10 مارچ۔ پہلی بار منایا جانے والا خواتین ججز کا عالمی دن


 

رواں برس 2022 ء سے، انصاف اور عدلیہ کے شعبے میں دنیا بھر میں خواتین کی مناسب نمائندگی کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے، اور اس امر پر زور دینے کی غرض سے، اقوام متحدہ، 10 مارچ کو ہر سال ”خواتین ججز کے عالمی دن“ کے طور پر منانے کا آغاز کر رہا ہے۔

یہ سچ ہے کہ عام زندگی میں خواتین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باوجود، فیصلہ سازی کرنے والے عہدوں پر ان کی نمایاں طور پر نمائندگی موجود نہیں ہے۔ درحقیقت، اب تک دنیا بھر میں خواتین کی نسبتاً کم تعداد شعبۂ عدلیہ، خاص طور پر اعلیٰ عدلیہ کے اہم عہدوں پر رہی ہے۔ عدلیہ میں خواتین کی مناسب نمائندگی کے خواب کی تعبیر در اصل اس بات کو یقینی بنانے کی کلید ہے، کہ عدالتیں صنفی برابری کی بنیاد پر اپنے تمام شہریوں کی نمائندگی کریں، ان کے تحفظات اور شکایات کو دور کریں اور صنفی مساوات پر مبنی منصفانہ فیصلے دیں۔ اپنی محض موجودگی سے، خواتین جج عدالتوں کی قانونی حیثیت کو بڑھاتی ہیں، جو دنیا بھر کے لئے ایک بھرپور پیغام اور اشارہ ہے کہ خواتین کی منصفانہ خدمات، انصاف کا دروازہ کھٹکھٹانے والے سائلوں کے لئے ہمہ وقت دستیاب اور قابل رسائی ہیں۔

خواتین ججز کا یہ عالمی دن منانے سے، ہم قیادت، انتظامی اور دیگر سطحوں پر عدالتی نظام اور عدالتی امور چلانے والے اداروں میں خواتین کی ترقی کے لئے مناسب اور موثر قومی حکمت عملیوں اور منصوبوں کو تیار کرنے اور ان پر عمل درآمد کے لئے اپنے عزم کا اعادہ کر سکیں گے۔ خواتین ججوں کے اس اولین سالانہ عالمی دن کو منانے میں تمام دنیا، بالخصوص خواتین کی ستائش کا اہتمام کرنے والے حلقوں کا ساتھ دینا اس لئے ضروری ہے، تاکہ تمام سطح کی عدالتوں میں خواتین کی مکمل اور مساوی شرکت کو ممکن بنانے کے ساتھ ساتھ اسے فروغ دیا جا سکے، اس ضمن میں اب تک جو پیش رفت ہوئی ہے، اس کی داد دی جا سکے اور آنے والے چیلنجز کے بارے میں عام لوگوں میں بیداری کو اجاگر کیا جا سکے۔

چونکہ تاریخی طور پر عدلیہ میں اب تک، مساوات غیر اطمینان بخش حد تک ناہموار رہی ہے، لہاذا اس مسئلے کے تدارک کے لئے بین الاقوامی طور پر کیے جانے والے دیگر اقدامات کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے 10 مارچ کو خواتین ججوں کے عالمی دن کے طور پر منانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے مشرق وسطی کی ریاست ’قطر‘ کی طرف سے تیار اور پیش کی جانے والی، جنرل اسمبلی کی قرارداد، ایک مثبت تبدیلی کا ٹھوس ثبوت ہے۔

صنفی عدم مساوات کا ازالہ بھی ”یو این او ڈی سی“ (یونائٹیڈ نیشنز آفس آن ڈرگز اینڈ کرائمز / اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات اور جرائم) کی صنفی مساوات اور خواتین کو با اختیار بنانے کی حکمت عملی کا بنیادی حصہ ہے، اور ’دوحہ اعلامیے‘ کے نفاذ کے لئے عالمی پروگرام کے ذریعے واحد مشترکہ مقصد ہے، کیونکہ یہ دنیا بھر میں قانون سازی کے کلچر کو فروغ دینے، انصاف کے شعبے میں تعلیم و تربیت فراہم کرنے اور ہر پیشہ ورانہ شعبے میں خواتین کی بھرپور شرکت کی حمایت کرنے پر زور دیتا ہے۔

صنفی مساوات اور تمام خواتین خواہ لڑکیوں کو با اختیار بنانا، اقوام متحدہ کا پائیدار ترقی کا ہدف نمبر 5 (ایس ڈی جی 5 ) ہے، جو پائیدار ترقی کے دیگر تمام اہداف میں پیشرفت حاصل کرنے اور 2030 ء تک کے ایجنڈے کے نفاذ میں صنفی مساوات کو یقینی بنانے کے لئے انتہائی اہم ہے۔ بالخصوص عدلیہ کے شعبے میں، کئی وجوہات کی بنا پر خواتین کی نمائندگی اہم ہے۔ فیصلہ سازی کی تمام سطحوں پر مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کی مساوی فعال شرکت سے ہی ہم پائیدار ترقی، امن اور جمہوریت کے نفاذ کو ممکن بنا سکیں گے۔

حالیہ دہائیوں میں دنیا بھر میں عدلیہ کے شعبے میں خواتین کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس وقت بہت سے ممالک میں قانون کی طالبات کی نصف تعداد خواتین کی ہے۔ 2014 ء کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ ”او ای سی ڈی“ (آرگنائیزیشن فار اکانامک کوآپریشن اینڈ ڈویلپمنٹ / تنظیم برائے اقتصادی تعاون و ترقی) کے رکن ممالک میں خواتین پیشہ ور جج 54 فیصد سے زیادہ ہیں۔ سال 2017 ء میں دنیا بھر میں 40 فیصد جج خواتین تھیں، جو کہ 2008 ء کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ہیں۔

زیادہ تر یورپی ممالک میں مرد پیشہ ور ججوں یا مجسٹریٹس سے زیادہ خواتین تعینات ہیں۔ تاہم، اعلیٰ عدلیہ (سپریم کورٹس) میں خواتین ججز 41 فیصد، جبکہ عدالتی صدور کے طور پر صرف 25 فیصد نمائندگی کرتی ہیں۔ لیکن جہاں تک باقی دنیا کا سوال ہے تو خواتین اب بھی اعلیٰ درجے کے عدالتی عہدوں بشمول ہائی کورٹ کے بنچوں اور دیگر اعلیٰ قانونی عہدوں پر بہت کم نمائندگی کرتی نظر آتی ہیں۔ دنیا بھر کی سپریم کورٹس میں آج بھی صرف 33.6 فیصد ججز کی ذمہ داریاں خواتین کے پاس ہیں۔

نچلی سطح کی عدالتوں میں اوسطاً 45.9 فیصد، اپیل کی عدالتوں میں 28 فیصد، جبکہ اعلیٰ عدالتوں میں 18.6 فیصد خواتین ججز کے عہدوں پر فائز ہیں۔ کیونکہ خواتین اکثر قانونی پیشے میں آسانی سے داخلہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں، لیکن سینئر عہدوں پر آہستہ آہستہ ترقی کرتی ہیں۔ ترقی کی اس موجودہ رفتار کو تیز کرنے کے لئے کارپوریٹ کلچر اور کام کے حالات کا دوبارہ جائزہ لینے اور مینٹورشپ اسکیموں کو متعارف کرانے کی اشد ضرورت ہے۔ حکومتی پالیسیوں سے قطع نظر، قیادت اور نتائج کی آزاد نگرانی ایک مزید متنوع نظام عدل کو یقینی بنانے کے لئے بے حد ضروری ہے۔

اس موضوع کے حوالے سے اگر تاریخ پر نظر ڈالیں، تو ’برنیتا شیلٹن میتھیوز‘ دنیا کی پہلی خاتون منصف تھیں، جنہوں نے امریکی ڈسٹرکٹ کورٹ جج کے طور پر کام کیا۔ جنہیں 1949 ء میں امریکی صدر ’ہیری ایس ٹرومین‘ نے کولمبیا ڈسٹرکٹ کے لئے امریکی ڈسٹرکٹ کورٹ میں تعینات کیا تھا۔ مگر دنیا کی کسی بھی سپریم کورٹ کی پہلی خاتون جج، امریکا کی جسٹس ’سینڈرا ڈے او کونر‘ تھیں، جن کو امریکی سابق صدر رونالڈ ریگن نے 1981 ء میں امریکی سپریم کورٹ میں مقرر کیا تھا، اور انہوں نے 1981 ء سے 2006 ء تک خدمات سرانجام دیں۔

جولائی 1981 ء میں صدر ریگن نے ’جسٹس پوٹر سٹیورٹ‘ کی ریٹائرمنٹ سے سپریم کورٹ میں پیدا ہونے والی اسامی کو پر کرنے کے لئے انہیں نامزد کیا تھا، جن کے نام کی امریکی سینیٹ نے متفقہ طور پر توثیق کی اور 25 ستمبر 1981 ء کو انہوں نے ’دنیا کی پہلی خاتون سپریم کورٹ جسٹس‘ کے طور پر حلف اٹھایا۔ جبکہ ’کانسٹینس بیکر موٹلی‘ کا نام ’دنیا کی پہلی سیاہ فام خاتون وفاقی جج‘ کے طور پر تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

اگر برصغیر ہندو پاک کی عدلیہ کی تاریخ کا ذکر کیا جائے، تو یہاں معروف ہندوستانی مصنفہ ’فاطمہ بیوی‘ نے بھارت کے ساتھ ساتھ اس خطے کی ’پہلی خاتون جج‘ بننے کا اعزاز حاصل کیا، جو 6 اکتوبر 1989 ء کو، بھارتی سپریم کورٹ میں پہلی خاتون جج کے طور پر تعینات کی گئیں، اور 29 اپریل 1992 ء کو اپنی ریٹائرمنٹ تک اسی عہدے پر اپنی خدمات انجام دیتی رہیں۔ جبکہ ایک اور معروف بھارتی مصنفہ ’لیلیٰ سیٹھ‘ نے دہلی ہائی کورٹ میں ’بھارت کی دوسری خاتون جج‘ بننے کا اعزاز تو حاصل کیا، مگر آگے چل کر 5 اگست 1991 ء کو بھارتی ریاست ’ہیماچل پردیش‘ کی ریاستی ہائی کورٹ کی چیف جسٹس بن کر ’برصغیر کی پہلی خاتون چیف جسٹس‘ بننے کا اعزاز حاصل کرنے میں بھی کامیاب رہیں۔

پاکستان کا ذکر کیا جائے، تو یہاں 2013 ء میں، شعبۂ عدلیہ میں خواتین ججز کو پہلی مرتبہ باضابطہ طور پر شامل کیا گیا۔ اس وقت پاکستان بھر کی مختلف کورٹس میں کل 2 ہزار 9 سو 36 خواتین ججز تعینات ہیں۔ جن کی درجہ بندی کی جائے، تو ڈسٹرکٹ کورٹس میں 422، ہائی کورٹس میں 5 اور سپریم کورٹ آف پاکستان میں ایک خاتون منصف مقرر ہیں۔ جبکہ شریعہ کورٹس میں اب تک ایک بھی خاتون جج مقرر نہیں ہوئیں۔ پاکستان میں اس وقت خواتین ججز کی تعیناتی کا تناسب 14.45 فیصد ہے، جو مردوں کی لگ بھگ 85 فیصد موجودگی کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔

جسٹس (ر) ماجدہ رضوی، پاکستان کی کسی بھی ہائی کورٹ کی پہلی خاتون جج بننے کا اعزاز رکھتی ہیں، جو سندھ ہائی کورٹ کی جج مقرر ہوئیں اور اسی حیثیت سے ریٹائر ہوئیں۔ پاکستان کی نامور قانون دان، سیدہ طاہرہ صفدر نے پاکستان کی تاریخ میں ’کسی بھی عدالت کی پہلی خاتون چیف جسٹس‘ بننے کا اعزاز حاصل کیا، جنہوں نے بلوچستان ہائی کورٹ کی چیف جسٹس کے طور پر خدمات انجام دیں۔ جبکہ جسٹس عائشہ ملک نے حال ہی میں تاریخ رقم کی، جب انہوں نے ”پاکستان کی سپریم کورٹ کی پہلی خاتون جج“ کے طور پر حلف اٹھایا، جہاں اس وقت وہ 16 مرد ججوں کے ساتھ کام کر رہی ہیں اور 2030 ء میں ”پاکستان کی پہلی خاتون چیف جسٹس“ بننے کا اعزاز حاصل کر لیں گی۔

یہ یاد رہے کہ 1946 ء میں، ’ایلینور روزویلٹ‘ نے اپنا مشہور زمانہ ”دنیا کی خواتین کے نام ایک کھلا خط“ تحریر کیا تھا، جس میں انہوں نے قومی اور بین الاقوامی معاملات میں (بشمول عدلیہ کے شعبے کے ) ان کی بڑھتی ہوئی شمولیت پر زور دیا تھا۔

Facebook Comments HS