آئیے آپ کو کالم نگار بنا دیں!
پچھلے دنوں کالم نگاری کے حوالے سے لاہور میں ایک تربیتی ورکشاپ منعقد ہوئی۔ ورکشاپ میں بوجہ شرکت نہ کر سکنے والے لوگوں کی پر زور فرمائش کہ کالم کے ذریعے بھی اس فن پر روشنی ڈالی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ نونہالان قوم اس سے مستفید ہو سکیں۔ ذیل میں ہم اردو کالم نگاری کے رہنما اصولوں پر روشنی ڈالنے کی کوشش کریں گے۔ اگر ان اصولوں پر عمل کر لیا جائے تو کوئی بعید نہیں کہ ہر گلی محلے سے کالم نگار نہ نکلے۔
1۔ کالم نگاری کا پہلا اصول یہ ہے کہ کالم کا ٹائٹل جاندار اور خستہ ہونا چاہیے۔ ہمارا مشورہ ہو گا کالم کے ٹائٹل میں اگر تضاد کا عنصر ہوتو زیادہ بہتر رہے گا، یعنی ایک کردار بہت امیر اور دوسرا بہت غریب یا پھر ایک کردار بہت ماڈرن اور شہری اور دوسرا بہت ہی پسماندہ اور دیہاتی۔ مثال کے طور پر ”لیہ کی بختو اور لندن کی کیتھرائن“ ، ”ڈیفنس کا ٹونی اور بند روڈ کا بوٹا،“ گونگی لڑکی اور ڈی پی او ”اور“ گاما، ماجھا اور گڈ گورننس ”وغیرہ۔
2۔ اردو کالم نگاری میں ”اعتماد کی مار“ کا راہنما اصول پلے باندھ لیں۔ مطلب آپ کو کسی چیز کے بارے میں اگر مکمل معلومات نہیں بھی تب بھی بڑے اعتماد سے لکھیں۔ آج کے دور میں نہ تو لوگ اتنے پڑھے لکھے کہ ان کو ہر چیز کا علم ہے اور نہ ہی کسی کے پاس اتنا وقت کہ وہ معلومات کی تصدیق کرتے پھریں۔ کالم میں ”اسی اعتماد کی مار“ کے اصول کے تحت آپ بڑے آرام سے کسی بھی عنوان پر قطعی اور فیصلہ کن بیان دے سکتے ہیں۔ امید ہے اکثر اوقات یہ چل بھی جائے گی۔ خدانخواستہ کسی وقت نہ چلے اور بیک فائر کر جائے تو آرام سے ملبہ کاتب یا ٹائپسٹ کے گلے ڈال دیں۔
3۔ کالم کے حوالے سے اگر آپ کے پاس مناسب مواد نہیں اور آپ چاہتے ہیں حقائق پر مبنی کالم لکھیں تو انٹر نیٹ آپ کے لئے حاضر ہے۔ کوشش کریں ساری معلومات صرف ایک ہی ویب سائٹ یا وکی پیڈیا سے نہ لیں کیونکہ اس طرح بعض اوقات ایکسپوز ہونے کا خدشہ موجود رہتا ہے۔ ٹاپک پر تھوڑی تھوڑی معلومات دوچار ویب سائٹس سے لیں اور اردو میں ترجمہ کر کے کالم لکھنا شروع کر دیں۔ دوچار ویب سائٹس سے لی گئی معلومات کو ری مکس کرنا نہ بھولیں تاکہ پکڑے جانے کا احتمال کم سے کم ہو۔
4۔ کسی ٹاپک پر مناسب مواد تو در کنار اگر آپ کو ٹاپک ہی نہیں مل رہا تو بھی پریشان ہونے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں۔ آپ نے صرف اتنا کرنا ہے گوگل میں جاکر اس طرح کے جملے انگریزی میں ترجمہ کر کے لکھیں جیسے، ”دنیا کے عجیب و غریب لوگ“ ، دنیا کے کامیاب ترین لوگ ”،“ دنیا کے بیوقوف ترین لوگ ”وغیرہ، پوری امید ہے آپ کو لکھنے کے لئے نہ صرف ٹاپک مل جائیں گے بلکہ پورے کا پورا کالم ہی مل جائے گا۔ آپ نے صرف انگریزی سے اردو ترجمہ کرنا ہے اور مختلف ویب سائٹس کی معلومات کو ری مکس کرنا ہے۔
5۔ اردو کالم نگاری میں الفاظ کا چناؤ بہت اہمیت کا حامل ہے۔ ہمارا مشورہ ہو گا کوئی اچھی سی اردو لغت خریدیں اور اس میں سے دلکش اور متاثر کن الفاظ اور محاوروں کا ایک ذخیرہ علیحدہ کر لیں۔ مثلاً، حکمرانوں کے اللے تللے، میرٹ کی دھجیاں، اقرباء پروری، بے حس حکمران، ظلم کی چکی میں پستی عوام، پولیس گردی وغیرہ۔ ایسے دلکش الفاظ اور محاوروں کا استعمال کرنے کا طریقہ ہے کہ اپنے ذخیرہ سے چند الفاظ اور محاورے نکالیں اور باری باری ایک ایک لفظ اور محاورے کا اچھا سا جملہ بنائیں اور اپنے کالم میں کسی مناسب جگہ پر فٹ کر دیں اور باقی ذخیرہ کسی اگلے کالم کے لئے سنبھال کے رکھ دیں۔
6۔ اچھے اشعار کا استعمال بھی بعض اوقات کالم کو چار چاند لگا دیتا ہے۔ اس لئے الفاظ اور محاوروں کے ذخیرہ کے ساتھ ساتھ اشعار کا ایک مناسب ذخیرہ بھی ایک اچھے کالم نگار کو اپنے پاس ضرور رکھنا چاہیے۔ ان اشعار کی نوعیت کچھ اس طرح کی ہو تو زیادہ سود مند ہو گا ہو گا، مثلاً، ”پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے۔“ ، ”افراد کے ہاتھوں میں اقوام کی تقدیر۔“ یا پھر کچھ دوسرے اس طرح کے اشعار جن میں مشرقی اور مغربی تہذیب کا ذکر ہو یا پھر ایسے اشعار جن میں غریب امیر کا فرق اور روٹی۔ ”ٹکر“ کے مسائل بیان کیے گئے ہوں۔
7۔ اگر آپ حال ہی میں کسی غیر ملک کا سفر کر کے آئے ہیں تو کم از کم دو کالموں کا مواد تو آپ کو دستیاب ہے۔ یاد رکھیں اس طرح کے کالم کا پہلا اصول ہے کہ کبھی ایسا کالم غیر ملک سے واپسی پر فوراً نہ لکھیں، بلکہ چند دن کا وقفہ دے کر لکھیں۔ ایسے کالم میں اپنے ان تمام میز بانوں کا ذکر کریں جنہوں نے آپ پر کچھ نہ کچھ خرچ کرنے کی سعادت حاصل کی ہو۔ جس صاحب نے سب سے زیادہ خرچ کیا اس کو بے شک ”مین آف دی میچ“ کا ایوارڈ دے دیں۔ جس نے آپ کو دیار غیر میں وقت تو دیا مگر خرچ کے معاملے میں قبضہ کا شکار رہا اس کو بالکل نظر انداز مت کریں بلکہ سرسری سا ذکر ضرور کر دیں تاکہ اگلی مرتبہ وہ بھی ”مین آف دی میچ“ سے سبق حاصل کرسکے۔
8۔ اگر آپ کو غیر ملکی سفر کا موقع نہیں ملا تو بھی پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ آپ نے پاکستان کے اندر تو سفر ضرور کیا ہو گا، مثلاً اگر آپ لیہ گئے اور وہاں آپ کو پرانے کلاس فیلوز ”حنیفا“ اور ”گاما“ مل گئے جن کے ساتھ آپ بچپن میں سکول سے بھاگ کر کہیں گلی ڈنڈا کھیلتے تھے تو آپ آرام سے ان پر کالم لکھ سکتے ہیں اور لگے ہاتھوں آپ حنیفے کی ماں چاچی بختو کا بھی ذکر کر سکتے ہیں۔ جس نے آپ سے حنیفے کی نوکری کے لئے سفارش کی ہو۔
مقامی سفر میں ایسا سفر بھی ہو سکتا ہے جس میں کسی ضلع کے انتظامی افسر نے کسی مشاعرہ وغیرہ میں آپ کو بلایا ہو۔ آپ کو صرف اتنا کرنا ہو گا کہ ضلعی انتظامیہ کے افسر کا اگلے کالم میں علم و ادب پرور شخص کے طور پر ذکر خیر ہو۔ آپ کے لئے دو دن کے سفر کا ”ٹی اے ڈی اے“ اور واپسی پر کالم کا مواد۔ آم کے آم گٹھلیوں کے دام۔ نئے کالم نگاروں کے لئے نیک شگون ایسے ادب پرور افسرز میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔
9۔ اگر خدانخواستہ آپ کے پاس وقت بہت کم ہو اور کالم لکھنا ضروری ہو توبھی کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں۔ اس کے لئے ایک طریقہ یہ کہ آپ ایک ایسا کالم تیار کر کے رکھ چھوڑیں جو ہر طرح کی صورتحال پر فٹ آ جائے۔ جیسے بچپن میں امتحان کے دنوں میں کچھ سمجھدار طالب علم ایک مضمون تیار کرتے تھے اور اس کو ہر قسم کے مضمون میں فٹ کر دیتے تھے۔ جیسے ”میرا بہترین دوست“ کا مضمون تیار کیا اور اگر امتحان میں ”میرا بہترین ٹیچر۔“ آ گیا تو دوست کے لفظ کو ٹیچر سے تبدیل کر کے مضمون لکھ دیا جا تا تھا۔
اس طرح آپ بھی ایک ایسا کالم ضرور تیار رکھیں۔ اس طرح کے کالم میں غربت، مہنگائی، کرپشن، امن وامان، پولیس گردی، اقربا پروری، ملک تاریخ کے نازک موڑ پر ہے، نظام کی خرابی وغیرہ کے الفاظ اور جملوں کو اپنی اداکاری سے ایسے ملائیں کہ کالم کا کالم بنے اور وطن عزیز کا درد رکھنے والے شخص کا خطاب بھی مل جائے۔ اگر اتنا وقت بھی نہ ہوتو آپ کے لئے مزید آسان ٹوٹکا حاضر ہے، پورے کالم میں صرف محکمہ پولیس یا محکمہ پولیس کے کسی ڈی پی او کی دھنائی کر کے رکھ دیں، کام چل جائے گا۔
10۔ کالم چھپنے کے بعد اگلا مرحلہ اس کی مارکیٹنگ ہے۔ فی زمانہ اس کے مختلف طریقے رائج ہیں۔ پہلا طریقہ، فیس بک پر نہ صرف شئیر کریں بلکہ اپنے ہر دوست کو ٹیگ کریں۔ واضح رہے کسی کو اپنا کالم گن پوائنٹ پر پڑھوانے کا یہ سب سے شریفانہ طریقہ ہے۔ دوسرا طریقہ، کالم کی فوٹو کاپیاں کرا کے اپنے دوستوں میں تقسیم کریں۔ یہ فوٹو کاپیاں اجرت دار بندوں کے ہاتھوں مختلف گھروں میں مت پھنکوائیں کیونکہ ایسا طریقہ ابھی تک عام نہیں ہوا۔ تیسرا طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ کال اور ایس ایم ایس کے ذریعے اپنے دوستوں اور جاننے والوں کو مطلع کریں۔ بس صرف ایک بات کا خیال رہے جس دن کالم چھپنا ہو اس سے پچھلی رات کو 12 بجے کے بعد ایسی کال اور ایس ایم ایس کسی کو نہ کریں، کیونکہ آدھی رات کے بعد کسی کو تنک کرنا شریف لوگوں کا شیوہ نہیں!


