تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے امکانات
حزب اختلاف کی مجموعی سیاست یہ تاثر دے رہی ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کا سیاسی ہوم ورک مکمل ہو گیا ہے۔ ان کے بقول تحریک عدم اعتماد کو پیش کرنے، کامیاب بنانے سمیت مستقبل کے منظرنامہ پر بھی چاروں بڑوں آصف زرداری، نواز شریف، شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمن کے درمیان متفقہ حکمت عملی اور اتفاق رائے کے مراحل طے پا چکے ہیں۔ حزب اختلاف کی جانب سے عملی طور پر ملکی سیاست میں سیاسی مہم جوئی کا کھیل سجا دیا گیا ہے۔ اس کھیل کا بنیادی مقصد عمران خان کی حکومت کا خاتمہ ہے۔
حزب اختلاف مجموعی طور پر اس تحریک عدم اعتماد کی کامیابی میں کافی پر جوش اور مطمئن ہے۔ اس کی چار وجوہات ہیں۔ اول حزب اختلاف کو یہ یقین دلایا گیا ہے یا ان کو یہ یقین ہو گیا ہے کہ اس کھیل میں اسٹیبلیشمنٹ مکمل طور پر غیر جانبدار رہے گی اور کسی بھی طرز کی مداخلت جو حکومتی حمایت میں ہوگی وہ نہیں کی جائے گی۔ کیونکہ حزب اختلاف سمجھتی ہے کہ اگر اسٹیبلیشمنٹ غیر جانبدار رہے گی تو ہم اپنے سیاسی زور بازوں پر عمران خان کی حکومت ختم کر سکتے ہیں۔
دوئم تحریک انصاف کے داخلی بحران کے تناظر میں بیس سے پچیس ارکان اسمبلی ایسے ہیں جو حکومت سے عملاً نالاں ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اگر اگلے انتخاب میں وہ پی ٹی آئی کی طرف سے لڑیں تو ان کو سیاسی شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ دعوی یہ کیا جا رہا ہے کہ یہ بیس سے پچیس ارکان حزب اختلاف سے مکمل رابطوں میں ہیں بلکہ ان سے تمام اہم معاملات بشمول مسلم لیگ نون کا اگلے انتخاب میں پارٹی ٹکٹ کی یقین دہانی بھی کرا دی گئی ہے۔
سوئم اگرچہ مسلم لیگ ق، ایم کیو ایم، بلوچستان عوامی پارٹی ) باپ (اور سندھ میں موجود جی ڈی اے بطور اتحادی جماعت فی الحال حکومت کے ساتھ ہیں۔ لیکن پس پردہ ان میں سے بھی انفرادی اور اجتماعی سطح پر جوڑ توڑ کیا جا چکا ہے۔ چہارم اس وقت عالمی اور علاقائی سیاست میں وزیر اعظم عمران خان طاقت ور ممالک بشمول امریکہ کے سیاسی ٹارگٹ میں ہیں تو ایسی صورت میں حکومت داخلی اور عالمی دونوں حمایت سے محروم ہو چکی ہے۔
حزب اختلاف کی سیاسی جنگ عملی طور پر سیاسی میدان سے زیادہ میڈیا کے محاذ پر لڑی جا رہی ہے اور ایسا تاثر دیا جا رہا ہے کہ حکومت کا کھیل ختم ہو گیا ہے۔ حکومت کا جانا ناگزیر ہو گیا ہے اور کوئی بھی داخلی یا خارجی فریق حکومت کا حامی بھی نہیں اور ان کی موجودگی کو ریاستی نظام کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔ عمومی طور پر ہماری سیاسی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو ایسی سیاسی مہم جوئی یا حکومت گراؤ مہم کبھی بھی پس پردہ طاقتوں کی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ہوتی۔
اس لیے سیاسی پنڈت یا سیاست کی سمجھ بوجھ رکھنے والے افراد دو نقطوں پر مباحثہ کا حصہ ہیں۔ اول داخلی یا خارجی محاذ پر وہ کون سے عناصر ہیں جو حزب اختلاف کی سیاست کی حمایت اور حکومت کی مخالفت میں موجود ہیں اور کون تحریک عدم اعتماد کی حمایت میں کھڑا ہے۔ اچھی بات تو یہ ہے کہ اسٹیبلیشمنٹ کی سیاسی مداخلت کی کلین چٹ تو حزب اختلاف کی مجموعی سیاست نے دے دی ہے کہ وہ اس پورے کھیل میں غیر جانبدار ہیں اور وہ تحریک عدم اعتماد کے کھیل میں کسی کی حمایت اور مخالفت میں پیش نہیں ہوں گے۔ اس کا مطلب ہے کہ کوئی تو ہے اس کھیل میں جو حزب اختلاف کی سیاست میں اپنا کھیل کھیلنا چاہتا ہے۔ ایسے میں ہمیں اپنے علاقائی او عالمی سطح پر جو سیاسی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں ان کو یکسر نظر انداز نہیں کرنا ہو گا۔ یقینی طور پر اس کھیل میں عالمی طاقت ور کھلاڑی بھی اثر انداز ہو رہے ہوں گے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ عملاً یہ تاثر حزب اختلاف نے دیا ہے کہ ان کے آپس میں تمام معاملات طے ہوچکے ہیں۔ سب سے اہم اور بڑا سوال تو یہ ہی تھا کہ اگر تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوتی ہے تو اس کے بعد کیا فوری نئے انتخابات ہوں گے یا یہ ہی نظام نئے وزیر اعظم کے ساتھ اپنی سیاسی مدت پورے کرے گا۔ حزب اختلاف کا دعوی ہے کہ اس پر اتفاق ہو گیا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کی صورت میں فوری نئے انتخابات کا راستہ اختیار کیا جائے گا۔
لیکن بظاہر ایسا لگتا ہے کہ اسی نقطہ پر ہی بڑا تضاد بدستور موجود ہے۔ کیونکہ مسلم لیگ نون فوری انتخابات کی حامی ہے جبکہ پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور مسلم لیگ ق فوری انتخابات کے خلاف ہیں۔ اسی طرح پنجاب کی وزرات اعلی پر یہ کہنا کہ تمام حزب اختلاف کی سیاسی فریق چوہدری پرویز الہی پر متفق ہیں، مشکل لگتا ہے۔ کیونکہ ایسی صورت میں براہ راست فائدہ چوہدری برادران اور پیپلز پارٹی کو ہو گا اور نقصان مسلم لیگ نون کا ہو گا۔
ایک تجویز یہ بھی سامنے آئی ہے کہ صرف قومی اسمبلی کو توڑا جائے اور باقی چاروں صوبائی اسمبلی اپنا کام کرتی رہیں گی۔ یہ بھی عملی سیاست میں ممکن نہیں یا تو پورا نظام لپیٹا جائے گا یا سب کو پرانی تنخواہ پر ہی کام کرنا پڑے گا۔ کچھ لوگ یہ تاثر بھی دے رہے ہیں کہ تحریک انصاف بھی چوہدری پرویز الہی کو وزرات اعلی دے سکتی ہے، ایسا ممکن نہیں ہو گا۔
جہاں تک حزب اختلاف کی یہ حکمت عملی ہے کہ وہ مسلم لیگ یا ایم کیو ایم سمیت دیگر اتحادی جماعتوں کی حمایت کے بغیر ہی تحریک انصاف کے اپنے ارکان کو توڑ کر حکومت گرا سکتی ہے۔ ایک خطرہ ایسے ارکان پر پارٹی وفاداری بدلنے پر نا اہلی کی صورت ہوگی، وہ ملنے والے مزید ترقیاتی فنڈز سے محروم ہوں گے اور ان کو یہ یقین دہانی کون کرائے گا کہ اگلی حکومت کسی خاص جماعت کی ہوگی اور جو ضمانت آج ان کو پارٹی ٹکٹ کی دی جا رہی ہے تو اس پر شریف خاندان پر کون اعتبار کرے گا۔
اس لیے اگر واقعی تحریک عدم اعتماد کو کامیاب بنانا ہے تو اس کی واحد صورت حزب اختلاف کے پاس یہ ہی ہے کہ اسے اتحادی جماعتوں میں دو بڑی جماعتیں مسلم لیگ ق اور ایم کیو ایم کی کھلی حمایت حاصل کرنا ہوگی اور وہ حکومت کی حمایت چھوڑ کر واضح حزب اختلاف کی حمایت کریں۔ وگرنہ دوسری صورت میں حزب اختلاف کی جانب سے تحریک عدم اعتماد کا سیاسی شوشہ کوئی بڑا نتیجہ نہیں دے سکے گا۔
سوال یہ بھی ہے کہ اس وقت ملک جن داخلی، علاقائی اور عالمی مسائل سے گزر رہا ہے اس میں ہماری ریاست کسی بڑی سیاسی مہم جوئی کی متحمل ہو سکتی ہے، ہرگز نہیں۔ کیونکہ اس خطرہ کو بھی نظرانداز نہ کیا جائے کہ اگر کچھ سیاسی قوتیں کسی کی حمایت کے ساتھ حکومت کو گرانے میں واقعی کامیاب ہوجاتی ہیں تو ایسی صورت میں تحریک انصاف اور عمران خان کی جو جارحانہ سیاسی اننگز ہوگی وہ کیسے بننے والی نئی حکومت کو آزادانہ بنیادوں پر کام کرنے دے گی۔
اس لیے جو بھی نئی حکومت بنے گی اس کو بھی آسانی سے حکومت نہیں لے گی بلکہ اگر اسمبلی نے اپنی مدت پوری کرنی ہے تو اسے عمران خان کے بطور اپوزیشن کردار کو بھی ایک بڑے چیلنج کے طور پر سامنا کرنا پڑے گا۔ اس لیے مسئلہ محض عمران خان کو گھر بھیجنا نہیں بلکہ ملک کو سیاسی استحکام کی طرف لے کر آگے بڑھنا ہے۔ حزب اختلاف اس کھیل میں مارچ کو سب سے زیادہ اہمیت دیتی ہے اور اس کے بقول جو کچھ ہو گا وہ مارچ ہی میں ہو گا۔
اگر مارچ میں حکومت کا مارچ نہیں ہوتا تو ایسی صورت میں حالات چاروں صوبوں میں مقامی حکومتوں کے انتخابات کی طرف بڑھیں گے اور یہ حکومت مخالف مارچ یا سیاسی مہم جوئی براہ راست مقامی حکومتوں کے انتخابات میں سیاسی برتری کی جنگ میں تبدیل ہو جائے گی۔ اس لیے اس وقت تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے امکانات میں بہت سے سوالات ہیں اور ایسے سوالات ہیں جن کے جوابات سیاسی پنڈتوں سمیت خود حزب اختلاف کی قیادت کے پاس بھی نہیں ہیں۔
سیاسی کنفیوژن زیادہ ہے اور یہ تاثر دینا کے تمام معاملات حل شدہ ہیں درست نہیں۔ مسئلہ محض معاملات کے حل میں تضاد کا ہی نہیں بلکہ ایک دوسرے پر اعتماد کا بھی ہے۔ مسلم لیگ نون میں یہ ایک گروہ ایسا ہے جو اب بھی سمجھتا ہے کہ آصف زرداری کسی کی حمایت کے ساتھ ہی حکومت کے لیے سہولت کاری کا کردار ادا کر رہے ہیں اور اس میں ان کا ٹارگٹ عمران خان نہیں بلکہ خود مسلم لیگ نون اور شریف برادران ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ان افراد نے واضح پیغام دیا ہے کہ شریف برادران بلاوجہ پیپلز پارٹی پر اندھا اعتماد نہ کریں۔


