کیا قاسم کا بھائی شہید ہوا ہے؟


ابا! تعزیت اور پرسے کے لیے آنے والے سب لوگ ہمیں کہتے ہیں کہ صبر کریں، حوصلہ رکھیں، سلمان تو اللہ کے راستے میں شہید ہوا ہے۔ ابا! بھیا کون سے محاذ جنگ پر گیا تھا؟

والد! ( ننھے قاسم کو شفقت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے ) میری جان! لوگ ٹھیک کہتے ہیں۔ بھیا نے جام شہادت نوش کیا ہے۔

قاسم! مگر وہ تو نماز جمعہ ادا کرنے گیا تھا۔ کسی محاذ جنگ میں داد شجاعت دینے تو نہیں گیا تھا۔ کل محلے کی عورتیں بھی ماں کو یہی کہہ رہی تھیں کہ آپ کا لعل شہید ہوا ہے۔ بلکہ کچھ نے تو مبارک بھی دی۔

والد! بیٹا شہادت کی بہت سی قسمیں ہوتی ہیں۔

قاسم! مگر بھیا نے نہ تو فوجی وردی پہنی تھی، نہ اس کی عمر اتنی تھی کہ وہ فوج میں بھرتی ہوتا، نہ اسے تنخواہ ملتی تھی اور نہ اس کے پاس کوئی بندوق تھی۔

والد! (اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے ) ہاں مگر وہ جمعہ پڑھنے گیا تھا، یہ بھی بہت بڑا جہاد ہے۔

قاسم! جہاد و قتال کے لیے تو پیشہ ورانہ تربیت اور اہلیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ مگر بھیا نے تو کبھی اپنے ہاتھ سے پھلجھڑی بھی نہیں چھوڑی تھی۔ اسے تو بندوق، ہتھیار، اسلحہ اور پستول سے نفرت تھی۔ اسے تو قلم، کتاب سے محبت تھی۔

والد! سلمان نے سجدے میں جان دے کر عثمان رض اور حسین رض کی سنت کو زندہ کیا ہے۔

قاسم! خلیفۂ سوم کو تو خارجیوں اور نواسۂ رسول کو کوفیوں نے شہید کیا تھا، یہاں کون سے خارجی اور کوفی ہیں؟

والد! بیٹا بس یوں سمجھو ہم بھی کوفیوں میں گھرے ہیں۔ کب سے ہمارا لہو بھی پانی کی طرح بہہ رہا ہے۔

قاسم! بابا بھیا قتل ہوا ہے یا شہید؟ مجھے تو لگتا ہے کہ بھیا اور اس کے ساتھ بہت سے نمازی قتل ہوئے ہیں اور ان کی قاتل ریاست اور اس کے ادارے ہیں۔ ریاست اب ہمیں بہلانے اور ہماری ڈھارس بندھانے کے لیے مقتولین کو شہید کہہ رہی ہے۔

والد! (قاسم کو گلے لگاتے ہوئے ) نہیں بیٹا ایسا نہیں ہے۔

قاسم! بابا! ہمیں بھی کیا کسی قیمتی ہاوٴسنگ سکیم میں پلاٹ یا گھر ملے گا بھیا کے نام پر؟ آپ کو تا حیات پنشن ملے گی۔ سرکاری ملازمت ملے گی۔ ہم بہن بھائیوں کی تعلیم کا خرچ سرکار اٹھائے گی؟ ہم سب گھر والوں کا علاج بھی کیا ایم ایچ یا سی ایم میں مفت ہوا کرے گا؟

والد! تم ایسے کیوں سوچتے ہو؟

قاسم! بابا! جب بھی کسی دھماکے یا معرکے میں کوئی افسر یا جوان شہید ہوتا ہے تو آرمی چیف جنازے میں آتے ہیں۔ میت کو بندوقوں کی سلامی کے ساتھ پورے فوجی اعزاز سے دفن کیا جاتا ہے مگر بھیا کے جنازے میں تو ایسا کچھ نہیں ہوا۔ ماما بھی بھیا کو شہید کہہ کر پرسا دینے والی عورتوں کو کہہ رہی تھیں کہ خدارا! خاموش ہو جاوٴ۔ میں نے اپنا دس سالا لعل قتال کرنے کسی محاذ جنگ پر نہیں بھیجا تھا۔ اسے تو جہاد، قتال، جنگ، ریستی دہشت گردی اور دہشت گردی جیسی اصطلاحوں کا مطلب بھی نہیں پتہ تھا۔

والد! ماما ابھی صدمے کی حالت میں ہیں۔ ہماری تو دنیا ہی اجڑ چکی ہے۔

قاسم! بابا کیا بھیا کے قاتل پکڑے جائیں گے؟ ہمیں کبھی انصاف ملے گا؟ ملک میں ہونے والے دھماکے اور خون نا حق کا کبھی خاتمہ ہو گا؟

والد! ضرور ملے گا۔ ہمیں انصاف ضرور ملے گا بیٹا۔

قاسم! مگر سنا ہے ابھی تک پشاور کے سکول میں ”شہید“ ہونے والے سیکڑوں بچوں کے والدین کو بھی ابھی تک انصاف نہیں ملا، ہمیں کیسے ملے گا؟

والد! سب کو انصاف ملے گا بیٹا۔ اس کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔

Facebook Comments HS

One thought on “کیا قاسم کا بھائی شہید ہوا ہے؟

  • 07/03/2022 at 10:09 صبح
    Permalink

    بھائی قاتلین عثمان و علی و حسین کے ساتھ انصاف ہوا
    اگر وہ بچ گئے تو ہمیں کیوں دلاسے دے رہے ہو۔
    یہ ریاست بھی بے بس ہے۔
    پان دوسری بات بہت سچ ہے۔ ملازمت لاکھوں روپے اور علاج ۔

Comments are closed.