طاقت تھی، علماء نے اسے صرف علم کلام کا ایک مسئلہ بنا کے رکھ دیا ہے۔
ان کے نزدیک واعظین قوم میں اتنی پختہ خیالی بھی نہیں ہے کہ وہ ادھر ادھر کی مصروفیات چھوڑ کے، اسلامی تہذیب و ثقافت اور تمدن کو زندہ کرنے کی فکر کریں، وہ تعویز گنڈے، جادو کے توڑ، تجوید، روخوانی اور اذان و نماز سے آگے بڑھیں اور معاشرے کو اسلامی معاشرہ بنانے کے لئے کوئی لائحہ عمل تیار کریں۔ چنانچہ بانگ درا میں وہ کہتے ہیں :
واعظ قوم کی وہ پختہ خیالی نہ رہی
برق طبعی نہ رہی، شعلہ مقالی نہ رہی
رہ گئی رسم اذاں، روح بلالی نہ رہی
فلسفہ رہ گیا، تلقین غزالی نہ رہی
مسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہے
یعنی وہ صاحب اوصاف حجازی نہ رہے
علماء کی اس بے حسی اور کم فہمی کے علاج کے طور پر اقبال نے امت کو علماء کی بے حسی سے آگاہ کیا ہے۔
علما نے قوم کی رہنمائی کرنی تھی لیکن وہ خود نیشنلزم کا شکار ہو چکے تھے۔ نیشنلزم کو اقبال زہر مہلک سمجھتے ہوئے اس کے خلاف بھی سرگرم رہے۔ اس حوالے سے اقبال کی فعالیت کا مختصر خاکہ بھی ملاحظہ فرمائیے۔
9۔ مسلمانوں میں نیشنلزم کے خلاف بیداری
استعمار نے ہندوستانی مسلمانوں میں جب انقلاب اور آزادی کی تڑپ دیکھی، خصوصاً تحریک خلافت، ہندوستان چھوڑ دو تحریک، تحریک ریشمی رومال، مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی کے افکار وغیرہ تو اس وقت استعمار نے مسلمانوں میں اسلامی ملی وحدت کو توڑنے کے لئے علاقائی نیشنلزم کو فروغ دینا شروع کر دیا۔ مسلمانوں میں یہ طرز فکر رشد کرنے لگی تھی کہ ہم اصل میں ہندی ہیں اور اتفاق سے مسلمان بھی ہیں۔ چنانچہ اقبال اس نیشنلزم کے مقابلے میں قیام کرتے ہیں اور فرماتے ہیں :
اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی
ان کی جمعیت کا ہے ملک و نسب پر انحصار
قوت مذہب سے مستحکم ہے جمعیت تری
دامن دیں ہاتھ سے چھوٹا تو جمعیت کہاں
اور جمعیت ہوئی رخصت تو ملت بھی گئی
اسی طرح نیشنلزم کے بت کے پجاریوں کو مخاطب کر کے کہتے ہیں :
اگر ملک ہاتھوں سے جاتا ہے جائے
تو احکام حق سے نہ کر بے وفائی
نہیں تجھ کو تاریخ سے آگاہی کیا
خلافت کی کرنے لگا تو گدائی
خریدیں نہ جس کو ہم اپنے لہو سے
مسلماں کو ہے ننگ وہ پادشاہی 22
لیکن جب نام نہاد علماء کرام استعماری نیشنلزم کو منبروں سے فروغ دینے لگے تو ایک مرتبہ اقبال نام لینے پر مجبور ہو گئے اور آپ نے سرزمین دیوبند میں منبر سے نیشنلزم کی تبلیغ کرنے والے مولوی کو مخاطب کر کے کہا:
عجم ہنوز نداند رموز دیں ورنہ
از دیوبند حسین احمد این چہ بو العجبی است
سرود برسر منبر کہ ملت از وطن است
چہ بے خبر از مقام محمدۖ عربی است
بمصطفٰی برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست
اگر بہ او نرسیدی، تمام بو لہبی است 23
ان ساری کاوشوں کے ساتھ ساتھ اقبال ایک مرد مومن بھی تھے۔ وہ امت کے مسائل کو کتاب و سنت اور دعا و مناجات کے ساتھ ہی قابل حل سمجھتے تھے۔ اس وقت اقبال کی دعاؤ مناجات کے حوالے بھی کچھ سطور پیش خدمت ہیں۔
10۔ امت کے مسائل اور اقبال کی مناجات
عام طور پر اقبال کی ذات کے اس پہلو کو فراموش کر دیا جاتا ہے کہ اقبال ایک پکے موحد اور عاشق رسول تھے، چنانچہ اقبال نے امت کے مسائل کو حل کرنے کا راستہ خدا اور رسولۖ کے ساتھ مناجات اور عشق میں ڈھونڈا ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ اقبال امت مسلمہ کے لئے خدا کی بارگاہ میں کس طرح مناجات کرتے ہیں۔ نمونے کے طور پر چند اشعار ملاحظہ فرمائیں :
یا رب! دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے
جو قلب کو گرما دے جو روح کو تڑپا دے 24
امت مسلمہ کی خاطر اقبال بارگاہ پیغمبر اسلام میں اس طرح گریہ و زاری کرتے ہیں۔
اے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مرا
قبضے سے امت بیچاری کے دیں بھی گیا، دنیا بھی گئی 25
اسی طرح ایک اور مقام پر کہتے ہیں :
قوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دے
دہر میں اسم محمدۖ سے اجالا کر دے ایک نمونہ اور ملاحظہ فرمائیے :
حضورۖ! دہر میں آسودگی نہیں ملتی
تلاش جس کی ہے وہ زندگی نہیں ملتی
ہزاروں لالہ و گل ہیں ریاض ہستی میں
وفا کی جس میں ہو بو وہ کلی نہیں ملتی
مگر میں نذر کو اک آبگینہ لایا ہوں
جو چیز اس میں ہے جنت میں بھی نہیں ملتی
جھلکتی ہے تیری امت کی آبرو اس میں
طرابلس کے شہیدوں کا ہے لہو اس میں 26
ایک اور مقام پر یوں فرماتے ہیں :
کل ایک شوریدہ خواب گاہ نبیۖ پہ رو رو کے کہہ رہا تھا
کہ مصر و ہندوستاں کے مسلم بنائے ملت مٹا رہے ہیں
یہ زائران حریم مغرب ہزار رہبر بنیں ہمارے
ہمیں بھلا ان سے واسطہ کیا جو تجھ سے ناآشنا رہے ہیں
غضب ہیں یہ مرشدان خودبیں، خدا تیری قوم کو بچائے
بگاڑ کر تیرے مسلموں کو یہ اپنی عزت بنا رہے ہیں 27
اقبال جہاں کتاب و سنت اور دعا و مناجات سے مدد و رہنمائی لیتے تھے وہیں جہانی اسلام کے حوالے سے آگاہ اور فکرمند بھی رہتے تھے۔ یوں نہیں کہ اقبال صرف مسلمانان ہند کی آزادی اور خوش بختی کے لئے تڑپتے تھے بلکہ آپ ساری دنیا میں مسلمانوں کی ابتری کا دکھ بھی محسوس کر رہے تھے۔ خصوصاً کشمیر کے حوالے سے آپ کے افکار و نظریات آج بھی قابل تقلید ہیں۔ اگر علامہ محمد اقبالؒ کے افکار و نظریات کو سامنے رکھا جائے تو اقبال ؒ مسلمانان ہند کے لئے جس طرح مصور پاکستان ہیں، اسی طرح مصور کشمیر بھی ہیں۔
آپ کے بقول :
سامنے ایسے، گلستان کے کبھی گھر نکلے۔ حبیب خجلت سے سر طور نہ باہر نکلے
ہے جو ہر لحظہ تجلی گہ مولائے خلیل۔ عرش و کشمیر کے اعداد برابر نکلے
مذکورہ بالا شعر سے پتہ چلتا ہے کہ اقبال کشمیر کے لئے ایک خاص قدرومنزلت کے قائل تھے۔ چنانچہ اقبال کو جس طرح اپنے حجازی ہونے کی نسبت عزیز ہے اسی طرح کشمیری ہونا بھی ان کے نزدیک ایک ناقابل فراموش حقیقت ہے۔ اس حقیقت کو وہ ایک شعر میں کچھ یوں بیان کرتے ہیں :
تنم گلی ز خیابان جنت کشمیر۔ دل از حریم حجاز و نواز شیراز است
میرا بدن جنت کشمیر کے باغات کا ایک پھول ہے اور میرا دل حریم حجاز سے جبکہ آواز شیرازی ہے۔
اہل کشمیر کے بارے میں اقبال معترف ہیں کہ
زیرک و دراک و خوش گل ملتی۔ در جہاں تر دستی او آیتی است[ 1 ]
ملت کشمیر ذہین، تیز بین اور خوب صورت ہیں۔ وہ جہان ہنر کی علامت ہیں۔
آپ نے مسلسل کشمیریوں کو غلامی کا طوق اتارنے کی ترغیب دی ہے۔ آپ کشمیریوں کی غلامی کو مسترد کرتے ہوئے ارمغان حجاز میں کہتے ہیں :
؎آج وہ کشمیر ہے محکوم و مجبور و فقیر۔ کل جسے اہل نظر کہتے تھے ایران صغیر
سینۂ افلاک سے اٹھتی ہے آہ سوز ناک۔ مرد حق ہوتا ہے جب مرغوب سلطان و امیر
اسی طرح ایک اور مقام پر آپ فرماتے ہیں :
پنجہ ظلم و جہالت نے برا حال کیا۔ بن کے مقراض ہمیں بے پرو بے بال کیا
توڑ اس دست جفا کیش کو یا رب جس نے۔ روح آزادیٔ کشمیر کو پامال کیا
آپ نے اس زمانے میں کشمیریوں کی مظلومی کی خوب منظر کشی کی ہے۔ آپ کے الفاظ میں :
بریشم قبا خواجہ از محنت او۔ نصیب تنش جامۂ تار تارے
(سرمایہ داروں کی ریشمی قبائیں کشمیریوں کی محنت کی بدولت ہیں، مگر خود کشمیریوں کے بدن پر پیوند لگا لباس ہے ﴾
ہم یہاں پر یہ بھی بیان کرتے چلیں کہ ہر قوم میں کچھ غلام اذہان بھی ہوتے ہیں۔ چنانچہ علامہ محمد اقبال ؒ نے جہاں کشمیر اور کشمیریوں سے اپنی والہانہ محبت اور عشق کا اظہار کیا ہے وہیں غلامی کو قبول کرنے والے غلام ذہن کشمیریوں کی سرزنش بھی کی ہے :
کشمیری کہ با بندگی خو گرفتہ۔ بتے می تراشد ز سنگ مزارے
ضمیرش تہی از خیال بلندے۔ خودی نا شناسے، ز خود شرمسارے
نہ در دیدۂ او فروغ نگاہ ے۔ نہ در سینۂ او، دل بے قرارے [ 2 ]
( ایسا کشمیری جو غلامی کا عادی ہو کر سنگ مزار سے بت تراشتا ہے، اس کا دل افکار بلند سے خالی ہے۔ وہ اپنی خودی اور مقام سے غافل اور اپنے آپ سے شرمندہ ہے۔ نہ اس کی آنکھ میں بصیرت کی بینائی ہے اور نہ اس کے سینے میں ولولہ سے بھرا ہوا مضطرب دل ہے۔ )
علامہ اقبالؒ غلامانہ ذہنیت والے کشمیریوں کو آئینہ دکھانے کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتاتے ہیں کہ کشمیری قوم ایک آزاد، باوقار اور غیور قوم ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ کشمیری ماضی سے ہی کوئی غلام قوم ہوں۔ آپ کشمیریوں کی روشن تاریخ کو کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں :
در زمانے صف شکن ہم بودہ است۔ چیرہ و جانباز و پروم بودہ است
ملت کشمیر ایک زمانے میں صف شکن ملت تھی۔ شجاع، جانباز اور بہادر و دلیر تھی[ 3 ]
آپ چونکہ کشمیریوں کے ماضی سے بخوبی واقف تھے اور ملت کشمیر کو آزاد دیکھنا چاہتے تھے چنانچہ آپ کسی بھی طور پر یہ پسند نہیں کرتے کہ کشمیری اپنی جدوجہد آزادی سے دستبردار ہو جائیں۔ اس غیور ملت کی غلامی پر اقبال ؒ سخت کڑھتے تھے، وہ کشمیریوں پر ڈوگرہ راج سے بہت آزردہ تھے، انہوں نے 1921میں کشمیر کا دورہ کیا اور وہاں کے حالات کا مشاہدہ کرنے کے بعد اپنے افکار و نظریات کا اظہار کچھ اس طرح سے کیا :
باد صبا اگر بچینوا گزر کنی۔ حرمے زما بہ مجلس اقوام بازگو
دہقاں و کشت وجود و خیاباں فروختند۔ قومے فروختند و چہ ارزاں فروختند
اے باد صبا اگر جنیوا سے تیرا گزر ہو ہماری طرف سے اقوام متحدہ تک یہ بات پہنچا دے
کشمیر کے کسان، مرغزار، ندیاں، کھیتیاں اور باغات بیچ دیے گئے، پوری قوم کو کتنے سستے داموں بیچ دیا گیا۔
حاصل کلام:
قیام پاکستان کے بعد تعمیر پاکستان کا سفر جاری ہے۔ پاکستان کا جغرافیہ اقبال کے خواب کی ادھوری تعبیر ہے۔ یہ اقبال کا آدھا خواب ہے۔ اس خواب کی مکمل تعبیر کے لئے ہمیں اقبال کے فکری خطوط پر چلتے ہوئے پاکستان کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالنا ہو گا۔ ہمیں اپنی زندگی کے تمام شعبوں میں فکر اقبال سے رہنمائی لینے کی ضرورت ہے۔ آج چاہے پاکستان کے اندر لسانی و مسلکی اختلافات ہوں یا کشمیر میں جاری جدوجہد آزادی ہمیں حکیم الامت کے نسخے پر ہی عمل کرنا ہو گا۔ یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ خدا نے علامہ اقبال جیسا حکیم اور دانا ہمیں عطا کیا ہے۔ تاہم اگر ہم نے اس دانائے راز اور حکیم الامت کی فکری نہج کو نہ سمجھا اور اس کے حیات و نجات بخش نسخوں پر عمل نہ کیا تو یہی ہماری بدقسمتی بھی ہو گی۔


