الکھ نگری میں چمکتا سورج


چوکور نما احاطہ، جس میں اگی ہوئی گھاس کا سبز اور گرے ہوئے سنبل کے پتوں کا گہرا زرد رنگ حسین نظارہ پیش کر رہے ہیں، میں پڑے دو بنچوں پر سے اس بنچ پر بیٹھے جو تاریخ کی ایسی نگری جو اپنی دنیا میں ایک کائنات ہے، کی طرف بڑھتی راہداری کے کنارے زمین سے پیوست ہے، مجھ پر فاختہ، چڑیا، کوے اور کبوتر کی آواز کے امتزاج کے ساتھ ساتھ ہلکی ہلکی جسم سے ٹکراتی ہوا نے ایسا اثر کیا کہ قلم اٹھائے بغیر نہ رہ سکا۔ سوچا حسن پرست ساتھیوں کو ایک ایسی بستی کی سیر کروائی جائے جو اپنی ذات میں کائنات ہے۔

یہ بستی عرف عام میں گورنمنٹ کالج کے نام سے اپنی پہچان رکھتی ہے مگر میں اس کائنات کے اندر ایک ایسی گمنام نگری کی سیر کروانے جا رہا ہوں جس کے متعلق بہت کم حسن پرست جانتے ہیں۔ گورنمنٹ کالج کی علمی، ادبی اور تاریخی روایات سے ماوراء ہو کر اس قدرتی حسن کی بات کرنے جا رہا ہوں جو اس نگری کی رگ رگ میں پنہاں ہے۔

گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے بڑے دروازے سے داخل ہوتے ساتھ ہی بائیں جانب گھاس کا بیضوی میدان ہے جسے اوول گراؤنڈ (Oval Ground) کہا جاتا ہے۔ اوول گراؤنڈ کے بالائی مشرقی کونے سے شمال سے ہوتے ہوئے مغرب کی جانب خم کھاتی پودوں کی قطار کے اندر اگے متنوع رنگوں کے پھول دل افروز منظر پیش کرتے ہیں۔ یہاں سے تھوڑا آگے بڑھتے ہی دائیں جانب سکالرز گارڈن (Scholars Garden) ہے۔ اس گارڈن میں درختوں کے اوپر بیٹھے ہوئے حسین پرندے خوش آمدید کی صدا بلند کرتے نظر آتے ہیں۔

سبز گھاس اور نرم نرم شاخیں ایسا نظارہ پیش کرتی ہیں جس میں بلا تکلف کھو جانے کو دل چاہتا ہے۔ اگر زندگی کی مسکراہٹ اور خوشی کی کھلکھلاہٹ محسوس کرنے کی خواہش ہو تو اس کے گھاس پر دو زانو ہو کر چند پل ضرور گزارنے چاہئیں۔ یہاں سے نظر بلند کیے تھوڑا باہر نکل کر چند قدم شمال مغرب کی طرف بڑھیں تو نگاہ ایک ایسے مینار (Tower) پر پڑتی ہے جس کی بنیاد میں لمبی لمبی سیڑھیوں کے پیچھے ایک دروازہ ہے۔ فجر کی نماز سے چند لمحات قبل اور مغرب کی نماز کے فوراً بعد اس کے اندر جلتی سبز اور گلابی روشنی ایک ایسی الکھ نگری کا نظارہ پیش کرتی ہے جس کے رموز کی تلاش کی خاطر اس میں اتر جانے کو جی چاہتا ہے۔ یہاں سے مغرب کی جانب کچھ فاصلے پر لور گارڈن (lover garden) اپنی طرف متوجہ کرتا نظر آتا ہے۔

لور گارڈن کی راہداریوں کے کنارے چھوٹے چھوٹے حسین و جمیل پودوں اور سبز گھاس کی کونپلوں سے مزین ہیں۔ درمیان میں ایک اونچا فوارہ ہے جس کے مغرب کی طرف کھڑے ہو کر کالج کی مرکزی عمارت پر نظر دوڑائی جائے تو مینار آسمان سے محو گفتگو نظر آتا ہے۔ یہاں چند لمحات گزارنے کے بعد محبت کی اس روح کا احساس ہوتا ہے جو عظیم لوگوں نے پروان چڑھائی تھی۔

مرکزی عمارت کے بالکل عقب میں دو لان ہیں جنہیں ان کے مرکز سے گزرتی ایک راہداری، جس کے دونوں جانب سبزہ کی دیوار ہے، الگ کرتی ہے۔ رات کے وقت جب ہلکی ہلکی دھند زمین پر اتر چکی ہو اردو لان میں درختوں کی جھکی ہوئی شاخوں کے نیچے پڑے ہوئے کسی بھی بینچ پر بیٹھ کر مرکزی عمارت کے اوپر آسمان پر چمکتے ستاروں کا نظارہ کرنے سے ایسی خوشی کا احساس ہوتا ہے جیسا بچہ کو جب اس کی ماں اس کا ماتھا چومتی ہے۔

یہاں سے مرکزی عمارت کے اندر سے ہوتے ہوئے باہر کی طرف جاتے راستے پر چلیں تو شہاب گارڈن کے ساتھ ساتھ ایمفی تھیٹر  کے اس حسن سے واقفیت ہوتی ہے جو جمالیاتی حس کی تسکین کے لیے کافی ہے۔ یہاں سے مرکزی دروازے کی جانب جاتی سڑک پر چلتے ہوئے انٹر کیفے کی جانب بڑھیں تو نظروں کے سامنے چوکور نما احاطہ ہوتا ہے جس کے اندر کھڑے گہرے زرد پتوں والے سنبل کا حسن بیان سے باہر ہے۔

پرندوں کی چہچہاہٹ کی ترنم کو سنتے، ہلکی ہلکی فضا کے لمس کو محسوس کرنے کے ساتھ ساتھ سنبل کے درخت کی شاخوں سے اوپر آسمان کی جانب نگاہ بلند کریں تو سورج پوری آب و تاب کے ساتھ چمکتا نظر آتا ہے۔ یہ نظارہ دیکھتے ہی انسان ایک ایسی الکھ نگری میں کھو جاتا ہے جس کی ایک ایک چیز حسن کی شاہکار ہے اور چمکتا سورج ہر چیز کو رعنائی بخش رہا ہے۔

علی حسن اویس

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

علی حسن اویس

علی حسن اُویس جی سی یونی ورسٹی، لاہور میں اُردو ادب کے طالب علم ہیں۔ ان کا تعلق پنجاب کے ضلع حافظ آباد سے ہے۔ مزاح نگاری، مضمون نویسی اور افسانہ نگاری کے ساتھ ساتھ تحقیقی آرٹیکل بھی لکھتے ہیں۔

ali-hassan-awais has 65 posts and counting.See all posts by ali-hassan-awais

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments