خواتین کا عالمی دن: ان عورتوں کے لئے کون آواز اٹھائے گا؟
ایسی ہی کچھ عورتوں کی کہانیاں آج خواتین کے عالمی دن پر پڑھئے اور ان کے درد کو محسوس کرنے کی کوشش کیجئے۔ خدا گواہ ہے ان کی کہانیاں لکھتے ہوئے کسی طرح کی مبالغہ آرائی سے کام نہیں لیا گیا
خواتین کے عالمی دن کا شور و غوغا ہے، ہر کوئی سوچ رہا ہے کہ اس بار عورتوں کے بین الاقوامی دن پر ”عورت مارچ“ کے بینر کیسے ہوں گے، ہر کوئی اپنی لائن سیدھی کر رہا ہے، اسے ان کے خلاف پوسٹیں لکھنی ہیں یا پھر ان کے حق میں آواز بلند کرنی ہے۔ سرکاری سطح پر لمبے چوڑے حساب کے رجسٹر کھل جائیں گے، سڑکوں پر لال پیلے انقلاب کی چیخ و پکار ہوگی، ٹی وی اخباروں میں عورتوں کے حقوق کی آڑ میں اپنی پراڈکٹس بیچنے کے لئے برانڈز اپنے اشتہار چھپوائیں گے، سب کچھ ہو گا لیکن اس دھرتی کی عورت کے اصل مسائل کیا ہیں ان پر کوئی بات نہیں کرے گا۔
کبھی اس عورت کے بارے سوچا ہے، جو بچوں کے ساتھ دو وقت کی روٹی کو ترستی ہو، جس کے پاس سر ڈھکنے کو چھت نہ ہو، جو ہر دن زندگی کے لئے لڑائی لڑتی ہو، جو گھر میں رہ کر، نفسیاتی طور پر زد و کوب ہوتی، جو سڑک پر جاتی ہے تو ہوس بھری نظروں کا نشانہ بنتی ہے، جس کی پولیس سٹیشنوں پر سنوائی ہونے کی بجائے، اسی کو موردالزام ٹھہرایا جاتا ہے، جسے رات کے وقت تین کپڑوں میں شوہر گھر سے نکال دیتا ہے، جس سے بھائی مہینے کی تنخواہ تو چھین لیتا ہے لیکن غیرت کے نام پر قتل کرنے سے بھی نہیں چوکتا، ایسی ہی کچھ عورتوں کی کہانیاں آج خواتین کے عالمی دن پر پڑھئے اور ان کے درد کو محسوس کرنے کی کوشش کیجئے۔ خدا گواہ ہے ان کی کہانیاں لکھتے ہوئے کسی طرح کی مبالغہ آرائی سے کام نہیں لیا گیا۔
رضیہ کو شادی کے کچھ دن بعد ہی اسے پتہ چل گیا کہ شوہر نشہ کرتا ہے۔ ماں سے ذکر کیا تو اس نے کہا، پھر کیا ہوا تم گھر میں بیٹھی ہو، کھانے کو مل رہا ہے اور کیا چاہیے۔ مردوں کو ایسی علت لگ بھی جائے تو کوئی بڑی بات نہیں، بچے ہو جائیں گے تو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ ایسے ہی وقت گزرتا گیا، بیٹی پیدا ہوئی، شوہر کی صحت گرنے لگی تھی، اب کبھی وہ مزدوری کرتا اور کبھی بس ایسے ہی پڑا رہتا۔ رضیہ دوسروں کے گھروں میں کام کرنے لگی، تھوڑے بہت جو پیسے ملتے ان سے گھر کا چولہا جلنے لگا۔
دوسرے بیٹے کی پیدائش تک شوہر کی حالت ایسی ہو چکی تھی کہ وہ چہرے پر بیٹھی مکھی اٹھانے کے قابل نہیں رہا تھا۔ جس دن اس نے آخری سانس لی، اسی دن بیٹا پیدا ہو گیا تھا۔ یہ بے چاری درد سے بلکتی رہتی لیکن کام کیے بغیر چارہ نہیں تھا۔ کسی نہ کسی طرح بچوں کا پیٹ پال رہی تھی، ایک دن گردے میں درد اٹھا، یہاں زہر کھانے کو پیسے نہیں تھے، علاج کہاں سے ہونا تھا۔ خیر دن گزرتے گئے، ایک دن درد دے بے ہوش ہوئی تو محلے والے سرکاری اسپتال لے گئے، گردہ بالکل ناکارہ ہو چکا تھا، آپریشن سے نکال دینے کے سوا چارہ نہیں تھا۔ انہوں نے نکال دیا۔ بے چاری اب تو گھروں میں کام کرنے کے بھی قابل نہیں رہی۔ دن میں ایک بار اٹھتی ہے اور آس پاس کے گھروں کے دروازے کھٹکھٹاتی ہے شاید کہیں سے بچوں کے لئے کھانا مل جائے۔
جمیلہ کی، بیٹی پیدا ہونے والی تھی، اسی رات گھر پر ریڈ پڑی، شوہر اور اس کے بھائی کو پولیس اٹھا کر لے گئی۔ دونوں نے مل کر کسی امیر آدمی کے لڑے کو اغوا کیا تھا۔ عمر قید کی سزا ہوئی تو بیٹی کو پالنے کے لئے لوگوں کے گھروں کی صفائیاں کرنے اور برتن دھونے کے کوئی چارہ نہیں تھا۔ پیسے اکٹھے کر کے شوہر سے ملنے جاتی تو وہ کردار پر کیچڑ اچھالتا، اور شادی کے بارہ سال بعد اس نے جیل میں کھڑے کھڑے طلاق دے دی۔ اب یہ بیٹی کے ساتھ سڑک پر کھڑی تھی، شادی کے بارہ سال رائیگاں گئے تھے۔
نورین پڑھی لکھی تھی، سکول میں جاب کرتی تھی۔ دیہاتی ما حول تھا، گھر والوں نے ان پڑھ کزن سے شادی کردی، شادی کے بعد جب اس نے نوکری جاری رکھنے کی کوشش کی تو شوہر نے مارپیٹ شروع کردی۔ کردار پر کیچڑ اچھالا، شادی کے پہلے سال میں اولاد نہ ہو نے پر طرح طرح سے زچ کیا۔ آخر کار طلاق ہاتھ میں دی اور گھر سے نکال دیا۔ باپ کے گھر لوٹی تو آس پڑوس نے خوب باتیں بنائیں، بے چاری اب شہر میں خالہ کے گھر پناہ گزین ہے، ذہنی حالت اس قدر متاثر ہو چکی ہے کہ بیٹھے بیٹھے نیم بے ہوش ہو جاتی، خالہ کے پاس چھوڑنے کا مقصد یہی ہے کہ دم درود کے ذریعے اس کا علاج کروایا جا سکے۔
منور بی بی، چھ بہنوں کی اکلوتی بہن تھی، کالج تک تعلیم حاصل کی۔ گھر میں لاڈلی، ماں باپ فوت ہوئے تو بھائیوں کو شادی کی فکر ہوئی۔ ایک سکول ماسٹر سے شادی کردی۔ وہاں ساس تو نہیں تھی، لیکن ایک طلاق یافتہ نند ضرور براجمان تھی۔ پورے گھر پر اس کا کنٹرول تھا، سال میں ہر کسی کو ایک عدد جوڑا ملتا، ناشتے اور دوپہر میں ایک روٹی، کٹوری بھر سالن اور رات کو دو دو روٹیاں ہر کسی کو ملتی۔ منور بی بی شوہر سے شکایت کرتی تو وہ صبر کی تلقین کرتا۔ سارا دن کھیتوں میں کام کر عوض شام کو کھانا تک اپنی مرضی کا نہیں کھا سکتی تھی، یوں ہی سالوں بیت گئے۔ اب بچے جوان ہو گئے ہیں، خود شوگر کی مریضہ بن چکی ہے، البتہ بیٹی کو پڑھنے کے لئے بڑے شہر میں بھیج دیا ہے۔ جس نفسیاتی جنگ سے وہ خود گزری ہے، وہ نہیں چاہتی اس کی بیٹی بھی اس جیسی بنے۔
سمیرا کی ماں دوسروں کے گھروں میں صفائی کا کام کرتی تھی، جبکہ سمیرا سکول جاتی تھی۔ سمیرا کو باجیوں کے صاف ستھرے کپڑے، ترشے ہوئے بال اور نت نئی خوشبوئیں بہت بھاتی تھیں، اسے ایک باجی نے بتایا کہ اگر تم پڑھ لکھ جاؤ تو ہو سکتا ہے تمہیں شہر میں کوئی اچھی نوکری مل جائے۔ بس دن رات سمیرا یہی خواب سجاتی کہ وہ پڑھ لکھ کر افسر بن گئی ہے۔ ماں بیمار ہوئی، اس نے اسے بھی کام پر اپنے ساتھ لے جانا شروع کیا، ایسے میں سکول کہیں پیچھے رہ گیا۔
ماں نے کہا، پیسے ملیں گے وہ بے حد خوش ہوئی چلو مہینے کے آخر میں پیسے تو ملیں گے۔ ہزاروں خواب سجائے، چار گھروں میں کام کر کے، اماں کو پیسے دے کر کافی پیسے اس کے پاس اپنے ہوں گے۔ لیکن دل اس وقت ٹوٹ کر کچی ہو گیا جب باجی سے تنخواہ مانگنے پر پتہ چلا اس کی اماں تو ایڈوانس ہی اس کی تنخواہ لے جاتی ہے۔ اب وہ کام بھی کرتی ہے، سکول بھی نہیں جاتی اور پیسے بھی اسے نہیں ملتے۔
فوزیہ کے چھ بچے تھے، ساتوں پیدا ہونے والا تھا، اس بار خون کی کمی کی وجہ سے ناک پر کتنی ہی چھائیاں پڑ چکی تھیں، اسی حالت میں گھر سنبھالتی، ساتھ دن بھر کھیتوں میں کام کرتی۔ سینٹر والی باجی نے کہا تھا اس بار ڈیلیوری نارمل نہیں ہوگی۔ لیکن پھر بھی شوہر اور ساس بڑے ہسپتال لے جانے پر راضی نہیں ہوئے۔ بچہ تو بچ گیا ہے لیکن خود بے چاری دوران زچگی ہی چل بسی۔
رخسانہ کی شادی ہوئی، طلاق ہو گئی۔ دوبارہ شادی کردی، بیٹی پیدا ہوئی شوہر نے دوسری شادی کر کے گھر سے نکال دیا، والدین کے گھر کا سارا کام کاج کرتی، لیکن پھر بھی ماں کا کہنا تھا کہ وہ زندگی بھر تو بھائیوں پر بوجھ بن کر نہیں پڑی رہ سکتی، اور دوبارہ طلاق سے اچھا ہے وہ مر ہی جائے۔ اس لئے اسے واپس بھجوا دیا ہے، شوہر بات کرے یا نہ کرے، کم از کم اپنے گھر میں تو رہے گی۔
یہ کہانیاں پڑھنے کے بعد آپ کو نہیں لگتا کہ ان بیچاریوں کو اس پدر سری معاشرے میں برابری نہیں، محض جینے کا حق چاہیے، یا کم از کم انہیں انسان ہی سمجھ لیا جائے۔


