تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے امکانات؟


بالآخر بلی تھیلے سے باہر آ گئی۔ متحدہ اپوزیشن نے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف 86 ارکان کے دستخطوں سے سپیکر آفس میں تحریک عدم اعتماد جمع کرا دی ہے۔ یہ کسی وزیر اعظم کے خلاف چھٹی تحریک عدم اعتماد جمع کرائی گئی ہے۔ پچھلے 74 سال میں 30 وزرائے اعظم بر سر اقتدار جن میں 7 نگران وزرائے اعظم بھی شامل ہیں۔ بیشتر وزرائے اعظم کو برطرف کیا گیا یا انہیں مستعفی پر مجبور کیا گیا چوہدری محمد علی کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے نکالا گیا جب کہ دو وزرائے اعظم تحریک عدم اعتماد پیش ہونے پر مستعفی ہو گئے 8 اکتوبر 1958 کے مارشل لاء تک پاکستان وزرائے اعظم رہے لیاقت علی خان پاکستان کے پہلے وزیر اعظم جنہیں کمپنی باغ (جس کا بعد ازاں نام لیاقت باغ رکھ دیا گیا ) میں شہید کر دیا گیا

یہی وہ مقام ہے جہاں سابق وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کو دہشت گردی کے ایک واقعہ میں شہید کر دیا گیا۔ 1951 سے لے کر 1958 تک 6 وزرائے اعظم رہے محمد علی بوگرہ کا دور حکومت کم و بیش اڑھائی سال رہا 8 ستمبر 1956 کو ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی تو انہوں نے استعفا دینے میں ہی عافیت سمجھی ان کے بعد حسین شہید سہروردی کا اقتدار کم و بیش 9 ماہ ہی چوہدری محمد علی جو 11 اگست 1955 سے 12 ستمبر 1956 تک اپنے منصب پر فائز رہے انہیں تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں ہٹا دیا گیا ابراہیم اسماعیل چندریگر) آئی آئی چندریگر ( دور حکومت 18 اکتوبر 1957 تا دسمبر 1957 رہا انہیں بھی تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ہٹایا گیا۔ ملک فیروز خان نون 16 دسمبر 1957 سے 7 اکتوبر 1958 ء بر سر اقتدار رہے ان کو سکندر مرزا نے 8 اکتوبر 1958 ء کو مارشل لا نافذ کر گھر بھجوا دیا ان کا پاکستان پر یہ احسان ہے کہ انہوں نے 58 کروڑ روپے میں اومان سے تربت سے لے کر جیونی تک ساحلی پٹی خرید کر پاکستان حصہ بنایا تھا۔ پاکستان کی ساحلی سر حدوں میں اضافہ کیا صدر پاکستان سکندر مرزا نے انہیں برطرف کر کے اس عہدے کو ہی ختم کر دیا

سنہ 1971 میں پاکستان کے دولخت ہونے سے چند روز قبل صدر جنرل یحییٰ خان نے نور الامین کو متحدہ پاکستان کا آخری وزیر اعظم نامزد کیا ان اکا دور حکومت 7 دسمبر 1971 سے 20 دسمبر 1971 ء تک رہا وہ صرف 13 روز تک ہی اس منصب پر فائز رہے پاکستان میں 50 کے عشرے میں گورنر جنرل کے ہاتھوں وزرائے اعظم کھلونا بنے رہے جس وزیر اعظم کو ہٹانا مقصود ہوتا اس کے خلاف تحریک عدم اعتماد لے آتے یا پھر گورنر جنرل لا محدود اختیارات کو بروئے کار لا کر وزرائے اعظم کو برطرف کر دیتا یہی وجہ ہے۔ بھارتی وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے پاکستان کے وزرائے اعظم بارے میں طنزیہ گفتگو کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ”میں نے اتنی دھوتیاں تبدیل نہیں کیں جتنے پاکستان میں وزرائے تبدیل ہوئے ہیں۔ کس سے بات کریں؟“ ۔

سنہ 1973 ء کے آئین کے تحت ذوالفقار علی بھٹو وزیر اعظم بنے تو وہ بھی جنرل ضیا الحق کے مارشل لا ء کے تحت نہ صرف برطرف کیے گئے بلکہ انہیں تختہ دار پر چڑھا دیا گیا۔ محمد خان جونیجو کو فوجی حکمران نے وزیر اعظم بنایا اور پھر اسی حکمران نے پالیسی پر اختلاف پر گھر بھجوا دیا۔ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کی دو بار برطرفی ہوئی۔ بے نظیر بھٹو کے خلاف تحریک ناکام ہو گئی تو پھر غلام اسحق نے آئین کے آرٹیکل 58 ٹو۔ بی کے تحت ان کی حکومت برطرف کر دی۔ فاروق احمد خان لغاری نے یہی اختیار استعمال کیا

غلام اسحق نے نواز شریف کی حکومت برطرف کی تو سپریم کورٹ نے بحال کر دی لیکن اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ نے ان کی حکومت چلنے نہیں دی۔ غلام اسحق اور نواز شریف دونوں کو جانا پڑا۔ نواز شریف دوسری بار برسر اقتدار آئے تو پرویز مشرف نے جمہوریت کی بساط ہی لپیٹ دی۔ ظفر اللہ خان جمالی کو بھی استعفا لے کر گھر بھجوایا گیا شوکت عزیز بقیہ مدت وزیر اعظم رہے ان کے خلاف بھی تحریک عدم اعتماد آئی لیکن کامیاب نہ ہو سکی شوکت عزیز کے قومی اسمبلی کے رکن بننے تک چوہدری شجاعت حسین اڑھائی ماہ تک وزیر اعظم رہے یوسف رضا گیلانی اور نواز شریف کو جس طرح اقتدار سے نکالا وہ بھی تاریخ کا سیاہ باب حصہ ہے۔ ان کی جگہ علی الترتیب پرویز اشرف اور شاہد خاقان عباسی وزیر اعظم رہے یہ بات کہی جا سکتی ہے۔ آج تک پاکستان کے کسی وزیر اعظم نے اپنی 5 سال کی آئینی مدت پوری نہیں کی۔

25 جو لائی 2018 ء کے متنازعہ انتخابات کے نتیجہ میں عمران خان کی حکومت بر سر اقتدار آئی اپوزیشن پارلیمنٹ میں بیٹھ تو گئی لیکن شروع دن سے عمران خان کی حکومت کو تسلیم کیا اور نہ ہی عمران خان نے اپوزیشن سے تعلقات کار بہتر بنانے کی کوشش کی پچھلے پونے چار سال عمران خان اپوزیشن کو دیوار لگانے کی کوشش کر رہے ہیں تو اپوزیشن نے بھی حکومت کو لوہے کے چنے چبا نے پر مجبور کر دیا ہے۔

عمران خان بھی تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنانے کے لئے سرگرم عمل ہیں۔ وہ لاہور میں چوہدری برادران کے ہاں حاضری دے چکے ہیں۔ کراچی میں ایم کیو ایم سے بھی مدد مانگی ہے۔ شنید ہے جی ڈی اے نے وزیر اعظم سے ملاقات کرنے گریز کیا ہے اور کہا ہے کہ ”وہ تحریک عدم اعتماد کے سلسلے میں براہ راست پیر صاب پگارا سے بات کریں لیکن پیر صاحب کی ناسازی طبع کے باعث ان کی ملاقات نہ ہو سکی۔ مسلم لیگ (ق) اور ایم کیو ایم دونوں جماعتوں نے وزیر اعظم سے ملاقاتیں تو کی ہیں لیکن ابھی تک انہوں نے کھل کر وزیر اعظم کے ساتھ کھڑا ہونے کا اعلان نہیں کیا چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الہی نے بھی اسلام آباد میں ڈیرے ڈال دیے ہیں۔ ان سے آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمنٰ کی ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔ طارق بشیر چیمہ کی بھی اڑھائی منٹ عمران خان سے ملاقات ہوئی ہے۔

چوہدری برادران کی رہائش گاہ پر رونقیں لگ گئی ہیں۔ سر دست بلوچستان عوامی پارٹی کے تیور بھی بدلے بدلے نظر آرہے ہیں۔ بلوچستان عوامی پارٹی کے وفد نے خالد مگسی کے بغیر وزیر اعظم سے ملاقات کرنے انکار کر دیا ہے۔ سپیکر آفس نے تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ اور بحث کے لئے قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا تاہم سپیکر کر کام 22 مارچ 2022 ء تک ہر صورت نمٹانا ہو گا۔

حکومت نے تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے روز پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر اپنی سیاسی قوت کا مظاہرہ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ پی ٹی آئی کی قیادت نے فیصلہ کیا ہے۔ اس کا ایک رکن تحریک عدم اعتماد کے روز اجلاس میں شرکت کرے گا۔ باقی ارکان کو اجلاس میں شرکت سے روک دیا جائے گا۔ اس طرح تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنانے کی کوشش کی جائے گی۔ عمران خان تحریک عدم اعتماد پر خاصے مشتعل ہیں۔ انہوں نے آصف علی زرداری کو اپنی بندوق کی نوک پر رکھنے کا اعلان کیا دوسری طرف جمعیت علما اسلام نے ”انصار الاسلام“ کے کارکنوں کو قومی اسمبلی کے ارکان کی سیکیورٹی کی ذمہ داری سونپ دی ہے۔ پورے ملک سے کارکنوں کو اسلام آباد پہنچنے اور پہیہ جام کرنے کی کال دے دی ہے۔ ایسا دکھائی ہے۔ پارلیمنٹ لاجز میں پولیس اور جے یو آئی کے کارکنوں میں تصادم ہو چکا ہے۔ ووٹنگ کے روز ارکان قومی اسمبلی کو روکنے کی کوشش میں شدید تصادم کا امکان ہے۔ اس صورت حال میں تیسری قوت کی مداخلت ہو سکتی ہے۔

 

Facebook Comments HS