پشاور۔ خون کا دریا جو چڑھتا جاتا ہے

فیض کا مصرعہ پڑھتے تھے اور سوچتے تھے کہ خون کے دھبے کیسے لگے ہوں گے، کیسے ضدی ہوں گے کہ انہیں دھونے کو برساتیں درکار ہوں گی۔ دھبے جتنے گہرے ہوں برساتیں انہیں کچھ حد تک دھو ہی دیتی ہیں، کچھ رنگ ہلکے کر بھی دیتی ہیں۔ 1971 سے پہلے لیکن 1947 بھی آیا تھا۔ اس کے خون کے دھبے بھی بہت گہرے تھے، غضب کی کہانیاں ہیں دھبوں کی بھی عجیب لیکن اس وقت شاید دھبے نہیں تھے خون کے دریا تھے۔ لیکن بتایا گیا کہ ظالموں نے کاٹ ڈالا تھا، پوری پوری ٹرین وہاں سے یہاں کٹی ہوئی آتی تھی۔ یاد رہے وہاں سے یہاں کہ دوسری طرف ظالم تھے اور ہم مظلوم۔
خون کی ان خونی کہانیوں کی کسک آج بھی بہت سے دلوں میں زندہ ہے۔ تاریخ ہے، کتابیں ہیں بلکہ ابھی تو بہت سے آنکھوں دیکھنے والوں کے انٹرویو بھی انٹرنیٹ پر مل جاتے ہیں۔ ایسے ایسے واقعات کہ جیسے کوئی ہالی ووڈ کی فلم چل رہی ہو ایسی فلم جس کو دیکھتے وقت پتہ ہو کہ یہ نہیں ہو سکتا سب جعلی ہے پھر بھی رونگٹے کھڑے ہوتے جائیں۔ لیکن کیا کرے کوئی کہ یہ فلم نہیں حقیقت تھی تلخ حقیقت، سرخ خون سے لکھی حقیقت۔
لاہور میں ثاقب زیروی مشہور شاعر ہوئے ہیں لاہور کے نام سے ایک ہفت روزہ بھی نکالتے تھے۔ انہیں میر جعفر خان جمالی صاحب نے کچھ اور لوگوں کے ساتھ بلوچستان مدعو کر رکھا تھا۔ بلوچ روایت کے مطابق گوشت سے خوب مہمان نوازی ہو رہی تھی، ثاقب اس تقریب کے شروع ہوتے ہی اٹھ کر اندر اپنے کمرے میں چلے گئے۔ بلوچ سردار کو برا لگا وہ ثاقب کے پاس پہنچے اور انہیں باور کرایا کہ آپ نے اس انداز میں میزبان کی بے عزتی کی ہے اور یہ فعل بلوچ روایت میں بہت برا سمجھا جاتا ہے کہ مہمان اٹھ آئے۔
ثاقب صاحب نے اپنا نفسیاتی مسئلہ بتایا کہ زیرہ قصبے سے میں نے اپنے خاندان کے دو درجن لوگوں کے ہمراہ ہجرت کی تھی اور ”نئی آزاد مملکت“ تک میں اکیلا پہنچ پایا تھا۔ راستے میں جو کشت و خون جو ایک بچے نے دیکھا اس کے دھبے آنکھوں اور دماغ سے چپک چکے جو دھلتے ہی نہیں۔ اس طرح کی تقریب میں اس خون کی چپچپاہٹ مسئلہ بن جاتی ہے۔
میر جعفر خان جمالی نے تو ثاقب کو بھائی بنا لیا لیکن خون کے دھبے ایسے ہزاروں لاکھوں ثاقبوں کے ذہن و دل میں سما گئے۔ وقت کا پہیہ گھوما کچھ یادیں محو ہونے لگیں تو 65 بھی ہوئے اور 71 بھی۔ خون بھی بہا، گودیں بھی اجڑیں سہاگ بھی۔ چلیں اس میں تو ”مکار دشمن“ کی سازشیں تھیں، ”رات کے اندھیرے میں بزدل دشمن“ کے حملے تھے اور ہم دانت کھٹے کرتے رہے۔ خون کے دھبوں پر تقریریں اور تحریریں بچھا کر آنکھوں سے اوجھل بھی کرتے رہے۔
یہ ہماری پیدائش سے پہلے کے واقعات ہیں سو مطالعہ پاکستان اور بزرگوں کے ایوب خان کے رومانس پر بھروسا کرنا پڑا۔ لیکن دور ضیا سے اب تک کے سانحے تو ہزاروں اور ثاقب پیدا کرتی جا رہی ہے۔ کس کس جگہ پر کشت و خون کے بازار نہیں دیکھے۔ سنی مسجدیں، شیعہ امام بارگاہیں، احمدیہ عبادت گاہیں، مسیحی چرچ، ڈاکٹروں کے کلینک، پروفیسروں کے ڈرائنگ روم، اسلام آباد کے اوجڑی کیمپ اور پنج تارہ ہوٹل، کراچی کی بوری بند لاشیں، لاہور کے داتا دربار، واہگہ پریڈ گراؤنڈ، وزیراعظموں کے لہو لہو قافلے، صدروں کی ٹائروں بغیر گاڑیاں، کبھی بلوچ تو کبھی ایف سی، کبھی مہاجر تو کبھی رینجرز، پولیس کے ٹریننگ سینٹر، آرمی کے پبلک سکول، کرکٹ ٹیموں پر حملے، جامعات، آئی ایس آئی کے دفتر، جیش، لشکر، سپاہ، تحریکیں، حزب، لسانیت، فرقہ پرستی، سیاسی مخالفتوں سے لہو لہو پاکستان۔ بچوں، بوڑھوں، عورتوں، جوانوں کے سرخ خون میں خود کفیل پاکستان۔
پاکستان نوحہ کناں ہے کہ میرے شہر جلتے اور میرے لوگ مرتے جسم کا آنکھ بند کر کے تصور کریں۔ مسلسل خون رستے، ادھڑے، پھٹے وجود کی تصویر سامنے آئے گی۔ اب خون کے دھبے رہے نہیں جو برساتوں سے دھلتے ہوں خون جمنے نہیں پاتا اور نہ ہی نیلا پڑتا ہے کہ مسلسل تازہ لال خون دریا کی مانند بہتا جاتا ہے اور دریاؤں کا برساتیں کیا بگاڑ لیتی ہیں۔ انسان ان کے رخ موڑنے کی طاقت بھی رکھتے ہیں اور بند باندھنے کی بھی۔ لیکن انسان۔
ان دریاؤں کی آبیاری تو عفریت کرتے ہیں۔ ان کی روانی میں فرق نہ آنے پائے اس کا خیال رکھتے ہیں۔ جتنا یہ خون ٹھاٹھیں مارے یہ قہقہے لگاتے ہیں، دریا کو مزید خون کی فراہمی کے لئے ہوئے دھماکے کا سن کر ”کن کی عبادت گاہ“ کا پہلا سوال کرتے ہیں۔ ”جہنم رسید“ کر کے جنت کے دعویدار بنتے ہیں، ٹھکانے لگا کر محب وطن کہلاتے ہیں۔
آج کی خبر ہے کہ پشاور (مسجد نہیں امام باڑے ) میں دھماکہ ہوا ہے اور میں نے آپ کی طرح اس کے صحن سے ایک اور نالہ خون کے اسی دریا میں گرتا دیکھا ہے جہاں خون رواں ہے، جہاں دھبوں کا سوال نہیں، جہاں برساتوں کا زور نہیں۔ لاکھوں کروڑوں ثاقب نفسیاتی الجھنوں کا شکار ہو چکے ہیں، اب محفل سے اٹھتے نہیں بلکہ گوشت کھاتے ہوئے دریا کی روانی پر تبصرہ کرتے اور پوچھتے ہیں سکور کتنا رہا؟
