مراد سعید کا مقدمہ اور ہم ہوموفوب پاکستانی


مجھے مراد سعید، حمزہ عباسی یا عمران خان کے جنسی میلان کا علم ہے نہ جاننے میں کوئی دلچسپی۔ در حقیقت مجھے کسی بھی شخص کی ذاتی زندگی بشمول جنسی میلان اور ان کے آپس کے تعلقات سے کوئی دلچسپی ہونا ہی نہیں چاہیے۔ ریاست قانون یا کسی بھی دوسری اتھارٹی کو شہریوں کے جنسی میلان یا تعلقات سے دلچسپی نہیں ہونی چاہیے۔ شہریوں کا جنسی تعلقات قائم کرنا صرف اور صرف اس وقت جرم بن جاتا ہے جب اس میں زبردستی کا عنصر ہو یا اس میں کوئی بچہ یعنی اٹھارہ برس سے کم عمر کی لڑکی، لڑکا یا ٹرانسجینڈر شامل ہو۔ تب قانون کو حرکت میں آنا چاہیے۔ یہ میں کوئی نئی یا انہونی بات نہیں کر رہا۔ آج کی دور میں بہت سارے ممالک نے اپنے قوانین کو سدھار لیا ہے اور اپنی قوم کی اخلاقی تربیت بھی اس طرح کر رہے ہیں کہ لوگوں کی ذاتی زندگیوں میں جھانکنا کوئی قابل فخر کارنامہ یا فن نہیں بلکہ باعث شرمندگی ہے۔

میں نے ریحام خان کی کتاب پڑھی ہے نہ اس کا حامی ہوں۔ میاں بیوی ایک دوسرے کے رازوں کے امین ہوتے ہیں۔ طلاق ہونے کے بعد پیسے کمانے، دوسرے کی محض توہین کی خاطر یا کسی بھی اور وجہ سے ان رازوں کو شائع کرنا مناسب بات نہیں ہے۔ ریحام خان نے کتاب میں ایسی ذاتی باتیں لکھ کر نامناسب حرکت کی ہے۔ اس کو سپورٹ کرنے اور اچھالنے والے غلط راستے پر ہیں۔ قوم کی یہ درست تربیت نہیں ہے۔ اب واپس آتے ہیں انسانوں کی شخصی آزادیوں کی جانب۔

جنسی میلان چوائس کا معاملہ ہی نہیں ہے۔ یہ قدرتی ہے۔ کوئی بھی انسان اس کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کب اور کہاں پیدا ہونا آپ کے بس میں نہیں تھا۔ لڑکی لڑکا یا ٹرانسجینڈر پیدا ہونا آپ کے بس میں نہیں تھا۔ دیکھنے، بولنے یا سننے کی طاقت کے ساتھ یا اس کے بغیر پیدا ہونا آپ کے بس میں نہیں تھا۔ اسی طرح جنس مخالف کی طرف کشش محسوس کرنا سب سے عام رجحان ضرور ہے لیکن سب انسانوں میں نہیں پایا جاتا۔

کچھ لوگ قدرتی طور پر جنس مخالف کی بجائے اپنی ہی جنس کی طرف جنسی کشش محسوس کرتے ہیں۔ بالکل ایسے ہی کچھ لوگ دونوں جنسوں کی طرف کشش محسوس کرتے ہیں اور کچھ لوگ جنسی کشش محسوس کرنے سے مکمل طور پر عاری ہوتے ہیں۔ یہ سب فیصلے انسانی ڈی این اے میں پرنٹ ہوتے ہیں اور ان پر کسی کا اختیار نہیں ہوتا۔ اور جو چیز آپ کے بس میں نہیں ہے وہ آپ کا جرم بھی نہیں ہے۔ دنیا اس سلسلے میں ترقی کر رہی ہے۔

اس وقت دنیا میں 195 ممالک ہیں اور صرف 69 ممالک میں ہم جنسیت کو ابھی بھی جرم گردانا جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ تقریباً سوا سو ممالک میں یہ جرم نہیں ہے۔ ہم جنسیت کا جرائم کی لسٹ سے باہر ہونا بھی کل کی بات ہے۔

اگر ہم پچھلے ساٹھ برسوں کو دیکھیں تو 1961 میں الینوائے امریکہ کی پہلی ریاست بن گئی جس نے ہم جنسیت کو جرائم کی لسٹ سے نکال دیا۔ جب کہ امریکہ کی کئی ریاستوں کو ایسا قانون بنانے اور اپنانے میں مزید چالیس سال لگ گئے۔ باقی دنیا میں بھی بتدریج تبدیلی آ رہی ہے۔ مثال کے طور پر 1967 میں برطانیہ، 1968 میں جرمنی، 1975 میں آسٹریلیا، 1993 میں روس، 1997 میں چین اور 2018 میں انڈیا نے ہم جنسیت کو قانوناً جائز قرار دیا۔

قانون بننے کے ساتھ ساتھ رویوں میں تبدیلی لانے کی کوششیں بھی کی گئیں۔ ان کوششوں میں حکومتیں میڈیا، تعلیمی ادارے اور انسانی حقوق کے ادارے نمایاں تھے۔ یہ کوششیں ابھی جاری ہیں۔ ترقی یافتہ ملکوں میں ایسے قوانین بنائے گئے تاکہ عورتوں، ایل جی بی ٹی آئی کیو اینڈ اے (LGBTQI&A) کے خلاف ہر قسم کی تفریق کو ختم کیا جا سکے۔ پاکستان میں البتہ حکمران خود اس حساسیت سے خالی ہیں۔ ہمارے زیادہ تر حکمران آئے دن ایسے نامناسب تبصرے کرتے ہیں جو عورتوں، ٹرانسجینڈرز اور ایل جی بی ٹی کیو آئی اینڈ اے کو کم درجے کا انسان ظاہر کرتے ہیں۔

ہماری عوامی جگہوں اور میڈیا پر بھی اس کا کھلے عام مظاہرہ ہوتا ہے۔ سڑکوں پر جنسی ہراسانی اور ٹرانسجینڈرز کا تمسخر اڑانا تو بہت ہی عام بات ہے۔ یہ صورت حال عورتوں، جنسی طور پر مختلف لوگوں خاص طور پر ٹرانسجینڈرز کے لیے انتہائی پریشان کن ہے۔ لاکھوں یا شاید کروڑوں پاکستانی کم تر سمجھے جانے کی ذلت کو ہر روز برداشت کرتے ہیں۔ ان ”کمزور“ طبقات کے لوگوں کو بھی اتنی ہی تکلیف ہوتی ہے جتنی ہمارے حکمرانوں کو محسن بیگ کے ایک نجی ٹی وی پر دیے گئے نامناسب تبصرے سے ہوئی ہے۔

ہمارے مرد حکمرانوں کو یہ معاملہ شاید پہلی دفعہ پیش آیا ہے کہ ان کے جنسی میلان اور تعلقات کی بنیاد پر انہیں ایک جنسی اقلیتی گروپ کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ انہیں بجا طور پر اس کی تکلیف محسوس ہوئی ہے اور انہوں نے پوری طاقت کے ساتھ قانون کا سہارا بھی لیا ہے۔ وہ چونکہ ایلیٹ ہیں اور اقتدار میں ہیں اس لیے قانون نے ایکشن بھی لیا لیکن یہ کافی نہیں ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام شہریوں کی شخصی آزادی کو محفوظ بنانے کے لیے قوانین اور پالیسیاں بنائی جائیں اور انہیں نافذ کرنے کے لیے قوم کی مناسب تربیت کی جائے۔ جب تک ایسا نہیں کیا جائے گا تو کوئی بھی تفریق سے بچ نہیں سکے گا۔ تمام شہریوں کی شخصی آزادی اور عزت نفس کو محفوظ بنانا ہی اصلی اور پائیدار حل ہے۔ پی ٹی آئی کے پاس اچھا موقع ہے کہ پاکستانی شہریوں کے درمیان ہر قسم کی تفریق کو ختم کرنے کے لیے مناسب اور ٹھوس اقدام کرے۔

Facebook Comments HS

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 366 posts and counting.See all posts by salim-malik