اشفاق شناسی


اردو ادب میں طنز و مزاح کی بات ہو یا تحقیق و تنقید کی ڈاکٹر اشفاق احمد ورک کی شخصیت میرے سامنے آ کھڑی ہوتی ہے ان کے قلم کا منفرد لب و لہجہ معاشرے کی نبض پر ہاتھ رکھ کر فوراً مرض بتا دیتا ہے۔ یہ امراض عام ڈاکٹر اور ہسپتالوں سے لاعلاج نظر آتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے لفظوں اور لب و لہجے سے اس مرض کی تشخیص اور علاج بڑے ہی جاندار انداز میں کرتے ہیں جو ان کی ”ادب شناسی“ کا طلسماتی جادو بھی ہے۔

ان کی شخصیت اور فن کا اندازہ آپ خود ہی کر لیجیے جو وہ معاشرے اور اس کی نبض پر ہاتھ رکھ کر موجودہ امراض کی شناخت اور تحقیق کا زاویہ قائم کرتے ہیں۔

15 دسمبر 2021 کی شام 00 : 4 بجے ایف سی کالج لاہور کمرہ نمبر 102 میں تحقیق کی کلاس جاری تھی حسب معمول طلبہ طالبات کلاس میں حاضر تھے۔ استاد محترم ڈاکٹر اشفاق احمد ورک کلاس میں حاضر ہوئے سبھی طلبا و طالبات احترام اور عزت میں کھڑے ہو گئے میں بھی ان میں سے ایک تھا۔ بات لفظ تحقیق سے شروع ہوئی تو ان کا زاویہ ایک سرجن ڈاکٹر کی طرح مرض کی حقیقت کو تلاش کرنے اور آپریشن میں مگن ہو گیا۔

اس تحقیق کا نقطہ موجودہ پاکستان کی صورتحال پر ٹھہرا۔ جو اس وقت آلودہ فضا اور پاکستان کے دل (لاہور ) کا گندا ترین شہر قرار دیا جانا اور مسلسل پہلے نمبر پر آنا زیربحث ہوا۔ مرض کی تصدیق کے لیے مریض کو بلایا اور مریض کو آپریشن تھیٹر میں لے جایا گیا آپریشن تھیٹر کی چاروں طرف نگاہ دوڑائی۔ مرض اور مریض کے مابین دھیان کیا گیا، آپریشن تھیٹر کی خدمت کو مزید عقل و دانش اور خوش اسلوبی سے آغاز کرتے ہوئے فرمایا:

” مرض کے اثرات کافی بڑھ چکے ہیں فوراً آپریشن کرنا پڑے گا۔“

آپریشن کا ساز و سامان جن میں سیزر، سوئی، بلیڈ اور دیگر آپریشن کے آلات موجود تھے ان کو ترتیب دیا۔ مریض کی آہ و پکار بڑھ رہی تھی کہ جلدی کیا جائے مریض کے جسم پر ایک کٹ لگایا گیا جو کہ تکلیف دہ عمل تھا۔

اس دوران خون بھی نکلا، درد بھی محسوس ہوا، اور جسم کے ماس کو دو حصوں میں تقسیم بھی کیا گیا۔ خون کو کاٹن سے صاف کرتے ہوئے استاد محترم فرماتے ہیں :

”بیماری اتنی خطرناک نہیں تھی جتنی مریض کی لاپرواہی نے اس کو خطرناک قرار دے دیا ہے۔“
میں تو ایک دم سے چونک گیا سر یہ کیسا معاملہ ہے، مجھے کچھ نظر بھی نہیں آ رہا۔ ان کا بیان کرنا تھا :
”کہ بیٹا یہی تو مسئلہ ہے، جو آپ لوگ ابھی تک سمجھ نہیں پا رہے۔“
مریض کے مرض کی نوعیت و صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے آپریشن جاری رہا۔

اسی دوران میں نے مریض اور مرض دونوں پر اپنی غور و فکر جاری رکھی انہوں نے آپریشن کا عمل جاری رکھتے ہوئے مجھ سے کہا:

”بیٹا جاہل اور عالم میں صرف تحقیق کا فرق ہوتا ہے۔“

میں یہ الفاظ سن کر ایک تجسس کی کیفیت میں مبتلا ہو گیا کہ ان بولے الفاظ کا اس مرض سے کیا تعلق ہے ابھی ان الفاظ کو اپنے ذہن میں گردش کروا رہا تھا کہ اسی دوران انہوں نے مجھ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا:

” مریض کے مرض کی جڑ پہچان لی گئی ہے ہم آپریشن میں کامیاب ہوچکے ہیں۔“

میں ان کی سمجھداری سے حیران بھی تھا اور اس تجسس میں مبتلا تھا کہ اتنی جلدی اور کم وقت میں کیسے ممکن ہو گیا۔ ابھی چند سیکنڈ بھی نہ گزرے تھے کہ انہوں نے قینچی کے ساتھ ایک شے ( جڑ ) کو باہر نکال کر علیحدہ رکھ دیا۔

اور جو گہرا کٹ لگایا گیا تھا اس کو دھاگے اور سوئی کے ساتھ باہم کر دیا۔
میں مسلسل اس جڑ کو دیکھے جا رہا تھا

جو دیکھنے میں ظاہری طور پر ایک عام گوشت کا لوتھڑا تھا۔ میں نے اس کو ہاتھ لگانے کی کوشش کی لیکن مجھے استاد محترم نے منع فرماتے ہوئے کہا :

” اندرونی طور پر مکمل بدنما، آلودہ، اور زہر سے بھری ہوئی ہے۔“

میں نے ان سے اس کا نام دریافت کرنے کی کوشش کی لیکن مجھے استاد محترم ہمیشہ کی طرح کہتے ہوئے فرماتے ہیں :

”یہ جو تم جلد بازی کرتے ہو نا مت کیا کرو کیوں کہ تحقیق میں جلد بازی سے کام نہیں لیا جاتا۔“

استاد محترم کا بیان کرنا تھا کہ بیٹا صبر کرو ابھی بتاتا ہوں میں فوراً بولا سر جلدی بتائیں بات برداشت نہیں ہو رہی۔

وہ کہتے ہیں کہ :
”پہلے ایک واقعہ بتاتا ہوں پھر آپ کو آسانی کے ساتھ سمجھ آئے گی یہ کیا منحوس چیز ہے۔“

بیٹا کچھ عرصہ قبل جاپان سے کچھ مہمان میرے پاس آئے تھے میں ان کو شیخوپورہ سے لاہور بذریعہ موٹر وے لے کر آ رہا تھا وہ گاڑی میں بیٹھے مسلسل اپنے دائیں بائیں دیکھ رہے تھے اور حیرانی کا اظہار کر رہے تھے۔ اچانک وہ حیرانی سے مجھ سے پوچھنے لگے :

”اشفاق یہ زمین پاکستان کی ہے“
میں نے جواب میں ان سے کہا:
”جی بالکل یہ پاکستان کی ہے“ ۔
ان کا کہنا تھا کہ:

” پاکستان پھر بھی اتنا غریب کیوں ہے، اگر اتنی زمین جاپان کے پاس ہو، تو جاپان کا نقشہ بدلا ہوتا آج بھی۔“

میں نے ان کو جواب میں کہا:
”پاکستان زمینوں کی وجہ سے نہیں بلکہ کمینوں کی وجہ سے غریب ہے۔“
میں نے حیرانی سے سر سے کہا،
” اس کہانی کا اس جڑ کے ساتھ تعلق ہے۔“
”بیٹا یہ“ جڑ ”جو تم دیکھ رہے ہو اس کا نام“ کمینگی ”ہے۔“

اس ”جڑ“ نے جو تم دیکھ رہے ہو اس مریض کے اندر اپنی جڑیں مضبوط کر لی، اب مسئلہ اس کا نہیں بلکہ اس کے تاثرات کا ہے جو آنے والی اس کی نسلوں میں جا چکا ہے اس ”جڑ“ کے تاثرات ان کے جینز میں سکونت پذیر ہو چکے ہیں جو نسل در نسل منتقل ہوتے جا رہے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ راوی کو راوی ضعیف بنا کر اس کا حسن ختم کر دیا ہے۔ ان جینز کے تاثرات نے اپنے قدم انصاف کے میدان میں جما لیے ہیں جو پاکستان کو انصاف کی دنیا میں 128 نمبر پر لے جا چکے ہیں۔ ایمانداری میں دنیا کے 140 نمبر پر لے جا چکے ہیں۔ تعلیم کے میدان میں ورلڈ انڈیکس کی رپورٹ کے مطابق 94 نمبر پر جا چکا ہے۔

آخر میں استاد محترم مخاطب ہوتے ہوئے فرماتے ہیں :
”جب جسم کا مرکز یعنی دل ہی گندا ہو تو پورے جسم میں گندا خون دوڑتا ہے۔“

Facebook Comments HS