ساری جاتی دیکھ کے آدھی دیجیو چھوڑ


موجودہ حکومت نے بار بار بجلی اور پٹرول کے نرخوں میں اضافہ کیا جب اس اضافہ پر عوام نے شور مچایا تو حکومتی ترجمانوں کی فوج نے میڈیا پر بیان دیے کہ وطن عزیز اس وقت بھی دنیا کا سستا ترین ملک ہے۔ عوام جب خاموش نہیں ہوئی تو یورپ اور امریکہ اور ہمسایہ ممالک کے اعداد و شمار پیش کر کے عوام کو مطمئن کرنے کی کوشش کی گئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ بجلی اور پٹرول کے نرخوں نے عوام کا بھرکس نکال دیا۔ مگر مجال ہے جو میرے حاکم کے کان پر جوں تک رینگی ہو۔ صرف یہی نہیں بلکہ اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں کو پر لگ گئے مگر کپتان ڈٹا رہا اور ٹس سے مس نہیں ہوا۔

گندم کی کاشت کے وقت ڈی اے پی اور یوریا کی قیمت دوگنا سے بھی بڑھ گئی غریب کاشتکار کنٹرول ریٹ پر کھاد کی تلاش میں مارا مارا پھرتا رہا مگر کپتان امور مملکت میں اس قدر مصروف تھا کہ اس کو خبر ہی نا ہوئی کہ کسان لٹ رہے ہیں زراعت تباہ ہو رہی ہے مہنگی کھاد کے سبب گندم کی کاشت تاخیر کا شکار ہو رہی ہے۔ میرے کپتان کو کوئی خبر کرے کہ دس ہزار کی ڈی اے پی اور تین ہزار کی یوریا خریدنے والے کسان جب کنٹرول ریٹ پر گندم فروخت کرے گا تو اس کو سوائے خسارے کے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔

مگر یہ تو کھیل کا اصول ہے کہ وہ کپتان ہی کیا جو تماشائیوں کی طرف توجہ دے۔ مگر سیاست میں کپتان نے تو کوچ کی بھی نہیں سنی اگر سنی ہے تو صرف ان کی جو دل کے بہت قریب تھے۔ انسانی زندگی بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں تین سو گنا تک اضافہ ہوا۔ علاج عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو گیا حالت یہ ہوئی کہ ادویات خریدیں یا پھر دو وقت کی روٹی کا بندوبست کریں۔ ہیپاٹائٹس کے مریضوں کو مفت ادویات کی فراہمی بند ہو گئی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے لیے جنت ثابت ہونے والی مارکیٹ عام آدمی کے لیے کسی دوزخ سے بھی بدتر ہو گئی۔ مگر کپتان پختہ ارادے کے ساتھ ڈٹا رہا۔

فلاحی ریاست بنانے کے دعویدار میرے ہینڈسم کپتان کے رواں عہد حکومت میں ترقی کی شرح میں کمی ہوئی، افراط زر میں اضافہ ہوا، گردشی قرضے دوگنا ہو گئے، بیرونی قرضوں میں تاریخی اضافہ ہوا۔ مہنگائی کی شرح میں اضافہ نے کمر توڑ دی۔ جبکہ حکومتی اعداد و شمار ترقی کی نوید دے رہے ہیں سب کچھ بہتر ہو رہا ہے اگر ایسا ہے تو اس کے ثمرات عام آدمی تک کیوں نہیں پہنچ رہے قرضے کیوں لیے جا رہے ہیں عام آدمی کی حالت کیوں بہتر نہیں ہو رہی۔ وہ خوشحالی کہاں ہے جس کا کنٹینر پر کھڑے ہو کر اعلان کیا گیا تھا۔ حالت تو یہ ہے کہ صادق و امین کے عہد میں ٹرانسپرینسی انٹرنشینل کے مطابق کرپشن میں اضافہ ہوا ہے بقول مرزا نوشہ کے حیراں ہوں، دل کو رووں کہ پیٹوں جگر کو میں۔

کپتان کو بخوبی علم تھا کہ نوجوانوں کی ایک بہت بڑی تعداد بے روزگار ہے اس لیے کپتان کی انتخابی مہم کا سب سے پرکشش نعرہ ایک کروڑ نوکریوں کا تھا۔ نوجوان اس نعرے پر خوشی سے ناچ اٹھے کہ چلو کسی نے تو سوچا ان کے متعلق اور بلاشبہ بے روزگاروں کے لیے یہ نعرہ ایک لائف لائن کی حیثیت اختیار کر گیا۔ مگر ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ شرمندہ تعبیر کیا ہونا تھا الٹا اس عہد زریں میں تو ریلوے، ریڈیو پاکستان، پی آئی اے اور کراچی اسٹیل ملز کے ہزاروں ملازمین کو نوکری سے فارغ کر دیا گیا۔ جس نجی سیکٹر میں نوکریاں پیدا کرنی تھیں وہاں کی حالت ایسی ابتر ہوئی کہ کئی سالوں سے کام کرنے والے ملازمین خراب معاشی صورتحال کے سبب جبری طور پر گھروں کو بھیج دیے گئے۔

مدعا یہ کہ کپتان کے جو جی میں آئی کپتان بولتا گیا کنٹینر پر کھڑے ہو کر وعدے کرتا گیا سہانے خوابوں کے اعلان کرتا گیا یہ بھی نہیں سوچا کہ کنٹینر سے نیچے بھی اترنا ہے۔ ڈی چوک سے باہر بھی ایک دنیا ہے اور تبدیلی کی خواہش میں ناچتے ہوئے مجمع سے ہٹ کر بھی انسانوں کا ایک ہجوم ہے جو ایک مشکل زندگی گزار رہا ہے۔ یہ حالات کے مارے کپتان کی باتوں پر یقین کر گئے اعتبار تو جنوبی پنجاب کے لوگ بھی کر گئے تھے کہ 90 دنوں میں ان کا صوبہ بن جائے گا۔ مگر زمینی حقائق کچھ اور تھے لہذا کوئی کام پورا نا ہوسکا کوئی وعدہ وفا نا ہوسکا۔

المیہ تو یہ ہے کہ پہلے چھ ماہ میں نظام عدل کو بہتر بنانے کا دعویدار قوم سے خطاب کے دوران کہتا ہے کہ دو سال سے اس کو انصاف نہیں مل رہا۔ قوم کو نا گھبرانے کی تلقین کرنے والا اپوزیشن کے مطابق پیپلز پارٹی کے رواں لانگ مارچ اور پھر جماعت اسلامی اور پھر پی ڈی ایم کے لانگ مارچ سے گھبرا رہا ہے۔ سستا ترین ملک کا دعویٰ کرنے والا حاکم پٹرول، ڈیزل اور بجلی کے نرخوں میں کمی کا اعلان خدا جانے کیوں کر رہا ہے۔ نوجوانوں کو انٹرن شپ دینے کا خیال اس وقت کیوں آیا جب سندھ سے ایک احتجاجی قافلہ روانہ ہو چکا ہے اور بلاول بھٹو حالیہ پٹرول اور بجلی کے نرخوں میں کی کمی کو مسترد کرچکا ہے۔

میرے کپتان کیا پٹرولیم مصنوعات اور بجلی کے نرخوں میں ہوشربا اضافہ کے بعد حالیہ معمولی کمی عوام کو مطمئن کرسکے گی۔ اے خوش لباس و ہینڈسم حاکم کیا عوام کنٹینر سے کیے گئے وعدوں کو بھول جائے گی۔ اے صادق و امین کیا عوام آٹا، چینی، رنگ روڈ اسکینڈل، توشہ خانہ اور فارن فنڈنگ کیس پر سوال نہیں کرے گی۔ بیوروکریسی میں مداخلت نا کرنے کے اعلان کے بعد پے درپے افسران کی تبدیلی کے باوجود حالات کیوں بہتر نہیں ہوئے اس کا جواب تو بہرحال دینا پڑے گا۔ میرے کپتان کیا اس لیے آدھی چھوڑنے کو تیار ہوئے ہیں کہ کہیں پوری نا چلی جائے۔ میرے مصروف حاکم کو کوئی خبر کرے کہ ضمنی انتخابات اور کے پی کے بلدیاتی انتخابات میں آدھی سیاسی جمع پونجی پہلے ہی لٹ چکی ہے باقی ماندہ آدھی آئندہ عام انتخابات میں لٹنے جا رہی ہے بشرطیکہ انتخابات فری اینڈ فیئر ہو گئے۔

Facebook Comments HS