کوئی مجھ سے محبت نہیں کرتا!
میں چاہے جانے کے قابل ہی نہیں ہوں
ہر ایک مجھ سے نفرت کرتا ہے
کسی کو بھی میری پرواہ نہیں ہے
میں اکیلا ہوں
میرے سوا سب خوش ہیں
میری زندگی سے کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا
بعض اوقات ہم زندگی کے ایسے دور سے گزر رہے ہوتے ہیں جب ایسے خیالات ذہن سے گزر رہے ہوتے ہیں۔ اقبال صاحب سالوں ملک سے باہر رہے، اولاد کو سیٹل کر کے جب وطن واپس لوٹے تو گھر میں بہت مس فٹ محسوس کرتے تھے، ایسی بات نہیں تھی کہ گھر والے ان سے محبت نہیں کرتے تھے یا ان کی رائے کو اہمیت نہیں دیتے تھے لیکن طویل عرصے تک ایک دوسرے سے دور رہنے کے باعث سوچ میں تغیر ضرور آ چکا تھا۔ گھر میں کوئی دعوت ہوتی، وہ کمرے میں گھس جاتے، مہمان آ جاتے تو گھر سے باہر چلے جاتے۔
عید تہوار پر بھی گھر والوں کے ساتھ مل کر نہیں بیٹھتے لیکن دوسروں سے یہ شکایت ضرور کرتے کہ ان کی اولاد یا بیوی ان کی اہمیت نہیں دیتی، وہ بھرے پرے گھر میں رہنے کے باوجود اکیلے ہیں، ان کے زندہ رہنے یا مر جانے سے کسی کو کوئی فرق نہیں پڑنے والا، انہیں لگتا وہ محبت کے قابل ہی نہیں ہیں، بچپن میں ماں مر گئی تھی، کسی نے پیار کیا ہی نہیں، بیوی بچے بھی جب تک پیسے کما کر دے رہے تھے، اہم سمجھتے تھے۔ کھانے کے وقت بھی غائب ہو جاتے، حتیٰ کہ کوئی نہ کوئی انہیں ڈھونڈ کر کھانے کی ٹیبل پر لاتا۔
اس طرح ان کی اس سوچ کی تشفی ہوتی کہ ان کی کمی کو کسی نہ کسی نے محسوس تو کیا۔ حالانکہ جیسا وہ سوچتے تھے، وہ بالکل سچ نہیں تھا۔ ان کی اولاد ان سے محبت کرتی تھی، بیوی کو ان کی فکر رہتی تھی۔ اس بات کا احساس انہیں تب ہوا جب ان کا روڈ ایکسیڈنٹ ہوا اور گھر کا ہر فرد ان کی تکلیف سے بے چین ہو کر رہ گیا۔ اقبال صاحب کی طرح ایسا محسوس کرنا کہ کوئی بھی آپ کی پرواہ نہیں کرتا ہے کوئی خوشگوار تجربہ نہیں ہے۔ انسان ایک معاشرتی جانور ہے، ہم لوگوں سے گھرے ہوئے رہتے ہیں اور ہمیں کسی ایسے انسان کی ضرورت ہوتی ہے جو ہمارے جذبات کی پرواہ کرتا ہو۔ لیکن اگر ہم ایسا محسوس کرنے لگیں کہ کسی کو بھی ہماری پرواہ نہیں تو زندگی کا رنگ پھیکا پڑنے لگتا ہے۔ ہم خود کو بے بس محسوس کرنے لگتے ہیں۔
”خود کو ناقابل محبت سمجھنا، یعنی یہ سمجھنا کہ آپ کسی کی بہت یا الفت کے قابل ہیں اور نہ ہی کسی کو آپ سے محبت ہے۔ ایسا محسوس کرنے والے کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ اتنا برا انسان ہے کہ کسی بھی دوسرے شخص کے لئے آسان نہیں کہ وہ اس سے الفت برتے۔
ہو سکتا ہے اس نے زندگی میں کچھ ایسی غلطیاں کی ہوں، جن کی وجہ سے وہ سمجھتا ہو کہ وہ چاہے جانے کے قابل نہیں ہے۔
کچھ لوگ اس لئے بھی دوسروں کو دور دھکیل دیتے ہیں کیونکہ وہ خود کو سبوتاژ کرنے والا رویہ رکھتے ہیں، انہیں لگتا ہے وہ محبت کے قابل نہیں اور اگر لوگ ان کی حقیقت کو جانیں گے تو ان سے محبت کرنا چھوڑ دیں گے۔
یہاں یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ اگر آپ ایسا محسوس کرتے ہیں تو ضروری نہیں ہے کہ یہی سچ ہو۔
ایسا محسوس کرنے کی ممکنہ وجوہ کیا ہو سکتی ہیں؟
جو لوگ ذہنی تناؤ کا شکار رہتے ہیں، ان کے دماغ میں ایسے خیالات آتے رہتے ہیں، جن کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں ہو تا، عین ممکن ہے جب آپ ڈپریشن سے گزر رہے ہوں تو آپ کا دماغ آپ کو بتا رہا ہو کہ آپ محبت یا الفت کے قابل ہی نہیں ہیں۔
بچپن میں اگر آپ کو کسی کے ساتھ حد سے زیادہ لگاؤ تھا، اور وقت بدلنے پر اس شخص سے آپ کو دور جانا پڑا ہو تو عین ممکن ہے اس کا اثر زندگی بھر آپ پر رہے اور اٹیچمنٹ کو لے کر عدم تحفظ کا شکار رہنے لگیں، ایسا تجربہ رکھنے والے لوگ بھی یہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ کسی کی بھی محبت کا حق نہیں رکھتے۔
وہ لوگ جو کسی پر تشدد رشتے میں رہے ہوں، انہیں بھی اس بات پر یقین ہو جاتا ہے کہ وہ محبت کے قابل نہیں ہیں۔ کیونکہ تشدد کرنے والا انہیں اس بات کا یقین دلا دیتا ہے کہ ان کا کوئی حق نہیں کہ ان سے اچھا سلوک کیا جائے، یا تشدد کرنے کے علاوہ کوئی بھی دوسرا شخص انہیں کبھی بھی قبول نہیں کرے گا، نہ ہی محبت۔
ایسے لوگ لو سیلف اسٹیم کا شکا ر ہوتے ہیں، انہیں جب خود پر ہی اعتبار نہیں ہو تا تو یہ کسی اور پر بھی یقین نہیں کر پاتے۔ اس لئے خود ہی طے کر لیتے ہیں کہ یہ محبت یا اچھے سلوک کے مستحق ہی نہیں ہیں۔
اسی طرح اگر کوئی شخص کسی ٹراما سے گزرا ہے تو وہ بھی ایسا ہی سوچنے لگتا ہے۔
اس احساس کا مقابلہ کیسے کر سکتے ہیں؟
پہلی بات جو میں کہنا چاہتی ہوں وہ یہ ہے کہ یہ سچ نہیں ہے کہ کوئی آپ سے پیار نہیں کرتا۔ جب ہم اپنے مسائل میں بہت زیادہ پھنسے ہوئے ہوتے ہیں، تو ہمارے لیے اکثر اپنے اردگرد موجود پیار اور اچھی چیزوں کو بھول جانا یا نظر انداز کر دینا آسان ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، تحریر کے آغاز میں، میں نے جن اقبال صاحب کا ذکر کیا ہے وہ سوچ رہے تھے کہ کوئی ان سے پیار نہیں کرتا ”، حالانکہ ان کے پاس بچے، بیوی سب موجود تھے اور وہ ہمیشہ سے تھے۔ لیکن چونکہ وہ خود ریٹائرمنٹ کے بعد خود کو فالتو سمجھنے لگے تھے تو انہیں اپنے گھر والوں کی محبت، الفت نظر ہی نہیں آتی تھی۔
پیار کا مطلب ہمیشہ رومانس نہیں ہوتا۔
محبت ہمیشہ رومانوی نہیں ہوتی، جو لوگ آپ سے محبت کرتے ہیں، عین ممکن ہے وہ لوگ دوست، ساتھی کارکن، رشتہ دار ہو سکتے ہیں، سرپرست، اساتذہ، کوئی جاننے والا (جسے آپ اچھی طرح سے نہیں جانتے، لیکن یہ شخص آپ کو پسند کر سکتا ہے یا آپ کی تعریف کر سکتا ہے یا آپ کی کچھ چیزیں پسند کر سکتا ہے ) ، یا یہاں تک کہ صرف ایک اجنبی۔ کوئی ایسا شخص جو آپ کی دور سے تعریف کر رہا ہو۔ لہٰذا یہ تمام لوگ آپ کو چاہتے ہیں، آپ کی تعریف کرتے ہیں، اور آپ سے پیار کرتے ہیں، اور یہ بالکل درست نہیں ہے کہ کوئی بھی آپ سے محبت نہیں کرتا ہے۔
اگر آپ رک کر سوچتے ہیں اور اپنے اردگرد نظر ڈالتے ہیں، تو امکان ہے کہ آپ کو کم از کم ایک ایسا شخص مل جائے جو آپ سے پیار کرتا ہو۔ کون آپ کا ساتھ دیتا ہے، اور آپ کے لیے موجود ہے، بات صرف اتنی سی ہے کہ آپ اس محبت یا اس شخص پر توجہ نہیں دے رہے ہیں۔ آپ اپنے ہی درد میں لپٹے ہوئے ہیں، جس وجہ سے یہ سوچتے ہیں کہ ”کوئی مجھ سے پیار نہیں کرتا۔“
اگر آپ کے موبائل میں کسی ایسے انسان کا نمبر موجود ہے جس سے آپ دل کی بات کہہ سکتے ہیں اور آپ کو اعتماد ہے کہ وہ آپ کی ضرور سنے گا تو اس کا مطلب ہے آپ کی یہ سوچ غلط ہے، کہ آپ کے ہونے یا نہ ہونے سے کسی کو فرق نہیں پڑتا، یا آپ الفت کے قابل نہیں ہیں۔ یہ بات ذہن نشین کر لیجیے کہ محبت ہمیشہ رومانوی جذبات لئے ہو ایسا ضروری نہیں ہے۔ محبت کو ایک عالمگیر جذبہ سمجھئے، جو شخص بھی آپ کو سراہتا ہے، آپ کی ہمت بندھاتا ہے، آپ کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، آپ کی سنتا ہے اس کا شکر گزار ہونا سیکھئے اور اس کی محبت کی قدر کیجئے۔


