مرد بھی مظلوم ہوتے ہیں!!

ہمارا ذاتی اعتقاد ہے کہ مرد بھی مظلوم ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں مظلوم کا لفظ فقط عورت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جبکہ یہ لفظ صنف مخالف کے لیے استعمال کرنے میں بھی کوئی قباحت نہیں۔ آپ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ ہم کیسی بہکی بہکی باتیں کر رہے ہیں، ارے مظلوم تو فقط عورت ہوتی ہے مرد بھلا کہاں؟ ہمارے ہاں عورت کو ہی مظلوم گردانا جاتا ہے کیونکہ یہ وہ چورن ہے جو اچھا بکتا ہے

Read more

عہد حاضر اور نوجوان نسل

عصر حاضر کی نسل کتب سے اتنی ہی دور ہے جتنی ٹیکنالوجی سے قریب تر۔ کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ عصر حاضر کی نسل کیا جانے کہ بہن بھائیوں سے تعلیم و تربیت چھین کر پڑھنے یا والد کے ڈر سے رضائی میں چھپ کر ڈائجسٹ پڑھنے کا لطف کیا ہے۔ کسی کتاب کی تلاش میں گھنٹوں پرانی انارکلی کی خاک چھاننا اور مطلوبہ کتاب کے مل جانے کی خوشی کیا ہوتی ہے، کتاب کے مل جانے پر خوشی سے نعرہ لگانا اور اسی خوشی میں سہیلیوں کو فوڈ سٹریٹ سے گول گپے کھلانا کتنا حسین احساس بخشتا ہے۔

Read more

ذہنی امراض اور ان کی وجوہات

ہمارا ذاتی اعتقاد ہے کہ ادیب حضرات کو ایک دفعہ زندگی میں ہسپتال برائے شعبہ ذہنی امراض ضرور جانا چاہیے۔ انسانی نفسیات سے الجھتے، اپنوں کے درمیان زندگی سے ہاتھ دھوتے، روتے، چیختے پکارتے یہ انسان نہ صرف ہماری توجہ اور ہمدردی کے اہل ہیں بلکہ ان موضوعات کو اجاگر کرنا ہر اہل قلم کا فریضہ ہے۔ ہمارے ہاں ان موضوعات پر بہت کم لکھا گیا ہے ۔ اگر ہمارا کوئی عزیز شدید ذہنی اذیت کا شکار ہو تو ہم

Read more

زندگی گلزار ہے

زندگی جس قدر سہل ہے اُس قدر مشکل بھی، بعض اوقات غم کے بڑے بڑےپہاڑ انسان بآسانی سرکرلیتاہےاور کبھی ذرا سی ٹھیس بھی اُسے ذرہ ذرہ بکھیر دیتی ہے۔انسان کچھ لمحات میں جس قدر پہاڑوں سے بھی زیادہ مضبوط دیکھاٸی دیتا ہے وہی ایک جملہ،تلخ لہجہ اُس کے وجود کو کرچی کرچی بکھیر دیتا ہے۔ٹوٹ پھوٹ کا یہ عمل ساری زندگی جاری رہتا ہے اور اِس سب میں زندگی دھیرے سےمسکراتے ہوٸے کیسے گزرجاتی ہےپتہ بھی نہیں چلتا۔شاید یہی زندگی

Read more

زندگی زندہ دلی کانام ہے!

زندگی کیا ہے؟ زندگی کیسے گزاری جائے؟ زندگی میں خوشی کا عنصر کیوں مفقود ہوتا جا رہا ہے؟ ہر انسان اس قدر پریشان اور دکھی کیوں ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جو کہنے کو تو بڑے سادہ ہیں مگر ان کے مفہوم جانتے جانتے آدھی زندگی گزر جاتی ہے۔ زندگی نہیں رکتی مگر وقت کے ساتھ ہم کہی ٹھہر جاتے ہیں۔ زندگی کی سب سے بڑی خوبصورتی یہ ہے کہ وقت کے ساتھ ہر زخم کا مداوا ممکن ہے۔ دل

Read more

یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کی (2)

مشہور قول ہے کہ مطالعے سے آدمی بیدار ہوتا ہے، مکالمے سے اس میں تمیز آتی ہے اور لکھنے سے اس کی شخصیت نکھر جاتی ہے۔ مطالعے کی عادت اختیار کر لینے کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے گویا دنیا جہاں کے دکھوں سے بچنے کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ تیار کرلی ہے۔ آپ کے گھر میں ایک ایسی جگہ ضرور ہونی چاہیے جہاں آپ تنہائی میں اپنی کتابوں کے سطور سے گفتگو کرسکیں اور اپنے تخیلات کی

Read more

حسینی تحریک ایک مقدس حمادسہ از نگاہ ادبیات

حماسہ کے معنی شدت اور سختی کے ہیں۔ کبھی یہ لفظ شجاعت اور حمیت کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ شعر کے عالم شعروں کے مجموعوں کا شعر کی اقسام اور مقاصد کے لحاظ سے الگ الگ نام رکھ دیتے ہیں۔ بعض نظموں کو غنائی، بعض کو حماسی، بعض کو وعظی اور نصیحتی، بعض کو رثائی اور بعض کو مدحی کہتے ہیں۔ حافظ کی غزلیں اور دیوان سعدی، شمس تبریزی کا دیوان غنائی مجموعے ہیں، یعنی ان کا ہدف عرفان الہیٰ

Read more

الفاظ کی طاقت

انسان یک دم خاموش نہیں ہوتا۔ اسے رفتہ رفتہ رویے اندر ہی اندر مار دیتے ہیں۔ لفظوں اور لہجوں کی کڑواہٹ روح تک کو چھلنی کر دیتی ہے۔ جسم کی تکلیف پھر بھی قابل تحمل ہے مگر وہ اذیت جو روح تک سرایت کر جائے اس کا مداوا کوئی نہیں کر سکتا۔ وہ اذیت جو سننے والے کی سماعت کو زخمی اور روح تک کو گھائل کر دے وہ واپس اسی انسان کے پاس ضرور آتی ہے کیونکہ یہ قدرت

Read more

یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کی

اگر آپ کو کتابیں تحفے میں دینے والے دوست موجود ہیں تو سمجھیے کہ آپ اس دنیا کے خوش قسمت ترین انسان ہیں۔ آج کے اس ڈیجیٹل دور نے انسان کو کتاب دوستی سے دور کر دیا ہے۔ پہلے وقتوں میں جتنا وقت کسی اچھی معیاری کتاب کے مطالعہ کرنے، لاٸبریری جا کر اسے تلاش کرنے اور پھر اُس پر گھنٹوں تبصرہ کرنے پر لگتا تھا، اب یہ سب ایک خواب لگتا ہے۔ کالج کے زمانے میں دیوانِ غالب کی

Read more

انفاق فی سبیل اللہ

بزرگوں کا قول ہے کہ ایک  ہاتھ سے دو تو دوسرے ہاتھ کو خبر نہ ہونے پائے، ہم بھی کافی عرصے تک اسی اصول پر کاربند رہے۔ ہمارے محلے میں ایک بڑی بی رہا کرتی تھیں، وہ بغیر کسی معاوضہ کے محلے کے تمام بچوں کو قرآن پڑھایا کرتی تھیں، ہم بھی بڑے شوق سے الٹا سیدھا وضو کرکے شام میں ان کے پاس پہنچ جایا کرتے تھے۔ ہم نے آج تک انہیں مالی مشکلات کا سامنا کرتے نہیں دیکھا، جبکہ

Read more

مایوسی اور ہم

زندگی گلزار ہے ہم اکثر و بیشتر یہ جملہ خود سے کہتے رہتے ہیں۔ حسب سابق ہم اس جملے کی تکرار آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر ابھی کر ہی رہے تھے کہ ہماری چار سالہ بھانجی نے ہم سے کہا کہ بیا آنی خاموش ہو جائیں مجھے ڈپریشن ہو رہا ہے۔ پہلے تو ہم نے انہیں بغور دیکھا اور پھر لفظ ڈپریشن پر غور کیا۔ اس عمر میں ہمیں سردرد کا بھی علم نہ ہوتا تھا کجا اس کے

Read more